10/05/2026
9 / مئی /2026
کی رات _ دہشت گردوں نے ایک گاڑی میں بارود بھر کر فتح خیل پولیس چوکی سے ٹکرا دی۔ زوردار دھماکے سے پوری چوکی تباہ ہو گئی اور کئی پولیس اہلکار ملبے تلے دب گئے۔
اس وحشیانہ حملے میں کم از کم 15 پولیس اہلکار شہید اور 3 زخمی ہوئے۔ بنو کے ڈی آئی جی سجاد خان نے تصدیق کی کہ دھماکہ اتنا طاقتور تھا کہ اس کی آواز دور دور تک سنائی دی، اور قریبی گھروں کی چھتیں بھی گر گئیں۔
دہشت گردوں نے مدد کو آنے والے پولیس دستوں پر بھی گھات لگا کر حملہ کیا — یہاں تک کہ ڈرون بھی استعمال کیے گئے۔
بنوں کی گلیوں میں آج خاموشی ہے۔
وہ خاموشی جو درد سے بھاری ہوتی ہے۔
وہ خاموشی جو روح کو چیر دیتی ہے۔
آخر کب تک؟
بنوں میں حالیہ مہینوں میں بار بار دہشت گردانہ حملے ہو رہے ہیں — پولیس پر، عام شہریوں پر، جرگہ کے اراکین تک پر۔
کیا ہمارے محافظوں کا خون اتنا سستا ہے؟
کیا بنوں کے بچوں کا مستقبل اسی دھوئیں میں گم ہو جائے گا؟
کیا ہم صرف ہاشٹیگ لگا کر خاموش ہو جائیں گے؟
نہیں! بنوں ٹوٹا نہیں ہے۔
بنو کا پولیس افسر ملبے تلے سے زندہ نکلا — اس لیے کہ بنو کی مٹی میں جینے کا حوصلہ ہے۔
ڈی آئی جی سجاد خان نے عہد کیا
ہم دہشت گردوں کو ایک ایک کر کے ڈھونڈیں گے۔
اور ہم بھی عہد کرتے ہیں —
ہم نہیں بھولیں گے۔
ہم بولتے رہیں گے۔
ہم ان شہداء کی آواز بنتے رہیں گے۔
بنوں تم اکیلے نہیں ہو۔
پاکستان تمہارے ساتھ ہے۔
#بنوں
#امن