Syed Habib Orakzai - London

Syed Habib Orakzai - London A platform to explore Pushtoon heritage, history, culture, and women’s struggles for respect, dignity, and justice. — Syed Habib Orakzai from London.

پشاور کے قدیم اور تاریخی علاقے بازار کلاں میں واقع یہ شاندار عمارت اور اس کے اندر قائم یہ پرانا قہوہ خانہ آج بھی ماضی کی...
10/06/2026

پشاور کے قدیم اور تاریخی علاقے بازار کلاں میں واقع یہ شاندار عمارت اور اس کے اندر قائم یہ پرانا قہوہ خانہ آج بھی ماضی کی عظمت، تہذیب اور روایات کا امین ہے۔ شاہین بازار کے عین سامنے واقع یہ مقام نہ صرف شہر کی قدیم طرزِ تعمیر کی یاد دلاتا ہے بلکہ اُس دور کی جھلک بھی پیش کرتا ہے جب قہوہ خانے صرف چائے نوشی کی جگہ نہیں بلکہ علمی، ادبی اور سماجی نشستوں کے مراکز ہوا کرتے تھے۔
یہاں برسوں سے پشاوری قہوہ، خوش گپیوں اور یادگار ملاقاتوں کی روایت زندہ ہے۔ مقامی لوگوں کے ساتھ ساتھ دنیا بھر سے آنے والے سیاح بھی اس تاریخی مقام کا رخ کرتے رہے ہیں، جہاں بیٹھ کر وہ پشاور کی مہمان نوازی، ثقافت اور صدیوں پرانی روایات کو قریب سے محسوس کرتے ہیں۔ پشاور کے قدیم بازاروں اور قہوہ خانوں کی روایت آج بھی اس شہر کی شناخت سمجھی جاتی ہے۔

وقت کے بے رحم دھارے، بدلتے حالات اور جدید تعمیرات کے باوجود یہ عمارت اور قہوہ خانہ اپنی اصل شناخت برقرار رکھے ہوئے ہیں۔ یہ صرف اینٹوں اور لکڑی کا ڈھانچہ نہیں بلکہ ہزاروں یادوں، ملاقاتوں اور گزرے زمانوں کی داستان اپنے اندر سموئے ہوئے ہے۔
سید حبیب اورکزئی — لندن

خاصدار روڈ گشت، وزیرستان — 20ویں پوسٹ کارڈ کی ایک نایاب اور تاریخی تصویر۔یہ تصویر اُس دور کی یادگار ہے جب وزیرستان کے دش...
09/06/2026

خاصدار روڈ گشت، وزیرستان — 20ویں پوسٹ کارڈ کی ایک نایاب اور تاریخی تصویر۔

یہ تصویر اُس دور کی یادگار ہے جب وزیرستان کے دشوار گزار پہاڑی راستوں پر سفر اور نقل و حرکت آج کی طرح آسان نہیں تھی۔ خاصدار روڈ گشت اپنے زمانے میں نہ صرف ایک اہم مواصلاتی شاہراہ تھی بلکہ قبائلی علاقوں، تجارتی قافلوں اور سرکاری انتظامیہ کے لیے بھی غیر معمولی اہمیت رکھتی تھی۔

تصویر میں نظر آنے والا منظر وزیرستان کی قدرتی خوبصورتی، سنگلاخ پہاڑوں اور اُس ماحول کی عکاسی کرتا ہے جس میں مقامی لوگ اپنی روزمرہ زندگی گزارتے تھے۔ ایسے پوسٹ کارڈ اُس دور میں دور دراز علاقوں کی جھلک دنیا تک پہنچانے کا ایک اہم ذریعہ تھے، اور آج یہ تصاویر ہماری تاریخ، ثقافت اور اجتماعی یادداشت کا قیمتی حصہ ہیں۔

یہ نادر پوسٹ کارڈ ہمیں نہ صرف وزیرستان کے ماضی کی ایک جھلک دکھاتا ہے بلکہ اُس خطے کی تاریخی اہمیت اور وہاں کے لوگوں کی پُرعزم زندگی کی بھی یاد دلاتا ہے۔

پشاور کے تاریخی خیبر بازار میں واقع شیراز بلڈنگ کی یہ نایاب تصویر تقسیمِ ہند سے قبل کے اُس دور کی یادگار ہے جب یہ علاقہ ...
09/06/2026

پشاور کے تاریخی خیبر بازار میں واقع شیراز بلڈنگ کی یہ نایاب تصویر تقسیمِ ہند سے قبل کے اُس دور کی یادگار ہے جب یہ علاقہ شہر کی تجارتی، تعلیمی اور سماجی سرگرمیوں کا اہم مرکز سمجھا جاتا تھا۔

اسی عمارت اور اس کے گرد و نواح میں مختلف کاروباری اداروں، دکانوں اور دفاتر کے ساتھ ساتھ سناتن دھرم اسکول بھی قائم تھا، جو اُس زمانے میں مقامی ہندو برادری کے تعلیمی مراکز میں شمار ہوتا تھا۔ تقسیمِ ہند سے قبل پشاور ایک کثیرالثقافتی شہر تھا جہاں مسلمان، ہندو اور سکھ برادریاں صدیوں سے ساتھ آباد تھیں اور شہر کی معاشی، ثقافتی اور تعلیمی زندگی میں اپنا اپنا کردار ادا کرتی تھیں۔

خیبر بازار خود بھی پشاور کے قدیم ترین بازاروں میں شامل ہے، جو برصغیر، افغانستان اور وسطی ایشیا کے درمیان تجارتی روابط کا ایک اہم مرکز رہا۔ اس بازار کی عمارتیں آج بھی اپنے اندر اُس دور کی تعمیراتی جھلک، سماجی تاریخ اور گزرے زمانوں کی بے شمار داستانیں سموئے ہوئے ہیں۔

یہ تصویر صرف ایک عمارت کی نہیں بلکہ اُس پشاور کی یاد دلاتی ہے جو مختلف مذاہب، ثقافتوں اور برادریوں کے اشتراک سے تشکیل پانے والی ایک زندہ تہذیب کا نمائندہ تھا۔

اس تاریخی معلومات اور تصویر کے حوالے سے محترم اقبال سکندر صاحب کا خصوصی شکریہ، جن کی کاوشیں پشاور کے گم شدہ تاریخی ورثے کو نئی نسل تک پہنچانے میں اہم کردار ادا کر رہی ہیں۔

گاڑی کے اندر بیٹھے ایک متمول شخص نے ہنسی اڑانے والے انداز میں آواز دی:"لو بھئی، دس روپے لیتے جاؤ اور ایک تھاپ تو لگا دو!...
08/06/2026

گاڑی کے اندر بیٹھے ایک متمول شخص نے ہنسی اڑانے والے انداز میں آواز دی:

"لو بھئی، دس روپے لیتے جاؤ اور ایک تھاپ تو لگا دو!"

یہ محض ایک جملہ نہیں تھا، بلکہ اس ذہنیت کا اظہار تھا جو انسانوں کو نہیں، ان کے حالات کو دیکھتی ہے؛ جو کردار نہیں، جیب کا وزن تولتی ہے؛ اور جو سمجھتی ہے کہ ضرورت مند آدمی کی عزتِ نفس بھی چند سکوں کے عوض خریدی جا سکتی ہے۔

سڑک کے کنارے چلتا ہوا وہ ڈھول نواز شاید بظاہر ایک معمولی مزدور تھا، مگر اس لمحے وہ پورے معاشرے کے ضمیر کی نمائندگی کر رہا تھا۔ ایک ایسا ضمیر جسے ہم اکثر اپنی مصروفیات، اپنی آسائشوں اور اپنی طبقاتی برتری کے احساس کے نیچے دبا دیتے ہیں۔

مگر پھر اس نے جواب دیا۔

نہ تلخی سے، نہ اشتعال سے، نہ کسی شکایت کے ساتھ۔

صرف اتنا کہا:

"معاف کرنا بھائی، ہمارے پڑوس میں سوگ ہے، میں ڈھول نہیں بجا سکتا۔"

یہ چند الفاظ سننے میں معمولی تھے، مگر ان کے اندر ایک پوری اخلاقی کائنات آباد تھی۔ وہ شخص جس کی روزی اسی ڈھول کی تھاپ سے وابستہ تھی، جس کے گھر کا چولہا روز کی کمائی سے جلتا تھا، اس نے چند سکوں کی خاطر اپنے پڑوسی کے غم کی حرمت پامال کرنے سے انکار کر دیا۔

اس لمحے غربت ہار گئی اور کردار جیت گیا۔

سماجیات ہمیں بتاتی ہے کہ معاشروں کی اصل پہچان ان کے محلات، شاہراہوں یا بینکوں سے نہیں ہوتی، بلکہ اس بات سے ہوتی ہے کہ محروم طبقہ کتنی اخلاقی قوت کا مالک ہے۔ اور اس دن اخلاقی بلندی کسی قیمتی گاڑی میں نہیں، بلکہ گرد آلود راستے پر چلتے ایک گمنام ڈھول والے کے حصے میں آئی تھی۔

پشتو کے معروف شاعر ممتاز اورکزئی کا شعر بے اختیار یاد آتا ہے:

زه کله د تذليل په انتها کښې خنديدی شم زه دومره حوصله نه لرم ياره لکه ډم

"میں تذلیل کی آخری حد پر پہنچ کر کیسے مسکرا سکتا ہوں؟ مجھ میں اتنا حوصلہ نہیں جتنا ایک فنکار (ڈم) میں ہوتا ہے۔"

یہ شعر صرف ایک فرد کی کیفیت نہیں، بلکہ ان تمام لوگوں کی داستان ہے جو معاشرے کے کناروں پر زندگی بسر کرتے ہیں۔ وہ لوگ جو دوسروں کی خوشیوں میں رنگ بھرتے ہیں، مگر اپنی محرومیوں کو خاموشی سے سہتے رہتے ہیں۔ جو بار بار حقارت کا سامنا کرتے ہیں، لیکن پھر بھی اپنی انسانیت کو مرنے نہیں دیتے۔

ہماری بدقسمتی یہ ہے کہ ہم نے عزت کو دولت کے ساتھ نتھی کر دیا ہے۔ ہم بھاری جیبوں کو احترام دیتے ہیں اور بھاری کرداروں کو فراموش کر دیتے ہیں۔ حالانکہ حقیقت اس کے برعکس ہے؛ دولت انسان کو آسائش دے سکتی ہے، مگر شرافت نہیں۔ طاقت دے سکتی ہے، مگر عظمت نہیں۔

اس دن سڑک پر چلتے ایک معمولی ڈھول والے نے ثابت کر دیا کہ انسان کی اصل قیمت اس کے کپڑوں، اس کی سواری یا اس کے بینک بیلنس میں نہیں، بلکہ اس اصول میں ہے جسے وہ ضرورت کے وقت بھی بیچنے پر آمادہ نہ ہو۔

شاید اسی لیے بعض اوقات معاشرے کے سب سے خاموش لوگ، سب سے بلند آواز میں ہمیں انسانیت کا سبق دے جاتے ہیں۔

ایک سو بیس سال قبل ایک حکیم نے گرمی سے بچاؤ کے لیے ایک شربت تیار کیا، اور آج برصغیر کے کروڑوں لوگ گرمیوں میں اس کے بغیر ...
07/06/2026

ایک سو بیس سال قبل ایک حکیم نے گرمی سے بچاؤ کے لیے ایک شربت تیار کیا، اور آج برصغیر کے کروڑوں لوگ گرمیوں میں اس کے بغیر خود کو ادھورا محسوس کرتے ہیں۔

یہ 1907 کے موسمِ گرما کی بات ہے، جب دہلی کی تپتی ہوئی دھوپ گویا آگ برسا رہی تھی۔ شدید گرمی کے باعث لوگ، خصوصاً مزدور، ہیٹ اسٹروک کا شکار ہو رہے تھے اور بعض اپنی جان بھی گنوا بیٹھتے تھے۔ انہی دنوں مشہور یونانی معالج حکیم عبدالمجید نے اس مسئلے کا ایک منفرد حل تلاش کرنے کا فیصلہ کیا۔

انہوں نے روایتی ادویات کے بجائے گلاب کی پنکھڑیوں، جڑی بوٹیوں اور دیگر قدرتی اجزاء سے ایک خاص شربت تیار کیا، جسے انہوں نے "روح افزا" کا نام دیا، یعنی روح کو تازگی بخشنے والا۔ ابتدا میں یہ شربت ہیٹ اسٹروک سے بچاؤ کے لیے مریضوں کو دیا جاتا تھا، لیکن جلد ہی اس کی مقبولیت عام ہو گئی اور لوگ اسے دوا کے بجائے گرمیوں کی تازگی بخش مشروب کے طور پر استعمال کرنے لگے۔

1940 کی دہائی تک روح افزا برصغیر کے بے شمار گھروں کا لازمی حصہ بن چکا تھا۔ پھر 1947 میں تقسیمِ ہند ہوئی۔ حکیم عبدالمجید کے ایک صاحبزادے ہندوستان میں رہے جبکہ دوسرے پاکستان آ گئے اور یہاں اسی خاندانی کاروبار کو آگے بڑھایا۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ سرحدیں بدل گئیں، مگر روح افزا کا فارمولا اور مقبولیت برقرار رہی۔ آج بھی یہ پاکستان اور ہندوستان دونوں میں یکساں شوق سے پانی، دودھ، فالودے اور مختلف مشروبات میں استعمال کیا جاتا ہے۔

آج روح افزا کی سالانہ فروخت سینکڑوں کروڑ روپے تک پہنچ چکی ہے، مگر اسے اب بھی اسی بنیادی فارمولے اور روایتی بوتل کے انداز میں پیش کیا جاتا ہے۔ اگرچہ وقت کے ساتھ اس کے متعدد حریف بازار میں آ چکے ہیں، لیکن روح افزا کے شائقین کی بڑی تعداد آج بھی اسی ذائقے کو ترجیح دیتی ہے۔

آپ کو کون سا لال شربت زیادہ پسند ہے: روح افزا یا جامِ شیریں؟

کار 98 (Kar98k) جرمن انجینئرنگ کا وہ شاہکار جس نے تاریخ کا دھارا بدل دیاہتھیاروں کی تاریخ میں کچھ رائفلز ایسی ہوتی ہیں ج...
06/06/2026

کار 98 (Kar98k) جرمن انجینئرنگ کا وہ شاہکار جس نے تاریخ کا دھارا بدل دیا
ہتھیاروں کی تاریخ میں کچھ رائفلز ایسی ہوتی ہیں جن کی صرف آواز سن کر ہی میدانِ جنگ میں دشمن کے دل دہل جاتے تھے۔ جرمنی کی بنی ہوئی کاربائنر 98 کے (Karabiner 98k)، جسے دنیا Kar98k اور ہمارے علاقوں کی خالص پشتو اصطلاح میں موزر پنڈزے کے نام سے جانتی ہے، تاریخ کی سب سے طاقتور، پائیدار اور پکے نشانے والی بولٹ ایکشن رائفل مانی جاتی ہے۔
مقامی زبان میں اسے موزر پنڈزے اس لیے کہا جاتا ہے کیونکہ یہ جرمن کمپنی ماؤزر (موزر) کی ڈیزائن کردہ پنزو ڈزے(پانچ فائر کرنے والی) رائفل ہے۔ اس کی مقبولیت اور لاجواب کارکردگی کی وجہ سے بعد میں چیکوسلوواکیہ جیسے ممالک نے بھی اس کے بہترین اور مشہور ماڈلز بنائے۔ یہ صرف ایک ہتھیار نہیں، بلکہ پائیدار انجینئرنگ کا وہ غرور ہے جس نے تاریخ کا نقشہ بدل کر رکھ دیا۔
تاریخ کے آئینے میں۔
اس رائفل کو 1935 میں متعارف کرایا گیا اور یہ پیادہ دستوں (Infantry) کا مرکزی ہتھیار بن گئی۔ برف باری کے شدید ترین موسم سے لے کر صحرا کی تپتی ریت تک، اس رائفل نے کبھی فائرر کا ساتھ نہیں چھوڑا اور ہمیشہ بلا تعطل فائر کیا۔ اس کی پائیداری کا اندازہ اس بات سے لگائیں کہ دنیا بھر میں اس ڈیزائن کی کروڑوں رائفلز تیار کی گئیں۔
یہ رائفل اپنے دور کی دوسری رائفلز سے کیوں مختلف اور "تکڑی" تھی؟ آئیے اس کی انجینئرنگ پر نظر ڈالتے ہیں:
1️⃣ ماؤزر کا جادوئی بولٹ سسٹم (Ma**er Bolt Action)
کار 98 کا بولٹ ایکشن سسٹم دنیا کا سب سے محفوظ، ہموار اور مضبوط ترین سسٹم مانا جاتا ہے۔ اس کا بولٹ اتنی مضبوطی سے کارتوس کو چیمبر میں لاک کرتا ہے کہ فائر کا پورا پریشر گولی کو آگے دھکیلتا ہے، جس سے گولی کی رفتار اور تباہ کن طاقت لاجواب ہو جاتی ہے۔ آج بھی دنیا کی بہترین ہنٹنگ رائفلز اسی ماؤزر بولٹ سسٹم پر بنتی ہیں۔
2️⃣ انتہائی باریک سائیٹس اور اُس دور کی عقابی نظر
اس رائفل کی سب سے بڑی خاصیت اس کی اوریجنل حالت میں لگی اس کی لوہے کی سائیٹس (Iron Sights) ہیں۔ اس کا ریئر سائیٹ (پچھلا نکا) انتہائی باریک V-Shape (وی شکل) کی بناوٹ میں ہوتا ہے۔ یہ سائیٹس اتنی باریک ہیں کہ ان کو دیکھ کر اُس دور کے لوگوں کی صحت مند، تیز اور درست نظر کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ آج کے دور کی طرح بغیر کسی جدید اسکوپ یا لینس کے، اُس زمانے کے پکے نشانہ باز صرف اسی باریک نکے کی مدد سے سو فیصد پکا نشانہ لے لیتے تھے، جو کہ ایک حیران کن مہارت تھی۔
3️⃣ تباہ کن کارتوس
یہ رائفل 8mm (مستند زبان میں 7.92mm) کا وہ بھاری کارتوس فائر کرتی تھی جس کی مار انتہائی خوفناک تھی۔ اس کی گولی کا جھٹکا (Recoil) بہت زوردار ہوتا تھا، لیکن اس کی گولی چادروں اور لوہے کی پلیٹوں کو پاڑنے کی صلاحیت رکھتی تھی۔
4️⃣ اندرونی فکسڈ میگزین
جیسا کہ اس کے مقامی نام سے ظاہر ہے، اس کے اندر 5 راؤنڈز (پنزو ڈزے) کا فکسڈ میگزین ہوتا تھا، جسے اوپر سے ایک دھاتی پٹی (Stripper Clip) کے ذریعے سیکنڈوں میں لوڈ کیا جا سکتا تھا۔
برصغیر اور پشتون ثقافت میں مقام
ہمارے ملک کے شمالی علاقوں، خیبر پختونخوا اور قبائلی بیلٹ میں کار 98 کو ایک لیجنڈری مقام حاصل ہے۔ شاعری ہو یا مقامی روایات، اصل "موزر پنڈزے" رکھنا خاندانی وقار، پکے نشانہ باز اور دبدبے کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ بزرگ بتاتے ہیں کہ اس کے فائر کی آواز اتنی گرجدار اور بھاری ہوتی ہے کہ دور پہاڑوں میں بھی بندہ سن کر پہچان جاتا ہے کہ یہ اصل موزر چلی ہے۔
آج پسٹن اور آٹو میٹک رائفلز کے دور میں بھی، کار 98 دنیا بھر کے اسلحہ کلکٹرز اور شکاریوں کے لیے ایک نایاب ہیرا ہے۔ یہ رائفل سازی کی تاریخ کا وہ سنہرا باب ہے جو کبھی پرانا نہیں ہو سکتا۔ پاپ کلچر اور جدید گیمز(جیسے پب جی) نے اس رائفل کو آج کی نسل میں بھی ایک لیجنڈ بنا دیا ہے۔
وضاحتی نوٹ۔ یہ پوسٹ صرف تاریخ کے شوقین حضرات کے لیے علمی اور تکنیکی معلومات کے طور پر شیئر کی گئی ہے۔ کم عمر بچوں کے لیے اس قسم کے شوق کی ہرگز حوصلہ افزائی نہیں کی جاتی۔

**er98k **erBoltAction

لنڈیکوتل کے مشہور کاروباری شخصیت حاجی خان شینواری عرف وڑوکئ حاجی 1975ء میں اپنے ٹیوٹا موٹر   ماڈل 1974ء کے ساتھ ایک یاد ...
19/05/2026

لنڈیکوتل کے مشہور کاروباری شخصیت حاجی خان شینواری عرف وڑوکئ حاجی 1975ء میں اپنے ٹیوٹا موٹر ماڈل 1974ء کے ساتھ ایک یاد گار تصویر انکے لنڈیکوتل کے مشہور بلڈنگ حاجی خان بلڈنگ یونیورسٹی روڈ پر واقع جابر فلٹس شعبہ بازار اور پشاور کے نواحی علاقوں میں کافی جائیداد کے مالک تھے یہ اکثر اپنے موٹر میں اکیلے گھوم رھے ہوتے تھے نہ اپنے پاس کوئی ڈرائیور رکھتے اور نہ کوئی گارڈ ۔

برطانوی ہند کی 3rd سیکھ انفنٹریوزیرستان مہم 1894 تا مارچ 1895، شمال مغربی سرحدِ
17/05/2026

برطانوی ہند کی 3rd سیکھ انفنٹری
وزیرستان مہم 1894 تا مارچ 1895، شمال مغربی سرحدِ

16/05/2026

حکومت اگر عوام کو کفایت شعاری اور مہنگائی پر صبر کا درس دیتی ہے، تو سب سے پہلے قوم کو یہ بھی بتانا چاہیے کہ وزراء، بیوروکریسی اور اشرافیہ نے اپنی مراعات اور شاہ خرچیوں میں اب تک کتنی کمی کی ہے۔

خاطر آفریدی:خاطر آفریدی، پشتو زبان کے معروف شاعر تھے۔ 1929ء میں  قبائلی علاقے لنڈی کوتل میں پیدا ہوئے۔ یہ علاقہ پاکستان ...
15/05/2026

خاطر آفریدی:
خاطر آفریدی، پشتو زبان کے معروف شاعر تھے۔ 1929ء میں قبائلی علاقے لنڈی کوتل میں پیدا ہوئے۔ یہ علاقہ پاکستان اور افغانستان کی سرحد پر واقع ہے۔ آپ کا اصل نام مصری خان تھا۔ آپ کے والدین کا تعلق آفریدی قبیلہ میں زکا خیل برادری سے تھا۔ خاطر آفریدی پشتو زبان کے انتہائی معروف شاعر گردانے جاتے ہیں۔
آپ کے صاحبزادے نے تمام ادبی کام جمع کر کے ایک ضحیم کتاب کی شکل میں شائع کروایا۔ خاطر آفریدی کی پیدائش کے کچھ دن بعد ہی ان کے والد کا انتقال ہو گیا تھا اور ان کی پرورش چچا اور دادا نے کی۔ غربت کی زندگی گزاری اور کبھی مدرس نہ جا سکے۔ اور کم عمری میں خیبر رائفل کیمپ میں ایک باغبان کی نوکری اختیار کی۔ لیکن اس کے باوجود ان کی شاعری میں جتنی شائیستگی اور شعوری اقدار پائے جاتے ہیں۔ بہت کم لوگوں میں یہ صفت پائی گئی ہے۔ یعنی وہ جو ان پڑھ ہو! مصری خان کو عشق نے شاعری کرنے پر مجبور کر دیا۔ اور یہی عشق اس کے لیے موت کا پیغام بن کر آئی۔ عشق گر سچا ہو تو پا لینا ضروری نہیں۔ اور اسی طرح مصری خان نے اپنے عشق کو پائے بغیر اس دنیائے فانی کو ہمیشہ ہمیشہ کے لیے خیر باد کہہ دیا۔ لیکن اپنے پیچھے ایسی شاعری چھوڑی،جنہیں*پڑھنے کے بعد انسانی فطرت ضرور اس شخص کے شعوری گہرائی اور ایک سادہ قسم کے عشق کو سوچنے پر مجبور ہو جاتا ہے
خاطر کو شاعری اور دوسرے فنون لطیفہ میں خاصی دلچسپی تھی اور انھوں نے شاعری اور موسیقی (رباب) کی تعلیم ایک مقامی استاد “باغیرم“ سے حاصل کی، جو مالکدین خیل کے رہائشی تھے۔
آپ کا جواں عمری میں ہی انتقال ہو گیا۔ آپ 24 اگست، 1961ء کو اس دار فانی سے کوچ کر گئے۔ # # #

Address

Plashet Grove
Rawalpindi
E61AB

Opening Hours

Monday 09:00 - 17:00
Tuesday 09:00 - 17:00
Wednesday 09:00 - 17:00
Thursday 09:00 - 17:00
Friday 09:00 - 17:00
Sunday 09:00 - 17:00

Telephone

+923012225533

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Syed Habib Orakzai - London posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share