10/05/2024
کیا اجنبیوں کے ساتھ رہائش اختیار کرنا زندگی کو خوشیوں سے بھر سکتا ہے؟
اجنبیوں کے ساتھ رہائش؟ ہمیشہ مصروف ٹوائلٹ، باورچی خانے میں گندے برتن اور آپ کے اطرف میں بجتا ہوا تیز میوزک وہ بھی تب جب آپ سونے کی کوشش کر رہے ہوں؟
ہو سکتا ہے کہ ایسا نہ بھی ہوتا ہو۔ دُنیا بھر میں رہائش مہنگی ہو گئی ہے اور عالمی ادارہ صحت نے تنہائی کو صحت کے لیے خطرہ قرار دے دیا ہے، ایسے میں ہم دماغ اجنبیوں کا ایک ساتھ رہائش اختیار کرنے کا کلچر بڑھتا ہوا نظر آ رہا ہے۔
شاید اجنبیوں کے ساتھ رہائش اختیار کرنے کا تجربہ بُرا نہ ہو بلکہ اچھا ہو لیکن یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا معاشرہ یہ تجربہ کرنے کو تیار ہے؟
30 سالہ روزی کیلٹ لندن میں مقیم ایک فوڈ رائٹر ہیں۔ وہ 2020 میں اپنے بوائے فرینڈ سے قطع تعلق کرنے کے بعد رہائش کے لیے ایک نئی جگہ کی تلاش میں تھیں اور تب ہی انھوں نے سوشل میڈیا پر ایک پُرانی صنعتی عمارت کا اشتہار دیکھا جس میں رہائش کی گُنجائش باقی تھی۔
روزی کے مطابق مشرق لندن کے علاقے ہیکنی وِک میں تقریباً 100 ایسے گودام ہیں جہاں لوگوں نے رہائش اختیار کر ر کھی ہے لیکن جس پُرانی صنعتی عمارت میں وہ رہتی ہیں وہ باقی مقامات سے تھوڑی مختلف ہے۔
روزی وہاں چھ افراد کے ساتھ رہتی ہیں جن کی عمریں 20 یا 30 کے پیٹے میں ہیں۔ ہر ہفتے یہ تمام افراد ایک مشترکہ بینک اکاؤنٹ میں 25 پاؤنڈز جمع کرواتے ہیں تاکہ کھانے پینے، کچرے دانوں اور صفائی سُتھرائی کے لیے استعمال ہونے والی اشیا خریدی جا سکیں۔
ہر رات ان کے گروپ کا کوئی ایک فرد سب کے لیے کھانا بناتا ہے۔ ان لوگوں نے ایک مشترکہ چیٹ گروپ بھی بنا رکھا ہے جہاں وہ ایک دوسرے کو بتاتے ہیں کہ وہ باہر سے کھانے کو کیا لا رہے ہیں یا کہیں ان کے ساتھ کوئی مہمان تو نہیں آ رہا۔
روزی کہتی ہیں کہ وہ صنعتی عمارت کو ایک گھر کی طرح رکھتے ہیں اور واٹس ایپ گروپ میں ایک دوسرے سے بات چیت کر کے حتمی فیصلہ کرتے ہیں کہ کون شخص کون سا کام کرے گا۔
وہ کہتی ہیں اس طرزِ رہائش کی ایک بات یہ اچھی ہے کہ ہر وقت کوئی نہ کوئی آپ کے اطراف موجود رہتا ہے۔
روزی کہتی ہیں کہ ’میں نے کبھی بھی ایسا محسوس نہیں کیا تھا، جیسا اب ہوتا ہے حالانکہ میں ماضی میں بھی لوگوں کے ساتھ رہتی رہی ہوں۔‘
وہ کہتی ہیں کہ لندن میں رہائش کا مسئلہ بحرانی شکل اختیار کر گیا ہے اور وہاں گھر ڈھونڈنا انتہائی مشکل ہو گیا ہے۔
’میرے خیال میں یہاں ایک اچھی زندگی گزارنا مزید مشکل ہو گیا ہے۔‘
لیکن اجنبیوں کے ساتھ ایک مشترکہ مقام میں رہنے کے کچھ نقصانات بھی ہیں۔ روزی کہتی ہیں کہ یہاں رہائش کے دوران انھیں اپنے لیے وقت نکالنا مشکل لگتا ہے۔
’میرے لیے ایک میز پر سے اتنے سارے افراد کے درمیان سے اٹھنا اکثر مشکل ہو جاتا ہے۔‘
یہ ایسا ہے کہ اگر آپ ایک پارٹی سے اُٹھ کر چلے بھی جاتے ہیں تب بھی آپ کو وہاں ہونے والا شور شرابہ ضرور سُنائی دے گا۔
یہاں دو ٹوائلٹ موجود ہیں جنھیں تمام لوگ مشترکہ طور پر استعمال کر کے گزارہ کرتے ہیں لیکن اب ان افراد کا کہنا ہے کہ کپڑے دھونے کے لیے ان کے پاس صرف ایک واشنگ مشین جو ان کی ضرورت کے لیے ناکافی ہے۔
ایسی رہائش گاہوں پر لوگ اکثر چند برس گزارتے ہیں لیکن ایسی مشترکہ رہائش گاہیں بھی ہیں جہاں لوگ مستقل طور پر رہائش کی منصوبہ بندی کرتے ہیں۔
سریل زیئرنگ امریکی ریاست ونسکونسن میں ایک ایسی ہی رہائشگاہ میں اپنے شوہر اور تین سالہ بیٹی کے ساتھ رہتی ہیں۔
مجھے معلوم تھا کہ مشترکہ رہائش کا نظام کیا ہوتا ہے اور مجھے اس سے کوئی مسئلہ بھی نہیں تھا۔ میں نے سوچا کہ ہم ساتھ رہیں گے تو یہ جگہ مجھے سمجھ آ ہی جائے گی اور ہوا بھی ایسا ہی۔‘
’اربکو ہاؤسنگ سٹیٹ‘ میں اپارٹمنٹس کی دو عمارتیں اور کچھ گھر بنے ہوئے ہیں۔ ہر گھر میں بیڈروم، باتھ روم اور کچن موجود ہے۔ یہاں تقریباً 100 افراد رہائش پزیر ہیں، جن میں بچوں سے لے کر غیر شادی شدہ بزرگ تک شامل ہیں۔
سریل کہتی ہیں کہ ’تکنیکی طور پر یہ ایک ایسی جگہ ہے جو کہ تمام لوگوں کی مشترکہ ملکیت ہے اور قانونی طور پر بھی اس کی یہی حیثیت ہے۔‘
یہاں کے رہائشی ہر ہفتے ایک دوسرے کی دعوتیں کرتے ہیں اور یہاں ماہانہ موسیقی کے پروگرام اور پارٹیوں کا انعقاد کیا جاتا ہے۔
سریل کہتی ہیں کہ ’میں فُل ٹائم نوکری کرتی ہوں لیکن یہاں ایسے بھی لوگ ہیں جو ریٹائرڈ ہیں۔ یہاں یقینی طور پر بہت سی سرگرمیاں روزانہ کی بُنیاد پر بھی جاری رہتی ہیں لیکن میں مصروفیت کی وجہ سے ان میں حصہ نہیں لے پاتی۔‘