AHM

AHM Awakening the Potential of Young Hearts and Minds: Join AHM on a Mission to Educate, Inspire, and Spark a Revolution in every Young Dreamer."

ALKHIDMAT is Largest NGO. From Raising Orphans to provide affordable Health-Care & Relief in crisis, we work in all domains of social welfare.

25/07/2026

روانہ پٹرول کی بڑھتی قیمتوں پر خاموش رہنی والی قوم انڈین نوجوان کو دیکھ کر خوش ہو رہی

25/07/2026
14/07/2026

فرقہ پرستوں سے بچنے کا ایک اسان حل
مولانا مودودی رحمت اللہ علیہ کے کتابوں کا مطالعہ کیجئے

11/07/2026

اگر کل لوگ جماعت اسلامی کے ساتھ نکلتی احتجاج میں تو پٹرول مہنگا نہیں ہوتاکل پورے پاکستان میں صرف جماعت کے ارکان نے احتجاج کیا

11/07/2026

صحابۂ کرامؓ کو برا بھلا کہنے والا میرے نزدیک صرف فاسق ہی نہیں ہے،بلکہ اس کا ایمان بھی مشتبہ ہے۔
مولانا مودودی رح

10/07/2026

سید مودودی رحمہ اللہ نے نوجوانوں کو دیوبندی، بریلوی، اہلحدیث اور شیعہ کی تفرقاتی سوچ سے آزاد کر کے امت واحدہ کا تصور زندہ کیا

02/07/2026

اس منافقانہ طرز سیاست کے ماحول میں کس کس کو جماعت اسلامی سے تعلق پر فخر ہو رہا ہے ؟
میں تو خود کو اپنے قد سے بھی کچھ بلند محسوس کر تا ہوں۔ الحمدللہ

23/06/2026

ملکی سیاست میں اسٹیبلشمنٹ جہاں کھڑی ہو اس کی الٹ سمت میں دیکھیں آپ کوحق نظر آجائےگا۔جیسے جماعت اسلامی ان کی انتہائی ناپسندیدہ ہےوہی حق پرہے

21/06/2026

جو دین دنیا پر حکومت کرنے کیلئے آیا تھا اسے فضائل کا دین بنا دیا.
سید ابوالاعلی مودودیؒ

مولانا مودودیؒ — ایک غیر معمولی انسانبعض شخصیات اپنے دور تک محدود نہیں ہوتیں، وہ آنے والے زمانوں کی آہٹ بھی سن لیتی ہیں۔...
21/06/2026

مولانا مودودیؒ — ایک غیر معمولی انسان

بعض شخصیات اپنے دور تک محدود نہیں ہوتیں، وہ آنے والے زمانوں کی آہٹ بھی سن لیتی ہیں۔ مولانا ابوالاعلیٰ مودودیؒ بھی ایسی ہی شخصیات میں شمار ہوتے ہیں۔ مشرقی پاکستان 1971ء میں الگ ہوا، مگر مولانا نے اس سے دو سال پہلے ہی خبردار کر دیا تھا کہ اگر حالات اسی سمت میں چلتے رہے تو ملک کو اس سانحے سے بچانا ممکن نہیں ہوگا۔

عام طور پر انسان کی شخصیت اس کے ماحول کی پیداوار ہوتی ہے۔ لوگ اپنے گرد و پیش سے متاثر ہوکر سوچتے اور ویسے ہی ڈھل جاتے ہیں۔ لیکن تاریخ کے بڑے لوگ صرف ماحول سے اثر نہیں لیتے، بلکہ اپنے باطن کی روشنی سے راستہ بناتے ہیں۔ مولانا مودودیؒ بھی انہی لوگوں میں سے تھے۔

وہ ایک مذہبی گھرانے میں پیدا ہوئے، مگر ان کی دینداری صرف وراثت نہیں تھی۔ انہوں نے اسلام کو خود سمجھا، اس پر غور کیا اور اسے اپنی زندگی کا شعوری انتخاب بنایا۔ اسی لیے دین سے ان کا تعلق رسمی نہیں بلکہ گہرا اور زندہ تعلق تھا۔

صحافت سے عملی زندگی کا آغاز کیا اور کم عمری ہی میں اپنی علمی صلاحیت اور غیر معمولی تحریر کے باعث ممتاز ہوگئے۔ ان کے بارے میں ایک دلچسپ واقعہ مشہور ہے کہ جب انہیں ایک اخبار کی ادارت کے لیے پیش کیا گیا تو کسی نے اعتراض کیا کہ ان کے چہرے پر داڑھی نہیں۔ جواب میں کہا گیا کہ "چہرے پر نہیں تو کیا ہوا، ان کے اندر داڑھی موجود ہے۔" یہ دراصل اس بات کا اعتراف تھا کہ ان کی سنجیدگی، علم اور دین فہمی ظاہری علامات سے کہیں آگے کی چیز تھی۔

مولانا کی پوری جدوجہد کا مرکز ایک ہی مقصد تھا: زندگی کے ہر شعبے میں اللہ کی حاکمیت کا قیام۔ ان کے نزدیک دین صرف عبادات کا نام نہیں تھا بلکہ انفرادی، اجتماعی اور سیاسی زندگی کا مکمل نظام تھا۔ یہی تصور ان کی فکر، تحریر اور جدوجہد کا محور رہا۔

ان کی زندگی کا ایک نمایاں وصف بے خوفی تھا۔ مخالفتیں ہوئیں، مقدمات بنے، قید و بند کی صعوبتیں آئیں، یہاں تک کہ سزائے موت بھی سنائی گئی، مگر وہ اپنے مؤقف سے پیچھے نہ ہٹے۔ جب لاہور کے ایک اجتماع میں ان کی تقریر کے دوران فائرنگ ہوئی اور کسی نے کہا کہ "مولانا بیٹھ جائیں"، تو انہوں نے جواب دیا: "میں بیٹھ گیا تو پھر کھڑا کون رہے گا؟"

ختمِ نبوت تحریک کے دوران جب انہیں سزائے موت سنائی گئی تو معافی نامے پر دستخط کرنے کی پیشکش بھی ہوئی، لیکن انہوں نے صاف انکار کردیا۔ ان کے نزدیک حق پر قائم رہنا زندگی سے زیادہ اہم تھا۔

مولانا کی علمی زندگی بھی حیران کن تھی۔ درجنوں کتابیں، ہزاروں خطبات اور بے شمار مضامین اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ وہ مسلسل فکری محاذ پر سرگرم رہے۔ ان کی ہر تحریر کسی نہ کسی فکری چیلنج کا جواب تھی اور ہر تقریر ایک نئی جدوجہد کا حصہ۔

اختلاف رائے کے معاملے میں بھی ان کا ظرف قابلِ رشک تھا۔ ان پر سخت تنقید کی گئی، الزامات لگائے گئے، مگر انہوں نے ش*ذ و نادر ہی ذاتی جواب دیا۔ علمی اعتراضات کا علمی جواب دیتے اور شخصی حملوں کو نظر انداز کر دیتے۔ جماعت کی شوریٰ میں بھی وہ اکثر سب کے بعد گفتگو کرتے تاکہ دوسرے لوگ ان کی رائے کے دباؤ کے بغیر آزادانہ اظہار کرسکیں۔

ان کی عاجزی بھی غیر معمولی تھی۔ جماعت اسلامی کے بانی ہونے کے باوجود انہوں نے خود امارت چھوڑ دی تاکہ جماعت کو شخصیات کے بجائے اصولوں پر قائم تنظیم کے طور پر دیکھا جائے۔ بعد میں جب بعض فیصلوں سے اختلاف ہوا تو بھی اجتماعی نظم کے احترام میں اپنی ذاتی رائے کو پس منظر میں رکھا۔

مولانا کی دور اندیشی بھی قابلِ ذکر تھی۔ وہ محض موجودہ حالات نہیں دیکھتے تھے بلکہ ان کے نتائج کا اندازہ بھی لگا لیتے تھے۔ مشرقی پاکستان کے مسئلے سے لے کر سوشلزم اور سرمایہ دارانہ نظام کے مستقبل تک، کئی معاملات میں ان کے تجزیے وقت کے ساتھ درست ثابت ہوئے۔

اس سب کے باوجود ان کے اندر وسعتِ نظر موجود تھی۔ وہ اپنے نظریات پر مضبوطی سے قائم رہتے تھے، لیکن قومی مفاد کے لیے مختلف الخیال لوگوں کے ساتھ تعاون بھی کر لیتے تھے۔ جنرل ایوب کے خلاف فاطمہ جناح کی حمایت ہو یا مختلف سیاسی قوتوں کے ساتھ اشتراکِ عمل، انہوں نے ہمیشہ اصول اور مصلحت کے درمیان توازن قائم رکھنے کی کوشش کی۔

مولانا مودودیؒ صرف ایک عالم یا مفکر نہیں تھے۔ وہ ایک تحریک، ایک فکر اور ایک مسلسل جدوجہد کا نام تھے۔ ان کی زندگی ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ علم، کردار، جرأت اور اخلاص جب ایک شخصیت میں جمع ہوجائیں تو وہ انسان اپنے دور سے آگے نکل جاتا ہے اور آنے والی نسلوں کے لیے بھی رہنمائی کا ذریعہ بن جاتا ہے۔
~Ahm

Address

Mardan Road Swabi
Swabi
23430

Telephone

+923482207347

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when AHM posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to AHM:

Shortcuts

Share