Abbasi Islamic Point

Abbasi Islamic Point Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Abbasi Islamic Point, Real Estate, Ch No 178/P Sadqabad, Sadiqabad.

عباسی اسلامک پوائنٹ قرآن و حدیث، اسلامی اقوال، دعائیں اور ایمان افروز باتیں۔ دین کی روشنی دلوں تک پہنچانے کا مقصد۔ روزانہ اسلامی پوسٹس کے لیے ہمارے ساتھ جڑیں۔دل کو چھو لینے والی دعائیں، قرآن و حدیث کے سبق روزانہ 🙏✨ | لائیک 👍، شیئر 🔄 اور فالو ✅ کریں

آج کی حدیثِ مبارکہ (سنن ترمذی: 3428) کی مکمل تفصیل، عربی متن، ترجمہ، تشریح درج ذیل ہےملاہیزہ فرمائیں عباسی اسلامک پوائنٹ...
13/06/2026

آج کی حدیثِ مبارکہ (سنن ترمذی: 3428) کی مکمل تفصیل، عربی متن، ترجمہ، تشریح درج ذیل ہے
ملاہیزہ فرمائیں عباسی اسلامک پوائنٹ کی طرف سے
📑 عربی متن
عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ وَاسِعٍ، قَالَ: قَدِمْتُ مَكَّةَ فَلَقِيَنِي أَخِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، فَحَدَّثَنِي، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنْ دَخَلَ السُّوقَ، فَقَالَ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ، يُحْيِي وَيُمِيتُ، وَهُوَ حَيٌّ لَا يَمُوتُ، بِيَدِهِ الْخَيْرُ، وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ، كَتَبَ اللَّهُ لَهُ أَلْفَ أَلْفِ حَسَنَةٍ، وَمَحَا عَنْهُ أَلْفَ أَلْفِ سَيِّئَةٍ، وَرَفَعَ لَهُ أَلْفَ أَلْفِ دَرَجَةٍ "
۔📝 اردو ترجمہ
حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:"جو بندہ بازار گیا اور اس نے (بازار کی غفلت اور شور و شر سے بھرپور فضا میں دل کے اخلاص سے) کہا: 'لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِیکَ لَهُ لَهُ الْمُلْکُ وَلَهُ الْحَمْدُ يُحْيِي وَيُمِيتُ وَهُوَ حَيٌّ لَا يَمُوتُ بِيَدِهِ الْخَيْرُ وَهُوَ عَلَى کُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ' تو اللہ کی طرف سے اس کے لیے دس لاکھ نیکیاں لکھی جائیں گی اور دس لاکھ گناہ محو کر (مٹا) دیے جائیں گے اور دس لاکھ درجے اس کے بلند کر دیے جائیں گے۔"(سنن الترمذی: 3428، ابواب الدعوات، باب ما يقول إذا دخل السوق)
💡 تفصیلی تشریح و
وضاحتیہ حدیثِ مبارکہ بازار میں داخل ہونے کی دعا (دعاِ بازار) کی فضیلت اور اللہ تعالیٰ کی بے پناہ رحمت کو ظاہر کرتی ہے:غفلت کے مقام پر ذکر کی اہمیت: بازار دنیاوی خرید و فروخت، شور و غل اور عموماً غفلت کا مقام ہوتا ہے جہاں لوگ اللہ کی یاد سے بے نیاز ہو کر دنیا میں مگن ہوتے ہیں۔ ایسے ماحول میں جب کوئی مومن بندہ اللہ کی توحید اور اس کی بڑائی کا اقرار کرتا ہے، تو اس کا یہ عمل اللہ تعالیٰ کو بے حد محبوب ہوتا ہے
۔دس لاکھ نیکیوں کا حساب:
عربی زبان میں "أَلْفَ أَلْفِ" (ہزار ہزار) سے مراد دس لاکھ (Million) ہوتے ہیں۔ ایک بار خلوصِ دل سے یہ کلمات پڑھنے پر تین بڑے انعامات ملتے ہیں:
دس لاکھ نیکیاں ملنا، دس لاکھ گناہ معاف ہونا اور آخرت میں دس لاکھ درجات کا بلند ہونا۔
ثواب کی حکمت:
محدثین فرماتے ہیں کہ چونکہ بازار میں گناہوں، جھوٹ اور دھوکے کے مواقع زیادہ ہوتے ہیں، وہاں اللہ کو یاد رکھنا گویا ایک جہاد ہے، اسی لیے اس کا ثواب بھی عام جگہوں کے مقابلے میں بہت زیادہ رکھا گیا ہے۔
اگر ہماری پوسٹ اچھی لگے تو لائیک شیئر اور فولو ضرور کریں 👈 عباسی اسلامک پوائنٹ کو شکریہ : #حدیث #توحید #استغفار

آج کی حدیثِ مبارکہ (سنن ترمذی: 2457) کی مکمل تفصیل، عربی متن، ترجمہ، تشریح درج ذیل ہے:ملاہیزہ فرمائیں عباسی اسلامک پوائن...
12/06/2026

آج کی حدیثِ مبارکہ (سنن ترمذی: 2457) کی مکمل تفصیل، عربی متن، ترجمہ، تشریح درج ذیل ہے:
ملاہیزہ فرمائیں عباسی اسلامک پوائنٹ کی طرف سے
📑 عربی متن
عَنِ الطُّفَيْلِ بْنِ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي أُكْثِرُ الصَّلَاةَ عَلَيْكَ فَكَمْ أَجْعَلُ لَكَ مِنْ صَلَاتِي؟ فَقَالَ: " مَا شِئْتَ "، قَالَ: قُلْتُ: الرُّبُعَ؟ قَالَ: " مَا شِئْتَ فَإِنْ زِدْتَ فَهُوَ خَيْرٌ لَكَ "، قُلْتُ: النِّصْفَ؟ قَالَ: " مَا شِئْتَ فَإِنْ زِدْتَ فَهُوَ خَيْرٌ لَكَ "، قَالَ: قُلْتُ: فَالثُّلُثَيْنِ؟ قَالَ: " مَا شِئْتَ فَإِنْ زِدْتَ فَهُوَ خَيْرٌ لَكَ "، قُلْتُ: أَجْعَلُ لَكَ صَلَاتِي كُلَّهَا؟ قَالَ: " إِذًا تُكْفَى هَمَّكَ، وَيُغْفَرُ لَكَ ذَنْبُكَ
۔📝 اردو ترجمہ
حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں عرض کیا: یا رسول اللہ! میں آپ پر درود زیادہ بھیجا کرتا ہوں، تو آپ ﷺ مجھے بتا دیجیے کہ میں اپنی دعاؤں میں سے کتنا حصہ آپ پر درود کے لیے مخصوص کر دوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: "جتنا چاہو"۔ میں نے عرض کیا: چوتھائی حصہ؟ آپ ﷺ نے فرمایا: "جتنا چاہو، اور اگر اس سے زیادہ کرو گے تو تمہارے لیے بہتر ہی ہوگا"۔ میں نے عرض کیا: آدھا وقت؟ آپ ﷺ نے فرمایا: "جتنا چاہو، اور اگر اس سے زیادہ کرو گے تو تمہارے لیے بہتر ہی ہوگا"۔ میں نے عرض کیا: دو تہائی وقت؟ آپ ﷺ نے فرمایا: "جتنا چاہو، اور اگر اس سے زیادہ کرو گے تو تمہارے لیے بہتر ہی ہوگا"۔ میں نے عرض کیا: پھر تو میں اپنی دعا کا سارا ہی وقت آپ پر درود کے لیے مخصوص کرتا ہوں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: "اگر تم ایسا کرو گے تو تمہاری ساری فکروں اور ضرورتوں کی اللہ تعالیٰ کی طرف سے کفایت کی جائے گی اور تمہارے گناہ معاف کر دیے جائیں گے"۔
💡 تفصیلی تشریح و
وضاحتیہ حدیثِ مبارکہ کثرتِ درود کی فضیلت، افادیت اور برکات کی سب سے بڑی اور جامع ترین دلیل ہے:دعا میں درود کا وقت: یہاں حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کے پوچھنے کا مقصد یہ تھا کہ جو وقت وہ اپنے لیے مانگی جانے والی دعاؤں میں صرف کرتے ہیں، اس کا کتنا حصہ نبی کریم ﷺ پر درود بھیجنے کے لیے خاص کریں۔ساری فکروں سے نجات (إِذًا تُكْفَى هَمَّكَ): حدیث کے آخری الفاظ کثرتِ درود کا سب سے بڑا انعام بیان کرتے ہیں۔ جو بندہ اپنی ذاتی دعاؤں کے بجائے نبی کریم ﷺ پر کثرت سے درود پڑھتا ہے، اللہ تعالیٰ دنیا اور آخرت کے معاملے میں اس کی تمام پریشانیاں، دکھ، فکریں اور مصائب اپنے ذمے لے کر حل فرما دیتا ہے۔ انسان کو اپنے لیے الگ سے مانگنے کی ضرورت ہی نہیں رہتی۔
گناہوں کی بخشش:
درود پاک ایک ایسی نیکی ہے جو انسان کے نامہ اعمال کو گناہوں سے پاک کرتی ہے۔ کثرتِ درود سے انسان کے صغیرہ و کبیرہ گناہ مٹائے جاتے ہیں۔
اگر ہماری پوسٹ اچھی لگے تو لائیک شیئر فولو ضرور کریں 👈 عباسی اسلامک پوائنٹ کو شکریہ
#حدیث

آج کی حدیثِ مبارکہ (صحیح مسلم: 798) کی مکمل تفصیل، عربی متن، ترجمہ، تشریح درج ذیل ہےملاہیزہ فرمائیں عباسی اسلامک پوائنٹ ...
11/06/2026

آج کی حدیثِ مبارکہ (صحیح مسلم: 798) کی مکمل تفصیل، عربی متن، ترجمہ، تشریح درج ذیل ہے
ملاہیزہ فرمائیں عباسی اسلامک پوائنٹ کی طرف سے
:📑 عربی متن
عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "الْمَاهِرُ بِالْقُرْآنِ مَعَ السَّفَرَةِ الْكِرَامِ الْبَرَرَةِ، وَالَّذِي يَقْرَأُ الْقُرْآنَ وَيَتَتَعْتَعُ فِيهِ وَهُوَ عَلَيْهِ شَاقٌّ لَهُ أَجْرَانِ"۔
📝 اردو ترجمہ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:"جس نے قرآن میں مہارت حاصل کر لی ہو (اور اس کی وجہ سے وہ اس کو حفظ یا ناظرہ بہتر طریقے پر اور بے تکلف رواں پڑھتا ہو) وہ معزز اور وفادار و فرمانبردار فرشتوں کے ساتھ ہوگا۔ اور جو بندہ قرآن پاک (اچھا یاد اور رواں نہ ہونے کی وجہ سے زحمت اور مشقت کے ساتھ) اس طرح پڑھتا ہو کہ اس میں اٹکتا ہو تو اس کو دو اجر ملیں گے (ایک تلاوت کا اور دوسرا زحمت و مشقت کا)۔"
💡 تفصیلی تشریح و
وضاحت اس حدیثِ مبارکہ میں قرآن کریم کی تلاوت کرنے والے دو مختلف طبقات کے لیے عظیم خوشخبریاں بیان کی گئی ہیں
:ماہرِ قرآن کا مرتبہ:
"الماہر" سے مراد وہ شخص ہے جو تجوید، حسنِ قرأت اور حفظ میں پختہ ہو۔ ایسا شخص قیامت کے دن مقرب فرشتوں (السفرة الكرام البررة) کی صف میں شامل ہوگا، کیونکہ فرشتوں کا کام بھی اللہ کے کلام کو من و عن آگے پہنچانا اور اسے یاد رکھنا ہے، یوں ان دونوں کا عمل اور درجہ یکساں ہو جاتا ہے
۔اٹک کر پڑھنے والے کی حوصلہ افزائی: اسلام کی خوبصورتی دیکھیے کہ جو شخص قرآن پڑھنے میں کمزور ہے، جس کی زبان صاف نہیں یا جسے پڑھنے میں مشکل پیش آتی ہے اور وہ اٹک اٹک کر پڑھتا ہے، اسے مایوس ہونے کے بجائے دوگنا اجر کی نوید سنائی گئی ہے۔ ایک اجر تلاوت کرنے کا اور دوسرا اجر اپنی کمزوری کے باوجود کوشش اور مشقت برداشت کرنے کا۔
عزم اور ہمت کی ترغیب: یہ حدیث ہر مسلمان کے لیے قرآن سے جڑے رہنے کا ایک بہترین محرک ہے۔ جو پڑھنا جانتے ہیں وہ اس میں مہارت حاصل کریں اور جو سیکھ رہے ہیں وہ ثواب کی کثرت کی امید پر محنت جاری رکھیں۔
اگر ہماری پوسٹ اچھی لگے تو لائیک شیئر اور فولو ضرور کریں 👈 عباسی اسلامک پوائنٹ کو شکریہ
#حدیث

آج کی موجودہ حدیثِ مبارکہ (المعجم الصغیر للطبرانی) کی مکمل تفصیل، عربی متن، ترجمہ، علمی تشریح  درج ذیل ہےملاہیزہ فرمائیں...
10/06/2026

آج کی موجودہ حدیثِ مبارکہ (المعجم الصغیر للطبرانی) کی مکمل تفصیل، عربی متن، ترجمہ، علمی تشریح درج ذیل ہے
ملاہیزہ فرمائیں عباسی اسلامک پوائنٹ کی طرف سے
📑 عربی متن
عَنْ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ قَالَ: رَأَيْتُ حَبِيبِي رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ صَلَّى بَعْدَ الْمَغْرِبِ سِتَّ رَكَعَاتٍ، وَقَالَ: "مَنْ صَلَّى بَعْدَ الْمَغْرِبِ سِتَّ رَكَعَاتٍ غُفِرَتْ لَهُ ذُنُوبُهُ، وَإِنْ كَانَتْ مِثْلَ زَبَدِ الْبَحْرِ"
۔📝 اردو ترجمہ
حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ میں نے اپنے حبیب ﷺ کو دیکھا کہ آپ ﷺ مغرب کے بعد چھ رکعتیں پڑھتے تھے اور فرماتے تھے:"کہ جو بندہ مغرب کے بعد چھ رکعت نماز پڑھے اس کے گناہ بخش دیے جائیں گے، اگرچہ وہ (کثرت میں) سمندر کی جھاگ کے برابر ہوں"۔
💡 تفصیلی تشریح
و وضاحتاس حدیث میں مغرب کی نماز کے بعد پڑھی جانے والی نفل نماز کی عظیم فضیلت کا تذکرہ ہے، جسے فقہ اور حدیث کی اصطلاح میں "نمازِ اوابین" کہا جاتا ہے:نمازِ اوابین کی اہمیت: مغرب اور عشاء کا درمیانی وقت عام طور پر غفلت یا دنیاوی کاموں میں مشغولیت کا ہوتا ہے۔ اس وقت میں جو بندہ دنیا کو چھوڑ کر اللہ کے حضور نفل نماز کے لیے کھڑا ہوتا ہے، وہ اللہ کے ہاں بہت بلند مقام پاتا ہے۔ "اوابین" کا مطلب ہے "اللہ کی طرف کثرت سے رجوع کرنے والے"۔سمندر کی جھاگ کے برابر گناہوں کی معافی: یہ جملہ اللہ تعالیٰ کی بے پناہ رحمت اور مغفرت کی وسعت کو ظاہر کرتا ہے۔ محدثین کے نزدیک اس طرح کی فضائل والی احادیث سے مراد انسان کے صغیرہ (چھوٹے) گناہوں کی معافی ہوتی ہے، کیونکہ کبیرہ گناہوں کے لیے توبہ اور بندوں کے حقوق کی ادائیگی ضروری ہے۔تعدادِ رکعات: مغرب کے بعد دو رکعت سنتِ مؤکدہ کے علاوہ یہ چھ رکعتیں نفل کے طور پر پڑھی جاتی ہیں، جنہیں دو دو رکعت کر کے پڑھنا افضل ہے۔
اگر ہماری پوسٹ اچھی لگے تو لائیک شیئر فولو ضرور کریں 👈 عباسی اسلامک پوائنٹ کو شکریہ
🌹🌹🌹🌹🌹
#حدیث #طبرانی

آج کی حدیثِ مبارکہ (مسند احمد: 3823) کی مکمل تفصیل، عربی متن، ترجمہ، تشریح درج ذیل ہے:ملاہیزہ فرمائیں عباسی اسلامک پوائن...
09/06/2026

آج کی حدیثِ مبارکہ (مسند احمد: 3823) کی مکمل تفصیل، عربی متن، ترجمہ، تشریح درج ذیل ہے:
ملاہیزہ فرمائیں عباسی اسلامک پوائنٹ کی طرف سے
📑 عربی متن
عَنْ ابْنِ مَسْعُودٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ: "اللهُمَّ أَحْسَنْتَ خَلْقِي، فَأَحْسِنْ خُلُقِي"
۔📝 اردو ترجمہ
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ اپنی دعاؤں میں (اللہ تعالیٰ سے) عرض کیا کرتے تھے:"اے میرے اللہ! تو نے اپنے کرم سے میرے جسم کی ظاہری بناوٹ اچھی بنائی ہے، اسی طرح میرے اخلاق بھی اچھے فرما۔"
💡 تفصیلی تشریح
وضاحتاس مختصر اور جامع مسنون دعا میں ظاہری اور باطنی حسن کو یکجا کرنے کی تعلیم دی گئی ہے:ذاتی کمال کے باوجود عاجزی: نبی کریم ﷺ کائنات میں سب سے بہترین اخلاق کے مالک تھے، جن کی گواہی خود قرآن نے "وَإِنَّكَ لَعَلَىٰ خُلُقٍ عَظِيمٍ" کہہ کر دی۔ اس کے باوجود آپ ﷺ کا یہ دعا مانگنا امت کو سکھانے کے لیے ہے کہ انسان کو کبھی بھی اپنے اخلاق اور کردار پر غرور نہیں کرنا چاہیے، بلکہ ہمیشہ اللہ سے اس کی بہتری مانگنی چاہیے۔ظاہری اور باطنی حسن کا موازنہ: اللہ تعالیٰ نے انسان کو بہترین شکل و صورت (احسنِ تقویم) پر پیدا کیا ہے۔ یہ دعا ہمیں یاد دلاتی ہے کہ جیسے اللہ نے ہمیں ایک خوبصورت جسمانی بناوٹ عطا کی ہے، ویسے ہی ہمارا باطن، ہماری زبان، اور ہمارا رویہ بھی خوبصورت اور پاکیزہ ہونا چاہیے۔ ظاہری خوبصورتی ادھوری ہے اگر انسان کا اخلاق اچھا نہ ہو۔آئینہ دیکھنے کی دعا:
اگرچہ یہ عام دعا ہے، لیکن بہت سے محدثین اور علما اسے آئینہ دیکھتے وقت پڑھنے کی بھی ترغیب دیتے ہیں، کیونکہ آئینہ دیکھتے ہوئے انسان کو اپنی ظاہری بناوٹ نظر آتی ہے اور اس وقت باطن کو سنوارنے کی دعا دل پر گہرا اثر کرتی ہے۔
اگر ہماری پوسٹ اچھی لگے تو لائیک شیئر فولو ضرور کریں 👈 عباسی اسلامک پوائنٹ کو شکریہ
#حدیث #اخلاقیات #دعا

آج کی حدیثِ مبارکہ (شعب الایمان للبیہقی: 7269) کی مکمل تفصیل، ترجمہ، تشریح  درج ذیل ہےملاہیزہ فرمائیں عباسی اسلامک پوائن...
08/06/2026

آج کی حدیثِ مبارکہ (شعب الایمان للبیہقی: 7269) کی مکمل تفصیل، ترجمہ، تشریح درج ذیل ہے
ملاہیزہ فرمائیں عباسی اسلامک پوائنٹ کی طرف سے
📑 عربی متن
عَنْ أَوْسِ بْنِ شُرَحْبِيلَ - أَحَدِ بَنِي الْمُجَمِّعِ - حَدَّثَهُ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: "مَنْ مَشَى مَعَ ظَالِمٍ لِيُقَوِّيَهُ وَهُوَ يَعْلَمُ أَنَّهُ ظَالِمٌ فَقَدْ خَرَجَ مِنَ الْإِسْلَامِ"۔
📝 اردو ترجمہ
حضرت اوس بن شرحبیل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا:"جو شخص کسی ظالم کی مدد کے لیے، اور اس کا ساتھ دینے کے لیے چلا اور اس کو اس بات کا علم تھا کہ یہ ظالم ہے تو وہ اسلام سے نکل گیا۔"
💡 تفصیلی تشریح و
وضاحتیہ حدیثِ مبارکہ معاشرے میں انصاف کے قیام اور ظلم کی روک تھام کے حوالے سے ایک انتہائی سخت اور اہم ترین اصول واضح کرتی ہے:ظلم کی معاونت سنگین گناہ: اسلام سراسر عدل اور انصاف کا دین ہے۔ اس حدیث میں یہ وعید سنائی گئی ہے کہ جو شخص یہ جانتے ہوئے بھی کہ فلاں بندہ ظالم ہے، اس کی طاقت بڑھانے یا اس کی حمایت کرنے کے لیے اس کے ساتھ چلتا ہے، وہ بہت بڑے جرم کا ارتکاب کرتا ہے۔"اسلام سے نکل گیا" کا مفہوم: محدثینِ کرام کے مطابق یہاں اسلام سے نکلنے کا مطلب یہ ہے کہ ایسا شخص اسلام کی حقیقی روح، اس کے اخلاقی تقاضوں اور ایک کامل مسلمان کے اوصاف سے محروم ہو گیا۔ یہ جملہ اس گناہ کی شدید ترین سنگینی اور ہولناکی کو ظاہر کرنے کے لیے استعمال ہوا ہے۔معاشرتی ذمہ داری: قرآنِ مجید کا حکم ہے کہ نیکی کے کاموں میں ایک دوسرے کی مدد کرو اور گناہ و ظلم کے کاموں میں کسی کا ساتھ نہ دو۔ ظالم کی پشت پناہی کرنا معاشرے میں بگاڑ اور تباہی کا سبب بنتا ہے۔
اگر ہماری پوسٹ اچھی لگے تو لائیک شیئر فولو ضرور کریں 👈 عباسی اسلامک پوائنٹ کو شکریہ
#حدیث #انصاف

Facebook آج کی حدیث مبارک ملاہیزہ فرمائیں عباسی اسلامک پوائنٹ کی طرف سے عربی متنعَنْ أَبِي أُمَامَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُو...
07/06/2026

Facebook آج کی حدیث مبارک ملاہیزہ فرمائیں عباسی اسلامک پوائنٹ کی طرف سے
عربی متن
عَنْ أَبِي أُمَامَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "إِنَّ أَوْلَى النَّاسِ بِاللَّهِ مَنْ بَدَأَهُمْ بِالسَّلَامِ"۔اردو ترجمہ
حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:"لوگوں میں اللہ کے قرب اور اس کی رحمت کا زیادہ مستحق وہ بندہ ہے جو سلام کرنے میں پہل کرے۔"(حوالہ: سنن ابی داؤد: 5197، ابواب النوم، باب في فضل من بدأ السلام)
خلاصہ پیغامیہ حدیث ہمیں سکھاتی ہے کہ معاشرے میں محبت کو عام کرنے کے لیے کسی کے سلام کرنے کا انتظار نہیں کرنا چاہیے، بلکہ خود آگے بڑھ کر سلام کہنا چاہیے تاکہ ہم اللہ کے پسندیدہ بندے بن سکیں۔
حدیث کی تشریح
و وضاحتاس حدیث میں نبی کریم ﷺ نے سلام میں پہل کرنے والے شخص کی عظیم فضیلت اور بلند مرتبے کو بیان فرمایا ہے:اللہ کا قرب اور رحمت: حدیث میں "أَوْلَى النَّاسِ بِاللَّهِ" کا مطلب یہ ہے کہ وہ شخص جو دوسروں کو سلام کرنے میں پہل کرتا ہے، وہ اللہ تعالیٰ کے سب سے زیادہ قریب اور اس کی خاص رحمت، مغفرت اور حفاظت کا مستحق بن جاتا ہے۔تکبر کا خاتمہ: سلام میں پہل کرنا انسان کے اندر سے عاجزی اور انکساری کو ظاہر کرتا ہے۔ ایک اور حدیث کے مطابق، سلام میں پہل کرنے والا شخص تکبر (غرور) سے پاک ہوتا ہے کیونکہ وہ کسی دوسرے کے سلام کرنے کا انتظار نہیں کرتا۔محبت کا فروغ: سلام کرنے سے مسلمانوں کے مابین باہمی محبت، بھائی چارہ اور امن قائم ہوتا ہے۔ جو شخص پہل کرتا ہے، وہ معاشرے میں خیر اور امن کو پھیلانے کا آغاز خود اپنے عمل سے کرتا ہے۔
اگر ہماری پوسٹ اچھی لگے تو لائیک شیئر فولو ضرور کریں 👈 عباسی اسلامک پوائنٹ کو شکریہ
#حدیث #رحمت #عاجزی

آج کی حدیث مبارک ملاہیزہ فرمائیں عباسی اسلامک پوائنٹ کی طرف سے  عربی متنعَنْ قَتَادَةَ، أَنَّ أَنَسًا رَضِيَ اللَّهُ عَن...
06/06/2026

آج کی حدیث مبارک ملاہیزہ فرمائیں عباسی اسلامک پوائنٹ کی طرف سے
عربی متن
عَنْ قَتَادَةَ، أَنَّ أَنَسًا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، حَدَّثَهُمْ قَالَ: صَعِدَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُحُدًا وَمَعَهُ أَبُو بَكْرٍ، وَعُمَرُ، وَعُثْمَانُ، فَرَجَفَ، وَقَالَ: اسْكُنْ أُحُدُ - أَظُنُّهُ ضَرَبَهُ بِرِجْلِهِ - ، فَلَيْسَ عَلَيْكَ إِلَّا نَبِيٌّ، وَصِدِّيقٌ، وَشَهِيدَانِ۔
📝 اردو ترجمہ
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (ایک دن) احد پہاڑ پر چڑھے اور ابوبکر، عمر اور عثمان (رضی اللہ عنہم بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے) تو احد پہاڑ حرکت کرنے لگا (وجدو سرور میں کانپنے لگا) تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا قدم مبارک مارا اور فرمایا:"اے احد! ٹھہر جا ساکن ہو جا، اس وقت تیرے اوپر اللہ کا ایک نبی ہے اور ایک صدیق ہے اور دو شہید ہیں۔"(صحیح البخاری: 3699، کتاب اصحاب النبی ﷺ، باب مناقب عثمان بن عفان)
📑 حدیث کی تشریح
(جلالِ مصطفیٰ ﷺ اور خلفائے راشدین کے مناقب)یہ حدیثِ مبارکہ رسول اللہ ﷺ کے عظیم معجزے، جلالِ مبارک اور اپنے جلیل القدر صحابہ کی شان اور ان کے مستقبل کے بارے میں دی گئی سچی پیشگوئی پر دلالت کرتی ہے۔ تشریح کے اہم نکات درج ذیل ہیں:احد پہاڑ کا کانپنا اور قدمِ مصطفیٰ ﷺ کا جلال: احد پہاڑ پر جب کائنات کی سب سے مقدس ہستیاں جلوہ افروز ہوئیں، تو وہ پہاڑ خوشی اور وجد کی وجہ سے جھومنے اور کانپنے لگا۔ آپ ﷺ نے اپنے قدمِ مبارک کی ضرب سے اسے پرسکون کر دیا، جو اس بات کی دلیل ہے کہ جمادات بھی آپ ﷺ کے حکم کے تابع ہیں۔القابات کی تقسیم اور عظمتِ صحابہ: آپ ﷺ نے احد پہاڑ کو پرسکون کرنے کے لیے اس پر موجود ہستیوں کے درجات بیان فرمائے:نبی: خود ذاتِ گرامی رسول اللہ ﷺ۔صدیق: حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ، جو امت کے سب سے افضل انسان اور تصدیقِ نبوت کا اعلیٰ استعارہ ہیں۔دو شہید (شہیدان): حضرت عمر فاروق اور حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہما۔نبوت کی غیبی پیشگوئی: اس وقت حضرت عمر اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہما حیات تھے اور پرامن زندگی گزار رہے تھے، لیکن آپ ﷺ نے سالوں پہلے وحیِ الٰہی سے یہ پیشگوئی فرما دی کہ ان دونوں کو شہادت کا مرتبہ نصیب ہوگا۔ تاریخِ اسلام گواہ ہے کہ حضرت عمر فاروق کو محرابِ رسول میں اور حضرت عثمان غنی کو تلاوتِ قرآن کے دوران مظلومیت کی حالت میں شہید کیا گیا۔حقانیتِ خلافتِ راشدہ: یہ حدیث ان چاروں ہستیوں کے باہمی اتحاد، محبت اور اللہ کے ہاں ان کے مقبولِ بارگاہ ہونے کی سب سے بڑی گواہی ہے۔
اگر ہماری پوسٹ اچھی لگے تو لائیک شیئر فولو ضرور کریں 👈 عباسی اسلامک پوائنٹ کو شکریہ
ٰ

آج کی حدیث مبارک ملاہیزہ فرمائیں عباسی اسلامک پوائنٹ کی طرف سے 📖 عربی متن عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَمُرَةَ، قَالَ: ...
05/06/2026

آج کی حدیث مبارک ملاہیزہ فرمائیں عباسی اسلامک پوائنٹ کی طرف سے
📖 عربی متن
عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَمُرَةَ، قَالَ: جَاءَ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأَلْفِ دِينَارٍ فِي ثَوْبِهِ، حِينَ جَهَّزَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَيْشَ الْعُسْرَةِ، قَالَ: فَصَبَّهَا فِي حِجْرِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَجَعَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقَلِّبُهَا بِيَدِهِ، وَيَقُولُ: "مَا ضَرَّ ابْنَ عَفَّانَ مَا عَمَلَ بَعْدَ الْيَوْمِ" يُرَدِّدُهَا مِرَارًا۔
📝 اردو ترجمہ
حضرت عبد الرحمن بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جس وقت جیشِ عسرت (غزوہ تبوک) کے لیے ضروریات کا انتظام اور سامان کر رہے تھے تو حضرت عثمان اپنی آستین (یا کپڑے) میں ایک ہزار دینار (اشرفیاں) لے کر آئے اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی گود میں ڈال دیے۔ (عبد الرحمن بن سمرہ کہتے ہیں کہ) میں نے دیکھا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم ان اشرفیوں کو اپنی گود میں الٹ پلٹ رہے ہیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کئی مرتبہ فرمایا:"مَا ضَرَّ ابْنِ عَفَّانَ مَا عَمَلَ بَعْدَ الْيَوْمِ"(یعنی آج کے دن کے بعد عثمان جو کچھ بھی کریں اس سے ان کو کوئی ضرر اور نقصان نہیں پہنچے گا)۔
(مسند احمد: 20630، مسند البصریین، حدیث عبد الرحمن بن سمرہ)
📑 حدیث کی تشریح
(سیدنا عثمان غنی کی سخاوت اور مغفرت کا پروانہ)یہ حدیثِ مبارکہ امیر المؤمنین حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کی بے مثال مالی قربانی، ان کے بلند مرتبے اور بارگاہِ رسالت ﷺ میں ان کی مقبولیت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ تشریح کے اہم نکات درج ذیل ہیں:جیشِ عسرت (تنگی کا لشکر): غزوہ تبوک کے موقع پر مسلمانوں کو شدید مالی تنگی، سخت گرمی اور طویل سفر کا سامنا تھا، اسی لیے اس لشکر کو 'جیشِ عسرت' کہا جاتا ہے۔ ایسے نازک موڑ پر اسلامی فوج کو وسائل کی شدید ضرورت تھی۔عثمان غنی کی بے مثال سخاوت: حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے اس کٹھن وقت میں نہ صرف ایک ہزار دینار نقد پیش کیے، بلکہ سواری کے لیے سینکڑوں اونٹ اور گھوڑے بھی فراہم کر کے آدھے لشکر کی تیاری کا خرچہ اکیلے اٹھایا۔ اسی عظیم سخاوت کی بنا پر آپ کو "غنی" کا لقب ملا۔حضور ﷺ کی خوشی اور الٹ پلٹ کرنا: رسول اللہ ﷺ کا ان اشرفیوں کو گود میں الٹ پلٹ کرنا آپ ﷺ کی انتہائی مسرت اور تشکر کا اظہار تھا۔ یہ اس بات کی علامت تھی کہ عثمان غنی نے امت کا ایک بہت بڑا بوجھ ہلکا کر دیا ہے۔ابدی مغفرت کی ضمانت: آپ ﷺ کا یہ فرمانا کہ "آج کے بعد عثمان کو کوئی عمل نقصان نہیں پہنچائے گا" دراصل اللہ کی طرف سے ان کی لغزشوں کی پیشگی معافی اور جنت کا قطعی پروانہ تھا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر ان سے کوئی انسانی چوک یا اجتہادی غلطی ہو بھی جائے، تو ان کا یہ ایک عمل ان کی نجات کے لیے کافی ہے۔
اگر آپ ہماری پوسٹ پسند کرتے ہیں تو لائیک شیئر فولو ضرور کریں 👈 عباسی اسلامک پوائنٹ کو شکریہ #️⃣

آج کی حدیث مبارک ملاہیزہ فرمائیں عباسی اسلامک پوائنٹ کی طرف سے📖 عربی متنعَنْ مُرَّةَ بْنِ كَعْبٍ قَالَ: لَوْلَا حَدِيثٌ ...
04/06/2026

آج کی حدیث مبارک ملاہیزہ فرمائیں عباسی اسلامک پوائنٹ کی طرف سے
📖 عربی متن
عَنْ مُرَّةَ بْنِ كَعْبٍ قَالَ: لَوْلَا حَدِيثٌ سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا قُمْتُ وَذَكَرَ الْفِتَنَ فَقَرَّبَهَا، فَمَرَّ رَجُلٌ مُقَنَّعٌ فِي ثَوْبٍ فَقَالَ: هَذَا يَوْمَئِذٍ عَلَى الْهُدَى، فَقُمْتُ إِلَيْهِ فَإِذَا هُوَ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ۔ قَالَ: فَأَقْبَلْتُ عَلَيْهِ بِوَجْهِهِ، فَقُلْتُ: هَذَا؟ قَالَ: نَعَمْ
۔📝 اردو ترجمہ
حضرت مرہ بن کعب رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے بعد امت میں برپا ہونے والے کچھ فتنوں کا ذکر فرمایا اور ان کو قریب ہی میں واقع ہونے والے فتنے بتلایا۔ اسی وقت ایک شخص سر پر کپڑا اوڑھے گزرا تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ارشاد فرمایا:"یہ شخص آنے والے ان فتنوں کے دنوں میں طریقۂ ہدایت اور راہِ راست پر ہوگا۔"(حدیث کے راوی مرہ بن کعب کہتے ہیں کہ میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانِ مبارک سے یہ بات سن کر) اس شخص کی طرف چلا (تاکہ دیکھ لوں کہ وہ کون ہے) دیکھا تو عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ تھے۔ میں نے ان کا چہرہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف کر کے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا، کیا وہ یہی ہیں؟ (جن کے بارے میں آپ نے فرمایا کہ وہ فتنہ کے زمانے میں ہدایت اور راہِ راست پر ہوں گے؟) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ "ہاں" (یہی وہ ہیں)۔(سنن الترمذی: 3704، ابواب المناقب، باب في مناقب عثمان بن عفان رضي الله عنه)
📑 حدیث کی تشریح
(مناقبِ حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ اور نبوت کی پیشگوئی)یہ حدیثِ مبارکہ تیسرے خلیفۂ راشد، امیر المؤمنین حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کی عظیم الشان فضیلت، ان کے برحق ہونے اور رسول اللہ ﷺ کی سچی پیشگوئی پر دلالت کرتی ہے۔ تشریح کے اہم نکات درج ذیل ہیں:فتنوں کی پیشگوئی اور نبوت کی دلیل: نبی کریم ﷺ نے وحیِ الٰہی کے ذریعے اپنی زندگی میں ہی یہ پیشگوئی فرما دی تھی کہ امت میں عنقریب سنگین فتنے اٹھیں گے۔ تاریخِ اسلام شاہد ہے کہ آپ ﷺ کے وصال کے چند سالوں بعد ہی دورِ عثمانی کے آخری حصے میں منافقین اور فتنہ پروروں نے سر اٹھایا، جو آپ ﷺ کی پیشگوئی کے عین مطابق تھا۔حضرت عثمان غنی کا برحق ہونا: جب باغیوں اور فتنہ بازوں نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے خلاف محاذ قائم کیا اور ان پر جھوٹے الزامات لگائے، تو ایسے مخدوش حالات میں یہ حدیث سیدنا عثمان غنی کے لیے حقانیت کا سرٹیفکیٹ بنی۔ آپ ﷺ نے پہلے ہی واضح فرما دیا تھا کہ جب فتنے اندھیری رات کی طرح چھا جائیں گے، تو عثمان غنی اس وقت بھی حق اور ہدایت کے سیدھے راستے پر گامزن ہوں گے۔صبر اور استقامت کا نمونہ: اس پیشگوئی اور رسول اللہ ﷺ کی دیگر ہدایات کے پیشِ نظر حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے اپنے دورِ خلافت میں باغیوں کے خلاف تلوار اٹھانے سے گریز کیا تاکہ مدینہ منورہ میں مسلمانوں کا خون نہ بہے۔ آپ نے اپنی جان قربان کر دی لیکن امت میں مزید انتشار پسند نہیں کیا اور اسی مظلومیت کی حالت میں شہید ہوئے۔اہلِ سنت کا مؤقف: یہ حدیث اس بات کی مضبوط دلیل ہے کہ صحابہ کرام کے مابین ہونے والے اختلافات اور فتنوں کے دور میں حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کا موقف بالکل درست اور برحق تھا، اور ان کے مخالفین غلطی پر تھے۔
اگر ہماری پوسٹ اچھی لگے تو لائیک شیئر اور فولو ضرور کریں 👈 عباسی اسلامک پوائنٹ کو شکریہ


Address

Ch No 178/P Sadqabad
Sadiqabad
64350

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Abbasi Islamic Point posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share

Category