P T I Lover Imran Khan

P T I Lover Imran Khan I LOVE IMRAN KHAN

آج رات 11 بجے زمان پارک میں شب دعا اور اجتماعی استغفار کا اہتمام کیا جائے گا۔
17/04/2023

آج رات 11 بجے زمان پارک میں شب دعا اور اجتماعی استغفار کا اہتمام کیا جائے گا۔

15/04/2023

امیرجماعتِ اسلامی سراج الحق کی زمان پارک آمد اور چیئرمین تحریک انصاف عمران خان سے خصوصی تفصیلی ملاقات

نائب امیرِ جماعت لیاقت بلوچ اور مرکزی سیکرٹری جنرل امیر العظیم بھی ہمراہ

مرکزی نائب صدر سینیٹر اعجاز احمد چودھری، چیئرمین کے چیف آف سٹاف سینیٹر شبلی فراز اور معاون سیاسی امور حافظ فرحت عباس بھی موجود

اس اہم ترین ملاقات میں ملکی سیاسی صورتحال اور باہمی دلچسپی کے امور پر تفصیلی تبادلۂ خیال

امیرِجماعت کیجانب سے انتخابات کے انعقاد کیلئے وسیع اتفاقِ رائے کیلئے کمیٹی کی تشکیل کی تجویز

تحریک انصاف آئین کے دائرہ و حدود کے اندر بات چیت کیلئے تیار ہے، چیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان

ملاقات میں دونوں جماعتوں کے مابین روابط کے تسلسل پر اتفاق

09/04/2023

✍️ *زندگی میں کبھی اپنے لئے راحتیں تلاش مت کرو۔ بلکہ ایک دفعہ کسی کی راحت کا سبب بن کر دیکھو، دل کو راحت کے ساتھ چین و سکون محسوس نہ ہو تو کہنا*💕

08/04/2023

*بہترین زندگی جینے* کے لئے اس حقیقت کو
تسلیم کرنا پڑتا ہے ✨

*کہ سب کو سب کچھ نہیں مل سکتا✨😊🫰🏻*

غزوہِ بدر ۔۔ معرکہ حق و باطل۔۔17 رمضان المبارک 2ہجری623ءاللہ تعالیٰ نے جن اقوام میں انبیا علیہم السلام مبعوث فرمائے انہو...
08/04/2023

غزوہِ بدر ۔۔ معرکہ حق و باطل۔۔
17 رمضان المبارک 2ہجری623ء
اللہ تعالیٰ نے جن اقوام میں انبیا علیہم السلام مبعوث فرمائے انہوں نے جب اللہ تعالیٰ کا پیغام لوگوں تک پہنچایا تو لوگوں نے مخالفت شروع کردی اس مخالفت کی شدت اس قدر تھی کہ انہوں نے انبیاء کرام علیہم السلام کو قتل کرنا شروع کردیا ۔ ایک تو ان انبیا علیہم السلام کی دادرسی کے لیے اللہ کے سوا اور کوئی نہ تھا کہ انہیں ظالموں سے بچا سکے دوسری طرف پوری قوم سوائے چند لوگوں جو ایمان لائے کوئی ان کی مدد کے لیے آگے نہیں تھے۔ چنانچہ انبیا علیہم السلام یا تو قتل کردیے گئے یا جھٹلائے گئے ۔ یحییٰ علیہ السلام کو قتل کرنے کے بعد بنی اسرائیل نے عیسی علیہ السلام کو قتل کرنے کا ارادہ فرمایا لیکن اللہ تعالیٰ نے آسمانوں پر زندہ اٹھا لیا ۔ ارمیا علیہ السلام کو جب بنی اسرائیل نے قید کیا تو اللہ تعالیٰ نے بخت نصر کو بنی اسرائیل پر مسلط کردیا ۔ بخت نصر بابل کا بادشاہ تھا بابل علوم و فنون ،ثقافت صنعت و حرفت میں باقی ممالک سے آگے تھا ۔ بخت نصر کو اللہ تعالیٰ نے خواب میں ارمیا علیہ السلام کے حالات دکھائے جس کے بعد اس نے شام فلسطین پر حملہ کردیا اور ستر ہزار لوگوں کو قتل کردیا اور بہت سے لوگوں کو غلام بنا کر قید کرلیا ۔ ہیکل سلیمانی کو تباہ کردیا فلسطین اور شام سے بنی اسرائیل نے خروج کیا اور حجاز مقدس میں آ بسے ۔۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب قریش کو دعوت دی تو سب سے پہلے انکے اپنے چچا ابو لہب نے انکی مخالفت کی حالانکہ سبھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے بخوبی واقف تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم راست گو آمین اور شفیق تھے لیکن اسکے باوجود آپ کو طرح طرح کی ایذا دینے سے پیچھے نہ ہٹے ۔ ۔۔
خباب بن الارت کو انگاروں پر لٹایا گیا حتی کہ آپ کے جسم میں ان انگاروں کی وجہ سے گہرے زخم بن گئے ۔ سمیہ کو دو اونٹوں سے باندھ کر دو حصوں میں تقسیم کردیا لیکن آخر وقت تک آپ کی زبان سے اللہ کی واحدانیت جاری تھی ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی جمعیت قلیل تعداد میں تھی لیکن اسکے باوجود قریش آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا کچھ نہیں بگاڑ سکے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تمام مسلمانوں کو ہجرت کا حکم دیا اور خود تین دن اور رات غار ثور میں اپنے رفیق سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے ساتھ رہے یہاں تک کہ آپ مدینہ کے لیے روانہ ہوئے ۔۔۔۔
مدینہ والے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے انتظار میں تھے کیوں کہ علماء یہود سے وہ سنتے آرہے تھے کہ عنقریب یہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہجرت فرمائیں گے ۔۔۔
جب مدینہ میں مسجد نبوی کی تعمیر ہوئی اور ایک ریاست قائم ہوئی جس کی بنیاد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رکھی اور ظالم کے خلاف باقاعدہ ایک جماعت تشکیل دی گئی پہلے کے انبیا علیہم السلام قتل ہوئے لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خود ملاحم تھے اللہ نے اپکو ساتھی بھی ملاحم عطا کیے تاکہ ضرورت پڑنے پر وہ ظالم کو صفحہ ہستی سے مٹا سکے داود علیہ السلام کے علاؤہ کسی نبی نے ریاست قائم نہیں کی لیکن وہ بھی زیادہ دیر تک قائم نہیں رہ سکی سلیمان علیہ السلام کے بعد وہ بھی ختم ہوگئے اور یہود پھر سے سرگرم ہوگئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ ہمہ وقت آپ کی خاطر جان دینے کے لیے تیار تھے ۔۔۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کو یہ امتیاز حاصل ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دنیا سے رخصت ہونے کے باوجود انہوں آپ کی تعلیمات اور جھاد کو اپنے دامن سے نہ جانے دیا ۔۔۔
غزوہِ بدر سے پہلے کے واقعات۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
غزوہِ بدر سے تین دن پہلے عاتکہ بنت عبد المطلب نے ایک خواب دیکھا۔۔ انہوں نے حضرت عباس سے اسکا ذکر کیا کہ میں نے کہ ! ایک شخص اونٹ پر سوار وادی ابطح میں کھڑا چلا رہا ہے سنو اے ! بے وفاو اپنے پچھڑنے کی جگہوں کی طرف تین دن کے اندر جنگ کے لیے نکل چلو ۔۔
پھر وہ پھر وہ مسجد الحرام میں داخل ہوا اور لوگ اسکے پیچھے پیچھے چلتے رہے اسی اثناء میں وہ بیت اللہ کے اوپر چڑھ کر چلایا سنو ! اے غدارو اپنے پچھڑنے کی جگہوں کی طرف تین دن کے اندر جنگ کے لیے نکل چلو۔۔۔۔ پھر وہ شخص جبل ابو قبیس پر نمودار ہوا پھر اسی طرح چلایا اور اس نے ایک چٹان کو لڑھکا دیا جو پہاڑی دامن اگرا اور اسکے ٹکڑے قریش کے گھروں اور احاطوں میں داخل ہوئے ۔۔ اس خواب کو عباس نے سن کر کہا" اسے کسی بھی مت کہںنا واللہ یہ تو بہت اہم خواب ہے ۔۔۔
حضرت عباس نے یہ خواب ولید کو بتایا اور کہا کہ کسی سے اسکا ذکر نہ کرے۔۔۔ لیکن ولید نے اپنے والد عتبہ کو بتایا عتبہ سے یہ تمام قریش میں پھیل گیا۔۔ اس خواب کے چرچے ہونے لگے ابو جہل تک یہ خبر پہنچی ۔۔ ابو جہل نے حضرت عباس اور عاتکہ کا مذاق اڑایا اور کہا اے ابو الفضل ! یہ بنی عبدالمطلب میں بنیہ کب سے پیدا ہوگئی؟ پہلے تمھارے مردوں نے نبوت کا دعویٰ کیا اب عورتوں نے ! حضرت عباس یہ خاموشی سے سنتے رہے ۔۔ ابوجھل نے مزید کہا عاتکہ نے یہ دعویٰ کیا کہ تین دن اندر جنگ کے لیے نکل جائیں ؟ اس نے کہا ہے تو ہم بھی دن تک انتظار کریں گے ۔ اگر یہ خواب سچ ہے جیسا کہ وہ کہہ رہی ہے تو ایسا ہی ہوگا اور اگر ایسا نہ ہوا تو ہم یہ لکھ کر رکھیں گے کہ بنی عبدالمطلب عرب میں سب سے جھوٹے لوگ ہیں۔۔۔۔
ابو سفیان شام سے واپس آرہے تھے انکے ساتھ تجارتی قافلہ تھا اونٹوں پر قریش کا مال و اسباب لدا ہوا تھا ۔۔۔ قافلے میں تیس سے چالیس لوگ تھے ۔۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جب اسکی خبر ملی کہ ابوسفیان شام سے مال و اسباب کے کر آریا ہے تو آپ نے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو مخاطب کرکے فرمایا:
یہ قافلہ قریش کا ہے اس میں مختلف قسم کے مال ہیں پس ان کی طرف نکلو شاید اللہ تمہیں اس میں سے کچھ غنیمت دلادے۔۔۔ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین فوراً کھڑے ہوگئے ۔۔ ابو سفیان تک یہ خبر پہنچی تو اسنے حجاز کے قریب پڑاو ڈالا اور وہاں سے آنے والے لوگوں سے دریافت کرنا شروع کیا کہ تمھیں کوئی دشمن تو نظر نہیں آیا ؟ ۔۔
ابو سفیان محتاط ہوگیا اور اس نے ضمضم بن عمرو غفاری کو مال دے کر مکہ روانہ کیا اور کہا کہ قریش سے کہنا کہ اپنے اموال کی مدافعت کے لیے روانہ کرو محمد صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ساتھیوں کے ساتھ ہمیں روکنے کے لیے نکلے ہیں ۔۔۔۔۔۔
عاتکہ کا خواب اور اسکا سچ ثابت ہونا_________
تیسرے دن جب ضمضم بن عمرو غفاری مکہ پہنچا اور اونٹ سوار زور زور سے چیختا چلاتا ہے ۔۔۔
اے معشر قریش ! ابوسفیان کیساتھ جو تمہارا مال و متاع ہے وہ لٹ جائے گا محمد صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اصحاب کے ہمراہ اسے روکنے پر آمادہ ہوئے ہیں میں نہیں سمجھتا کہ تم اسے بچا سکو گے ۔۔۔یہ سن کر ابو جہل نے کہا : محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور اسکے اصحاب یہ سمجھتے ہیں کہ وہ اس قافلے کو آسانی سے لوٹ لیں گے جس طرح انہوں نے حضرمی کی جماعت کو لوٹ لیا تھا ہرگز ایسا نہ ہوگا ان کو معلوم ہوجائے گا کہ کیا ہوتا ہے ۔۔ تمام قریش سوائے ابو لہب کے مقابلے کے لیے نکل کھڑے ہوئے۔۔۔
غزوہِ بدر _________
آپ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ سے نکلے اور عمرو بن ام مکتوم کو لوگوں کو نماز پڑھانے کے لیے عامل بنایا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مصعب بن عمیر بن ہاشم کو سفید جھنڈا عنایت فرمایا ۔ اسکے علاؤہ دو سیاہ جھنڈے ایک سیدنا علی المرتضیٰ کرم اللہ وجہہ الکریم پاس تھا جس کا نام عقاب تھا دوسرا انصار کے پاس تھا روانہ ہوئے ۔۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بدر کے لیے ہوئے تو مختلف مقام سے ہوتے ہوئے گزرے جن میں عقیق، ذی الحلیفہ ، ذات الجیش ، تربان ، ملل پھر مریبین کے مقام پر اسکے بعد مقام غنیس الحمام، صخیرات ، الیمام ، پھر السیالہ پھر فج الروحاء کے مقام 15 رمضان المبارک کو پہنچے یہاں پہنچ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا"
اللہ کے نبی حضرت موسیٰ علیہ السلام ستر ہزار بنی اسرائیل کو لے کر روحاء نامی گھاٹی سے گزرے تھے اور انہوں نے اس وہاں نماز پڑھی وہاں مسجد ہے جو عرق ظبیہ میں اور روحاء مدینہ کی جانب بائیں طرف جاتے ہوئے دو میل کے فاصلے پر ہے۔۔۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نے بھی یہاں نماز پڑھی جہاں ایک کنواں تھا ۔
اسکے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم سفر جاری رکھا ۔ دوسری جانب ابوجھل جہاں پانی دیکھتے اور وہاں پڑاو ڈالتے کھانا کھلاتے اور اونٹ ذبح کرتے ۔۔
عتبہ و شیبہ اپس میں عاتکہ بنت عبد المطلب کے خواب کے بارے میں بات کررہے تھے اسی دوران ابوجھل وہاں آگیا اور کہنے لگا : تم کیا باتیں کررہے ہو ؟ انہوں نے کہا: ہم عاتکہ کے خواب کا تذکرہ کررہے ہیں۔۔۔ ابوجھل نے کہا : اے بنو عبدالمطلب ! تم پر تعجب ہے ، تم اس پر راضی نہ ہوئے کہ تمھارے مرد ہم پر نبی نہیں اور اب تم ہم پر عورتوں کو نبی بنانے لگے ہو ۔ اللہ کی قسم اگر ہم مکہ لوٹے تو ان کے ساتھ ایسے کریں گے اور ضرور کریں گے۔۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم وادی زفران سے ہوتے ہوئےبدر کے قریب پہنچ گئے ۔ اسکے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قریش کے معلومات کے لیے سیدنا علی رضی اللہ عنہ زبیر بن عوام اور سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کو ایک جماعت کیساتھ دشمن کی خبریں معلوم کرنے لیے بدر کے چشمہ پر بھیجا ۔ یہاں انکو قریش کے سقے ملے ۔ انہوں نے انکو پکڑ لیا جو ایک حبشی غلام تھا ۔ صحابہ کو لگا کہ یہ ابوسفیان کا غلام ہے جسے پانی کے لیے بھیجا ہے ۔ انہوں نے اس سے پوچھا ! تم کون ہو؟ اس غلام نے کہا کہ ہم قریش کے بہشتی ہیں انہوں نے ہمیں پانی لینے بھیجا تھا صحابہ نے انکو خوب مارا انہوں نے بارہا کہا کہ ہم ابوسفیان کے ساتھ والے نہیں ۔ صحابہ نے انہیں چھوڑ دیا اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز میں مشغول تھے نماز ختم کرنے کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ سے فرمایا ! جب وہ تم سے سچی بات کہتے ہیں تو تم ان کو مارتے ہو اور جھوٹ بولتے ہیں تو تم چھوڑ دیتے ہو بے شک وہ سچے ہیں بخدا وہ قریش سے تعلق رکھتے ہیں۔۔اس پر وہ غلام ایک دوسرے کو دیکھنے لگے اور حیران ہوئے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے دریافت کیا کہ بتاؤ قریش کہاں ہیں ؟ انہوں نے کہا ریت کے ٹیلے کے عقب میں جو وادی کے اس کنارے نظر آرہا ہے ! اس ٹیلہ کا نام عقنقل تھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا صحیح تعداد بتاؤ ! انہوں نے کہا ہم نہیں جانتے ۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا اونٹوں کے ذبح کرنے سے قریش کی تعداد اندازہ لگانا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کتنے اونٹ روزانہ وہ ذبح کرتے ہیں ؟ انہوں نے کہاایک دن نو اونٹ ایک دن دس ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : قریش کی تعداد نو سو سے ہزار کے درمیان ہے ۔۔
قریش بھی بدر آئے جس جگہ قریش نے پڑاو ڈالا وہ بطن یلیل کے کنواں تھا ۔ جس زمین پر وہ فروکش تھے اس پر اللہ نے بارش برسایا ۔ یہ وادی بہت نرم اور دھنسے والی تھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی قیام گاہ میں صرف اتنی بارش ہوئی کہ مٹی بیٹھ گئی اور زمین سخت ہوگئی جو انکے چلنے میں مزاحم نہ ہوئی اس کے برخلاف قریش کے پڑاو پر اس قدر بارش ہوئی کہ کیچڑ کی وجہ سے وہ رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم کے مقابلہ پر اسی وقت اپنے مقام سے نہ نکل سکے۔ جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قریش سے پہلے پانی پر پہنچ گئے اور قریب تر کنویں کے پاس آ ٹھہر گئے۔۔۔
خباب بن المنذر نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو مشورہ دیا کہ ہمیں کنویں کے قریب پڑاو ڈالنا چاہیے اور باقی کنووں کو مٹی ڈال کر بند کردیں ۔۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس مشورہ کو پسند فرمایا اور باقی کنووں کو بند کردیا ۔۔۔ مقداد بن عمرو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے فرمایا: اے اللہ کے رسول آپ اللہ کے حکم کو پورا کیجئے ہم آپ کے ساتھ ہیں ۔ اللہ کی قسم ! ہم آپ کو ویسے نہیں کہیں گے جیسے بنی اسرائیل نے اپنے نبی موسٰی علیہ السلام سے کہا تھا: تم اور تمہارا رب جاؤ اور لڑو ہم تو یہاں بیٹھے ہیں۔ بلکہ ہم یہ کہیں گے: آپ اور آپ کا پروردگار لڑیے ہم آپ کے ساتھ مل کر لڑیں گے ۔ اور اگر آپ ہمیں برک غماد تک لے جائیں تب بھی ہم آپ کے ساتھ جانے کو تیار ہیں۔۔۔
میدان جنگ میں لشکر اسلام کی آمد ۔۔۔۔
قریش مکہ کی طرف سے تین بہترین شہسوار نکلے جو سب کے سب ایک ہی خاندان کے تھے۔ ایک عتبہ اور دوسرا شیبہ جو دونوں ربیعہ کے بیٹے تھے اور تیسرا عتبہ کا بیٹا تھا۔ انہوں نے صف سے الگ ہوتے ہی دعوت مبارزت دی مقابلے کے لیے انصار کے تین جوان نکلے ۔ ایک عوف ، دوسرے معوذ اور تیسرے عبداللہ بن رواحہ ۔ قریشیوں نے کہا ' تم لوگ کون ہو؟
انہوں نے نے کہا انصار کی جماعت ہیں ۔ قریشیوں نے کہا " آپ شریف مد مقابل ہیں لیکن ہمیں آپ سے کوئی سروکار نہیں ہم تو اپنے چچیرے بھائیوں کو چاہتے ہیں۔ اسکے بعد قریش نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مطالبہ کیا کہ ہمارے مقابلے میں ہماری قوم کےہمسروں کو بھیجو ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا " عبیدہ بن حارث ؛ اٹھو ۔ حمزہ اٹھیے ! علی! اٹھو جب یہ قریشیوں کے قریب پہنچے تو انہوں نے پوچھا آپ کون لوگ ہیں؟ انہوں نے اپنا تعارف کروایا۔ قریشیوں سے مقابلہ ہوا ۔ عبیدہ بن حارث معمر شخص تھے انہوں عتبہ بن ربیعہ سے مقابلہ کیا۔ حضرت حمزہ رض نے شیبہ سے اور حضرت علی رض نے ولید سے حضرت حمزہ اور حضرت علی نے پلک جھپکتے ہی اپنے اپنے مقابل کو تہہ تیغ کر ڈالا۔ لیکن عبیدہ بن حارث کی ٹانگ پر عتبہ نے وار کیا اور وہ زخمی ہوگئے جلدی سے حضرت حمزہ اور علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ نے بڑھ کر عتبہ کا کام تمام کردیا۔ پانچ دن بعد عبیدہ بن حارث شہید ہوگئے ۔۔
قریش مکہ کے تین عظیم شہسوار میدان جنگ میں ہلاک ہوگئے تو انہوں نے حملہ کردیا دوسری طرف آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کی صفیں درست کیں اور دعا کرنے لگے ۔۔
اے اللہ ! تو نے مجھ سے وعدہ کیا ہے اسے پورا فرما دے ۔ اے اللہ! میں تجھ سے تیرے وعدے کا سوال کرتا ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔
فرشتوں کا نزول ۔۔۔۔۔۔۔
اسکے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک جھپکی آئی ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سر مبارک اٹھایا اور فرمایا! " ابوبکر خوش ہوجاو یہ جبریل ہیں جو گھوڑے کی لگام تھامے اور اسکے آگے چلتے ہوئے آرہے ہیں اور گرد و غبار میں اٹے ہوئے ہیں۔ ۔۔ اسکے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم چھپر سے باہر آئے جسے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے آپ کے لیے بنایا تھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم برجوش طور پر آگے بڑھ رہے ریے تھے اور فرما رہے تھے ۔ ۔۔۔۔۔۔۔
" عنقریب یہ جھتہ شکست کھا جائے گا اور پیٹھ پھیر کر بھاگے گا۔۔۔
اسکے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مٹھی کنکریلی مٹی کی اور قریش کی طرف رخ کرکے فرمایا" چہرے بگڑ جائیں۔
مسلمانوں کا حملہ ۔۔۔۔
اسکے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حملہ کرنے کا حکم دیا کہ چڑھ دوڑو۔ اس ذات کی قسم جس کے قبضے میں میری جان ہے ان سے جو آدمی بھی ڈٹ کر ، ثواب سمجھ آگے بڑھ کر اور پیچھے نہ ہٹ کر لڑے گا اور مارا جائے گا اللہ اسے جنت میں داخل کرے گا۔"
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قتال پر ابھارتے ہوئے فرمایا' اس جنت کی طرف اٹھو جس کی پہنائیاں آسمانوں اور زمین کے برابر ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ بات سن کر عمیر بن حمام نے کہا' بہت خؤب بہت خوب ۔۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا' تم بہت خوب ٫ بہت خوب کیوں کہہ رہے غ؟ انہوں نے کہا: نہیں خدا کی قسم اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم"کوئی بات نہیں سوائے اس کے کہ مجھے توقع ہے کہ میں بھی اسی جنت والوں میں سے ہوں گا۔۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم اسی جنت والوں میں سے ہو۔ چنانچہ وہ کجھوریں کھاتے ہوئے میدان میں اترے اور کجھوریں جو باقی تھی پھینک دی اور کہا اتنی دیر تک کجھوریں کھاتا تہوں گا تو زندگی لمبی ہوجائے گی لہذا وہ کفار پر ٹوٹ پڑا اور لڑتے لڑتے شہید ہوگئے۔۔ گھمسان کا رن پڑا اور دیکھتے ہی دیکھتے کفار مکہ کو شکست ہوئی ان کچھ ایسے تھے کہ لڑتے لڑتے کفار کے سر خود بخود کے کر گر جاتے یہ پتا نہیں چلتا کہ انہیں کس مارا ۔ ایک مسلمان ایک مشرک کا تعاقب کررہا تھا اچانک اسے کسی نے کوڑے سے مارا چوں کہ کوڑے کی آواز اس نے صاف سنی اور ایک شہسوار کو کہتے سنا جو کوڑے مار رہا تھا "خیروم یعنی آگے بڑھ ۔۔ اس انصاری مسلمان نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ سارا ماجرا سنایا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا" تم سچ کہتے ہو یہ تیسرے آسمان کی مدد تھی ۔ حضرت عباس کیساتھ بھی یہی ماجرا پیش آیا کہ اسے کسی خوبصورت جوان نے پکڑ کر انکے ہاتھ باندھے ایک انصاری نے انہیں دیکھا اور انہیں ساتھ لائے تو حضرت عباس نے کہا" واللہ مجھے تو ایک بے بال کے خوبصورت جوان گرفتار کیا ۔۔۔ مشرکین شکست کھا کر بھاگ گئے مسلمانوں نے انکا ایک حد تک پیچھا کیا اور جو جو ہاتھ آتا اسے کاٹ ڈالتے۔۔۔۔
ابو جھل کا غرور اور قتل ۔۔۔۔۔۔۔۔
حضرت عبدالرحمن بن عوف بیان کرتے ہیں کہ بدر کے روز صف کے اندر تھا اچانک مڑا تو دیکھتا ہوں کہ میرے دائیں بائیں دو نوعمر جوان ہیں ۔ گویا انکی موجودگی سے میں حیران ہوگیا۔ کہ اتنے میں ایک نے اپنے ساتھ سے چھپ کر کہا " مجھ سے کہا: چچا جان ! مجھے ابوجھل دکھادیجئے ۔' میں نے کہا بھتیجے تم اسے کیا کروگے ؟ اس نے کہا وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو گالیاں دیتا ہے۔ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! اگر میں نے اسکو دیکھ لیا تو میرا وجود اسکے وجود سے الگ نہیں ہوگا یہاں تک کہ کہ ہم میں جس کی موت لکھی ہے وہ مرے گا۔۔ وہ کہتے ہیں مجھے تعجب ہوا اتنے میں دوسرے نوعمر نے مجھے اشارے سے متوجہ کرکے یہی بات کہی ۔ پھر میں نے ابوجھل کو دیکھا کہ لوگوں کے درمیان چکر کاٹ رہا ہے۔ میں نے ان سے کہا" ارے وہ رہا تمھارا شکار جسکے بارےمیں تم پوچھ ریے تھے۔یہ سنتے ہی دونوں نے تلواریں لیے ابو جہل پر حملہ کردیا ابوجھل نیچھے گرا تو عکرمہ بن ابی جہل نے معاذ بن عمرو بن جموح کے بازو پر تلوار سے وار کیا جس سے وہ زخمی ہوگیا البتہ ابوجھل کو شدید زخمی کر دیا۔ دونوں کے نام معاذ بن عمرو جموح اور معوذ بن عفراء ہیں ۔۔ معرکہ ختم ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوجھل کے بارے میں پوچھا۔ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اسکی تلاش میں بکھر گئے۔ عبداللہ بن مسعود نے ابو جہل کو تلاش کیا اسوقت اسکی سانسیں چل رہی تھی
حضرت عبداللہ بن مسعود نے اسکا سردھڑ سے علیحدہ کردیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت اقدس پیش اور کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ رہا اللہ کے دشمن کا سر ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین بار فرمایا واقعی . اس خدا کی قسم جس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ اسکے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا" الله اکبر تمام حمد و ثناء اللہ کے لیے جس نے اپنا وعدہ سچ کر دکھایا ' اپنے بندے کی مدد فرمائی اور تنہا اس سارے گروہ کو شکست دی ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسکی لاشکو دیکھ کر فرمایا : یہ اس امت کا فرعون ہے۔۔

جنگ بدر میں مسلمانوں کی تعد تین سو تیرہ تھی اور کفار ان سے تین گنا زیادہ تھے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب نے آپ پر جان نچھاور کی موسی علیہ السلام کو جس طرح بنی اسرائیل نے تنہا چھوڑا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک لمحے کے لیے تنہا نہیں چھوڑا ۔۔۔ بلکہ شہادت کےجذبے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت میں لڑتے جاتے ۔۔۔
رفیق مینگل۔۔

Address

Thatha Sindh
Sakrand
RIAZABBAS786

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when P T I Lover Imran Khan posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share

Category