Abbasi Islamic Point

Directions

Abbasi Islamic Point Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Abbasi Islamic Point, Real Estate, Ch No 178/P Sadqabad, Sadiqabad.

عباسی اسلامک پوائنٹ قرآن و حدیث، اسلامی اقوال، دعائیں اور ایمان افروز باتیں۔ دین کی روشنی دلوں تک پہنچانے کا مقصد۔ روزانہ اسلامی پوسٹس کے لیے ہمارے ساتھ جڑیں۔دل کو چھو لینے والی دعائیں، قرآن و حدیث کے سبق روزانہ 🙏✨ | لائیک 👍، شیئر 🔄 اور فالو ✅ کریں

آج کی حدیث مبارک : جمعہ کے دن کی عظمت اور فضیلتملاحظہ فرمائیں عباسی اسلامک پوائنٹ کی طرف سےعربی متن(Arabic Text)عَنْ أَب...
16/10/2026

آج کی حدیث مبارک : جمعہ کے دن کی عظمت اور فضیلت
ملاحظہ فرمائیں عباسی اسلامک پوائنٹ کی طرف سے
عربی متن
(Arabic Text)
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «خَيْرُ يَوْمٍ طَلَعَتْ عَلَيْهِ الشَّمْسُ يَوْمُ الْجُمُعَةِ، فِيهِ خُلِقَ آدَمُ، وَفِيهِ أُدْخِلَ الْجَنَّةَ، وَفِيهِ أُخْرِجَ مِنْهَا، وَلَا تَقُومُ السَّاعَةُ إِلَّا فِي يَوْمِ الْجُمُعَةِ»
(صحیح مسلم، کتاب الجمعہ، حدیث نمبر: 854)
باب فضل يوم الجمعة)
اردو ترجمہ
(Urdu Translation)
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
"ان سارے دنوں میں جن میں سورج نکلتا ہے (یعنی ہفتے کے ساتوں دنوں میں) سب سے بہتر اور برتر جمعہ کا دن ہے۔ جمعہ ہی کے دن آدم علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے پیدا کیا اور جمعہ ہی کے دن وہ جنت میں داخل کیے گئے، اور جمعہ ہی کے دن وہ جنت سے باہر کر کے اس دنیا میں بھیجے گئے۔ (جہاں سے نسلِ انسانی کا سلسلہ شروع ہوا) اور قیامت بھی جمعہ ہی کے دن قائم ہو گی۔
صحیح مسلم، کتاب الجمعہ، حدیث نمبر: 854)
انگریزی ترجمہ
(English Translation)
Abu Hurairah (Allah be pleased with him) reported that the Messenger of Allah (ﷺ) said:
"The best day on which the sun has risen is Friday; on it Adam was created, on it he was made to enter Paradise, on it he was expelled from it, and the Last Hour will not be established white on any day other than Friday."
(Sahih Muslim, 854 Book of Friday)

📖 تفصیلی تشریح (Explanation)

یہ حدیث مبارکہ ہمیں ہفتے کے تمام دنوں میں جمعہ کے دن کی مرکزی اہمیت اور اس کی فضیلت سے روشناس کراتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس دن کو مسلمانوں کے لیے ایک ہفتہ وار عید قرار دیا ہے اور کائنات کے کئی بڑے اور اہم ترین واقعات کو اسی دن سے منسوب فرمایا ہے:
• تخلیقِ آدمؑ: تمام انسانوں کے باپ، حضرت آدم علیہ السلام کی پیدائش اسی مبارک دن ہوئی۔ یہ انسانیت کی شروعات کا دن ہے۔
• جنت میں داخلہ اور زمین پر آمد: حضرت آدم علیہ السلام کا جنت میں داخلہ اور پھر اللہ کی حکمت کے تحت دنیا میں بھیجا جانا (تاکہ خلافتِ ارضی کا مقصد پورا ہو) بھی جمعہ کو ہی پیش آیا۔
• قیامت کا قائم ہونا: کائنات کا یہ موجودہ نظام جس دن لپیٹا جائے گا اور حساب کتاب کا آغاز ہوگا، وہ دن بھی جمعہ کا ہی ہوگا۔
• برکتوں کا دن: اس دن کی فضیلت کی وجہ سے مسلمانوں کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ غسل کریں، اچھے کپڑے پہنیں، خوشبو لگائیں اور کثرت سے درود شریف پڑھیں کیونکہ اس دن میں ایک ایسی گھڑی بھی آتی ہے جس میں مانگی گئی دعا رد نہیں ہوتی۔
اگر ہماری پوسٹ اچھی لگے تو لائیک شیئر فولو اور سبسکرائیب ضرور کریں 👈 عباسی اسلامک پوائنٹ کو شکریہ


#حدیث
#اسلام
#عباسی #اسلامک #پوئینٹ

🌟 اذان کا جواب دینے کی فضیلت اور اجر و ثواب     پیشکش۔  عباسی اسلامک پوائنٹ  (Abbasi Islamic Point)عربی متن (Arabic Text...
14/10/2026

🌟 اذان کا جواب دینے کی فضیلت اور اجر و ثواب
پیشکش۔ عباسی اسلامک پوائنٹ
(Abbasi Islamic Point)
عربی متن
(Arabic Text)
عَنْ مَيْمُونَةَ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَامَ بَيْنَ صَفِّ الرِّجَالِ وَالنِّسَاءِ فَقَالَ: «يَا مَعْشَرَ النِّسَاءِ، إِذَا سَمِعْتُنَّ أَذَانَ هَذَا الْحَبَشِيِّ وَإِقَامَتَهُ فَقُلْنَ كَمَا يَقُولُ، فَإِنَّ لَكُنَّ بِكُلِّ حَرْفٍ أَلْفَ أَلْفِ دَرَجَةٍ» فَقَالَ عُمَرُ: هَذَا لِلنِّسَاءِ فَمَا لِلرِّجَالِ؟ قَالَ: «ضِعْفَانِ يَا عُمَرُ»
(المعجم الكبير للطبراني: ج 24، رقم الحديث: 28)
✍️ اردو ترجمہ
(Urdu Translation)
حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مردوں اور عورتوں کی صفوں کے درمیان کھڑے ہوئے اور ارشاد فرمایا:
"اے خواتین کی جماعت! جب تم اس حبشی (حضرت بلال رضی اللہ عنہ) کی اذان اور اقامت سنو تو ویسے ہی کہو جیسے یہ کہتے ہیں، کیونکہ تمہارے لیے ہر حرف کے بدلے بیس لاکھ (دو ملین) درجے ہوں گے۔" حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: یہ ثواب تو عورتوں کے لیے ہے، تو مردوں کا کیا ثواب ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "اے عمر! ان سے دو گنا ہے۔"
انگریزی ترجمہ
(English Translation)
Narrated by Sayyidatuna Maymunah (may Allah be pleased with her): The Messenger of Allah (peace and blessings be upon him) stood between the rows of men and women and said: "O assembly of women, when you hear the Adhan (call to prayer) and Iqamah of this Ethiopian (referring to Bilal), repeat what he says, for indeed, for every letter you repeat, you will receive two million degrees (of reward)." Sayyiduna 'Umar (may Allah be pleased with him) asked: "This reward is for the women, so what is for the men?" The Prophet (peace and blessings be upon him) replied: "Double that, O 'Umar!"
(Al-Mu'jam al-Kabir by Al-Tabarani, Vol. 24, Hadith: 28)
📖 حدیث کی تشریح
(Hadith Commentary)
1. اذان کا جواب دینے کی اہمیت: یہ حدیث مبارکہ ہمیں اذان اور اقامت کو غور سے سننے اور مؤذن کے کلمات کو دہرانے کی شدید تاکید اور فضیلت سکھاتی ہے。
2. "اس حبشی" سے مراد: یہاں حبشی سے مراد حضرت بلال حبشی رضی اللہ عنہ ہیں، جو اسلام کے پہلے مؤذن تھے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے محبوب صحابی تھے۔
3. عظیم اجر و ثواب: حدیث میں "أَلْفَ أَلْفِ دَرَجَةٍ" کا ذکر ہے، عربی میں "الف الف" کا مطلب 'دس لاکھ' یا 'ملین' ہوتا ہے (چونکہ تصویر میں 'دس/بیس لاکھ' لکھا ہے، اس لیے عربی کے مروجہ محاورے کے مطابق یہ کثیر اور بے حساب اجر کی طرف اشارہ ہے)۔
4. مردوں کا دہرا اجر: جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے مردوں کے ثواب کے بارے میں پوچھا تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ مردوں کو اس سے بھی دوگنا اجر ملے گا، کیونکہ مردوں پر باجماعت نماز اور مسجد میں حاضر ہونا بھی لازم ہے۔
5. علمی و تخریجی نوٹ: علمِ حدیث کے ماہرین کے مطابق، الدرر السنية اور دیگر اسناد کے مطابق اس مخصوص روایت کی سند میں بعض راویوں پر کلام ہونے کی وجہ سے اسے ضعیف (Unreliable) تسلیم کیا گیا ہے۔ تاہم، اذان کا جواب دینے کی اصل فضیلت دیگر صحیح احادیث (جیسے صحیح بخاری و مسلم) سے بھی ثابت ہے۔
اگر ہماری پوسٹ اچھی لگے تو لائیک شیئر فولو اور سبسکرائیب ضرور کریں 👈 عباسی اسلامک پوائنٹ کو شکریہ
#اذان #ثواب #نماز

جہنم کی آگ اپنے اوپر حرام کروائیں 🔥 | دل کو چھو لینے والی حدیث نبوی ﷺ | Abbasi Islamic Pointآج کی حدیث مبارک ملاہیزہ فرم...
13/10/2026

جہنم کی آگ اپنے اوپر حرام کروائیں 🔥 | دل کو چھو لینے والی حدیث نبوی ﷺ | Abbasi Islamic Point
آج کی حدیث مبارک ملاہیزہ فرمائیں
عربی متن
(Arabic Text)
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِمَنْ يَحْرُمُ عَلَى النَّارِ، أَوْ بِمَنْ تَحْرُمُ عَلَيْهِ النَّارُ؟ عَلَى كُلِّ قَرِيبٍ هَيِّنٍ لَيِّنٍ سَهْلٍ "
اردو ترجمہ
(Urdu Translation)
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
"کیا میں تمہیں ایسے شخص کی خبر نہ دوں جو دوزخ کی آگ پر حرام ہے، اور دوزخ کی آگ اس پر حرام ہے؟ (سنو! میں بتاتا ہوں، دوزخ کی آگ حرام ہے) ہر ایسے شخص پر جو مزاج کا تیز نہ ہو، نرم ہو، لوگوں سے قریب ہونے والا (ملنسار) ہو اور نرم خو ہو۔"
(سنن ترمذی: 2488)
انگریزی ترجمہ
(English Translation)
Narrated by Abdullah bin Mas'ud (R.A), the Messenger of Allah (peace and blessings be upon him) said:
"Shall I not inform you of whom the Fire is forbidden, or for whom it is forbidden? It is forbidden for every accessible (close to people), polite, mild, and easygoing person."
(Sunan at-Tirmidhi: 2488)
تشریح
(Explanation)
اس خوبصورت حدیث مبارکہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے معاشرتی اخلاق کی اہمیت کو بیان کرتے ہوئے ان چار صفات کے حامل شخص کو جہنم کی آگ سے آزادی کی بشارت دی ہے:
1. قریب (ملنسار اور بااخلاق): وہ شخص جو لوگوں سے کٹ کر نہیں رہتا، بلکہ ان سے خلوص کے ساتھ ملتا ہے، جس سے بات کرنا آسان ہو اور لوگ اس کے پاس آنے میں جھجک محسوس نہ کریں۔
2. ہَیِّن (پرسکون اور نرم مزاج): ایسا انسان جو مزاج کا تیز یا سخت نہ ہو، بلکہ اس کی طبیعت میں وقار، نرمی اور ٹھہراؤ ہو۔
3. لَیِّن (نرم خو اور رحمدل): وہ شخص جو دوسروں کے ساتھ برتاؤ اور گفتگو میں نرمی اختیار کرتا ہے، سخت کلامی اور تلخی سے پرہیز کرتا ہے۔
4. سَہْل (معاملات میں آسانی پیدا کرنے والا): وہ انسان جو ضدی یا ہٹ دھرم نہیں ہوتا، بلکہ لین دین، گفتگو اور روزمرہ کے معاملات میں دوسروں کے لیے آسانیاں پیدا کرتا ہے۔
خلاصہ: دینِ اسلام صرف عبادات کا نام نہیں بلکہ حسنِ اخلاق اور معاملات کی درستی بھی ایمان کا لازمی حصہ ہے۔ جو شخص بندوں کے لیے آسانیاں بانٹتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کے لیے آخرت میں جہنم کی آگ کو حرام فرما دیتا ہے۔
اگر ہماری پوسٹ اچھی لگے تو لائیک شیئر فولو اور سبسکرائیب ضرور کریں 👈 عباسی اسلامک پوائنٹ کو شکریہ

#نیکی

علم حاصل کرنے کی فضیلت | فرشتے طالبِ علم کے لیے اپنے پر بچھاتے ہیں | حدیثِ نبوی ﷺآج کی حدیث مبارک ملاہیزہ فرمائیں عباسی ...
12/10/2026

علم حاصل کرنے کی فضیلت | فرشتے طالبِ علم کے لیے اپنے پر بچھاتے ہیں | حدیثِ نبوی ﷺ
آج کی حدیث مبارک ملاہیزہ فرمائیں عباسی اسلامک پوائنٹ کی طرف سے
عربی متن
"مَنْ سَلَكَ طَرِيقًا يَبْتَغِي فِيهِ عِلْمًا سَلَكَ اللهُ بِهِ طَرِيقًا إِلَى الْجَنَّةِ، وَإِنَّ الْمَلَائِكَةَ لَتَضَعُ أَجْنِحَتَهَا رِضًا لِطَالِبِ الْعِلْمِ، وَإِنَّ الْعَالِمَ لَيَسْتَغْفِرُ لَهُ مَنْ فِي السَّمَاوَاتِ وَمَنْ فِي الْأَرْضِ حَتَّى الْحِيتَانُ فِي الْمَاء لِ، وَفَضْلُ الْعَالِمِ عَلَى الْعَابِدِ كَفَضْلِ الْقَمَرِ عَلَى سَائِرِ الْكَوَاكِبِ، وَإِنَّ الْعُلَمَاءَ وَرَثَةُ الْأَنْبِيَاءِ، وَإِنَّ الْأَنْبِيَاءَ لَمْ يُوَرِّثُوا دِينَارًا وَلَا دِرْهَمًا وَإِنَّمَا وَرَّثُوا الْعِلْمَ، فَمَنْ أَخَذَهُ أَخَذَ بِحَظٍّ وَافِرٍ"
اردو ترجمہ
حضرت ابو الدرداء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، (فرمانِ نبوی ﷺ ہے):
"جو شخص علم حاصل کرنے کے لیے کسی راستے پر چلے، اللہ تعالیٰ اسے جنت کے راستوں میں سے ایک راستے پر چلا دیتا ہے۔ بے شک فرشتے طالبِ علم کی خوشی کے لیے اپنے پر بچھاتے ہیں۔ اور عالم کے لیے آسمانوں اور زمین کی تمام مخلوقات مغفرت کی دعا کرتی ہیں، یہاں تک کہ پانی میں مچھلیاں بھی۔ اور ایک عالم کی فضیلت عابد پر ایسی ہے جیسے چودھویں رات کے چاند کی فضیلت تمام ستاروں پر۔ اور بے شک علماء انبیاء کے وارث ہیں، اور انبیاء دینار و درہم کی وراثت نہیں چھوڑتے بلکہ وہ علم کی وراثت چھوڑتے ہیں، پس جس نے اسے حاصل کر لیا، اس نے ایک بڑا حصہ پا لیا۔"

Abu Darda narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said:
"Whoever treads a path in search of knowledge, Allah will direct him to a path leading to Paradise. Truly, the angels lower their wings for the seeker of knowledge out of pleasure for what he does. Indeed, those in the heavens and the earth, even the fish in the depth of the water, ask forgiveness for the scholar. The superiority of the scholar over the devout worshipper is like that of the full moon over all the stars. Verily, the scholars are the heirs of the Prophets, and the Prophets do not leave behind dinars or dirhams, rather they leave behind knowledge. So whoever acquires it, has taken a great share."
تشریح (Explanation)
اس حدیث مبارکہ میں علمِ دین حاصل کرنے والوں اور علماء کرام کے بلند مرتبے کو انتہائی خوبصورت انداز میں بیان کیا گیا ہے:
1. جنت کا راستہ: علمِ دین کے حصول کی کوشش انسان کے لیے آخرت میں جنت کا راستہ آسان کر دیتی ہے۔
2. فرشتوں کا احترام: نوری مخلوق (فرشتے) طالبِ علم کے احترام اور اس کے اس عمل کی خوشی میں اپنے پر بچھاتے ہیں۔
3. مخلوقات کی دعائیں: کائنات کی تمام مخلوقات، حتیٰ کہ پانی کی مچھلیاں بھی ایک عالمِ دین کی بخشش اور بلندیِ درجات کے لیے دعا کرتی ہیں۔
4. عالم اور عابد کا فرق: صرف عبادت کرنے والے (عابد) کے مقابلے میں علم رکھنے والے (عالم) کا مقام ایسے ہی بلند ہے جیسے چاند تمام ستاروں سے زیادہ روشن اور نمایاں ہوتا ہے۔ کیونکہ عابد کی عبادت کا فائدہ صرف اس کی ذات تک محدود ہوتا ہے، جبکہ عالم کا علم پوری انسانیت کو روشنی دیتا ہے۔
5. انبیاء کی وراثت: علماء کو انبیاء کا وارث قرار دیا گیا ہے، کیونکہ انبیاء مال و دولت نہیں بلکہ علمِ دین کی وراثت چھوڑ کر جاتے ہیں، اور علماء اس وراثت کے امین ہوتے ہیں۔
اگر ہماری پوسٹ اچھی لگے تو لائیک شیئر فولو اور سبسکرائیب ضرور کریں 👈 عباسی اسلامک پوائنٹ کو شکریہ

ہدیہ اور تحائف دینے کی فضیلت اور اہمیتآج کی حدیث مبارک ملاہیزہ فرمائیں عباسی اسلامک پوائنٹ کی طرف سے عربی متن (Arabic Te...
11/10/2026

ہدیہ اور تحائف دینے کی فضیلت اور اہمیت
آج کی حدیث مبارک ملاہیزہ فرمائیں عباسی اسلامک پوائنٹ کی طرف سے
عربی متن (Arabic Text)
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "تَهَادَوْا فَإِنَّ الْهَدِيَّةَ تُذْهِبُ وَحَرَ الصَّدْرِ، وَلَا تَحْقِرَنَّ جَارَةٌ لِجَارَتِهَا وَلَوْ شِقَّ فِرْسِنِ شَاةٍ"
(جامع ترمذی، حدیث نمبر: 2130)
اردو ترجمہ (Urdu Translation)
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"آپس میں ہدیے (تحفے) دیا کرو، اس لیے کہ ہدیہ سینوں کی کدورت و رنجش (کینہ) دور کر دیتا ہے، اور کوئی پڑوسن اپنی دوسری پڑوسن کے (کوئی ہدیہ کرنے کے) لیے بکری کے کھر کے ایک ٹکڑے کو بھی حقیر اور کمتر نہ سمجھے (یعنی ہدیہ ضرور کیا کرے چاہے معمولی چیز ہی کیوں نہ ہو)۔
انگریزی ترجمہ (English Translation)
Narrated by Abu Hurairah: The Prophet (peace be upon him) said:
"Give gifts to one another, for indeed the gift removes bad feelings (malice/rancor) from the chest. And let no neighbor look down upon the gift of her neighbor, even if it be the lower shank (hoof) of a sheep."
(Jami` at-Tirmidhi, Hadith 2130)

تشریح (Explanation)
اس حدیث مبارکہ میں اسلامی معاشرت کی خوبصورتی اور باہمی تعلقات کو مضبوط بنانے کے دو اہم سنہری اصول بیان کیے گئے ہیں:
1. محبت کا فروغ اور کینہ کا خاتمہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تلقین فرمائی ہے کہ آپس میں تحائف کا تبادلہ کیا کریں。 تحفہ دینے سے انسانوں کے دلوں میں موجود پرانی رنجشیں، حسد، غصہ اور کینہ ختم ہو جاتا ہے اور محبت پروان چڑھتی ہے。 ہدیہ کی مادی قیمت اہم نہیں ہوتی، بلکہ اس کے پیچھے چھپا خلوص دلوں کو جوڑتا ہے。
2. تحفے کو حقیر نہ سمجھنا اور پڑوسیوں کا خیال: حدیث کے دوسرے حصے میں پڑوسیوں کے مابین تعلقات پر زور دیا گیا ہے。 آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر کسی کے پاس کوئی بڑی یا قیمتی چیز نہ بھی ہو، تو وہ چھوٹی سے چھوٹی یا معمولی چیز (جیسے بکری کے کھر کا گوشت) ہی پڑوسی کو محبت کے طور پر بھیج دے。 نہ دینے والا شرم محسوس کرے اور نہ لینے والا اسے کم قیمت سمجھ کر رد کرے。 یہ عمل معاشرے میں باہمی ہمدردی اور جڑت پیدا کرتا ہے۔
اگر ہماری پوسٹ اچھی لگے تو لائیک شیئر فولو اور سبسکرائیب ضرور کریں 👈 عباسی اسلامک پوائنٹ کو شکریہ

سفر پر جانے والے پیاروں کو رخصت کرتے وقت کی مسنون دعا! ✨آج کی حدیث مبارک ملاہیزہ فرمائیں عباسی اسلامک پوائنٹ کی طرف سےعر...
10/10/2026

سفر پر جانے والے پیاروں کو رخصت کرتے وقت کی مسنون دعا! ✨
آج کی حدیث مبارک ملاہیزہ فرمائیں عباسی اسلامک پوائنٹ کی طرف سے
عربی متن (حدیث مبارکہ)
عَنْ عَبْدِ اللّٰهِ الْخَطْمِيِّ قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَسْتَوْدِعَ الْجَيْشَ قَالَ: "أَسْتَوْدِعُ اللّٰهَ دِينَكُمْ وَأَمَانَتَكُمْ وَخَوَاتِيمَ أَعْمَالِكُمْ

اردو ترجمہ

حضرت عبداللہ خطمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا معمول تھا کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم لشکر کو رخصت کرتے وقت فرماتے:
"أَسْتَوْدِعُ اللّٰهَ دِينَكُمْ وَأَمَانَتَكُمْ وَخَوَاتِيمَ أَعْمَالِكُمْ"
(میں اللہ کے سپرد کرتا ہوں تمہارے دین کو اور تمہاری امانت کو اور تمہارے آخری اعمال کو)۔
حدیث کا حوالہ
سنن ابی داؤد، کتاب الجہاد، حدیث نمبر: 2601

انگریزی ترجمہ (English Translation)

Narrated by Abdullah al-Khatmi: When the Prophet (peace and blessings be upon him) wanted to bid farewell to an army, he would say:
"Astaudi'ullaha deenakum, wa amānatakum, wa khawātīma a'mālikum."
(I entrust to Allah your religion, your trust, and the last of your deeds.)
تفصیلی تشریح
یہ حدیث مبارکہ ہمیں کسی بھی مسافر یا پیارے کو رخصت کرتے وقت پڑھنے کی ایک جامع دعا سکھاتی ہے۔ سفر میں انسان بہت سی آزمائشوں، مصائب اور تبدیلیوں سے گزرتا ہے، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تین اہم ترین چیزوں کو اللہ کی حفاظت میں دینے کی دعا فرمائی:
• دین کی حفاظت (دِينَكُمْ): سفر کی مشقتوں اور نئے ماحول کی وجہ سے اکثر انسان عبادات (جیسے نماز) میں سستی کر بیٹھتا ہے یا گناہوں کی طرف مائل ہو سکتا ہے۔ اس لیے سب سے پہلے دین کو اللہ کے سپرد کیا گیا۔
• امانت داری کی حفاظت (وَأَمَانَتَكُمْ): سفر میں انسان پر بہت سی ذمہ داریاں ہوتی ہیں، چاہے وہ مال و اسباب کی ہو، اہل و عیال کی ہو، یا اپنے کسی عہد کی ہو۔ اللہ سے دعا کی جاتی ہے کہ وہ مسافر کو امانت میں خیانت سے محفوظ رکھے۔
• خاتمہ بالخیر (وَخَوَاتِيمَ أَعْمَالِكُمْ): زندگی کا کوئی بھروسہ نہیں، خصوصاً سفر میں حادثات کا خدشہ زیادہ ہوتا ہے۔ اس لیے دعا کی گئی کہ مسافر کے اعمال کا خاتمہ ایمان اور اچھائی پر ہو۔
اگر ہماری پوسٹ اچھی لگے تو لائیک شیئر فولو اور سبسکرائیب ضرور کریں 👈 عباسی اسلامک پوائنٹ کو شکریہ
حدیث_مبارکہ #دعا

آج کی حدیث مبارک 🏠 جنت میں گھر بنائیےملاحظہ فرمائیں عباسی اسلامک پوائنٹ کی طرف سے عربی متنعَنْ أَبِي أُمَامَةَ رَضِيَ ال...
09/10/2026

آج کی حدیث مبارک
🏠 جنت میں گھر بنائیے
ملاحظہ فرمائیں عباسی اسلامک پوائنٹ کی طرف سے
عربی متن
عَنْ أَبِي أُمَامَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ قَرَأَ (حم الدُّخَانَ) فِي لَيْلَةِ جُمُعَةٍ أَوْ يَوْمِ جُمُعَةٍ بَنَى اللَّهُ لَهُ بَيْتًا فِي الْجَنَّةِ»
اردو ترجمہ
حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "جو شخص جمعہ کی رات یا دن کو 'حم الدخان' (سورۃ الدخان) پڑھتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کا گھر جنت میں بنا دیتا ہے۔
انگریزی ترجمہ (English Translation):
Narrated by Hazrat Abu Umamah (Radi Allahu Anhu) that the Messenger of Allah (Sallallahu Alaihi Wasallam) said: "Whoever recites 'Ha-Meem Ad-Dukhan' (Surah Ad-Dukhan) on the night of Jumu'ah (Thursday night) or on the day of Jumu'ah, Allah will build a house for him in Paradise."
(Al-Mu'jam al-Kabir by At-Tabarani: 8026)

📖 حدیث مبارکہ کی تشریح

اس حدیث پاک میں سورۃ الدخان کی فضیلت اور جمعہ کے دن یا رات (جمعرات اور جمعہ کی درمیانی رات) اسے پڑھنے کے عظیم ثواب کا ذکر کیا گیا ہے۔
1. جنت میں محل کی بشارت: اللہ تعالیٰ کے ہاں سورۃ الدخان کی تلاوت اس قدر پسندیدہ ہے کہ اس کے بدلے بندے کو جنت میں ایک مستقل گھر یا محل عطا کرنے کا وعدہ فرمایا گیا ہے۔
2. جمعہ کے دن کی اہمیت: جمعہ کا دن اور رات اسلامی تاریخ اور عبادات میں بہت بابرکت مانے جاتے ہیں۔ اس مبارک وقت میں قرآن پاک کی مخصوص سورتوں (جیسے سورۃ الکہف اور سورۃ الدخان) کی تلاوت کی خاص تاکید اور فضیلت آئی ہے۔
3. مفہوم و عمل: مومن کو چاہیے کہ وہ دنیا کے عارضی گھروں کے ساتھ ساتھ اپنی آخرت کے مستقل گھر (جنت) کی فکر کرے اور ہر جمعہ کو اس سورت کی تلاوت کو اپنی زندگی کا معمول بنائے۔
اگر ہماری پوسٹ اچھی لگے تو لائیک شیئر فولو اور سبسکرائیب ضرور کریں 👈 عباسی اسلامک پوائنٹ کو شکریہ

نماز میں گناہوں کی معافی اور سجدے کی فضیلتآج کی حدیث مبارک ملاہیزہ فرمائیں عباسی اسلامک پوائنٹ کی طرف سے📜 عربی متن (Arab...
08/10/2026

نماز میں گناہوں کی معافی اور سجدے کی فضیلت
آج کی حدیث مبارک ملاہیزہ فرمائیں عباسی اسلامک پوائنٹ کی طرف سے
📜 عربی متن (Arabic Text)
عَنْ سَلْمَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "إِنَّ الْمُسْلِمَ يُصَلِّي وَخَطَايَاهُ مَرْفُوعَةٌ عَلَى رَأْسِهِ، كُلَّمَا سَجَدَ تَحَاتَّتْ، عَنْهُ فَيَفْرُغُ مِنْ صَلَاتِهِ وَقَدْ تَحَاتَّتْ عَنْهُ خَطَايَاهُ".
(المعجم الكبير للطبراني، 6/ 250، رقم: 6125)

✍️ اردو ترجمہ (Urdu Translation)
حضرت سلمان (فارسی) رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: "بلاشبہ مسلمان جب نماز پڑھتا ہے تو اس کے گناہ اس کے سر کے اوپر اٹھا دیے جاتے ہیں، اور جیسے ہی وہ سجدہ کرتا ہے تو وہ (گناہ) جھڑتے جاتے ہیں، پس جب وہ نماز سے فارغ ہوتا ہے تو اس کے تمام گناہ جھڑ چکے ہوتے ہیں"۔

انگریزی ترجمہ (English Translation)
Narrated by Salman (Al-Farsi) May Allah be pleased with him, the Messenger of Allah ﷺ said: "Indeed, when a Muslim prays, his sins are placed upon his head. Every time he prostrates (makes Sujud), his sins fall away from him, so that when he finishes his prayer, all his sins have fallen away."
(Al-Mu'jam al-Kabir by Al-Tabarani)
💡 تشریح (Explanation)
یہ حدیث مبارکہ نماز کی بے پناہ فضیلت اور اللہ تعالیٰ کی رحمتِ واسعہ کو بیان کرتی ہے۔ اس کا بنیادی مقصد بندے کو نماز کی طرف راغب کرنا اور سجدے میں خشوع و خضوع پیدا کرنا ہے:
1. گناہوں کا بوجھ: انسان خطا کا پتلا ہے اور گناہوں کی وجہ سے اس پر روحانی بوجھ رہتا ہے۔ جب وہ نماز کے لیے کھڑا ہوتا ہے تو اللہ کے حکم سے وہ پوشیدہ بوجھ (صغیرہ گناہ) اس کے سر پر رکھ دیا جاتا ہے۔
سجدے کی برکت: جیسے ہی بندہ اللہ کے سامنے عاجزی کا اعلیٰ ترین اظہار کرتے ہوئے سجدے میں جاتا ہے، تو وہ گناہ اس طرح جھڑنے لگتے ہیں جیسے خزاں میں درخت سے پتے جھڑتے ہیں。
کامل پاکیزگی: اگر نماز پورے ارکان، خشوع اور اخلاص کے ساتھ ادا کی جائے تو نماز مکمل ہونے پر بندہ گناہوں کے بوجھ سے بالکل ہلکا اور پاک ہو جاتا ہے。
اگر ہماری پوسٹ اچھی لگے تو لائیک شیئر فولو اور سبسکرائیب ضرور کریں 👈 عباسی اسلامک پوائنٹ کو
#سجدہ #استغفار

نماز میں گناہوں کی معافی اور سجدے کی فضیلتآج کی حدیث مبارک ملاہیزہ فرمائیں عباسی اسلامک پوائنٹ کی طرف سے 📜 عربی متن (Ara...
07/10/2026

نماز میں گناہوں کی معافی اور سجدے کی فضیلت
آج کی حدیث مبارک ملاہیزہ فرمائیں عباسی اسلامک پوائنٹ کی طرف سے
📜 عربی متن (Arabic Text)
عَنْ سَلْمَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "إِنَّ الْمُسْلِمَ يُصَلِّي وَخَطَايَاهُ مَرْفُوعَةٌ عَلَى رَأْسِهِ، كُلَّمَا سَجَدَ تَحَاتَّتْ، عَنْهُ فَيَفْرُغُ مِنْ صَلَاتِهِ وَقَدْ تَحَاتَّتْ عَنْهُ خَطَايَاهُ".
(المعجم الكبير للطبراني، 6/ 250، رقم: 6125)

✍️ اردو ترجمہ (Urdu Translation)
حضرت سلمان (فارسی) رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: "بلاشبہ مسلمان جب نماز پڑھتا ہے تو اس کے گناہ اس کے سر کے اوپر اٹھا دیے جاتے ہیں، اور جیسے ہی وہ سجدہ کرتا ہے تو وہ (گناہ) جھڑتے جاتے ہیں، پس جب وہ نماز سے فارغ ہوتا ہے تو اس کے تمام گناہ جھڑ چکے ہوتے ہیں"۔

انگریزی ترجمہ (English Translation)
Narrated by Salman (Al-Farsi) May Allah be pleased with him, the Messenger of Allah ﷺ said: "Indeed, when a Muslim prays, his sins are placed upon his head. Every time he prostrates (makes Sujud), his sins fall away from him, so that when he finishes his prayer, all his sins have fallen away."
(Al-Mu'jam al-Kabir by Al-Tabarani)
💡 تشریح (Explanation)
یہ حدیث مبارکہ نماز کی بے پناہ فضیلت اور اللہ تعالیٰ کی رحمتِ واسعہ کو بیان کرتی ہے۔ اس کا بنیادی مقصد بندے کو نماز کی طرف راغب کرنا اور سجدے میں خشوع و خضوع پیدا کرنا ہے:
1. گناہوں کا بوجھ: انسان خطا کا پتلا ہے اور گناہوں کی وجہ سے اس پر روحانی بوجھ رہتا ہے۔ جب وہ نماز کے لیے کھڑا ہوتا ہے تو اللہ کے حکم سے وہ پوشیدہ بوجھ (صغیرہ گناہ) اس کے سر پر رکھ دیا جاتا ہے۔
سجدے کی برکت: جیسے ہی بندہ اللہ کے سامنے عاجزی کا اعلیٰ ترین اظہار کرتے ہوئے سجدے میں جاتا ہے، تو وہ گناہ اس طرح جھڑنے لگتے ہیں جیسے خزاں میں درخت سے پتے جھڑتے ہیں。
کامل پاکیزگی: اگر نماز پورے ارکان، خشوع اور اخلاص کے ساتھ ادا کی جائے تو نماز مکمل ہونے پر بندہ گناہوں کے بوجھ سے بالکل ہلکا اور پاک ہو جاتا ہے。
اگر ہماری پوسٹ اچھی لگے تو لائیک شیئر فولو اور سبسکرائیب ضرور کریں 👈 عباسی اسلامک پوائنٹ کو
#سجدہ #استغفار

Address

Ch No 178/P Sadqabad
Sadiqabad
64350

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Abbasi Islamic Point posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share

Category