Malik Nurullah Khanadan ."Sher Khan khel"

Malik Nurullah Khanadan ."Sher Khan khel" لَا إِلَٰهَ إِلَّا ٱللَّٰهُ مُحَمَّدٌ رَسُولُ ٱللَّٰهِ

Eid Mubarak!
21/03/2026

Eid Mubarak!

01/08/2025

#ملک نور اللہ خاندان
Alhamdulillah ✌️

Allah dy Zamong Khanadan Tal pa ittefaq wa ittehad aw izatmand laree ameen.

JEO SHEROO✌️

゚viralシfypシ゚viralシ

31/07/2025

King✅ Malak Gula Khan Afridi ✌️✌️✌️

31/07/2025

Jaar ❤️✌️

31/07/2025

ملک صیب❤️❤️❤️

31/07/2025

مشر ملک حاجی غفار خان شیرخان خیل

31/07/2025

Alhamdulillah
YA ALLAH
STA LAAK LAAK
SHUKAR

 #پشتون قبائل کے رسم و رواج کے رنگ..👇پشتون قبائل اپنے رسم و رواج کے مندرجہ ذیل رنگ رکھتے ہیں.  ڈز بندی, وڑپڑ,روغہ, ننوات...
28/06/2025

#پشتون قبائل کے رسم و رواج کے رنگ..👇
پشتون قبائل اپنے رسم و رواج کے مندرجہ ذیل رنگ رکھتے ہیں. ڈز بندی, وڑپڑ,روغہ, ننواتے, عُذر ,عزیز ولی,ناغہ, تور, کوشندو, ولور, سورہ, برآمتہ, غونڈی, لوہے ورکول, لشکر, چِغہ, تڑ, ملاتڑ, بدرگہ, بدنڑ, بیلگا, بوتا, برآمتہ, اشر, میراتہ, ساز, ہمسایہ,
1.ڈز بندی.. قبائلی علاقوں میں اگر دو فریقین کے درمیان کسی مسئلے پر فائرنگ شروع ہوجائے تو فوراً علاقے کے سُفید ریش ملکان جمع ہوجاتے ہیں,سُفید چادریں ہلا کر ,نعرے لگا کر یا اندھیرے میں لالٹین وغیرہ کی روشنی دکھا کر فریقین کے درمیان فائر بندی کرواتے ہیں اور پھر مصالحتی جرگہ فریقین سے دو یا تین تین بندوقیں بطور ضمانت وصول کرتے ہیں اور اُسکے بعد دونوں فریقین کو خبردار کیا جاتا ہے کہ اگر ایک خاص میعاد تک دونوں فریقین میں سے کسی نے بھی فائر بندی کی خلاف ورزی کی تو اُسکے بندوق ضبط کئے جائے گے اور اسکے ساتھ ساتھ جرمانے کی رقم بھی وصول کی جائے گی. قبائلی اصطلاح میں اس کو ڈز بندی صُلح کہتے ہیں .
2. وڑ پڑ .. جب قبائلی علاقوں میں دو فریقین کے درمیان جائداد یا رقم کے لین دین پر تنازعہ پیدا ہوتا ہے تو اسکے حل کے لئے علاقہ کے سُفید ریش ملکان دونوں فریقوں سے کہتے ہیں کہ وہ حق اور ناحق معلوم کرنے کے لئے اپنا اختیار پانچ چھ بُزرگوں کو دے اور وہ بُزرگ جو بھی فیصلہ کرے وہ دونوں فریقوں کے لئے قابل قبول ہوگا, اس قسم کے اختیار کو قبائلی اصطلاح میں واک اور اسکے بعد ہونے والے فیصلے کو وڑ پڑ کہتے ہیں. اس قسم کے فیصلے میں کوئی فریق فیصلہ ماننے سے انکار نہیں کرسکتا.
3.روغہ ...دو فریقوں کے درمیان جب جرگہ کامیاب ہوتا ہے اور غلطی کرنے والا فریق اپنی غلطی مانتا ہے تو پھر جرگہ کے ملکان دونوں فریقوں کو باہم بغلگیر کرواتے ہیں اور غلطی کرنے والا فریق پھر ایک بڑی ضیافت کا انتظام کرتا ہے. مقامی زُبان میں اس کو روغہ صُلح کہتے ہیں.
4.ننواتے...وہ رسم جس میں دُشمنوں میں سے کسی ایک فریق کو اپنی شدید غلطی کا اعتراف ہو اور دُشمن فریق کے مقابلے میں کمزوری محسوس کرتا ہو اور مُخالف فریق جرگہ کے ذریعے مصلحت کے لئے تیار نہ ہو تو اس حالت میں غلطی تسلیم کرنے والا فریق عُمر رسیدہ خواتین اور بُزرگوں کے ساتھ مُخالف فریق کے گھر جاتا ہے اور اُن سے معافی طلب کرتا ہے. قبائلی اصطلاح میں اسکوں ننواتے کہتے ہیں.
5.عُذر....جب کوئی معمولی لڑائی جھگڑے یا کسی کی تذلیل کے بعد سُفید ریش بُزرگوں کے ساتھ اُس شخص کے گھر جاتا ہے جنکی بےعزتی کی گئ ہو تو غلطی کرنے والا اُن سے معافی مانگتا ہے اور اُسی وقت اپنی طرف سے دو دُنبے ذبح کرکے لوگوں کی دعوت کرتا ہے.قبائلی اصطلاح میں اسکوں عُذر کہتے ہیں.
6.عزیز ولی... جب دو فریقین کے درمیان دُشمنی ہو تو ہر فریق اپنے گروھ کو مضبوط کرنے کی خاطر مزید لوگوں کو اپنے ساتھ شامل کرتا ہے اس مقصد کے لئے اپنے ہم خیال لوگوں کو ساتھ ملاتے ہیں اور پھر دونوں مُخالف فریق سے لڑتے ہیں .قبائلی زُبان میں اسکوں عزیز ولی کہتے ہیں.
7.ناغہ....کسی قوم ,گاؤں کی مشترکہ پہاڑی, جنگلات ,درختوں کو تباہی اور فروخت کرنے سے بچانے کے لئے انکی کٹائی پر پابندی کو ناغہ کہتے ہیں اور تمام قبائل اس پر سختی سے عمل کرنے کے پابند ہوتے ہیں.
8.لشکر....اگر قبائلی علاقوں میں کوئی شخص جائداد وغیرہ کی خاطر کسی کے خاندان پر بُہت ظلم کرے ,مردوں کو قتل کرے عورتوں بچوں کو گھروں سے نکال دے تو اس صورت میں قبائلی ملکان تمام عوام کو لشکر تیار کرنے اور ظالم شخص کے گھر کو مسمار کرنے کا حُکم دیتا ہے. عام زُبان میں اسکوں لشکر کہتے ہیں.
9.اشر یا حشر...قبائلی علاقوں میں فصل کی کٹائی کے دوران تمام لوگ ایک ساتھ ملکر فصل کی کٹائی کرتے ہیں, اس دوران اُنکی خاص مدارت کی جاتی ہے, عام زُبان میں اسکوں اشر کہتے ہیں.
10. بدرگہ... .. اگر کوئی دُشمن شخص قبائلی علاقوں میں اپنے عزیز و اقارب کے ہاں کسی خاص کام کی وجہ سے جائے تو واپسی پر اُنکی حفاظت کی خاطر کُچھ لوگ روانہ ہوجاتے ہیں اور خطرے کے حدود سے اُسے نکالتے ہیں مقامی زُبان میں اسکوں بدرگہ کہتے ہیں.
11.تور... جب کسی نوجوان لڑکی لڑکے یا مرد و عورت پر جنسی تعلقات یا مرضی کی شادی کرنے اور گھر سے بھاگ جانے کا الزام لگتا ہے تو اسکوں عام زُبان میں تور کہتے ہیں.
12.کوشندو....اگر کسی قتل کا راضی نامہ کرنے والا جرگہ یہ فیصلہ کرے کہ قاتل کو علاقہ بدر کیا جائے اور باقی خاندان کے ساتھ معمول کے تعلقات رکھے جائے تو اس صورت میں علاقہ بدر شخص کو کوشندو کہتے ہے.
13. ولور... ولور اُس رقم کو کہتے ہے جو لڑکی کے والدین اپنی بیٹی کا رشتہ دیتے وقت لڑکے پر دینا لازمی قرار دیتے ہیں.
14.سورہ..سورہ عورت کے لئے زہرِ قاتل ہے ,اکثر قاتل خاندان کا کوئی شخص اپنی بہن یا بیٹی کا رشتہ مقتول خاندان کے افراد کے ساتھ کرتا ہے تاکہ اس سے دُشمنی ختم ہوسکے..
15.برآمتہ..برآمتہ ک معنی نکال لینے کے ہے جسکا مطلب اسلحے کی زور پر ایک فریق دوسرے فریق سے اپنے پیسے( جوقرض کی مد میں ہوتے ہیں) واپس لیتا ہے.
16.غونڈی..جو اصل میں غونڈہ سے ماخوذ ہے اسکا مطلب باہمی اتفاق و اتحاد ہے. جو قبائل آپس میں غونڈہ کرکے ایک مفاہمتی یاداشت پر دستخط کرتے ہیں تو پھر وہ اپنے دُشمن کے خلاف ایک ہوکر لڑتے ہیں. اور اسکے علاوہ ایک دوسرے کے ساتھ تجارتی معاملات بھی چلاتے ہیں.
17.لوہے ورکول. اسکا مطلب برتن دینے کے ہیں لیکن پشتون قبائل اس سے الگ مطلب یہ لیتے ہیں کہ ایک کمزور قبیلہ کسی جانور بھیڑ بکری کو ایک طاقتور قبیلے کو اس عرض سے دیتا ہے کہ وہ اب اُنکی حفاظت کرے گا. جب ایک طاقتور قبیلہ یہ لوہے ورکول قبول کرتا ہے تو وہ پھر اُس کمزور قبیلے کی حفاظت کی ذمہ داری اپنا فرض سمجھتا ہے.
18.چِغہ..چِغہ جسکا مطلب ایک ساتھ نکلنا. دوسرے الفاظ میں اگر گاؤں میں کوئی چور, ڈاکو داخل ہوجائے تو سب گاؤں والے چِغہ لگا کر ایک ساتھ نکلتے ہیں.
19.تڑ..A mutual Accord between two tribes or villages with regards to a certain matter is called Tarr .
20.ملاتڑ. ملاتڑ کا مطلب کسی خاندان یا قبیلے کے تمام افراد کا اسلحہ اُٹھانا ہیں. اور دُشمن کے خلاف لڑنا ہے.
21.بدنڑ.
Badanrr is specifically used for a ban on cutting woods from hills.
22.بیلگا...جس کا مطلب کسی چیز کا چُرانا ہے.
According to custom a man is held responsible for a dacoity ,theft, or burglary if any of the stolen articles recoverd from his house .in such a case he is obliged to make good the loos sustained by the affected person.
23.بوتا یا بوٹا...
Bota Mean Carrying Away. It is sort of retaliatory action against an aggressor.

24.میراتہ...یہ ایک قبیح عمل جس کے مطابق اکثر لوگ اپنے رشتہ داروں کی تمام اولاد کو ناحق قتل کرکے اُسکے جائداد پر قابض ہوتے ہیں.
Merata Means complete annihilation of The male members of a family by brutal assassination.
25.ساز...
The word Saz is used for blood money or compensation in lieu of killing.
26.ہمسایہ.جسکا مطلب پڑوسی کے ہے لیکن پشتون قبائل اسے ایک رسم رواج کے طور پر اسطرح استعمال کرتے ہیں. اگر کوئی شخص دُشمنی میں اپنا گھر بار چُھوڑ جائے تو اسکا قریبی پڑوسی ہمسائے کے طور پر رکھوالی کرتا ہے. اور دُشمن شخص کسی دوسری جگہ پناہ لینے پر مجبور ہوتا ہے.

آگر قبائل اس روایت کو برقرار رکھا تو یقین مانے کہ ہم آیک طاقتور قوم بنے سکتے ہیں آور آمن وامن خوشحالی آئی گی۔
゚viralシ

مبارکباد!آفتاب خان شیر خان خیل کے بیٹے فرقان نے ختم القرآن مکمل کی ہے۔ملک نور اللہ خاندان کی طرف سے آفتاب خان کو اور انک...
28/06/2025

مبارکباد!
آفتاب خان شیر خان خیل کے بیٹے فرقان نے ختم القرآن مکمل کی ہے۔
ملک نور اللہ خاندان کی طرف سے آفتاب خان کو اور انکے بیٹے فرقان کو بہت بہت مبارکباد!



غم خبر !محمد شادان شیر خان خیل ولد عطاء اللہ شیر خان خیل وفات پاگیا ہے۔وہ حاجی رحیم اللہ شیرخان خیل ،وسیم اللہ اور کریم ...
03/06/2025

غم خبر !

محمد شادان شیر خان خیل ولد عطاء اللہ شیر خان خیل وفات پاگیا ہے۔
وہ حاجی رحیم اللہ شیرخان خیل ،وسیم اللہ اور کریم اللہ شیر خان خیل کا بھتیجا تھا۔
نماز جنازہ آج بروز منگل 03/06/2025 بوقت شام 6:30 کو ٹیڈی بازار گراؤنڈ میں ادا کی جائیگی
‎اللہ تعالیٰ مرحوم کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور پسماندگان کو صبر جمیل عطا فرمائے آمین ثم آمین

وادی تیراہ میدان پر 1897ء میں انگریزوں کا حملہ🍁انیسویں صدی کے آخری سالوں میں جب برطانوی راج نے برصغیر پر مکمل گرفت قائم ...
16/04/2025

وادی تیراہ میدان پر 1897ء میں انگریزوں کا حملہ🍁

انیسویں صدی کے آخری سالوں میں جب برطانوی راج نے برصغیر پر مکمل گرفت قائم کر لی تھی، اُس وقت بھی وادی تیراہ میدان کے قبائل ان کے سامنے ایک مضبوط دیوار بن کر کھڑے تھے۔ انگریزوں کے لیے خاص طور پر وادی تیراہ کا میدان علاقہ انتہائی اہمیت کا حامل تھا، کیونکہ یہ نہ صرف جغرافیائی طور پر مرکزی مقام رکھتا تھا بلکہ یہاں پر آباد آفریدی قبائل انگریزوں کے خلاف شدید مزاحمت کر رہے تھے۔
میدان کی اہمیت🍁
میدان، وادی تیراہ میدان کا ایک زرخیز اور وسیع علاقہ ہے، یہ علاقہ آفریدی قبائل، خصوصاً قمبر خیل، ملک دین خیل، آدم خیل، ذخہ خیل اور سپاہ کا مضبوط گڑھ تھا۔ یہاں سے قبائل آسانی سے خیبر پاس جیسے اہم درے پر کنٹرول رکھ سکتا تھا، جو کہ انگریزوں کی فوجی نقل و حرکت اور رسد کے لیے اہم ترین راستہ تھا۔
1897ء میں قبائلی قبائل کی جانب سے انگریزوں کی قائم کردہ پوسٹوں پر شدید حملے کیے گئے، جن میں لنڈی کوتل، علی مسجد اور سمانہ رینج شامل تھیں۔ ان حملوں نے انگریزوں کو سخت پریشانی میں ڈال دیا۔ چنانچہ انہوں نے فیصلہ کیا کہ ان قبائل کو "سبق سکھانے" کے لیے ایک بڑی فوجی مہم چلائی جائے۔
اس مقصد کے لیے ایک منظم مہم تیراہ مہم (Tirah Expedition) کے نام سے شروع کی گئی جس کی قیادت جنرل سر ولیم لاک ہارٹ کو سونپی گئی۔ اس مہم کے لیے برطانوی ہندوستان کی مختلف رجمنٹوں سے 35,000 سے زائد فوجی جمع کیے گئے، جن میں توپ خانہ، گورکھا رجمنٹ اور جدید ہتھیاروں سے لیس سپاہی شامل تھے۔

میدان پر حملہ اور قبائلی مزاحمت🍁

18 اکتوبر 1897ء کو انگریز افواج نے راجگال (دوا توئی) اور آرھانگہ ڈبوری درے سے ہوتے ہوئے میدان کی طرف پیش قدمی شروع کی۔ اس دوران انہوں نے قبائلی بستیوں پر شدید بمباری کی، خصوصاً قمبر خیل، ملک دین خیل اور سپاہ کے علاقوں کو نشانہ بنایا۔ انگریز فوج نے جدید توپ خانے سے گاؤں تباہ کیے، لیکن مقامی قبائل نے ہمت نہ ہاری۔
آفریدی قبائل نے نہایت منظم انداز میں گوریلا جنگ لڑی۔ وہ پہاڑوں پر گھات لگا کر انگریز قافلوں پر حملے کرتے، ان کی رسد لائنیں کاٹتے اور پھر محفوظ جگہوں پر واپس چلے جاتے۔ ان حملوں میں نہ صرف جوان بلکہ بزرگ اور خواتین بھی قبائلی مجاہدین کی مدد کر رہے تھے۔

انگریزوں کا نقصان🍁

اگرچہ برطانوی افواج عسکری لحاظ سے مضبوط تھیں، لیکن میدان کے سخت موسم، دشوار گزار راستوں اور قبائلی مزاحمت نے انہیں زبردست نقصان پہنچایا۔

1500 سے 3000 تک فوجی مارے گئے۔
کئی توپ خانے اور رسد کے قافلے قبائل نے تباہ کر دیے۔
شدید سردی، برف باری اور بارش نے انگریزوں کو مزید مشکلات میں ڈال دیا۔

میدان سے واپسی 🍁

کئی ہفتے جاری رہنے والی اس مہم کے بعد انگریز افواج دسمبر 1897ء میں میدان سے واپس جانے پر مجبور ہو گئیں۔ ان کی واپسی بھی آسان نہ تھی کیونکہ قبائل نے مسلسل راستے میں حملے جاری رکھے۔ بالآخر انگریزوں کو قبائلی عمائدین کے ساتھ ایک وقتی سیز فائر معاہدہ کرنا پڑا، جس کے نتیجے میں وہ واپسی ہوئی۔

مصدقہ حوالہ جات:

1. Lockhart, William. “The Tirah Valley - Maidan Campaign 1897-98.” British Army Official Reports.
2. “Frontier and Overseas Expeditions from India”, Vol. I, Government of India Press, 1907.
3. James Spain, “The Pathan Borderland”, Mouton Publishers, 1963.
4. Olaf Caroe, “The Pathans”, Macmillan, 1958.
5. British Parliamentary Papers, 1898.


Address

Jamrud
Peshawar

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Malik Nurullah Khanadan ."Sher Khan khel" posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share

Category