01/06/2026
بلوچستان کی تاریخ میں خواتین کی جدوجہد کے حوالے سے بحث اب ایک نئے موڑ پر کھڑی ہے۔ ماضی میں جن راستوں کو ایک ناگزیر انتخاب سمجھا جاتا تھا، آج کی بلوچ خواتین نے اپنی بصیرت سے یہ ثابت کر دیا ہے کہ سیاسی میدان میں رہ کر کی جانے والی جدوجہد، بندوق کے سائے میں کیے جانے والے کسی بھی اقدام سے کہیں زیادہ مؤثر اور طاقتور ہے۔ مارنگ بلوچ، بیبو بلوچ، گلزادی اور سمی دین محمد جیسی خواتین نے پہاڑوں کی خاموشی کے بجائے عوامی بیداری کے شور کو ترجیح دی ہے، اور یہی وہ راستہ ہے جس نے آج ریاست کے ایوانوں کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔
سیاسی جدوجہد: ایک پائیدار انتخاب
مارنگ بلوچ اور ان کی رفقاء نے ثابت کیا ہے کہ کسی بھی تحریک کی کامیابی کا انحصار اس کی مقبولیت اور اس کے پرامن ہونے پر ہوتا ہے۔ پہاڑوں کا رخ کرنے سے آواز اکثر محدود ہو جاتی ہے، لیکن سڑکوں اور میدانِ سیاست میں رہ کر جب کوئی خاتون آواز اٹھاتی ہے، تو وہ پورے معاشرے کے ضمیر کو جھنجھوڑ دیتی ہے۔ انہوں نے بندوق کے بجائے اپنے لہجے کو ہتھیار بنایا ہے، جس کے اثرات بندوق سے زیادہ گہرے اور دیرپا ہیں۔
قربانی کا نیا معیار
ان خواتین نے ایک سال سے زائد عرصے سے قید و بند کی صعوبتیں برداشت کر کے یہ ثابت کیا ہے کہ اصل بہادری پہاڑوں میں روپوش ہونے میں نہیں، بلکہ اپنے موقف پر ڈٹے رہ کر جیل کی کال کوٹھریوں میں اپنی آواز بلند رکھنے میں ہے۔ انہوں نے پہاڑوں کی طرف جانے کے بجائے عوام کے درمیان رہنا منتخب کیا، تاکہ وہ اپنے لوگوں کے لیے ایک زندہ مثال بن سکیں۔ ان کی قید دراصل ان کے سیاسی موقف کی سب سے بڑی طاقت بن کر ابھری ہے۔
فکری اور عملی تبدیلی
شہناز بلوچ جیسے کرداروں کے تناظر میں آپ کا یہ نکتہ انتہائی اہم ہے کہ وقت کا تقاضا 'پہاڑوں کی روح' بننے کا نہیں، بلکہ 'عوام کی آواز' بننے کا ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ ریاست ہمیشہ مسلح جدوجہد کو طاقت کے استعمال کا جواز فراہم کرتی ہے، لیکن ایک سیاسی اور آئینی جدوجہد ریاست کو اخلاقی اور قانونی طور پر دفاعی پوزیشن پر لے آتی ہے۔ آج کی بلوچ خواتین نے اپنی جدوجہد کو ایک ایسا وقار اور عالمی پہچان دی ہے جس کا مقابلہ کرنا مشکل ہے۔
اختتامیہ
خواتین کا سیاسی میدان میں متحرک ہونا یہ ظاہر کرتا ہے کہ بلوچ معاشرہ اب ایک ایسے دور میں داخل ہو چکا ہے جہاں عسکریت پسندی کی بجائے 'سیاسی شعور' کو ترجیح دی جا رہی ہے۔ مارنگ، سمی اور بیبو جیسے کرداروں نے یہ واضح کر دیا ہے کہ حق مانگنے کے لیے جنگل یا پہاڑوں کی طرف نہیں، بلکہ سچائی اور استقامت کے ساتھ عوام کے بیچ کھڑا ہونا ہی اصل کامیابی ہے۔ یہ وہ راستہ ہے جو بلوچستان کے مستقبل کو ایک پرامن اور روشن سمت دے سکتا ہے۔