10/06/2026
آج میں اپنے کنسٹرکشن سائٹ پر گیا۔ مجھے توقع تھی کہ مزدور اپنے کام میں مصروف ہوں گے، مستری دیواریں اٹھا رہے ہوں گے، مشینیں چل رہی ہوں گی اور ہر طرف تعمیر کی آوازیں گونج رہی ہوں گی، لیکن وہاں عجیب خاموشی تھی۔ پورا میدان سنسان پڑا تھا، جیسے کسی نے اچانک زندگی کا بٹن بند کر دیا ہو۔
میں نے پوچھا، “لوگ کہاں ہیں؟”
جواب ملا، “عید کی چھٹیاں ابھی تک چل رہی ہیں۔” حلانکہ آج عید کا گیاروا دن ہے!
یہ جواب سن کر میں حیران رہ گیا۔ پردیس میں کام کرنے والے پاکستانیوں کو دیکھیے، وہ دو دن عید مناتے ہیں، تیسرے دن دوبارہ اپنے روزگار پر حاضر ہو جاتے ہیں کیونکہ انہیں معلوم ہوتا ہے کہ چھٹی جیب نہیں بھرتی، محنت بھرتی ہے۔ لیکن پاکستان میں ہمیں ایک عجیب عادت لگ چکی ہے۔ ہم کام سے زیادہ چھٹیوں کا انتظار کرتے ہیں۔
ہم ایک طرف بے روزگاری کا رونا روتے ہیں، نوجوانوں کے مستقبل پر بحث کرتے ہیں، حکومتوں کو ذمہ دار ٹھہراتے ہیں، لیکن کیا ہم نے کبھی اپنے رویوں کا جائزہ لیا؟ کیا صرف حکومتیں قصوروار ہیں یا ہم خود بھی اس صورتحال میں شریک ہیں؟
حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کا ہر نوجوان سست نہیں۔ لاکھوں نوجوان دن رات محنت کر رہے ہیں، کئی دو دو نوکریاں کر رہے ہیں اور ہزاروں نوجوان بیرون ملک سخت ترین حالات میں رزق کما رہے ہیں۔ لیکن مجموعی طور پر ہمارے معاشرے میں محنت کے بجائے آسانی اور آرام کو ترجیح دینے کا رجحان بڑھتا جا رہا ہے۔
دنیا کی کامیاب قوموں نے ایک اصول اپنا لیا ہے۔ وہ خوشیاں بھی مناتی ہیں لیکن کام کو کبھی نہیں بھولتیں۔ جاپان، چین، جنوبی کوریا اور خلیجی ممالک کی ترقی کا راز یہی ہے کہ وہاں وقت کی قیمت سمجھی جاتی ہے۔
قومیں وسائل سے نہیں، رویوں سے بنتی ہیں۔ اگر ہم واقعی بے روزگاری کا خاتمہ چاہتے ہیں تو ہمیں نوجوانوں میں محنت، نظم و ضبط اور وقت کی پابندی کا جذبہ پیدا کرنا ہوگا۔ کیونکہ تاریخ گواہ ہے، قسمت ہمیشہ ان لوگوں کا ساتھ دیتی ہے جو آرام کے بجائے جدوجہد کو اپنا شعار بنا لیتے ہیں۔