Abbasi Islamic Point

Abbasi Islamic Point Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Abbasi Islamic Point, Real Estate, Ch No 178/P Sadqabad, Sadiqabad.

عباسی اسلامک پوائنٹ قرآن و حدیث، اسلامی اقوال، دعائیں اور ایمان افروز باتیں۔ دین کی روشنی دلوں تک پہنچانے کا مقصد۔ روزانہ اسلامی پوسٹس کے لیے ہمارے ساتھ جڑیں۔دل کو چھو لینے والی دعائیں، قرآن و حدیث کے سبق روزانہ 🙏✨ | لائیک 👍، شیئر 🔄 اور فالو ✅ کریں

یےآج کی حدیث مبارک عربی متن اردو ترجمہ اور تشریح ملاحظہ فرمائیں عباسی اسلامک پوائنٹ کی طرف سے عربی متن عَنْ أَنَسِ بْنِ ...
14/07/2026

یےآج کی حدیث مبارک
عربی متن اردو ترجمہ اور تشریح ملاحظہ فرمائیں عباسی اسلامک پوائنٹ کی طرف سے
عربی متن
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ قَضَى لِأَحَدٍ مِنْ أُمَّتِي حَاجَةً يُرِيدُ أَنْ يَسُرَّهُ بِهَا فَقَدْ سَرَّنِي، وَمَنْ سَرَّنِي فَقَدْ سَرَّ اللَّهَ، وَمَنْ سَرَّ اللَّهَ أَدْخَلَهُ اللَّهُ الْجَنَّةَ "(شعب الایمان للبیہقی: 7247)
📝 اردو ترجمہ
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:"جس کسی نے میرے کسی امتی کی کوئی حاجت پوری کر دی اس کا دل خوش کرنے کے لیے تو اس نے مجھے خوش کیا اور جس نے مجھے خوش کیا اس نے میرے اللہ کو خوش کیا، اور جس نے اللہ کو خوش کیا، اللہ اس کو جنت میں داخل فرمائے گا۔"
💡 تفصیلی تشریح
یہ حدیثِ مبارکہ اسلام کے معاشرتی نظام، بندوں کے حقوق (حقوق العباد) اور ایک دوسرے کے ساتھ ہمدردی و خیرخواہی کی عظیم الشان فضیلت کو بیان کرتی ہے
امتی کی حاجت روائی اور اخلاص
حدیث میں "يُرِيدُ أَنْ يَسُرَّهُ بِهَا" کی شرط بہت اہم ہے، یعنی کسی مجبور، غریب یا ضرورت مند مسلمان کی مدد اس نیت سے کرنا کہ اس کا دل خوش ہو جائے اور اس کی پریشانی دور ہو جائے۔ یہ عمل اللہ کی مخلوق سے محبت کی عکاسی کرتا ہے
۔نبی کریم ﷺ کی امت سے محبت
رسول اللہ ﷺ کو اپنی امت سے بے پناہ محبت ہے۔ جب کوئی شخص کسی امتی کی تکلیف دور کرتا ہے یا اس کا کوئی جائز کام بنا دیتا ہے، تو اس سے آپ ﷺ کا دل مبارک خوش ہوتا ہے۔ گویا امتیوں کی خدمت براہِ راست رسول اللہ ﷺ کو خوش کرنے کا ذریعہ ہے۔رضائے الٰہی کا سنہری سلسلہ:
آپ ﷺ نے ایک خوبصورت کڑی قائم فرمائی کہ امتی کی خوشی سے نبی ﷺ خوش ہوتے ہیں، اور نبی ﷺ کی خوشی سے خود رب العزت راضی اور خوش ہوتا ہے۔ اور جس بندے سے اللہ تعالیٰ خوش ہو جائے، اس کا ٹھکانہ یقیناً جنت ہے
۔جنت کا آسان راستہ
ہم عام طور پر بڑی بڑی نفلی عبادتوں کو ہی جنت کا راستہ سمجھتے ہیں، لیکن یہ حدیث بتاتی ہے کہ کسی اداس دل میں خوشی داخل کرنا، کسی کی ضرورت کے وقت کام آنا اور کسی کی حاجت پوری کرنا بھی اللہ کے ہاں اتنا مقبول عمل ہے کہ یہ انسان کو جنت کا مستحق بنا دیتا ہے۔
اگر ہماری پوسٹ اچھی لگے تو لائیک شیئر اور سبسکرائیب ضرور کریں 👈 عباسی اسلامک پوائنٹ کو شکریہ
ٰہی

آج کی حدیث مبارک عربی متن ترجمہ اور تشریح درج ذیل ہے ملاحظہ فرمائیں عباسی اسلامک پوائنٹ کی طرف سے 📖 عربی متن عَنْ سُفْيَ...
13/07/2026

آج کی حدیث مبارک
عربی متن ترجمہ اور تشریح درج ذیل ہے ملاحظہ فرمائیں عباسی اسلامک پوائنٹ کی طرف سے
📖 عربی متن
عَنْ سُفْيَانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الثَّقَفِيِّ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، قُلْ لِي فِي الْإِسْلَامِ قَوْلًا لَا أَسْأَلُ عَنْهُ أَحَدًا بَعْدَكَ - وَفِي حَدِيثِ أَبِي أُسَامَةَ غَيْرَكَ - قَالَ: " قُلْ: آمَنْتُ بِاللَّهِ، فَاسْتَقِمْ "(صحیح مسلم: 38، کتاب الایمان)
📝 اردو ترجمہ
حضرت سفیان بن عبداللہ ثقفی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نے عرض کیا:"یا رسول اللہ! اسلام کے بارے میں مجھے کوئی ایسی جامع اور شافی بات بتائیے کہ آپ کے بعد مجھے اس بارے میں کسی سے کچھ پوچھنا نہ پڑے۔ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: 'کہو میں اللہ پر ایمان لایا اور پھر پوری طرح اور ٹھیک ٹھیک اس پر قائم رہو۔'"
💡 تفصیلی تشریح
یہ حدیثِ مبارکہ نبی کریم ﷺ کے "جوامع الکلم" (کم الفاظ میں سمندر جتنی گہری بات کہنا) کی ایک بہترین اور روشن مثال ہے۔ آپ ﷺ نے صرف دو جملوں میں پوری اسلامی شریعت کا نچوڑ بیان فرما دیا ہے
ایمان کا اقرار (قُلْ: آمَنْتُ بِاللَّهِ)
پہلا قدم یہ ہے کہ انسان زبان اور دل سے اللہ کی توحید، اس کی صفات اور اس کے احکامات پر پکا سچا ایمان لائے۔ یہ دین کی بنیاد ہے، کیونکہ بغیر ایمان کے کوئی بھی عمل اللہ کے ہاں قبول نہیں ہوتا۔
استقامت کی اہمیت (فَاسْتَقِمْ)
دوسرا اور سب سے اہم قدم "استقامت" ہے، یعنی ایمان لانے کے بعد اس پر مضبوطی سے جم جانا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ حالات چاہے جیسے بھی ہوں، خوشی ہو یا غمی، فقر ہو یا غنا، انسان اللہ کی بندگی، نمازوں کی پابندی اور حلال و حرام کے حدود پر قائم رہے۔ نہ اپنے قدموں کو ڈگمگانے دے اور نہ ہی نفس و شیطان کے بہکاوے میں آئے۔
استقامت کا مقام
علما فرماتے ہیں کہ "استقامت کرامت سے بڑھ کر ہے ایمان لانا آسان ہے لیکن زندگی کے آخری لقمے اور آخری سانس تک اس ایمان اور نیک اعمال پر برقرار رہنا اصل کامیابی ہے۔ قرآن مجید میں بھی اللہ تعالیٰ نے استقامت اختیار کرنے والوں کو فرشتوں کی بشارت اور خوف و غم سے نجات کی خوشخبری سنائی ہے۔
جامع ہدایت
صحابیِ رسول کا سوال یہ تھا کہ مجھے کوئی ایک ایسی بات بتا دیں جو میری پوری زندگی کا احاطہ کر لے۔ آپ ﷺ کا یہ جواب واضح کرتا ہے کہ دینِ اسلام صرف عقیدے کا نام نہیں بلکہ عقیدے کے ساتھ مستقل مزاجی سے نیک عمل کرنے کا نام ہے۔
اگر ہماری پوسٹ اچھی لگے تو لائیک شیئر فولو ضرور کریں 👈 عباسی اسلامک پوائنٹ کو شکریہ ✨
#استقامت
🌹

12/07/2026
🌹  🌹   آج کی حدیث مبارک 🌹 🌹عربی متن ترجمہ اور تشریح تجارت کے بارے میں درج ذیل ہے ملاحظہ فرمائیں عباسی اسلامک پوائنٹ کی ط...
12/07/2026

🌹 🌹 آج کی حدیث مبارک 🌹 🌹
عربی متن ترجمہ اور تشریح تجارت کے بارے میں درج ذیل ہے ملاحظہ فرمائیں عباسی اسلامک پوائنٹ کی طرف سے
📖 عربی متن
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: التَّاجِرُ الصَّدُوقُ الأَمِينُ مَعَ النَّبِيِّينَ، وَالصِّدِّيقِينَ، وَالشُّهَدَاءِ.(سنن الترمذی: 1209)
📝 اردو ترجمہ
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا:"پوری سچائی اور ایمانداری کے ساتھ کاروبار کرنے والا تاجر (قیامت کے دن) نبیوں، صدیقوں اور شہیدوں کے ساتھ ہوگا۔"
💡 تفصیلی تشریح
یہ حدیثِ مبارکہ اسلام کے نظامِ تجارت، معاشی اخلاقیات اور حلال رزق کمانے والوں کے عظیم مقام کو بیان کرتی ہے
اسلام اور حلال تجارت
اسلام رہبانیت (دنیا چھوڑ دینے) کا دین نہیں ہے، بلکہ یہ محنت مزدوری اور تجارت کی حوصلہ افزائی کرتا ہے۔ خود نبی کریم ﷺ اور بہت سے جلیل القدر صحابہ کرام تجارت سے وابستہ تھے، اسی لیے دیانت دار تاجر کو معاشرے کا ایک محترم فرد قرار دیا گیا ہے
الصدوق اور الامین کی شرط
اس عظیم مرتبے کے حصول کے لیے آپ ﷺ نے دو بنیادی شرطیں لگائیں: "الصدوق" (بہت سچا) یعنی جو سودا کرتے وقت جھوٹ نہ بولے، چیز کا عیب نہ چھپائے اور جھوٹی قسمیں نہ کھائے۔ "الامین" (امانت دار) یعنی جو ناپ تول میں کمی نہ کرے، ملاوٹ سے بچے اور گاہک کو دھوکہ نہ دے۔
انبیاء اور صدیقین کا ساتھ کیوں
تجارت ایک ایسی جگہ ہے جہاں انسان کا قدم قدم پر مال کی لالچ، نفع خوری اور دھوکہ دہی کی طرف مائل ہونے کا خطرہ ہوتا ہے۔ جو تاجر ان تمام نفسانی خواہشات اور شیطانی وسوسوں کو کچل کر صرف اللہ کے خوف سے سچائی کا راستہ اختیار کرتا ہے، اس کا یہ عمل ایک بہت بڑا مجاہدہ بن جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسے آخرت میں انبیاء، صدیقین اور شہداء جیسی برگزیدہ ہستیوں کی رفاقت کا مژدہ سنایا گیا ہے۔معاشرتی فائدہ
جب کسی معاشرے کے تاجر سچے اور امانت دار ہو جائیں، تو وہاں سے مہنگائی کا مصنوعی بگاڑ، ذخیرہ اندوزی اور معاشی ظلم ختم ہو جاتا ہے اور پورا معاشرہ امن و سکون کا گہوارہ بن جاتا ہے۔
اگر ہماری پوسٹ اچھی لگے تو لائیک شیئر اور فولو ضرور کریں 👈 عباسی اسلامک پوائنٹ کو شکریہ
#اخلاقیات

آج کی حدیث کا عربی متن، اردو ترجمہ، تفصیلی تشریح، موزوں عنوانات درج ذیل ہیںملاحظہ فرمائیں عباسی اسلامک پوائنٹ کی طرف سے ...
11/07/2026

آج کی حدیث کا عربی متن، اردو ترجمہ، تفصیلی تشریح، موزوں عنوانات درج ذیل ہیں
ملاحظہ فرمائیں عباسی اسلامک پوائنٹ کی طرف سے
:📖 عربی متن
عَنْ سَهْلِ بْنِ مُعَاذِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ أَكَلَ طَعَامًا فَقَالَ: الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَطْعَمَنِي هَذَا وَرَزَقَنِيهِ مِنْ غَيْرِ حَوْلٍ مِنِّي وَلَا قُوَّةٍ، غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ.(سنن الترمذی: 3458)📝 اردو ترجمہ
حضرت سہل بن معاذ بن انس اپنے والد (معاذ بن انس رضی اللہ عنہ) سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:"جو بندہ کھانا کھائے اور پھر کہے: 'الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَطْعَمَنِي هَذَا وَرَزَقَنِيهِ مِنْ غَيْرِ حَوْلٍ مِنِّي وَلَا قُوَّةٍ' (ساری حمد اس اللہ کے لیے جس نے مجھے یہ کھانا کھلایا اور میری اپنی سعی و تدبیر اور قوت و طاقت کے بغیر محض اپنے فضل سے مجھے یہ عطا فرمایا) تو اس حمد و شکر کی برکت سے اس کے پہلے سارے گناہ بخش دیے جائیں گے۔"
💡 تفصیلی تشریح
یہ حدیثِ مبارکہ اللہ تعالیٰ کی بے پناہ رحمت اور رزق کا شکر ادا کرنے پر ملنے والے عظیم الشان انعام کو بیان کرتی ہے
عجز و انکساری کا اظہار
دعا کے الفاظ "مِنْ غَيْرِ حَوْلٍ مِنِّي وَلَا قُوَّةٍ" (میری کسی طاقت اور تدبیر کے بغیر) انسان کو اپنی حقیقت یاد دلاتے ہیں۔ انسان کتنی ہی محنت کیوں نہ کر لے، جب تک اللہ کا فضل نہ ہو، وہ رزق کا ایک لقمہ بھی حاصل نہیں کر سکتا۔ یہ اعتراف انسان کے دل سے تکبر کو مٹا دیتا ہے
۔گناہوں کی معافی کا آسان ذریعہ
کھانا پینا ایک روزمرہ کی دنیاوی ضرورت ہے، لیکن اگر اسے شکر کے ساتھ جوڑ دیا جائے تو یہی دنیاوی کام سچی عبادت بن جاتا ہے۔ صرف ایک جملہ اخلاص سے کہنے پر اللہ تعالیٰ پچھلے تمام صغیرہ (چھوٹے) گناہوں کو معاف فرما دیتا ہے
۔شکر سے نعمت میں اضافہ
اسلام اپنے ماننے والوں کو ہر چھوٹی بڑی نعمت پر شکر گزاری سکھاتا ہے۔ جب بندہ پیٹ بھرنے کے بعد اللہ کی دی ہوئی طاقت اور صحت کا اعتراف کر کے اس کا شکر بجا لاتا ہے، تو اللہ کا قانون ہے کہ وہ اس کے رزق اور برکتوں میں مزید اضافہ فرما دیتا ہے۔
اگر ہماری پوسٹ اچھی لگے تو لائیک شیئر اور فولو ضرور کریں 👈 عباسی اسلامک پوائنٹ کو شکریہ

آج کی حدیث مبارک عربی متن ترجمہ اور تشریح درج ذیل ہے ملاحظہ فرمائیں عباسی اسلامک پوائنٹ کی طرف سے 📖 عربی متن عَنْ عَبْدِ...
10/07/2026

آج کی حدیث مبارک
عربی متن ترجمہ اور تشریح درج ذیل ہے ملاحظہ فرمائیں عباسی اسلامک پوائنٹ کی طرف سے
📖 عربی متن
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ لِلَّهِ مَلَائِكَةً سَيَّاحِينَ فِي الْأَرْضِ يُبَلِّغُونِي عَنْ أُمَّتِي السَّلَامَ.(مسند الدارمی: 2816)
📝 اردو ترجمہ
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:"اللہ کے کچھ فرشتے ہیں جو دنیا میں چکر لگاتے رہتے ہیں اور میرے امتیوں کا درود و سلام مجھے پہنچاتے ہیں۔"
💡 تفصیلی تشریح
یہ حدیثِ مبارکہ نبی کریم ﷺ سے تعلق اور درود و سلام بھیجنے کی بے مثال فضیلت کو خوبصورت انداز میں اجاگر کرتی ہے
فرشتوں کی خاص ڈیوٹی
اللہ تعالیٰ نے کائنات میں کچھ خاص فرشتوں کی یہ ذمہ داری لگائی ہے کہ وہ زمین پر گشت کریں (سَيَّاحِينَ کا مطلب ہے سیاحت کرنے والے، چکر لگانے والے)۔ ان کا واحد مقصد یہ ہوتا ہے کہ جہاں بھی کوئی مسلمان پیارے نبی ﷺ پر درود پڑھے، وہ اسے فوراً آپ ﷺ کی بارگاہ میں پیش کریں۔
فاصلوں کی قید سے آزادی
بندہ دنیا کے کسی بھی کونے میں ہو، کسی بھی وقت، اکیلا ہو یا محفل میں، جیسے ہی وہ کہتا ہے "صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" یا درود شریف پڑھتا ہے، وہ اسی لمحے فرشتوں کے ذریعے مدینہ منورہ پہنچا دیا جاتا ہے۔
نام کے ساتھ پیشی
دیگر احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ فرشتے بارگاہِ رسالت میں صرف درود نہیں پہنچاتے بلکہ پڑھنے والے کا نام اور اس کے والد کا نام لے کر عرض کرتے ہیں کہ "یا رسول اللہ! آپ کے فلاں امتی نے آپ پر یہ ہدیۂ سلام بھیجا ہے"۔ یہ ایک مؤمن کے لیے بہت بڑا اعزاز ہے۔
عشقِ رسول ﷺ کا اظہار
درود و سلام امتی اور نبی کے درمیان رابطے کا ایک مستقل ذریعہ ہے۔ جتنا زیادہ کوئی درود پڑھے گا، اتنا ہی اس کا نام رسول اللہ ﷺ کے سامنے پیش ہوگا اور آپ ﷺ کی خوشنودی کا باعث بنے گا۔
اگر ہماری پوسٹ اچھی لگے تو لائیک شیئر اور فولو ضرور کریں 👈 عباسی اسلامک پوائنٹ کو شکریہ
#فرشتے

آج کی حدیث  مبارک کا عربی متن، اردو ترجمہ، تفصیلی تشریح، موزوں عنوانات  درج ذیل ہیں:ملاحظہ فرمائیں عباسی اسلامک پوائنٹ ک...
09/07/2026

آج کی حدیث مبارک کا عربی متن، اردو ترجمہ، تفصیلی تشریح، موزوں عنوانات درج ذیل ہیں:
ملاحظہ فرمائیں عباسی اسلامک پوائنٹ کی طرف سے
📖 عربی متن
عَنْ أَبِي أُمَامَةَ الْبَاهِلِيِّ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ
اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " اقْرَءُوا الْقُرْآنَ فَإِنَّهُ يَأْتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ شَفِيعًا لِأَصْحَابِهِ، اقْرَءُوا الزَّهْرَاوَيْنِ الْبَقَرَةَ، وَسُورَةَ آلِ عِمْرَانَ، فَإِنَّهُمَا تَأْتِيَانِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ كَأَنَّهُمَا غَمَامَتَانِ، أَوْ كَأَنَّهُمَا غَيَايَتَانِ، أَوْ كَأَنَّهُمَا فِرْقَانِ مِنْ طَيْرٍ صَوَافَّ، تُحَاجَّانِ عَنْ أَصْحَابِهِمَا، اقْرَءُوا سُورَةَ الْبَقَرَةِ، فَإِنَّ أَخْذَهَا بَرَكَةٌ، وَتَرْكَهَا حَسْرَةٌ، وَلَا تَسْتَطِيعُهَا الْبَطَلَةُ "(صحیح مسلم: 804)📝
اردو ترجمہ
حضرت ابو امامہ باہلی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا، آپ ﷺ ارشاد فرماتے تھے:"قرآن پڑھا کرو، وہ قیامت کے دن اپنے پڑھنے والوں کا شفیع (سفارشی) بن کر آئے گا۔ (خاص کر) "زہراوین" یعنی اس کی دو اہم نورانی سورتیں البقرہ اور آل عمران پڑھا کرو، وہ قیامت کے دن اپنے پڑھنے والوں کو اپنے سایہ میں لینے کے لیے اس طرح آئیں گی جیسے کہ وہ ابر (بادل) کے ٹکڑے ہیں، یا سائبان ہیں، یا صف باندھے پرندوں کے پر ہیں۔ یہ دونوں سورتیں قیامت میں اپنے پڑھنے والوں کی طرف سے مدافعت کریں گی (دفاع اور جھگڑا کریں گی)۔ (آپ ﷺ نے فرمایا) پڑھا کرو سورہ بقرہ کیونکہ اس کو حاصل کرنا بڑی برکت والی بات ہے، اور اس کو چھوڑنا بڑی حسرت اور ندامت کی بات ہے، اور اہل باطل (جادوگر) اس کی طاقت نہیں رکھتے۔"
💡 تفصیلی تشریح
یہ حدیثِ مبارکہ تلاوتِ قرآن، بالخصوص سورہ بقرہ اور سورہ آل عمران کی غیر معمولی فضیلت اور ان کے دنیا و آخرت میں ملنے والے فوائد کو بیان کرتی ہے
:قرآن بطورِ شفیع (سفارشی)
قیامت کا دن انتہائی ہولناک ہوگا جہاں ہر انسان نفسی نفسی کے عالم میں ہوگا۔ ایسے کٹھن وقت میں قرآن کریم مجسم ہو کر آئے گا اور اپنے پڑھنے اور عمل کرنے والے بندوں کی بخشش کے لیے اللہ کے حضور سفارش کرے گا، اور اس کی سفارش قبول کی جائے گی۔
زہراوین (دو چمکتے ہوئے نور)
آپ ﷺ نے سورہ بقرہ اور سورہ آل عمران کو "زہراوین" فرمایا، جس کا مطلب ہے دو انتہائی روشن اور چمکتی ہوئی سورتیں۔ قیامت کی تپش اور گرمی میں یہ سورتیں اپنے قاری کے لیے بادل، سائبان یا پرندوں کے جھنڈ کی طرح سایہ بن جائیں گی اور اللہ کی عدالت میں اپنے قاری کے حق میں حجت اور دفاع کریں گی۔سورہ بقرہ کی برکت اور حسرت
اس سورت کو پڑھنا، سمجھنا اور اس پر عمل کرنا زندگی، رزق اور گھر بار میں برکت کا سبب ہے۔ جو شخص اسے چھوڑ دیتا ہے، وہ قیامت کے دن اس کے عظیم ثواب کو دیکھ کر حسرت اور افسوس کرے گا۔جادو ٹونے سے حفاظت
حدیث کے آخر میں فرمایا گیا "وَلَا تَسْتَطِيعُهَا الْبَطَلَةُ"۔ علما فرماتے ہیں کہ "البطلۃ" سے مراد جادوگر ہیں۔ جس گھر میں سورہ بقرہ کی تلاوت کی جاتی ہے، وہاں شیطان داخل نہیں ہو سکتا اور نہ ہی کوئی جادو یا شیطانی طاقت اس گھرانے کو نقصان پہنچا سکتی ہے۔
اگر ہماری پوسٹ اچھی لگے تو لائیک شیئر اور فولو ضرور کریں 👈 عباسی اسلامک پوائنٹ کو شکریہ
#زہراوین

آج کی حدیث مبارک۔ عربی متن اردو ترجمہ اور تشریح درج ذیل ہے ملاحظہ فرمائیں عباسی اسلامک پوائنٹ کی طرف سے عربی متن عَنْ أَ...
08/07/2026

آج کی حدیث مبارک۔
عربی متن اردو ترجمہ اور تشریح درج ذیل ہے ملاحظہ فرمائیں عباسی اسلامک پوائنٹ کی طرف سے
عربی متن
عَنْ أَبِي بَكْرٍ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " مَا مِنْ رَجُلٍ يُذْنِبُ ذَنْبًا، ثُمَّ يَقُومُ فَيَتَطَهَّرُ، ثُمَّ يُصَلِّي، ثُمَّ يَسْتَغْفِرُ اللَّهَ، إِلَّا غَفَرَ اللَّهُ لَهُ، ثُمَّ قَرَأَ هَذِهِ الْآيَةَ: {وَالَّذِينَ إِذَا فَعَلُوا فَاحِشَةً أَوْ ظَلَمُوا أَنْفُسَهُمْ ذَكَرُوا اللَّهَ فَاسْتَغْفَرُوا لِذُنُوبِهِمْ} "(سنن الترمذی: 406)
📝 اردو ترجمہ
حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا:"جس شخص سے کوئی گناہ ہو جائے پھر وہ اٹھ کر وضو کرے، پھر نماز پڑھے، پھر اللہ سے مغفرت اور معافی طلب کرے تو اللہ تعالیٰ اس کو معاف فرما ہی دیتا ہے۔ اس کے بعد آپ ﷺ نے قرآن مجید کی یہ آیت تلاوت فرمائی: {وَالَّذِينَ إِذَا فَعَلُوا فَاحِشَةً أَوْ ظَلَمُوا أَنْفُسَهُمْ ذَكَرُوا اللَّهَ فَاسْتَغْفَرُوا لِذُنُوبِهِمْ} (اور یہ وہ لوگ ہیں کہ اگر کبھی کوئی بے حیائی کا کام کر بھی بیٹھتے ہیں یا (کسی اور طرح) اپنی جان پر ظلم کر گزرتے ہیں تو فوراً اللہ کو یاد کرتے ہیں اور اس کے نتیجے میں اپنے گناہوں کی معافی مانگتے ہیں)"۔
💡 تفصیلی تشریح
یہ حدیثِ مبارکہ گناہ گار بندوں کے لیے اللہ کی رحمت کا بہت بڑا مژدہ ہے اور توبہ کا ایک خاص عملی طریقہ سکھاتی ہے جسے اسلامی اصطلاح میں "صلاۃ التوبہ" (توبہ کی نماز) کہا جاتا ہے
مایوسی کا خاتمہ:
انسان خطا کا پتلا ہے، شیطان یا نفس کے بہکاوے میں آ کر اس سے گناہ ہو سکتا ہے۔ یہ حدیث سکھاتی ہے کہ گناہ کے بعد مایوس ہو کر بیٹھنے کے بجائے فوراً اللہ کی طرف رجوع کرنا چاہیے
توبہ کا مسنون طریقہ
آپ ﷺ نے توبہ کی قبولیت کے لیے چار مراحل بیان فرمائے:گناہ کا احساس ہونا۔بہترین طریقے سے وضو (طہارت) کرنا۔دو رکعت نفل نماز (صلاۃ التوبہ) پڑھنا۔دل کی گہرائیوں سے گناہ پر شرمندہ ہو کر استغفار کرنا۔نماز اور وضو کی برکت
وضو کرنے سے اعضاء کے گناہ جھڑتے ہیں اور نماز بندے کو اللہ کے سب سے زیادہ قریب (سجدے کی حالت میں) کر دیتی ہے۔ اس پاکیزہ حالت میں مانگی جانے والی معافی کو اللہ کبھی رد نہیں فرماتا۔
قرآن سے تائید
آپ ﷺ نے اپنی بات کی تائید میں سورہ آل عمران کی آیت (135) تلاوت فرمائی، جس میں اللہ تعالیٰ نے متقی لوگوں کی یہ صفت بیان کی ہے کہ ان سے اگر کوئی غلطی ہو جائے تو وہ ضد نہیں کرتے، بلکہ فوراً اللہ کو یاد کر کے معافی مانگتے ہیں۔
اگر ہماری پوسٹ اچھی لگے تو لائیک شیئر اور فولو ضرور کریں 👈 عباسی اسلامک پوائنٹ کو شکریہ
#استغفراللہ

آج کی حدیث مبارک کا عربی متن، اردو ترجمہ، تفصیلی تشریح، موزوں عنوانات  درج ذیل ہیںملاحظہ فرمائیں عباسی اسلامک پوائنٹ کی ...
07/07/2026

آج کی حدیث مبارک کا عربی متن، اردو ترجمہ، تفصیلی تشریح، موزوں عنوانات درج ذیل ہیں
ملاحظہ فرمائیں عباسی اسلامک پوائنٹ کی طرف سے
📖 عربی متن
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " قَالَ مُوسَى بْنُ عِمْرَانَ عَلَيْهِ السَّلَامُ: يَا رَبِّ، مَنْ أَعَزُّ عِبَادِكَ عِنْدَكَ؟ قَالَ: مَنْ إِذَا قَدَرَ غَفَرَ "(شعب الایمان للبیہقی: 7974)
📝 اردو ترجمہ
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:"حضرت موسیٰ بن عمران علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ کی جناب میں عرض کیا، پروردگار! آپ کے بندوں میں کون آپ کی بارگاہ میں زیادہ باعزت ہے؟ ارشاد فرمایا: وہ بندے جو (قصور وار پر) قابو پانے کے بعد (اور سزا دینے کی قدرت رکھنے کے باوجود) اس کو معاف کر دیں۔"
💡 تفصیلی تشریح
یہ حدیثِ مبارکہ ہمیں عفو و درگزر (معاف کرنے) کی عظمت اور اللہ کی بارگاہ میں عزت پانے کا ایک بہت ہی خوبصورت اور عالی شان اصول سکھاتی ہے:
موسیٰ علیہ السلام کا سوال
انبیاء علیہم السلام ہمیشہ ان باتوں کی جستجو میں رہتے تھے جن سے اللہ کا قرب اور اس کی رضا حاصل ہو سکے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کا یہ سوال بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی تھا کہ اللہ کے ہاں حقیقی عزت کا معیار کیا ہے
۔قدرت کے باوجود معاف کرنا:
حدیث کا اصل نچوڑ لفظ "إِذَا قَدَرَ غَفَرَ" (جب قدرت پا لے تو معاف کر دے) میں ہے۔ کسی مجبوری، کمزوری یا ڈر کی وجہ سے خاموش ہو جانا الگ بات ہے، لیکن جب انسان کے پاس بدلہ لینے، سزا دینے اور نیچا دکھانے کی پوری طاقت اور اختیار موجود ہو، اور پھر وہ صرف اللہ کی رضا کے لیے اپنے غصے کو پی جائے اور سامنے والے کو معاف کر دے، تو یہ بہت بڑا ظرف ہے۔
حقیقی عزت کا الٰہی معیار
دنیا دار لوگ عام طور پر بدلہ لینے، اینٹ کا جواب پتھر سے دینے اور طاقت کا مظاہرہ کرنے کو عزت اور غیرت کی علامت سمجھتے ہیں۔ لیکن اللہ تعالیٰ کا قانون اس کے بالکل برعکس ہے۔ اللہ کے ہاں سب سے زیادہ معزز اور بہادر وہ ہے جو اپنے نفس اور غصے پر قابو پا کر معاف کرنے کا راستہ چنے۔
اخلاقِ حسنہ کا عروج
یہ عمل انسان کو اللہ کے رنگ میں رنگ دیتا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ خود "غفور" اور "عفو" ہے (یعنی بہت معاف کرنے والا ہے)۔ بندے کا یہ رویہ معاشرے سے دشمنیوں کو ختم کرتا ہے اور دلوں میں محبت پیدا کرتا ہے۔
اگر ہماری پوسٹ اچھی لگے تو لائیک شیئر اور فولو ضرور کریں 👈 عباسی اسلامک پوائنٹ کو شکریہ


Address

Ch No 178/P Sadqabad
Sadiqabad
64350

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Abbasi Islamic Point posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share

Category