14/07/2026
یےآج کی حدیث مبارک
عربی متن اردو ترجمہ اور تشریح ملاحظہ فرمائیں عباسی اسلامک پوائنٹ کی طرف سے
عربی متن
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ قَضَى لِأَحَدٍ مِنْ أُمَّتِي حَاجَةً يُرِيدُ أَنْ يَسُرَّهُ بِهَا فَقَدْ سَرَّنِي، وَمَنْ سَرَّنِي فَقَدْ سَرَّ اللَّهَ، وَمَنْ سَرَّ اللَّهَ أَدْخَلَهُ اللَّهُ الْجَنَّةَ "(شعب الایمان للبیہقی: 7247)
📝 اردو ترجمہ
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:"جس کسی نے میرے کسی امتی کی کوئی حاجت پوری کر دی اس کا دل خوش کرنے کے لیے تو اس نے مجھے خوش کیا اور جس نے مجھے خوش کیا اس نے میرے اللہ کو خوش کیا، اور جس نے اللہ کو خوش کیا، اللہ اس کو جنت میں داخل فرمائے گا۔"
💡 تفصیلی تشریح
یہ حدیثِ مبارکہ اسلام کے معاشرتی نظام، بندوں کے حقوق (حقوق العباد) اور ایک دوسرے کے ساتھ ہمدردی و خیرخواہی کی عظیم الشان فضیلت کو بیان کرتی ہے
امتی کی حاجت روائی اور اخلاص
حدیث میں "يُرِيدُ أَنْ يَسُرَّهُ بِهَا" کی شرط بہت اہم ہے، یعنی کسی مجبور، غریب یا ضرورت مند مسلمان کی مدد اس نیت سے کرنا کہ اس کا دل خوش ہو جائے اور اس کی پریشانی دور ہو جائے۔ یہ عمل اللہ کی مخلوق سے محبت کی عکاسی کرتا ہے
۔نبی کریم ﷺ کی امت سے محبت
رسول اللہ ﷺ کو اپنی امت سے بے پناہ محبت ہے۔ جب کوئی شخص کسی امتی کی تکلیف دور کرتا ہے یا اس کا کوئی جائز کام بنا دیتا ہے، تو اس سے آپ ﷺ کا دل مبارک خوش ہوتا ہے۔ گویا امتیوں کی خدمت براہِ راست رسول اللہ ﷺ کو خوش کرنے کا ذریعہ ہے۔رضائے الٰہی کا سنہری سلسلہ:
آپ ﷺ نے ایک خوبصورت کڑی قائم فرمائی کہ امتی کی خوشی سے نبی ﷺ خوش ہوتے ہیں، اور نبی ﷺ کی خوشی سے خود رب العزت راضی اور خوش ہوتا ہے۔ اور جس بندے سے اللہ تعالیٰ خوش ہو جائے، اس کا ٹھکانہ یقیناً جنت ہے
۔جنت کا آسان راستہ
ہم عام طور پر بڑی بڑی نفلی عبادتوں کو ہی جنت کا راستہ سمجھتے ہیں، لیکن یہ حدیث بتاتی ہے کہ کسی اداس دل میں خوشی داخل کرنا، کسی کی ضرورت کے وقت کام آنا اور کسی کی حاجت پوری کرنا بھی اللہ کے ہاں اتنا مقبول عمل ہے کہ یہ انسان کو جنت کا مستحق بنا دیتا ہے۔
اگر ہماری پوسٹ اچھی لگے تو لائیک شیئر اور سبسکرائیب ضرور کریں 👈 عباسی اسلامک پوائنٹ کو شکریہ
ٰہی