Molana Saqib Riaz Satti

Molana Saqib Riaz Satti توحید کی امانت سینوں میں ہے ہمارے
آساں نہیں مٹانا نام ونشاں ہمارا

13/06/2025

نماز جمعہ کے لیے جلدی کرنا

جب آپ پر معاملات تنگ ھو جائیں تو صدقہ کریں صدقہ کرنے سے معاملات آسان اور دلی سکون ملتا ہے
12/06/2025

جب آپ پر معاملات تنگ ھو جائیں تو صدقہ کریں صدقہ کرنے سے معاملات آسان اور دلی سکون ملتا ہے

علم الغیب صرف اللہ ہی جانتا ہے
11/06/2025

علم الغیب صرف اللہ ہی جانتا ہے

اللہ کی مدد کا وعدہ
04/06/2025

اللہ کی مدد کا وعدہ

نمازِ عید کے مسائل واحکامات کا قرآن وصحیح حدیث کی روشنی میں بیان۔۔۔✍️ : / حافظ عبدالغفور طاہری فاضل علومِ اسلامیہ وفاق ا...
03/06/2025

نمازِ عید کے مسائل واحکامات کا قرآن وصحیح حدیث کی روشنی میں بیان۔۔۔
✍️ : / حافظ عبدالغفور طاہری فاضل علومِ اسلامیہ وفاق المدارس پاکستان
********* نمازِ عید کا طریقہ **********
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ أَخْبَرَنِي زَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عِيَاضِ بْنِ
عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي سَرْحٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ :‏‏‏‏ ""كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
يَخْرُجُ يَوْمَ الْفِطْرِ وَالْأَضْحَى إِلَى الْمُصَلَّى، ‏‏‏‏‏‏فَأَوَّلُ شَيْءٍ يَبْدَأُ بِهِ الصَّلَاةُ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ يَنْصَرِفُ فَيَقُومُ مُقَابِلَ النَّاسِ
وَالنَّاسُ جُلُوسٌ عَلَى صُفُوفِهِمْ فَيَعِظُهُمْ وَيُوصِيهِمْ وَيَأْمُرُهُمْ، ‏‏‏‏‏‏فَإِنْ كَانَ يُرِيدُأَنْ يَقْطَعَ بَعْثًا قَطَعَهُ أَوْ يَأْمُرَ
بِشَيْءٍ أَمَرَ بِهِ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ يَنْصَرِفُ"
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم عیدالفطر اور عید الاضحی کےدن ( مدینہ کے باہر) عیدگاہ تشریف لےجاتے تو سب سے پہلے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھاتے،
نماز سے فارغ ہو کرآپ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کے سامنےکھڑے ہوتے۔
تمام لوگ اپنی صفوں میں بیٹھے رہتے،
آپ صلیاللہ علیہ وسلم انہیں وعظ و نصیحت فرماتے، اچھی باتوں کا حکم دیتے۔ اگر جہ_اد کے لیے کہیں لشکر بھیجنے کاارادہ ہوتا تو اس کو الگ کرتے۔
کسی اور بات کا حکم دینا ہوتا تو وہ حکم دیتے ۔اس کے
بعدشہرکوواپس تشریف لاتے۔

***** طریقئہ نماز عید *****
وضو کرکے قبلےکی طرف منہ کریں
اور ” اَللہُ اَکۡبَرۡ “ کہتے ہوئے رفیع الیدین کریں ۔
( صحیح البخاری ، الاذان ، حدیث ٧٣٨ )
پھر سینے پر ہاتھ باندھ کر دعاۓ استفتاح پڑھیں ۔
پھر دعائے استفتاح پڑھ کرقرآت سےپہلے ٹھہرٹھہر کر سات تکبیریں کہیں۔
دلیل ________
( سنن ابی داؤد، الصلاة ،
باب التکبیرفی العیدین ،حدیث ١١٥١
وسندہ حسن۔امام احمداورعلی بن مدینی نےاسےصحیح کہا ہے۔ )
پھرامام اونچی آواز سے اور مقتدی آہستہ آواز سے ” الحمد شریف “ پڑھیں۔
پھر امام اونچی آواز سے قرآت کرے اور مقتدی چپ چاپ سنیں ۔
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نےعیدالضحیٰ اورعیدالفطر میں قٓ ۟ ۚ وَ الۡقُرۡاٰنِ الۡمَجِیۡدِ ۚ﴿۱﴾۔اِقۡتَرَبَتِ السَّاعَۃُ وَ انۡشَقَّ الۡقَمَرُ ﴿۱﴾ پڑھاکرتےتھے۔
ایک اورروایت میں سَبِّحِ اسۡمَ رَبِّکَ الۡاَعۡلَی ۙ﴿۱﴾اورہَلۡ اَتٰىکَ حَدِیۡثُ الۡغَاشِیَۃِ ؕ﴿۱﴾ پڑھنےکابھی ذکرآیاہے
دلیل _____
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى قَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ عَنْ ضَمْرَةَ بْنِ سَعِيدٍ الْمَازِنِيِّ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ
عَبْدِاللَّهِ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ سَأَلَ أَبَا وَاقِدٍ اللَّيْثِيَّ مَا كَانَ يَقْرَأُبِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ
وَسَلَّمَ فِي الْأَضْحَى وَالْفِطْرِ فَقَالَ كَانَ يَقْرَأُ فِيهِمَابِق وَالْقُرْآنِ الْمَجِيدِوَاقْتَرَبَتْ السَّاعَةُ وَانْشَقَّ الْقَمَرُ
مالک نےضمرہ بن سعید مازنی سےاورانھوں نے عبیداللہ بن عبداللہ سےروایت کی کہ حضرت عمر بن
خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ابو واقدلیثی سے پوچھا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عیدالاضحیٰ اور
عید الفطر میں کون سی سورت قراءت فرماتے تھے ؟ توانھوں نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان
دونوں میں سورہ ق وَالْقُرْ‌آنِ الْمَجِيدِ اور سورہ اقْتَرَ‌بَتِ السَّاعَةُ وَانشَقَّ الْقَمَرُ‌ پڑھا کرتے تھے ۔
( صحیح مسلم ،صلاة العیدین ،حدیث ٨٩١ ۔ والجمعة ، حدیث ٨٧٨ )

* بہتر ہے کہ سورة الفاتحہ کے بعد مسنون قرآت کی جائے ۔جب پہلی رکعت پڑھ کر آپ دوسری رکعت کے لیے کھڑے ہوں اور قیام کی تکبیرکہہ لیں تو قرآت شروع کرنے سے پہلے پانچ تکبیریں کہیں ۔
دلیل ________
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الطَّائِفِيَّ يُحَدِّثُ، ‏‏‏‏‏عَنْ
عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِيهِ،عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى
اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ التَّكْبِيرُفِي الْفِطْرِسَبْعٌ فِي الْأُولَى، ‏‏‏‏‏‏وَخَمْسٌ فِي الْآخِرَةِ، ‏‏‏‏‏‏وَالْقِرَاءَةُ بَعْدَهُمَا كِلْتَيْهِمَا .
اللہ کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عید الفطر کی پہلی رکعت میں سات تکبیریں
اوردوسری رکعت میں پانچ تکبیریں ہیں، اوردونوں میں قرأت تکبیر ( زوائد )کے بعد ہے ۔
( حسن ، سنن ابی داؤد ، الصلاة ، باب التکبیر فی العیدین ، حدیث ١١٥١،
وسندہ حسن ، امام احمدؒ نے اسے صحیح کہا ۔)
* پھر دو رکعتیں پڑھ کرسلام پھیر دیں ۔

* تکبیراتِ عیدین کے ساتھ رفیع الیدین ***

تکبیراتِ عیدین کے ساتھ رفیع الیدین کرنےکی بابت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ اکرامؓ سے کوئی صریح دلیل منقول نہیں ہے ۔
دلیل _____
امام ابن حزمؒ اسکی بابت لکھتے ہیں
” رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ قطعًا ثابت نہیں کہ آپؐ نے ان تکبیروں میں رفع الیدین کیا ہو۔
(المحلّیٰ ،٨٤٬٨٣/٥ )
محقق عصرشیخ البانیؒ بھی اسکی بابت لکھتے ہیں کہ یہ مسنون نہیں ہے۔
(ارواء الغلیل ١١٤/٣ )
تاہم تکبیرات عیدین کے ساتھ رفیع الیدین کرنےکی بابت محدثین اکرام ” امام ابن المنذرؒ اور امام بیہقیؒ نے سیدنا ابن عمرؓ کی حدیث سےاستدلال کیا ہے۔
دلیل ________
جس میں ہے کہ ” اورآپ صلی اللہ علیہ وسلم ہررکعت اور تکبیر کے ساتھ جو رکوع سےپہلے ہے دونوں ہاتھ اٹھاتے تھے ۔“
سلف صالحین میں سے کوئی بھی ان محدثین کا مخالف نہیں ۔اور یہ استدلال قوی ہے۔
اس بارے میں ائمہ کےاقوال بھی ملتےہیں۔
جیساکہ عطاء بن ابی رباح سے پوچھا گیا
” کیا امام نماز عیدین میں ہرتکبیرکےساتھ رفیع الیدین کرے ؟ انہوں نے جواب دیا ” ہاں وہ رفیع الیدین کرے اور لوگ بھی اس کے ساتھ ہاتھ اٹھائیں ۔
(المصنف ،لعبدالزاق ٢٩٧/٣ )
نیز امام مالکؒ فرماتے ہیں
کہ تکبیراتِ عیدین کے موقعہ پر ہاتھ اٹھانے چاہییں اگرچہ میں نے اس کے متعلق کچھ سنا نہیں۔
( الفریابی بحوالہ ارواء الغلیل ١١٣/٣ ) امام شافعیؒ اور امام بن حنبلؒ کا بھی یہی موقف ہے کہ تکبیراتِ عیدین میں ہاتھ اٹھانے چاہییں ۔(الامام ٢٣٧/١ )

لہٰذا تکبیرات عید کے ساتھ رفیع الیدین کرنا بہتر ہے ۔

*********خطبہ عید *********

* نماز عیدین کی آذان و اقامت نہیں
قَالَ قَالَ وَأَخْبَرَنِي عَطَاءٌ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ أَرْسَلَ إِلَى ابْنِ الزُّبَيْرِ فِي أَوَّلِ مَا
بُويِعَ لَهُ""إِنَّهُ لَمْ يَكُنْ يُؤَذَّنُ بِالصَّلَاةِ يَوْمَ الْفِطْرِ إِنَّمَا الْخُطْبَةُ بَعْدَ الصَّلَاةِ"".
ابن عباس رضی اللہ عنہما نے ابن زبیر رضی اللہ عنہ کے پاس ایک شخص کو
اس زمانہ میں بھیجا جب ( شروع شروع ان کی خلافت کا زمانہ تھا آپ نے
کہلایا کہ ) عیدالفطر کی نماز کے لیے اذان نہیں دی جاتی تھی اور خطبہ نماز
کے بعد ہوتا تھا۔
( صحیح البخاری ، العیدین ،باب صلاة العیدین )

سیدنا جابرؓ نے فرمایا
” نماز عید کے لیے آذان ہے نہ تکبیر ، پکارنا ہے نہ کوئی اور آواز “
( صحیح المسلم ، صلاة العیدین ، باب کتاب صلاة العیدین ، حدیث ٨٨٦ )

* عیدین میں پہلے نماز عید پڑھی جائیگی اور نماز کے بعد خطبہ دیا جائے گا
قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ، ‏‏‏‏‏‏وَأَخْبَرَنِي الْحَسَنُ بْنُ مُسْلِمٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ طَاوُسٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ "شَهِدْتُ
الْفِطْرَ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏وَأَبِي بَكْرٍ، ‏‏‏‏‏‏وَعُمَرَ، ‏‏‏‏‏‏وَعُثْمَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ يُصَلُّونَهَا قَبْلَ الْخُطْبَةِ، ‏‏‏‏‏‏
میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوبکر، عمر اور عثمان رضی اللہ عنہم کے
ساتھ عیدالفطر کی نماز پڑھنے گیا ہوں۔ یہ سب حضرات خطبہ سے پہلے نماز
پڑھتے اور بعد میں خطبہ دیتے تھے۔
( دیکھیےصحیح البخاری ، العیدین ، باب الخطبة بعدالعید ، حدیث ٩٦٢ ،
وصحیح مسلم ، صلاة العیدین ، باب کتاب صلاة العیدین حدیث ٨٨٤ )

* آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عیدگاہ میں سوائے عید کی دورکعتوں کےنہ پہلےنفل پڑھےاور نہ بعد میں
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ،
‏‏‏‏‏‏عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، ‏‏‏‏‏‏""أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى يَوْمَ الْفِطْرِ رَكْعَتَيْنِ لَمْ يُصَلِّ
قَبْلَهَا وَلَا بَعْدَهَا، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ أَتَى النِّسَاءَ وَمَعَهُ بِلَالٌ فَأَمَرَهُنَّ بِالصَّدَقَةِ، ‏‏‏‏‏‏فَجَعَلْنَ يُلْقِينَ تُلْقِي
الْمَرْأَةُ خُرْصَهَا وَسِخَابَهَا"".
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عیدالفطر کے دن دو رکعتیں پڑھیں نہ ان سے پہلے کوئی
نفل پڑھا نہ ان کے بعد۔ پھر ( خطبہ پڑھ کر ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم عورتوں کے پاس
آئے اور بلال آپ کے ساتھ تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں سے فرمایا خیرات
کرو۔ وہ خیرات دینے لگیں کوئی اپنی بالی پیش کرنے لگی کوئی اپنا ہار دینے لگی۔
(صحیح البخاری ، العیدین ،باب الصلاة قبل العید وبعدھا )
نماز کے بعد امام مرد و خواتین کو وعظ و نصیحت کرے ۔ خطبہ صحیح قول کی روشنی میں سنت ہے، واجب نہیں ہے ۔ عید کی نماز کےبعد نبی ﷺ نے فرمایا تھا:
مَن أحبَّ أن ينصرفَ فلينصرِفْ ، ومن أحبَّ أن يُقيمَ للخطبةِ فليُقِمْ۔
جو لوٹنا پسند کرے وہ لوٹ جائے اور جو خطبہ کے لئے رکنا چاہے وہ رک جائے۔
(صحيح النسائي:1570)

٭ جمعہ کی طرح اس کا سننا واجب نہیں لیکن وعظ ونصیحت کو سنے بغیر جانا بھی نہیں چاہئے۔
٭ عید کا ایک ہی خطبہ حدیث سے ثابت ہے ۔
٭ خطبہ کھڑے ہوکر دینا ہے اور بغیر منبر کے دینا ہے ۔
( دیکھیے صحیح لبخاری ، العیدین حدیث ٩٥٦ ۔وصحیح مسلم، صلاة العیدین حدیث ٨٨٩ )

🖊****** عید کی مبارک باد ****

ہمارے معاشرےمیں جس دھوم دھام سےعید کے بعد مصافحہ و معانقہ کیا جاتا ہےاور ایکدوسرےسے بغلگیرہواجاتاہے یہ عمل رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ اجمعینؓ سے بلکل ثابت نہیں ہے۔
رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے
” جس عمل پرہماری طرف سےکوئی امرنہ ہو وہ رد کردینے کے قابل ہے ۔“
(صحیح مسلم ، الاقضیہ ، ٤٤٩٣ )

مولانا ثنا اللہ امرتسریؒ سے کسی نے عیدکےدن مصافحہ و معانقہ کے بارے میں سوال کیا تو آپ نےبڑےجامع الفاظ میں فرمایا
” مصافحہ بعداز سلام آیا ہے۔عید کے روز بھی بنیتِ تکمیل سلام ، مصافحہ
تو جائز ہےلیکن بنیت خصوص عید ، بدعت ہے۔کیونکہ زمانہ رسالت و
خلافت میں یہ طریقہ مروج نہیں تھا ۔“
( فتاوٰی ثنائیہ ، جلد ١ ، صفحہ ٤٥٠ )

امام احمد بن حنبلؒ سے سوال کیا گیا کہ لوگ عیدین کےمواقع پر ”تَقَبَّلَ اللہُ مِنَّا وَ مِنۡکُمۡ “سےایکدوسرے کو مبارکباد دیتے ہیں ۔اسکی شرعئی حیثیت کیا ہے۔آپ نے فرمایا
” ایسا کہنے میں کوئی حرج نہیں ہے ۔
کیونکہ اہل شام اسے ابوامامہ باہلیؒ سے
اسے بیان کرتے ہیں ۔اسکی سند جیّد ہے ۔“
عید کےدن مبارک باد کی بابت فضیلة الشیخ محمدبن صالح العثیمینؒ رقمطراز ہیں
” عید کی مبارک باد دیناجائز ہے لیکن اسکے لیے کوئی مخصوص الفاظ نہیں ہیں ۔
لوگوں کا جو بھی معمول ہو وہ جائز ہے ۔بشرطیکہ گناہ نہ ہو ۔“
( فتاوٰی ارکانِ اسلام )

امام ابن تیمیہؒ سے سوال ہوا کہ لوگ عید کے موقعہ پر ایکدوسرے کو عید مبارک کہتے ہیں کیا شرعئی طور پر اسکی کوئی بنیاد ہے ؟ اگر ہے تو اسکی وضاحت فرمائیں
۔امام ابن تیمیہؒ نے فرمایا
” عید کے دن نماز کےبعد”تَقَبَّلَ اللہُ مِنَّا وَ مِنۡکُمۡ “ سے ایکدوسرے کو مبارک باد دی جا سکتی ہے ۔
کیونکہ چند ایک صحابہؓ سے یہ عمل مروی ہے ۔
اور امام احمد بن حنبلؒ جیسے ائمہ اکرام نے بھی اس کی رخصت دی ہے ۔اس کے متعلق
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی حکم یا نہی مروی نہیں ہے ۔ اس لیے
اس کےکرنے میں یا نہ کرنے میں چنداں مضائقہ نہیں ہے ۔“
( فتاوٰی ابن تیمیہؒ ، جلد ٢٤ ، صفحہ ٢٥٣ )

امام ابن تیمیہؒ نے جن صحابہ اکرامؓ کے عمل کی طرف اشارہ کیا ہے ان میں
(1) * حضرت جبیر بن معطمؓ فرماتے ہیں کہ صحابہ اکرامؓ جب عیدکےدن ملتے تو
” تَقَبَّلَ اللہُ مِنَّا وَ مِنۡکُمۡ “ سے ایکدوسرے کو مبارک باد دیتے تھے ۔“
( فتح الباری ، جلد ٣ ،صفحہ ٤٤٦ )
(2) * محمد بن زیاد کہتے ہیں کہ میں حضرت ابو امامہ باہلیؓ اور دیگر صحابہ اکرامؓ کے
ہمراہ تھا ۔جب وہ عید پڑھ کرواپس ہوئے توانہوں نے ” تَقَبَّلَ اللہُ مِنَّا وَ مِنۡکُمۡ“
کے ساتھ ایکدوسرے کو مبارک باد دی ۔
( الجواہر المقعی ، جلد ٣ ، صفحہ ٣٢٠ )

ان روایات کے پیش نظرمذکورہ الفاظ ” تَقَبَّلَ اللہُ مِنَّا وَ مِنۡکُمۡ“ سے مبارک باد تو دی جاسکتی ہے لیکن مصافحہ ومعانقہ یا گلے ملنا ایک رواج ہے جس کا ثبوت قرآن و حدیث سے نہیں ملتا ۔اور کتب احادیث سے بعض روایات ایسی ملتی ہیں جن سے اس کی کراہت محسوس ہوتی ہے اور اسے اہل کتاب کا طریقہ بتایاگیا ہے۔
لیکن وہ روایات محدثین کے معیارصحت پر پوری نہیں اترتیں ۔( سنن بیہقی ٣٢/٣ )

********** عید کی ایڈوانس میں مبارکبادی دینے کا حکم ************

سنت سےعید کی مبارکباد دینا ثابت ہے ۔ صحابہ کرام ایک دوسرے کو عید کے دن عید کی مبارکباد دیتے تھے ۔
یہ مبارکبادی عید کی نماز کے بعد دینی چاہئے ۔
مبارکبادی کے الفاظ ہیں :
تقبل اللہ منا ومنک۔ کوئی عید مبارک کے الفاظ کہتا ہے تو بھی درست ہے ۔
جہاں تک عید کی مبارکبادی دینا قبل از وقت تو یہ سنت کی خلاف ورزی ہے ،
عید کی مبارکبادی تو عید کے دن ،عید کی نماز کے بعد ہونی چاہئےکہ اللہ کے فضل کے سبب ہمیں عید ومسرت میسر ہوئی ۔اس سلسلے میں بعض علماء ایک دودن پہلے تہنیت پیش کرنے کے قائل ہیں مگر احتیاط کا تقاضہ ہے کہ عید سے پہلے مبارکبادی پیش کرنے کو سنت کی مخالف کہی جائے کیونکہ لوگ اس وقت ہرچیز کے لئے مبارک پیش کرنے لگے ہیں اور وہ بھی کتنے دنوں پہلے سے ہی ۔ لوگوں میں دین پر عمل کرنے کا جذبہ کم اور مبارکبادی پیش کرنے کا رواج زیادہ ہوتا نظر آرہاہے ۔
شیخ صالح فوزان حفظہ اللہ سے عید سے ایک دودن پہلے مبارکبادی پیش کرنے کے متعلق سوال کیاگیا تو شیخ نے جواب دیاکہ اس کی کوئی اصل نہیں ہے ،مبارکبادی توعید کے دن یا عید کے بعد والے دن مباح ہے لیکن عید کے دن سے پہلے مبارکبادی دینے سے متعلق مجھے نہیں معلوم کہ اسلاف سے کچھ ثابت ہے تو پھر لوگ عید سے پہلے کیسے تہنیت پیش کرتےہیں جس کے متعلق کچھ ثبوت نہیں ہے ۔(مقبول احمدسلفی)

********** عید کی مبارک باد میں ” عیدکارڈ “ کی شرعئی حیثیت ***********
آج کل کے معاشرےمیں یہ رواج بہت عام ہو گیا کہ رمضان میں عید سے قبل بے شمار عید کارڈز بازاروں میں برائے فروخت آجاتے ہیں ۔
ان میں کچھ اسلامی ، کچھ ہندو پاک کے فلمی ہیروز اور ہیروئینز کی نا شائستہ تصاویر ، کچھ کرکٹرز کی تصاویر اور کچھ برہنہ عورتوں کی تصاویر پر مشتمل ہوتے ہیں۔ہرکوئی اپنے اپنے ذوق و فطرت کے مطابق کارڈ خرید کر اپنے دوستوں ،رشتہ داروں اور پیاروں کو بھیجتے ہیں۔یہ عمل سراسر غلط ہے۔عید کارڈز کی یہ روایت بھی دراصل عیسائیوں کے کرسمس کارڈز کی مشابہت ہے ۔عید کی مبارکباد بے شک ارسال کی جاسکتی ہے ، لیکن اس کے لیے کارڈز بھیجنا عیسائیوں کی تہذیب اپنانا ہے۔ارشاد نبوی ہے
مَنۡ تَشَبَّہَ بِقَوۡمٍ فَھُوَا مِنۡھُمۡ
” جس نے کسی قوم سےمشابہت اختیارکی وہ انہی میں سے ہے۔“
********** عید کا روزہ ***********
عید کے دن روزہ رکھنا منع ہے۔ حضرت ابوھریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :
نهى عن صيامِ يومَينِ : يومِ الفطرِ ويومِ النَّحرِ .
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دو دنوں عید الفطر اور عیدالاضحی
کے دن روزہ رکھنے سے منع فرمایاہے۔
(صحيح مسلم:1138)
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ يَحْيَى، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِيهِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي
سَعِيدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ ""نَهَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ صَوْمِ يَوْمِ الْفِطْرِ
وَالنَّحْرِ، ‏‏‏‏‏‏وَعَنِ الصَّمَّاءِ، ‏‏‏‏‏‏وَأَنْ يَحْتَبِيَ الرَّجُلُ فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ.
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عیدالفطر اور قربانی کے دنوں کے روزوں کی ممانعت کی تھی
اور ایک کپڑا سارے بدن پر لپیٹ لینے سے اور ایک کپڑے میں گوٹ مار کر بیٹھنے سے۔
(صحیح حدیث ،صحیح البخاری ، ١٩٩١ )
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى، ‏‏‏‏‏‏أَخْبَرَنَا هِشَامٌ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، ‏‏‏‏‏‏
عَنْ عَطَاءِ بْنِ مِينَا، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ سَمِعْتُهُ يُحَدِّثُ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ ""يُنْهَى
عَنْ صِيَامَيْنِ وَبَيْعَتَيْنِ:‏‏‏‏ الْفِطْرِ وَالنَّحْرِ، ‏‏‏‏‏‏وَالْمُلَامَسَةِ، ‏‏‏‏‏‏وَالْمُنَابَذَةِ"".
آپ نے فرمایا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دو روزے اور دو قسم کی خرید و فروخت
سے منع فرمایا ہے۔ عیدالفطر اور عید الاضحی کے روزے سے۔ اور ملامست اور منابذت
کے ساتھ خرید و فروخت کرنے سے۔
( صحیح البخاری ، حدیث ١٩٩٣ ).

********** عید کے دن کھانا **********
کھجوریں کھاکر عید گاہ جانا مسنون ہے ۔ انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
(حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحِيمِ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ
اللَّهِ بْنُ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَنَسٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَنَسٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ ""كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
لَا يَغْدُو يَوْمَ الْفِطْرِ حَتَّى يَأْكُلَ تَمَرَاتٍ""، ‏‏‏‏‏‏وَقَالَ مُرَجَّى بْنُ رَجَاءٍ:‏‏‏‏ حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ قَالَ:‏‏‏‏
حَدَّثَنِي أَنَسٌ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَيَأْكُلُهُنَّ وِتْرًا.

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عیدالفطر کے دن نہ نکلتے جب تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم
چند کھجوریں نہ کھا لیتے اور مرجی بن رجاء نے کہا کہ مجھ سے عبیداللہ بن ابی بکر نے بیان کیا،
کہا کہ مجھ سے انس رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے، پھر یہی حدیث بیان
کی کہ آپ طاق عدد کھجوریں کھاتے تھے۔
(صحيح البخاري:953)

طاق کھجوریں کھاکر عید گاہ جانا چاہئے جیساکہ دوسری روایات سے پتہ چلتا ہے اور کھجور میسر نہ ہو تو جو بھی ملے کھالے ۔

*********** نمازعید اور قضا ***********

٭ اگر کسی کو ایک رکعت مل جائے تو اس نے عید کی نماز پالی ،جو آخری رکعت کے سجدہ یا تشہد میں امام کے ساتھ ملے تو وہ عید کی نماز کی طرح نماز ادا کرلے ۔
٭ اگر کسی کی عید کی نماز چھوٹ جائے تو عید کی نماز کی طرح ادا کرلے ، چند لوگ ہوں تو جماعت قائم کرلے ۔جنہوں نے کہا نمازعید کی قضا نہیں صحیح بات نہیں ہے ۔ قضا کا بھی آثار سے ثبوت ملتا ہے ۔ نیز جس اثر سے قضا کی صورت میں چار رکعت پڑھنے کا ذکر ملتا ہے۔
اسے شیخ البانی نے ارواء الغلیل میں منقطع قرار دیا ہے ۔ قضاکرتے ہوئے دو رکعت ہی ادا کرے اور خطبہ عید چھوڑدے۔

ھٰذا ما عندی واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
والسلام علیکم ورحمة اللہ و برکاتہ
#فکرِامروز_طاہری

قربانی کا جانور چار عیوب سے پاک ھو
03/06/2025

قربانی کا جانور چار عیوب سے پاک ھو

03/06/2025

❤️ عید پر ایک خوبصورت جذبہ ❤️

عید کے تینوں دن پمز اور دیگر اسپتالوں میں داخل مریضوں کے تیمارداروں (لواحقین) کے لیے جامع مسجد رحمت للعالمین، مرکز الایمان میں مفت کھانے کا انتظام کیا گیا ہے۔

اگر آپ کا کوئی عزیز اسپتال میں داخل ہے اور آپ اس کے ساتھ ہیں، تو عید کے تین دن مسجد میں آئیں اور محبت، خلوص اور بھائی چارے کے ماحول میں کھانا تناول کریں۔

📍 مسجد، پمز اسپتال سے دو منٹ کے فاصلے پر واقع ہے
📞 رابطہ نمبر: 051-2744683

یہ عید بانٹنے کی ہے، آئیے مل کر خوشیاں بانٹیں!

ٰ












فرمان مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم میں اللہ سے امید رکھتا ھوں کہ یوم عرفہ کا روزہ گزشتہ اور آئندہ سال کے گناہوں کا کفارہ بن...
03/06/2025

فرمان مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم
میں اللہ سے امید رکھتا ھوں کہ یوم عرفہ کا روزہ گزشتہ اور آئندہ سال کے گناہوں کا کفارہ بن جاتا ہے

16/09/2024

نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کا تقاضا یہ کہ آپ کی بات کو حرف آخر سمجھا جائے

16/09/2024

سورہ یونس کی آیت 58 سے پہلے آیت 57 پڑھ لی جائے تو جشن کی سمجھ آ جائے گی

Address

Bank Road Saddar T
Rawalpindi
46000

Telephone

+923435453803

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Molana Saqib Riaz Satti posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Molana Saqib Riaz Satti:

Share

Category