Digital Knowledge Zone World

Digital Knowledge Zone World daily knowledge and story

25/10/2025

virtues of Ali from the of the Prophet ( )...................................................................................................................................................................................................................................................................................................

ali # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # # #

Akhlaq Hussain

21/10/2025


21/10/2025

صرف دوسروں کے لیے درد رکھنا کافی نہیں
اپنے اعمال سے دوسروں کی دکھ درد میں شریک ہونا انسان کامل ہونے کا معیار ہے
شھید دکتر چمران

20/10/2025

امام جعفر صادق علیہ السلام کا فرمان:
“ہر کھیل (لہو و لعب) باطل ہے سوائے تین کے: آدمی کا اپنی زوجہ کے ساتھ محبت آمیز کھیل، گھوڑے کی تربیت، اور تیر اندازی۔”
امامؑ نے ہر اس لہو کو باطل قرار دیا جو مقصدِ زندگی سے ہٹا دے۔ شادی کے موقع پر اگر خوشی اعتدال میں ہو تو ثواب ہے، لیکن گانے، ڈھول، اور بے حیائی والا لہو "باطل" کے زمرے میں آتا ہے۔
2. امام علی علیہ السلام کا فرمان:
“اللہ اس شخص سے بیزار ہے جو بے کار، لہو و لعب میں مشغول ہو، نہ دنیا کے کام میں ہو نہ آخرت کے۔”
شادی اگر مقصدی ہو — یعنی نکاح کے ذریعے پاکیزگی اور محبت — تو یہ عمل عبادت ہے۔ لیکن جب شادی کو لہو و لعب، ڈھول باجے، اور گانے بجانے کا میلہ بنا دیا جائے تو یہ "لغو" بن جاتا ہے، جس سے خدا بیزار ہے۔

07/10/2025



01/10/2025


 #قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے مؤمنین کو صرف عبادات اور عقائد ہی کی تعلیم نہیں دی بلکہ معاشرتی زندگی کے اصول بھی عطا کیے...
24/09/2025

#قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے مؤمنین کو صرف عبادات اور عقائد ہی کی تعلیم نہیں دی بلکہ معاشرتی زندگی کے اصول بھی عطا کیے۔ انہی اصولوں میں سے ایک اصول سورہ حجرات میں بیان ہوا ہے، جو دراصل اسلامی معاشرت کی بنیاد ہے۔
🔸 #آیت کریمہ
ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
﴿وَلَا تَنَابَزُوا بِالْأَلْقَابِ﴾
(الحجرات 49:11)
#“اور آپس میں بُرے القاب سے ایک دوسرے کو نہ پکارو، ایمان کے بعد فاسق نام رکھنا بہت برا ہے، اور جو توبہ نہ کرے تو وہی لوگ ظالم ہیں۔”
یہ آیت دراصل مؤمنین کو یہ تعلیم دیتی ہے کہ کسی کی عزت اور ناموس کو زبان کے ذریعے مجروح نہ کیا جائے۔ اللہ نے ہر مؤمن کو کرامت عطا کی ہے، اور اس کرامت کو مجروح کرنا اللہ کی نعمت کا انکار ہے۔
🔸 #اہل‌بیتؑ کی تعلیمات
1. امام جعفر صادقؑ
امام صادق علیہ السلام فرماتے ہیں:
“مؤمن کو ایسے لقب سے مت پکارو جس سے وہ ناخوش ہو، چاہے وہ لقب حقیقت پر مبنی ہو۔”
📚 (تفسیر نور الثقلین)
➡ یہ روایت واضح کرتی ہے کہ اسلام صرف جھوٹے القاب سے نہیں بلکہ سچائی پر مبنی القاب کو بھی منع کرتا ہے اگر وہ دل آزاری کا سبب بنیں۔
2. #امام علیؑ
امیرالمؤمنین علیہ السلام نہج البلاغہ میں فرماتے ہیں:
“برا بھلا کہنا اور طعنہ دینا کمزور لوگوں کا ہتھیار ہے۔”
➡ یعنی جو لوگ دلیل اور کردار سے خالی ہوں، وہ دوسروں کو نیچا دکھانے کے لیے طعن و تشنیع کا سہارا لیتے ہیں۔
3. #رسول اکرم ﷺ
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
“مؤمن کو برا لقب دینا گناہ کبیرہ ہے۔” روایت میں آتا ہے کہ ایک مرتبہ رسول اکرم ﷺ کے زمانے میں ایک صحابی دوسرے کو اس کے پرانے گناہ کے لقب سے پکار بیٹھا۔ وہ شخص اسلام لانے سے پہلے کسی برے عمل میں مشہور تھا۔ اسلام قبول کرنے کے بعد اس نے نیک راہ اختیار کر لی، مگر ایک دن کسی نے مذاق اڑاتے ہوئے کہا:
“یہ وہی شخص ہے جو پہلے فلاں گناہ میں مبتلا تھا۔”
یہ سن کر وہ شخص بہت شرمندہ ہوا اور دل برداشتہ ہو کر رسول اللہ ﷺ کے پاس شکایت لے گیا۔
رسول اکرم ﷺ نے نہایت سختی سے فرمایا:
“تم نے اپنے بھائی کو اس کے پرانے گناہ کی طرف لوٹا دیا جبکہ اللہ نے اسے معاف کر دیا تھا۔”
📚 (تفسیر مجمع البیان، ذیلِ آیت 49:11)
پھر رسول اکرم ﷺ نے فرمایا:
“مؤمن کو برا لقب دینا اللہ کی رحمت سے دُور کر دیتا ہے۔”
📚 (بحار الانوار)
➡ یعنی یہ صرف اخلاقی برائی نہیں بلکہ کبیرہ گناہ ہے جو انسان کے ایمان کو ضائع کر دیتا ہے۔
4. #امام سجادؑ (صحیفہ سجادیہ)
امام زین العابدین علیہ السلام نے دعا میں اللہ سے عرض کیا:
“پروردگار! ہمیں یہ توفیق دے کہ ہم اپنے بھائیوں کو اچھے ناموں اور اچھے کلمات سے پکاریں۔”
➡ اہل‌بیتؑ خود دعا کر کے امت کو سکھاتے تھے کہ زبان کی حفاظت ایمان کا حصہ ہے۔
🔸 عملی پہلو
#میرے عزیزو!
آج ہمارے معاشرے میں یہ بیماری عام ہے کہ ذرا سا اختلاف ہوا تو انسان دوسرے کو بُرے نام سے پکارتا ہے، اسے تحقیر آمیز لقب دیتا ہے۔ کبھی سیاسی اختلاف، کبھی مسلکی اختلاف، کبھی ذاتی دشمنی — ان سب کی بنیاد پر مؤمنین کو اذیت دی جاتی ہے۔
قرآن اور اہل‌بیتؑ کی تعلیم یہ ہے کہ:
دوسروں کو ان کے اچھے اور حقیقی نام سے پکارو۔
اگر لقب دو تو وہ عزت افزا ہو، تحقیر آمیز نہ ہو۔
مؤمن کی عزت، ایمان کا حصہ ہے۔
امام علیؑ نے فرمایا:
“مؤمن کی حرمت کعبہ سے بھی زیادہ ہے۔”
📚 (بحار الانوار، ج64، ص71)
جب مؤمن کی حرمت کعبہ سے زیادہ ہے تو سوچو! کسی کو برا کہہ کر ہم کس عظیم گناہ کے مرتکب ہوتے ہیں۔
🔸 نصیحت
زبان ایک ایسا ہتھیار ہے جس سے یا تو انسان جنت کماتا ہے یا جہنم۔
اگر زبان سے ذکرِ خدا، سلام، احترام اور محبت نکلے تو یہ زبان جنت کا سبب ہے۔
لیکن اگر زبان سے گالی، طعنہ، اور تحقیر نکلے تو یہی زبان جہنم کا راستہ کھول دیتی ہے۔
پس ہمیں اپنی زبان کو قابو میں رکھنا ہے، اور اہل‌بیتؑ کی تعلیمات کے مطابق دوسروں کو عزت و احترام کے ساتھ پکارنا ہے۔
🔸 #مصائبِ اہل‌بیتؑ
مگر افسوس کہ وہ اہل‌بیتؑ، جنہوں نے ہمیں عزتِ مؤمن کی تعلیم دی، خود اپنی عزت و حرمت کے ساتھ سب سے زیادہ ظلم کا شکار ہوئے۔
کیا کربلا میں مؤمنین کو اچھے القاب سے پکارا گیا؟ نہیں! وہاں اہل‌بیتؑ کو طعنوں اور گالیوں سے نوازا گیا۔ امام حسینؑ کو یزیدی لشکر نے “باغی” اور “خارجی” کہا۔ سجادؑ کو قیدی کہا گیا۔ بیبیوں کو “اسیرانِ کوفہ” کہہ کر ذلیل کیا گیا۔
امام زین العابدینؑ جب شام کے دربار میں لائے گئے تو یزید نے اہل‌بیتؑ کو طعنہ دیا اور ان کے نام مٹانے کی کوشش کی۔ مگر وہ نہیں جانتا تھا کہ اللہ نے ارادہ کیا ہے کہ اہل‌بیتؑ کے نام قیامت تک زندہ رہیں گے۔
بیبی زینبؑ نے دربارِ شام میں وہ خطبہ دیا جس نے باطل کی بنیادیں ہلا دیں۔ بیبیؑ نے فرمایا:
“اے یزید! تو ہمیں ذلیل سمجھتا ہے، لیکن عزت تو صرف اللہ اور رسولؐ اور اہل‌بیتؑ کے لیے ہے۔”
یہی پیغام ہمیں سورہ حجرات کی آیت سے بھی ملتا ہے:
مؤمنین کو ذلیل نہ کرو، انہیں برے القاب سے نہ پکارو، کیونکہ اصل عزت ایمان والوں کے لیے ہے۔
🔸 #اختتام
میرے عزیزو!
آئیے اس آیت اور اہل‌بیتؑ کی تعلیمات کو اپنی زندگی کا حصہ بنائیں۔ اپنی زبان کو دوسروں کی عزت کے لیے استعمال کریں۔ اپنے گھروں، اپنے معاشرے اور اپنی مجالس میں محبت، احترام اور خیرخواہی کی زبان رائج کریں۔
اور ہر لمحہ اہل‌بیتؑ کے اس پیغام کو یاد رکھیں کہ:
“مؤمن کو اس کے اپنے نام اور عزت سے پکارو، اور کبھی تحقیر آمیز نام نہ دو۔”
#اللہ ہمیں قرآن اور اہل‌بیتؑ کی سچی تعلیمات پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔
والسلام علیکم و رحمة الله و برکاته۔ علی ابوذر

 #بسم الله الرحمن الرحيم                                                                                                ...
21/09/2025

#بسم الله الرحمن الرحيم جو کوئی حق بات کہے اسے روکا جاتا ہے اسے سزائیں دی جاتی ہیں حتی کہ اسے قتل کرنے تک کی سازشیں کی جاتی ہیں نوبت یہاں ا جاتی ہے کہ اسے قتل کر دیا جاتا ہے حق کو کیوں نہیں ظاہر کیا جاتا حق کو کیوں چھپایا جاتا ہے اور باطل کو ظاہر کیا جاتا ہے حق تو یہ تھا کہ ہم اس کے ماننے والے ہیں جس نے یہ بتایا کہ ہمیشہ حق کے ساتھ رہنا نہج البلاغہ میں 1. حق کی پہچان امام سے
#حضرت علیؑ نے فرمایا:
اِعْرِفِ الْحَقَّ تَعْرِفْ أَهْلَهُ، وَ اعْرِفِ الْبَاطِلَ تَعْرِفْ أَهْلَهُ۔
"حق کو پہچانو گے تو اس کے اہل کو پہچان لو گے، اور باطل کو پہچانو گے تو اس کے اہل کو بھی پہچان لو گے۔"
📚 نہج البلاغہ، حکمت 262
یعنی معیار افراد نہیں بلکہ حق و باطل ہے۔ پہلے اصول کو سمجھو پھر شخصیتوں کو پرکھو۔
2. حق تلخ اور بھاری ہے
امیرالمؤمنینؑ فرماتے ہیں:
الْحَقُّ ثَقِيلٌ مَرِيعٌ، وَ الْبَاطِلُ خَفِيفٌ وَقِيعٌ
"حق بوجھل اور کڑوا ہوتا ہے، جبکہ باطل ہلکا اور خوشنما دکھائی دیتا ہے۔"
📚 #نہج البلاغہ، حکمت 331
یعنی حق پر چلنا مشکل لگتا ہے مگر انجام اچھا ہے، جبکہ باطل بظاہر آسان ہے مگر تباہی کی طرف لے جاتا ہے۔
3. حق کبھی باطل سے پہچانا نہ جائے
حضرت علیؑ نے فرمایا:
لَا تُعْرَفِ الْحَقَائِقُ بِالرِّجَالِ، اِعْرِفِ الْحَقَّ تَعْرِفْ أَهْلَهُ۔
"حق کو مردوں (شخصیات) سے نہ پہچانو، بلکہ حق کو پہچانو تو اہلِ حق کو پہچان لو گے۔"
📚 نہج البلاغہ، خطبہ 147
4. باطل کی وقتی فتح
امام علیؑ نے فرمایا:
رُبَّ بَاطِلٍ غُلِبَ بِطَلَائِهِ حَقّاً، وَ رُبَّ حَقٍّ أَضَرَّ بِهِ تَزْيِينُ بَاطِلٍ۔
"بعض اوقات باطل اپنی ملمع سازی کے ذریعے حق پر غالب آ جاتا ہے، اور کبھی حق کو نقصان پہنچتا ہے باطل کی آرائش کی وجہ سے۔"
📚 نہج البلاغہ، حکمت 224
5. حق کے بغیر معاشرہ باقی نہیں رہ سکتا
امام علیؑ فرماتے ہیں:
لَا يَبْقَى لِلنَّاسِ دُونَ حَقٍّ يُقِيمُونَهُ، وَ لَا بَاطِلٍ يَدْفَعُونَهُ۔
" #لوگ حق کو قائم کیے بغیر اور باطل کو دفع کیے بغیر باقی نہیں رہ سکتے۔"
📚 نہج البلاغہ، خطبہ 216 اج کل ہم کیوں باطل کے پیچھے لگے ہوئے ہیں جب کوئی حق بات کہے تو اس کا سر کاٹنے کا سوچتے ہیں یہ نہیں سوچتے کہ ہم اس کا سر تو کاٹ سکتے ہیں اس کا سر تو دھڑ سے الگ کر سکتے ہیں لیکن اس کے لفظ اس کی سوچ اور اس کی یادوں جو ان انسانوں میں بس چکی ہیں جو بس حق کو سمجھنا چاہتے ہیں ان کو کیسے مار سکتے ہیں اج حق تو یہ ہے کہ #فلسطین،یمن، ایران، عراق شام، اور جہاں بھی ظلم ہو رہا ہے اس پر اواز اٹھانی چاہیے لیکن پہلی دہشتگردی حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا گھر ہم اس کے اگر حق کو لکھنا چاہیں تو نہیں لکھ سکتے کیااگر لکھا بھی جائے تو سب سے پہلے اس کے اپنے خلاف ہو جاتے ہیں ہیں اج میں اس شخص کے بارے میں لکھنے جا رہا ہوں جو سچائی پر قائم ، نیت صاف،حوصلہ مند،عدل پسند ،بردبار،ایمان دار ان کی زبانمیں نے اپنی زندگی کے لمحات اس شہر میں گزارے اسی سرزمین میں اللہ اور اہل بیتِ اطہارؑ کے دینِ حق کی تبلیغ کے لیے وقف کر دیے۔ یہ زمین میری گواہ ہے کہ میں نے ہر موسم، ہر حال، ہر مشکل اور ہر آسانی میں، دن کے اجالے اور رات کی تاریکی میں، صرف اور صرف حق کی دعوت دی ہے۔ نہ کسی ذاتی فائدے کے لیے، نہ کسی دنیاوی مقام کے لیے، بلکہ اس #یقین کے ساتھ کہ حق ہی وہ چراغ ہے جو کبھی بجھ نہیں سکتا۔

آج اگر #اسی شہر کے چند لوگ میرے خلاف سازشیں بُن رہے ہیں تو یہ میری کمزوری نہیں بلکہ ان کی ناکامی اور بزدلی کی دلیل ہے۔ کیونکہ جب باطل دلیل سے شکست کھا جائے تو وہ الزام تراشی اور سازش کا سہارا لیتا ہے۔ یہ وہی تاریخ دہرا رہی ہے جو ابوذر غفاریؓ کے ساتھ پیش آئی، جو امام علیؑ کے ساتھ پیش آئی، اور جو ہر دور میں حق پر ڈٹنے والے کے ساتھ پیش آئی۔

میں یہ بات بلند آواز سے کہتا ہوں کہ میرا سرمایہ صرف میرا رب ہے، میرا سہارا صرف محمد و آل محمدؐ کی تعلیمات ہیں۔ حق کو نہ کبھی چہروں سے ختم کیا جا سکتا ہے اور نہ ہی نعروں سے دبایا جا سکتا ہے۔ امام علیؑ کا فرمان آج بھی میری ڈھال ہے کہ:
"باطل کا شور جتنا بھی بڑھ جائے، حق کا چراغ بجھایا نہیں جا سکتا۔"
(نہج البلاغہ، حکمت 187 کے مضمون کے مطابق)

اگر تم سمجھتے ہو کہ سازش کر کے میرا راستہ روک لو گے، تو سن لو! علیؑ کے چاہنے والے کو سازشیں جھکا نہیں سکتیں۔ اگر تم یہ گمان کرتے ہو کہ جھوٹ اور پروپیگنڈے سے میری آواز خاموش ہو جائے گی تو یاد رکھو! حسینؑ کا ماننے والا کبھی خاموش نہیں ہوتا۔ میں وہی کہوں گا جو حق ہے، چاہے دنیا والے کڑوا سمجھیں۔ رسول خداؐ نے ابوذرؓ سے فرمایا تھا:
"اے ابوذر! حق کو تھامے رہو اگرچہ وہ کڑوا ہی کیوں نہ ہو۔"
(بحارالانوار، ج 77، ص 81)

میں اپنے رب کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ میرا مقصد نہ نام ہے نہ شہرت، نہ دولت ہے نہ کرسی، میرا مقصد صرف اور صرف اُس نور کو زندہ رکھنا ہے جسے اللہ نے اہل بیتِ اطہارؑ کے دلوں میں رکھا ہے۔ اگر میرے خلاف پورا شہر بھی کھڑا ہو جائے تو مجھے پرواہ نہیں، کیونکہ امام علیؑ نے فرمایا:
"ہدایت کے راستے میں اکیلے ہو جانے سے نہ گھبراؤ، کیونکہ حق کے راہرو ہمیشہ کم ہوتے ہیں۔"
(نہج البلاغہ، خطبہ 201)

میں اپنے #مخالفین کو بھی دعوت دیتا ہوں کہ آؤ! دلیل سے بات کرو، قرآن و حدیث سے بات کرو۔ اگر تمہارے پاس دلیل ہے تو میں ماننے کے لیے تیار ہوں۔ لیکن اگر تمہارے پاس صرف سازش ہے، جھوٹ ہے اور بدنام کرنے کے ہتھکنڈے ہیں، تو جان لو کہ باطل کے یہ تیر خود اسی کے سینے میں پیوست ہو جاتے ہیں۔

میں نے اپنی زندگی کے لمحات اس شہر میں گزارے اسی شہر کے ہر گلی کوچے میں، ہر دروازے پر، ہر منبر پر اور ہر محراب میں صرف حق کی صدا بلند کی ہے۔ یہ صدا اب کسی کے بس میں نہیں کہ دبائی جا سکے۔ تمہارے سازشوں کے بادل آسمان کو کچھ وقت کے لیے ڈھانپ سکتے ہیں، مگر سورج کی روشنی کو روک نہیں سکتے۔

#میرا راستہ علیؑ کا راستہ ہے، میرا منشور حسینؑ کا منشور ہے، اور میرا یقین یہ ہے کہ جو حق کے ساتھ کھڑا رہے، اللہ اُسے کبھی ضائع نہیں کرتا۔ اَللّٰهُمَّ عَرِّفْنِي حَقَّكَ، فَإِنَّكَ إِنْ لَمْ تُعَرِّفْنِي حَقَّكَ لَمْ أَعْرِفْ نَبِيَّكَ، اَللّٰهُمَّ عَرِّفْنِي رَسُولَكَ، فَإِنَّكَ إِنْ لَمْ تُعَرِّفْنِي رَسُولَكَ لَمْ أَعْرِفْ حُجَّتَكَ، اَللّٰهُمَّ عَرِّفْنِي حُجَّتَكَ، فَإِنَّكَ إِنْ لَمْ تُعَرِّفْنِي حُجَّتَكَ ضَلَلْتُ عَنْ دِينِي۔

ترجمہ:

اے اللہ! مجھے اپنا حق پہچانا، کیونکہ اگر تو نے مجھے اپنا حق نہ پہچنوایا تو میں تیرے نبی کو نہیں پہچان سکوں گا۔
اے اللہ! مجھے اپنے رسول کی معرفت عطا فرما، کیونکہ اگر تو نے مجھے اپنے رسول کی معرفت نہ کرائی تو میں تیری حجت کو نہیں پہچان سکوں گا۔
اے اللہ! مجھے اپنی حجت (امام زمانہؑ) کی معرفت عطا فرما، کیونکہ اگر تو نے مجھے اپنی حجت کی معرفت نہ دی تو میں اپنے دین سے گمراہ ہو جاؤں گا۔ #وما علينا الا البلاغ المبين

17/09/2025


Address

Multan Punjab
Punjab

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Digital Knowledge Zone World posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share

Category