16/08/2026
پراپرٹی کے کاروبار میں 2022ء سے جو ڈاؤن فال جاری ہے، اس کی کئی وجوہات ہیں؛ ٹیکسز اور حکومتی پالیسیوں کے مسائل اپنی جگہ، لیکن اس بحران کی ایک بڑی وجہ بعض ٹائیکونز، بلڈرز اور مختلف پروجیکٹس کی جانب سے عوام کے اعتماد کو مجروح کرنا بھی ہے۔ لوگوں سے دو، تین یا سات سال کی بکنگ کے نام پر رقم وصول کی گئی، مگر کئی کئی سال گزرنے کے باوجود انہیں ان کی پراپرٹی یا قبضہ فراہم نہیں کیا گیا۔ فائلوں کا کاروبار بھی اسی طرح بے قابو ہے؛ نئی نئی فائلیں اور پالیسیاں متعارف ہوتی رہتی ہیں، جبکہ چند سال پہلے خریدی گئی فائل کی کوئی واضح قدر باقی نہیں رہتی۔ نتیجہ یہ ہے کہ عوام کا اعتماد اس پوری انڈسٹری سے اٹھتا جا رہا ہے اور بہت سے لوگ اب پراپرٹی کے کاروبار سے وابستہ افراد کے ساتھ لین دین کرنے سے بھی گھبراتے ہیں۔
خدارا اس معاملے کو صرف کاروبار نہ سمجھیں، یہ لوگوں کی عمر بھر کی جمع پونجی اور ان کے بچوں کے مستقبل کا سوال ہے۔ جو لوگ دوسروں کا پیسہ روک کر، ہڑپ کرکے یا وعدے پورے کیے بغیر دولت جمع کرتے ہیں، انہیں یاد رکھنا چاہیے کہ دنیا میں شاید کوئی راستہ نکل آئے، لیکن آخرت میں ہر حق کا حساب دینا ہوگا۔ ناجائز طریقے سے جمع کیا ہوا مال نہ برکت لاتا ہے اور نہ سکون؛ جس رفتار سے آتا ہے، اکثر اسی رفتار سے چلا بھی جاتا ہے۔ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت اور متعلقہ ادارے مضبوط، واضح اور قابلِ عمل قوانین بنائیں، فراڈ اور غیر ذمہ دارانہ پروجیکٹس کے خلاف مؤثر کارروائی ہو، اور سوسائٹیز بھی ایسی پالیسیاں بنائیں جن سے سرمایہ کار، ڈیلر، بلڈر اور عام آدمی سب کا اعتماد بحال ہو اور روزگار کے مواقع بہتر ہوں۔
ساتھ ہی عوام سے بھی گزارش ہے کہ اپنی عمر بھر کی کمائی کسی کے وعدے یا ظاہری شان و شوکت سے متاثر ہو کر نہ لگائیں۔ جس شخص، کمپنی یا پروجیکٹ کے ساتھ سرمایہ کاری کرنی ہو، اس کی ساکھ، سابقہ ریکارڈ، قانونی حیثیت، زمین کی ملکیت، قبضے اور ڈیلیوری کا مکمل جائزہ لیں۔ صرف بڑی گاڑیوں، بڑے دفاتر اور کروڑوں کی باتوں کو کامیابی نہ سمجھیں؛ اصل کامیابی دیانت، وعدے کی پاسداری اور لوگوں کے حقوق ادا کرنے میں ہے۔ آج اگر ہم سب مل کر اس لوٹ مار، فراڈ اور غیر ذمہ دارانہ کاروباری رویے کے خلاف آواز اٹھائیں اور شفافیت کو فروغ دیں تو ان شاء اللہ پراپرٹی انڈسٹری دوبارہ مضبوط ہوگی، لوگوں کا اعتماد بحال ہوگا اور حلال روزگار کے دروازے کھلیں گے۔ رزق اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے، مگر رزق میں برکت ہمارے کردار، دیانت اور دوسروں کے حقوق ادا کرنے سے آتی ہے۔
(تحریر راجہ امجد)