Mian Shahid Islam

  • Home
  • Mian Shahid Islam

Mian Shahid Islam Value Marketing

07/11/2025

*پرانا خواب شرمندہ تعبیر، پنجاب میں قبضہ مافیا ختم*

پنجاب میں برسوں سے عوام کی زندگیوں پر مسلط قبضہ مافیا کے خلاف آخرکار فیصلہ کن قدم اٹھا لیا گیا ہے۔ وہ لوگ جو اپنی زمینوں، جائیدادوں اور محنت کی کمائی پر ناجائز قبضوں سے تنگ آ چکے تھے، اب سکون کا سانس لے سکتے ہیں۔
پنجاب حکومت نے ’’پنجاب پروٹیکشن آف اونرشپ آف امویبل پراپرٹی آرڈیننس 2025ء‘‘ کی منظوری دے کر ایک تاریخی سنگ میل عبور کیا ہے۔ یہ وہ فیصلہ ہے جس نے برسوں سے زمین کے مقدمات میں پھنسے عام شہریوں کو امید کی ایک نئی کرن دکھائی ہے۔ اب زمین کے تنازعات عدالتوں کے طویل چکروں کے بجائے ڈسپیوٹ ریزولیشن کمیٹی کے ذریعے حل ہوں گے، اور سب سے بڑی بات یہ کہ ہر کیس کا فیصلہ 90 دن کے اندر کیا جائے گا۔
یہ وہ نظام ہے جو انصاف کو وقت کے ساتھ باندھتا ہے۔ شہریوں کو برسوں انتظار نہیں کرنا پڑے گا، اور جس کا حق ہوگا، وہ حق دار خود زمین کا مالک بنے گا۔
پنجاب کے تمام اضلاع میں ڈپٹی کمشنر کی سربراہی میں چھ رکنی کمیٹیاں تشکیل دی جا رہی ہیں۔ ان میں ڈی پی او اور دیگر افسران بھی شامل ہوں گے تاکہ انتظامی، قانونی اور عملی اقدامات ایک ساتھ کیے جا سکیں۔ کمیٹی کا فیصلہ ہونے کے بعد صرف 24 گھنٹوں کے اندر زمین قبضہ مافیا سے واگزار کرائی جائے گی۔ یہ وہ رفتار ہے جو ماضی کے نظام میں ناممکن لگتی تھی۔
پہلی بار ایسا ہوگا کہ زمین کا مالک اپنی زمین کے تحفظ کے لیے در بدر کی ٹھوکریں کھانے کے بجائے حکومت کو اپنے ساتھ پائے گا۔ پنجاب میں اب کوئی کسی کی زمین نہیں چھین سکے گا۔
قبضہ مافیا کے خلاف کارروائی کو مزید مؤثر بنانے کے لیے حکومت نے پیرا فورس کی خدمات حاصل کرنے پر بھی غور کیا ہے۔ اس کے ساتھ زمینوں کا ڈیجیٹل ریکارڈ تیار کیا جا رہا ہے تاکہ کسی بھی قسم کے جعلسازی یا دوہری ملکیت کے امکانات ختم کیے جا سکیں۔ شفافیت کے لیے زمینوں سے متعلق کارروائیوں کی سوشل میڈیا پر لائیو اسٹریمنگ کی تجویز بھی دی گئی ہے، جو ایک غیر معمولی قدم ہے۔
یہ تمام اقدامات نہ صرف عوامی اعتماد کو بحال کریں گے بلکہ سرمایہ کاروں کو بھی پنجاب میں زمین اور تعمیراتی منصوبوں میں سرمایہ کاری کے لیے محفوظ ماحول فراہم کریں گے۔
قبضہ مافیا کے خلاف اس جنگ میں سب سے اہم بات یہ ہے کہ اگر کسی فریق کو کمیٹی کے فیصلے پر اعتراض ہو، تو وہ ہائی کورٹ کے ریٹائرڈ جج کی سربراہی میں قائم خصوصی ٹربیونل میں اپیل کر سکتا ہے۔ اور یہ ٹربیونل بھی 90 دن کے اندر فیصلہ سنانے کا پابند ہوگا۔ اس طرح انصاف میں تاخیر کا دروازہ ہمیشہ کے لیے بند کر دیا گیا ہے۔
ہمارے معاشرے میں ایک عام آدمی کے لیے زمین صرف ایک ٹکڑا نہیں ہوتی، بلکہ اس کی عزت، اس کا مستقبل، اس کی اولاد کی ضمانت ہوتی ہے۔ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے بالکل درست کہا کہ ’’عام آدمی کے لیے اس کی چھوٹی سی جائیداد ہی اس کی پوری دنیا ہوتی ہے۔‘‘پہلے جب یہ دنیا کسی قبضہ گروپ کے ہاتھوں چھن جاتی تھی تو اس کے پاس کوئی دروازہ نہیں رہتا تھا جہاں وہ انصاف مانگنے جا سکے۔ اب حکومت نے نہ صرف انصاف کا دروازہ کھولا ہے بلکہ اس کے سامنے ایک نیا نظام رکھ دیا ہے جو طاقتور اور کمزور میں فرق نہیں دیکھتا۔
پنجاب حکومت کا یہ اقدام صرف قبضہ مافیا کے خلاف کارروائی نہیں بلکہ معاشرتی عدل کی بحالی کی ایک کوشش ہے۔ برسوں سے پھیلی مایوسی کو امید میں بدلنے والا یہ فیصلہ عوام کے دلوں میں اعتماد کی نئی روشنی پیدا کرے گا۔ پنجاب اگر اس نظام کو کامیابی سے چلا لیتا ہے تو یہ ماڈل پورے پاکستان کے لیے ایک مثال بن سکتا ہے۔
قبضہ مافیا کا خاتمہ محض ایک قانونی عمل نہیں بلکہ سماجی انصاف کی بنیاد ہے۔ یہ اقدام اس بات کا اعلان ہے کہ اب ریاست واقعی ماں بن گئی ہے جو اپنے ہر شہری کے ساتھ کھڑی ہے۔اگر حکومت اس نظام کو شفاف، غیر سیاسی اور مضبوط بنائے رکھے تو آنے والا وقت وہ ہوگا جب کوئی شہری زمین خریدتے ہوئے یہ سوچے گا نہیں کہ "قبضہ ہو جائے گا" بلکہ فخر سے کہے گا کہ "یہ زمین میری ہے، اور اس پر میرا حق محفوظ ہے۔



























*دھواں ہونے والے غیر قانونی 400 ارب تعلیم و صحت پر لگائیں*پاکستان جیسے ملک میں جہاں ترقی کے خواب اکثر وسائل کی کمی سے رُ...
16/10/2025

*دھواں ہونے والے غیر قانونی 400 ارب تعلیم و صحت پر لگائیں*

پاکستان جیسے ملک میں جہاں ترقی کے خواب اکثر وسائل کی کمی سے رُک جاتے ہیں، وہاں غیر قانونی سگریٹس کی تجارت ایک بڑا خطرہ بن چکی ہے۔ یہ کاروبار نہ صرف قومی خزانے کو نقصان پہنچا رہا ہے بلکہ معیشت کی بنیادوں کو بھی کمزور کر رہا ہے۔ جب قانونی تمباکو کمپنیاں ہر سال تقریباً 270 ارب روپے ٹیکس کی صورت میں ملک کی مدد کرتی ہیں، تو دوسری طرف غیر قانونی سگریٹس کی بلیک مارکیٹ سے ملک کو 400 ارب روپے سے زیادہ کا نقصان ہو رہا ہے۔ یہ اتنی بڑی رقم ہے جس سے اسکول بنائے جا سکتے ہیں، اسپتال بہتر کیے جا سکتے ہیں، اور ترقیاتی منصوبے تیزی سے مکمل کیے جا سکتے ہیں۔ مگر افسوس! یہ سب دولت غیر قانونی تجارت کے دھوئیں میں اڑ جاتی ہے۔
غیر قانونی سگریٹس کی بڑھتی ہوئی فروخت اور اس سے جڑی ٹیکس چوری سرمایہ کاروں کے لیے ایک واضح پیغام ہے کہ قوانین کو آسانی سے نظر انداز کیا جا سکتا ہے۔ یہ صورت حال قانونی تجارت کرنے والوں کے معیشت پر اعتماد کو متزلزل کر دیتی ہے، اور نتیجتاً سرمایہ کاری کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی ہو جاتی ہیں۔ ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کو خاص طور پر تمباکو سیکٹر میں ٹیکس چوری پر قابو پانے کے لیے متعارف کرایا گیا تھا، مگر اس کی کمزور نفاذ کی وجہ سے مارکیٹوں میں غیر قانونی سگریٹس کی بھرمار ہے۔ اس کے تدارک کے لیے تقسیم کے مراکز اور ریٹیل نیٹ ورکس پر مستقل اور ہدفی کریک ڈاؤن ناگزیر ہے، کیونکہ غیر قانونی تجارت پر موثر کنٹرول ہی ٹیکس بیس کو بڑھانے کا تیز ترین طریقہ ہے۔
اس تجارت کی وجہ سے ہونے والا مالی خسارہ نہ صرف بجٹ کے توازن کو بگاڑ رہا ہے بلکہ مجموعی معاشی نمو کو بھی روک رہا ہے۔ جب قومی خزانہ خالی ہو جائے تو ترقیاتی منصوبے خواب بن جاتے ہیں، اور بنیادی ضروریات جیسے تعلیم اور صحت کی فراہمی ایک چیلنج۔ تصور کیجیے کہ یہ 400 ارب روپے اگر قومی خزانے میں شامل ہوتے تو کتنے سکول کھل سکتے تھے، کتنی یونیورسٹیاں اپ گریڈ ہو سکتی تھیں، اور کتنے ترقیاتی منصوبے مکمل ہو سکتے تھے۔ یہ رقم غربت کے اندھیروں کو دور کرنے، نوجوانوں کو ہنر سکھانے، اور ملک کی بنیادوں کو مضبوط کرنے میں استعمال ہو سکتی تھی۔ خاص طور پر تعلیم پر خرچ ہو کر یہ آنے والی نسلوں کے مستقبل کو روشن کر سکتی تھی، جہاں بچے کتابوں کی جگہ دھوئیں کی لپیٹ میں نہ آئیں بلکہ علم کی روشنی میں پروان چڑھیں۔
اب ذرا اس کا موازنہ موجودہ بجٹ سے کریں۔ وفاقی بجٹ 2025-26 میں تعلیم کے شعبے کے لیے کل مختص رقم تقریباً 113 ارب روپے ہے، جس میں اعلیٰ تعلیم کمیشن (HEC) کے لیے ترقیاتی پروگراموں کے تحت 39.5 ارب روپے شامل ہیں۔ یہ رقم ملک کی آبادی اور تعلیمی ضروریات کے مقابلے میں ناکافی ہے، جبکہ غیر قانونی تجارت سے ہونے والا نقصان اس سے تقریباً 3.5 گنا زیادہ ہے۔ اسی طرح، پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام (PSDP) کے لیے وفاقی سطح پر 1,036 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں، جو بنیادی ڈھانچے، ٹرانسپورٹ، اور دیگر ترقیاتی کاموں کے لیے استعمال ہوں گے۔ اگر یہ 400 ارب روپے شامل ہوتے تو PSDP کا حجم تقریباً 40 فیصد بڑھ سکتا تھا، جس سے سڑکیں، پل، ہسپتال، اور سکولوں کی تعمیر میں تیزی آ سکتی تھی۔ یہ موازنہ واضح کرتا ہے کہ غیر قانونی تجارت نہ صرف ایک مجرمانہ سرگرمی ہے بلکہ قومی ترقی کی راہ میں ایک بڑی رکاوٹ بھی۔
اس مسئلے کے حل کے لیے چند تجاویز پیش خدمت ہیں جو نہ صرف فوری بلکہ دیرپا اثرات کی حامل ہو سکتی ہیں۔ سب سے پہلے، ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کی نفاذ کو مضبوط بنایا جائے؛ اسے ڈیجیٹل ٹیکنالوجی سے جوڑ کر ریئل ٹائم مانیٹرنگ ممکن بنائی جائے۔ دوسرا، تقسیم کے مراکز اور ریٹیل آؤٹ لیٹس پر باقاعدہ چھاپے مارے جائیں، اور غیر قانونی سگریٹس کی ضبطی پر سخت سزائیں نافذ کی جائیں۔ تیسرا، عوامی آگاہی مہم چلائی جائے تاکہ لوگ قانونی مصنوعات کی اہمیت سمجھیں اور غیر قانونی تجارت کی حوصلہ شکنی کریں۔ چوتھا، ٹیکس حکام اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان بہتر کوآرڈینیشن قائم کیا جائے، اور کرپشن کو روکنے کے لیے شفاف میکانزم متعارف کرائے جائیں۔ آخر میں، سرمایہ کاروں کو تحفظ دینے کے لیے قوانین کی یکساں نفاذ کو یقینی بنایا جائے، تاکہ قانونی تجارت کو فروغ ملے اور معیشت کی بنیاد مضبوط ہو۔
یہ وقت ہے کہ ہم اس عفریت کا مقابلہ کریں، کیونکہ ایک مضبوط معیشت ہی ایک خوشحال پاکستان کی ضمانت ہے۔ اگر ہم نے ابھی قدم نہ اٹھایا تو یہ دھواں ہماری آنکھوں کو مزید اندھا کر دے گا، اور ترقی کے خواب دھندلے پڑ جائیں گے۔ آئیے، قوانین کی روشنی کو روشن کریں اور ایک ایسی معیشت کی تعمیر کریں جو سب کے لیے امید کی کرن بنے۔

























Grp

15/10/2025

سفر عشق - میاں محب حسن پیرزادہ کی پہلی کتاب

*18 اکتوبر کو لانچ ہورہی ہے*
ایک ایسی تصنیف جو محض الفاظ کا مجموعہ نہیں، بلکہ دل سے مدینہ تک کے سفر کی روداد ہے۔
سفرِ عشق میں مصنف نے بچپن سے جوانی تک کے روحانی تجربات، مدینہ منورہ کی حاضریوں اور بارگاہِ رسالت مآب ﷺ کے قرب کے لمحات کو دل کی زبان میں بیان کیا ہے۔

یہ کتاب قاری کو اُس فضا میں لے جاتی ہے جہاں سکون سانس لیتا ہے، اور محبت عبادت بن جاتی ہے

*20سال بعد بھی زلزلہ متاثرین کے زخم تازہ*8 اکتوبر 2005  یہ وہ دن تھا جب آزاد جموں و کشمیر اور خیبر پختونخوا کی حسین واد...
08/10/2025

*20سال بعد بھی زلزلہ متاثرین کے زخم تازہ*

8 اکتوبر 2005 یہ وہ دن تھا جب آزاد جموں و کشمیر اور خیبر پختونخوا کی حسین وادیوں پر قیامت ٹوٹ پڑی۔ صبح 8 بج کر 52 منٹ پر زمین لرزی، پہاڑ ہلے، اور لمحوں میں بستیاں ملبے کے ڈھیر میں بدل گئیں۔ 7.6 شدت کے اس ہولناک زلزلے نے 46 ہزار سے زائد انسانوں کی زندگیاں نگل لیں۔ وہ لمحہ نہ صرف جغرافیے بدل گیا بلکہ لاکھوں دلوں میں ایک زخم چھوڑ گیا جو بیس برس گزرنے کے باوجود، تازہ محسوس ہوتا ہے۔
مظفرآباد، بالاکوٹ، باغ، اور راولا کوٹ جیسے شہر جہاں کبھی زندگی رواں دواں تھی، یکایک خاموشی اور ویرانی میں ڈوب گئے۔ سب سے زیادہ تکلیف دہ پہلو یہ تھا کہ ان اموات کی بڑی وجہ قدرتی آفت نہیں بلکہ انسانی کوتاہی تھی۔ ناقص تعمیرات، کمزور اسکولوں، غیر معیاری عمارتوں، اور غیر منصوبہ بند آبادی نے زلزلے کے اثرات کو کئی گنا بڑھا دیا۔ المیہ یہ ہے کہ دو دہائیاں گزرنے کے باوجود ہم نے اس سانحے سے وہ سبق نہیں سیکھا جو ہمیں سیکھنا چاہیے تھا۔
زلزلے کے بعد حکومت پاکستان اور بین الاقوامی اداروں نے اربوں روپے کے فنڈز فراہم کیے۔ ایرا (ERRA) اور سیرا (SERRA) جیسے ادارے تشکیل دیے گئے تاکہ متاثرہ علاقوں کی بحالی ہو، مگر افسوس کہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ان منصوبوں کی رفتار کم ہوتی گئی۔ مظفرآباد اور بالاکوٹ کے کئی علاقے آج بھی ادھورے منصوبوں کی تصویریں پیش کرتے ہیں۔
برساتی نالوں میں تعمیرات، کمزور ڈھانچے والے مکان، اور غیر منصوبہ بند بستیوں نے ایک بار پھر لوگوں کو خطرے کے دہانے پر کھڑا کر دیا ہے۔ گویا ہم نے 2005 کے زلزلے کے زخموں پر پٹی ضرور باندھی، مگر بیماری کی جڑ تک کبھی نہیں پہنچے۔
پاکستان کا شمار دنیا کے ان دس ممالک میں ہوتا ہے جو قدرتی آفات کے خطرات سے سب سے زیادہ دوچار ہیں۔ اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ کے مطابق، پاکستان میں ہر سال تقریباً 30 لاکھ افراد کسی نہ کسی قدرتی آفت سے متاثر ہوتے ہیں۔
زلزلے کے بعد ہمیں زلزلہ مزاحم تعمیرات، مضبوط بلڈنگ کوڈز، اور شہری منصوبہ بندی میں جدید اصول اپنانے کی ضرورت تھی۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ اکثر علاقوں میں اب بھی تعمیراتی قوانین محض کاغذی حیثیت رکھتے ہیں۔
نہ بلدیاتی ادارے مضبوط ہوئے، نہ مقامی سطح پر آگاہی مہمات چلائی گئیں۔ یہی وجہ ہے کہ آج بھی لوگ خطرناک مقامات پر گھر بنا کر اپنی اور دوسروں کی زندگیوں کو خطرے میں ڈال رہے ہیں۔
زلزلے صرف عمارتوں کو نہیں گراتے، بلکہ نظام اور شعور کی کمزوریوں کو بھی بے نقاب کر دیتے ہیں۔ اسکولوں، دفاتر، اور عوامی مقامات پر آج بھی زلزلے سے بچاؤ کی تربیت کا کوئی مؤثر نظام موجود نہیں۔
ہم نے متاثرین کو وقتی امداد ضرور دی، مگر ان کے ذہنوں اور معاشرتی ڈھانچوں میں پائیدار تبدیلی نہیں لائے۔ ایک ایسے ملک میں جہاں ہر دوسرا علاقہ زلزلے یا سیلاب کے خطرے میں ہے، وہاں بچاؤ کی تربیت اور ابتدائی طبی امداد کا علم عام ہونا چاہیے تھا۔
اب وقت آ چکا ہے کہ ہم قدرتی آفات کو صرف ’’اللہ کی آزمائش‘‘ کہہ کر بھول نہ جائیں، بلکہ سائنس، تحقیق، اور منصوبہ بندی کے ذریعے نقصان کو کم کرنے کے عملی اقدامات کریں۔حکومت کو چاہیے کہ بلڈنگ کوڈز پر سختی سے عمل درآمد کرائے، خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف کارروائی ہو۔تعمیراتی انڈسٹری کے ماہرین اور انجینئرز کو جدید معیار کے مطابق تربیت دی جائے۔اسکولوں اور کالجوں میں زلزلہ سے بچاؤ کی تربیتی مشقیں لازمی قرار دی جائیں۔عوامی سطح پر آگاہی مہمات چلائی جائیں تاکہ لوگ خطرناک علاقوں میں تعمیرات سے گریز کریں۔ہمیں اپنی آنے والی نسلوں کے لیے ایک محفوظ، منصوبہ بند، اور مضبوط معاشرہ تشکیل دینا ہوگا جہاں قدرتی آفات انسانی غفلت کی وجہ سے تباہی کا سبب نہ بنیں۔
بیس سال پہلے زمین نے ہمیں لرزا کر یہ پیغام دیا تھا کہ زندگی کتنی نازک ہے اور منصوبہ بندی کتنی ضروری۔ مگر ہم نے اس پیغام کو سن کر پھر فراموش کر دیا۔آج، دو دہائیاں بعد، ہمیں پھر ایک موقع ملا ہے کہ ہم ماضی کی غلطیوں کو دہرانے کے بجائے اپنے شہداء کے خون کو عمل کی بنیاد بنائیں۔ اگر ہم نے اب بھی سیکھنے میں دیر کی، تو اگلا زلزلہ شاید صرف زمین ہی نہیں، ہمارا اجتماعی ضمیر بھی ہلا دے گا۔






#بالاکوٹ #مظفرآباد #باغ
#راولاکوٹ #مانسہرہ














Shahid IslamValue News HDPunjab Chs Lahore CanttAssociation of Builders And Developers of Pakistan (ABAD)VALUE Welfare FoundationInsaf EstateBuilder'sFollowerMian ShahidBrothers Oil Mian HassanMian HassanValue NewsXcellent NewsMuhammad Safdar NazirFacebookInstagramTikTokCh AtiqMian Shahid Islam

*چند منٹ کی آسانی اورہزار سال کا عذاب*چند منٹ کی آسانی اور ہزار سال کا عذاب۔۔۔ یہی وہ تلخ حقیقت ہے جس کا سامنا آج ہما...
02/10/2025

*چند منٹ کی آسانی اورہزار سال کا عذاب*

چند منٹ کی آسانی اور ہزار سال کا عذاب۔۔۔ یہی وہ تلخ حقیقت ہے جس کا سامنا آج ہماری زمین کر رہی ہے۔ ہم سب اپنی روزمرہ زندگی میں پلاسٹک بیگ یا ڈبہ استعمال کرتے ہیں، چند منٹ تک اس کی سہولت سے فائدہ اٹھاتے ہیں اور پھر لاپرواہی سے اسے پھینک دیتے ہیں۔ مگر یہ آسانی دراصل زمین کے لیے ایک نہ ختم ہونے والا عذاب ہے، کیونکہ یہ پلاسٹک ہماری آنکھوں سے تو اوجھل ہو جاتا ہے لیکن زمین، دریا، سمندر اور حتیٰ کہ ہمارے جسموں میں اپنی تباہی کے آثار چھوڑتا رہتا ہے۔ سائنس بتاتی ہے کہ پلاسٹک کو گلنے میں سینکڑوں نہیں بلکہ ہزاروں سال لگتے ہیں، اور تب بھی یہ مکمل طور پر فنا نہیں ہوتا بلکہ چھوٹے چھوٹے ذرات کی صورت میں نئی تباہی کی بنیاد رکھ دیتا ہے۔ چند لمحوں کا سکون نسلوں کی بربادی میں بدل جانا اس سے بڑی ستم ظریفی اور کیا ہو سکتی ہے؟
زمین پر پھیلتی ہوئی پلاسٹک آلودگی آج انسانیت کے سب سے بڑے چیلنجز میں شمار کی جاتی ہے۔ پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک میں یہ مسئلہ نہ صرف ماحولیاتی توازن کو بگاڑ رہا ہے بلکہ انسانی صحت، معیشت اور آنے والی نسلوں کے مستقبل کو بھی خطرے میں ڈال رہا ہے۔ یہ محض ایک ماحولیاتی مسئلہ نہیں بلکہ سماجی، معاشی اور طبی بحران کی صورت اختیار کرتا جا رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق اگر اس پر قابو نہ پایا گیا تو پلاسٹک آلودگی آنے والے برسوں میں پاکستان کو ان مسائل میں دھکیل دے گی جن سے نکلنا شاید ممکن نہ ہو۔
اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام (UNDP) کے مطابق پاکستان ہر سال لاکھوں ٹن پلاسٹک غلط طریقے سے ٹھکانے لگاتا ہے۔ اگر یہ کچرا ایک جگہ جمع کیا جائے تو اس کا ڈھیر 16,500 میٹر تک اونچا ہوگا، جو دنیا کے دوسرے سب سے بلند پہاڑ کے ٹو کی بلندی سے بھی تقریباً دوگنا ہے۔ یہ محض ایک علامتی اندازہ نہیں بلکہ ایک سنگین حقیقت ہے جو اس بات کو ظاہر کرتی ہے کہ ہم زمین کو کچرے کے پہاڑ تلے دفن کرنے جا رہے ہیں۔ پلاسٹک کی سب سے خطرناک خصوصیت یہ ہے کہ یہ گلتا نہیں، اسے ختم ہونے میں ہزاروں برس لگ سکتے ہیں اور تب بھی یہ مکمل طور پر فنا نہیں ہوتا۔ یہی وجہ ہے کہ سائنس دان اسے ’’خاموش قاتل‘‘ قرار دیتے ہیں۔
ماہرین ماحولیات کا کہنا ہے کہ پاکستان میں پلاسٹک کے پھیلاؤ کی سب سے بڑی وجہ عوامی رویے، حکومتی غفلت اور کارپوریٹ سیکٹر کی غیر ذمہ داری ہے۔ بڑے پیمانے پر پلاسٹک کی پیداوار جاری ہے لیکن ری سائیکلنگ کا عمل نہ ہونے کے برابر ہے۔ دنیا بھر میں تیار ہونے والے پلاسٹک میں سے صرف 9 فیصد ری سائیکل ہوتا ہے، اور پاکستان میں یہ شرح اس سے بھی کہیں کم ہے۔ نتیجتاً پلاسٹک کچرا لینڈفلز، نالوں، دریاؤں اور سمندروں میں جا کر جمع ہو جاتا ہے جہاں سے یہ ماحول اور انسانی صحت کو مسلسل نقصان پہنچاتا ہے۔
طبی ماہرین اس آلودگی کے انسانی صحت پر اثرات کے بارے میں خبردار کرتے ہیں۔ پلاسٹک جلانے سے زہریلے کیمیکلز خارج ہوتے ہیں، جھاگ والے پلاسٹک ڈبوں میں موجود بینزین اور سٹائرین جیسے کیمیکلز خوراک میں منتقل ہو سکتے ہیں جو کینسر اور دیگر بیماریوں کا سبب بن سکتے ہیں۔ مزید یہ کہ مائیکرو پلاسٹک ذرات، جن کا سائز ایک نینو میٹر سے پانچ ملی میٹر تک ہوتا ہے، خوراک، پانی، کپڑوں کے ریشوں اور حتیٰ کہ سانس کے ذریعے بھی جسم میں داخل ہو جاتے ہیں۔ حالیہ تحقیق نے اس بات کا انکشاف کیا ہے کہ یہ ذرات انسانی اعضاء میں موجود ہیں اور حتیٰ کہ نوزائیدہ بچوں کی نالیوں میں بھی پائے گئے ہیں۔ یہ اس بات کا ناقابل تردید ثبوت ہے کہ پلاسٹک ہمارے جسم کے اندر ایک نادیدہ دشمن بن چکا ہے۔
اس مسئلے کا حل بظاہر آسان ہے مگر اس پر اجتماعی سطح پر عمل درآمد کرنا سب سے بڑی آزمائش ہے۔ ری سائیکلنگ کو عام کرنے کی ضرورت ہے، کیونکہ ایک بوتل کو ری سائیکل کرنا بھی زمین کے مستقبل کے لیے امید کی کرن ہے۔ پلاسٹک بیگز کی جگہ ری یوز ایبل تھیلوں کا استعمال ایک چھوٹا مگر انقلابی قدم ہو سکتا ہے۔ ماہرین کے مطابق اگر ہر شہری روزمرہ زندگی میں پلاسٹک کے استعمال کو محدود کرنے کا فیصلہ کرے تو پاکستان کی زمین اور پانی میں موجود پلاسٹک آلودگی میں نمایاں کمی لائی جا سکتی ہے۔
معاشرتی سطح پر بھی شعور بیداری ناگزیر ہے۔ صفائی مہمات محض حکومتی اداروں کی ذمہ داری نہیں ہونی چاہئیں بلکہ ہر محلہ، ہر اسکول اور ہر گاؤں اس میں حصہ لے سکتا ہے۔ اگر ہفتے میں ایک دن بھی اجتماعی صفائی کا سلسلہ شروع کر دیا جائے تو پاکستان ایک نمایاں تبدیلی کی راہ پر گامزن ہو سکتا ہے۔ مزید یہ کہ سوشل میڈیا کو ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ جیسا کہ فیشن اور مزاحیہ ویڈیوز لمحوں میں وائرل ہو جاتی ہیں، ویسے ہی پلاسٹک مخالف مہمات کو بھی مقبول بنایا جا سکتا ہے۔ ایک ہیش ٹیگ، ایک ویڈیو، ایک پوسٹ لاکھوں لوگوں کے رویوں کو بدلنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
تاہم اس مسئلے کی اصل جڑ کارپوریٹ سیکٹر ہے جو ہر روز مارکیٹ میں لاکھوں ٹن پلاسٹک ڈال رہا ہے۔ ماہرین کہتے ہیں کہ اگر عوام خاموش رہے تو یہ کمپنیاں زمین کو کچرے کے قبرستان میں بدل دیں گی۔ لیکن اگر نوجوان متحد ہو جائیں، تعلیمی اداروں میں ماحول دوست گروپ بنائیں، حکومت پر دباؤ ڈالیں اور دکانداروں سے پلاسٹک بیگ لینے سے انکار کریں تو یہ کمپنیاں اپنی پالیسی بدلنے پر مجبور ہو جائیں گی۔ یہی وہ دباؤ ہے جسے ماحولیاتی ماہرین "کلیکٹو پاور" قرار دیتے ہیں۔
بین الاقوامی ادارے جیسے یونیسف اور یو این ڈی پی پاکستان میں حکومت اور مقامی تنظیموں کے ساتھ مل کر پلاسٹک آلودگی کے خلاف کام کر رہے ہیں۔ ان کا مقصد یہ ہے کہ ہر بچہ یہ سوچے کہ اگر وہ اپنی زمین کے لیے قدم نہیں اٹھائے گا تو پھر کون اٹھائے گا۔ زمین کو بچانے کے لیے بڑے بڑے منصوبے نہیں بلکہ چھوٹے چھوٹے اقدامات ہی کافی ہیں۔ ایک ری یوز ایبل بیگ، ایک بوتل کو ری سائیکل کرنا، ایک دن صفائی میں حصہ لینا یا سوشل میڈیا پر ایک آواز بلند کرنا، یہ سب مل کر زمین کے مستقبل کو محفوظ بنا سکتے ہیں۔
یہ بات واضح ہے کہ پلاسٹک کے بحران کا حل حکومت، عوام اور نجی شعبے کے اجتماعی تعاون کے بغیر ممکن نہیں۔ ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ زمین ہماری امانت ہے اور ہم ہی اس کے محافظ ہیں۔ آنے والی نسلیں ہم سے سوال کریں گی کہ ہم نے ان کے لیے کیسا ماحول چھوڑا۔ کیا ہم نے چند لمحوں کی آسانی کے لیے صدیوں کا زہر زمین میں گھول دیا یا ہم نے اپنی زمین کو صاف اور محفوظ رکھنے کی جدوجہد کی؟ وقت اب بھی ہمارے ہاتھ میں ہے، فیصلہ ہمیں کرنا ہے۔ زمین کو پلاسٹک کی قید سے آزاد کرانا ہماری ذمہ داری ہے، اور یہ ذمہ داری ہم سب کو مل کر ادا کرنی ہے۔
#ری سائیکلنگ


#سبزکراچی #سبزلاہور #سبزپشاور #سبزکوئٹہ #سبزملتان #سبزحیدرآباد

#سبزگوجرانوالہ #سبزپاکستان









*پاکستان میں غربت کا سیلاب،ورلڈ بینک کی رپورٹ اور ہمارا مستقبل*غربت محض ایک معاشی اشاریہ نہیں، بلکہ ایک ایسی لعنت ہے جو ...
26/09/2025

*پاکستان میں غربت کا سیلاب،ورلڈ بینک کی رپورٹ اور ہمارا مستقبل*

غربت محض ایک معاشی اشاریہ نہیں، بلکہ ایک ایسی لعنت ہے جو انسانی روح کو کھوکھلا کر دیتی ہے، خاندانوں کو توڑتی ہے، اور نسلوں کو پسماندگی کی زنجیروں میں جکڑے رکھتی ہے۔ یہ وہ مصیبت ہے جو بھوک کی شکل میں بچوں کے خواب چھین لیتی ہے، بیماریوں کی صورت میں زندگیاں نگل جاتی ہے، اور عدم مساوات کی آگ میں معاشرے کو جھلسا دیتی ہے۔ پاکستان جیسے ملک میں، جہاں آبادی کا بڑا حصہ روزانہ کی کمائی پر منحصر ہے، غربت نہ صرف افراد کی تقدیر بدلتی ہے بلکہ قومی استحکام کو بھی خطرے میں ڈالتی ہے یہ سیاسی تنازعات کو ہوا دیتی ہے، جرائم کی شرح بڑھاتی ہے، اور ترقی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ بنتی ہے۔ ورلڈ بینک کی تازہ رپورٹ اسی تلخ حقیقت کو سامنے لاتی ہے، جو ہمیں یاد دلاتی ہے کہ غربت کوئی قدرتی آفت نہیں بلکہ ناقص پالیسیوں اور عدم توازن کا نتیجہ ہے، اور اس کا خاتمہ صرف اعداد و شمار کی تبدیلی نہیں بلکہ نظام کی بنیادوں کو ہلانے سے ممکن ہے۔
رپورٹ کے تجزیے سے یہ واضح ہوتا ہے کہ پاکستان کی معیشت کا موجودہ ڈھانچہ، جو 2018 سے 2024 تک غربت کی سطح کو کم کرنے میں ناکام رہا ہے، بنیادی طور پر اشرافیہ کی اجارہ داری اور غیر متوازن ترقی پر قائم ہے۔ غربت کی شرح کا 25.3 فیصد تک بڑھنا جو تقریباً 6 کروڑ افراد کو افلاس کی دلدل میں دھکیل رہا ہے محض اتفاقی نہیں، بلکہ کئی باہم جڑے عوامل کا شاخسانہ ہے۔ زراعت کا سکڑاؤ، جو دیہی معیشت کی بنیاد ہے، پیداواریت کی کمی اور موسمی تغیرات کی وجہ سے مزدوروں کو بے روزگار کر رہا ہے، تعمیرات میں اجرتوں کی کمی قرضوں کے بوجھ کو مزید بھاری بنا رہی ہے اور سرمایہ کاری کی کمزوری نئی نوکریوں کے مواقع کو محدود کر رہی ہے۔ اس سے بھی زیادہ تشویش ناک پہلو یہ ہے کہ طاقتور اشرافیہ پالیسیوں کو اپنے فائدے کی طرف موڑتی رہتی ہے، جس کے نتیجے میں ٹیکس کا بوجھ نچلے طبقے پر پڑتا ہے اور مقامی حکومتوں کی ناقص ڈیلیوری سروسز تک رسائی کو ناممکن بنا دیتی ہے۔ لاکھوں نوجوانوں کی بیرون ملک ہجرت جو ایک طرح کا دماغی فرار ہے یہ ظاہر کرتی ہے کہ ملک کی معیشت انہیں یہاں رکھنے کے قابل نہیں رہی، جو طویل مدتی طور پر انسانی سرمائے کی کمی کا باعث بن رہی ہے۔ سیاسی عدم استحکام نے کاروباری اعتماد کو تباہ کر دیا ہے، جس سے سرمایہ کار گریزاں ہیں اور معیشت کی رفتار مزید سست پڑ رہی ہے۔
صوبائی سطح پر یہ عدم توازن مزید نمایاں ہے، جو پاکستان کی وفاقی ساخت کی کمزوریوں کو عیاں کرتا ہے۔ پنجاب میں غربت کی شرح 16.3 فیصد ہے، جو سب سے کم ہے، مگر اس کی بڑی آبادی کی وجہ سے ملک کے 40 فیصد غریب یہیں بستے ہیں یہ ایک ایسا تضاد ہے جو شہری اور دیہی تقسیم کو اجاگر کرتا ہے، جہاں شہری علاقوں میں کچھ ترقی تو ہے مگر دیہی علاقے پیچھے رہ جاتے ہیں۔ بلوچستان میں 42.7 فیصد کی شرح سب سے زیادہ ہے، جو وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم اور بنیادی ڈھانچے کی کمی کی نشاندہی کرتی ہے، حالانکہ اس کی کم آبادی کل غریبوں کا صرف 12 فیصد بناتی ہے۔ سندھ میں 24.1 فیصد اور خیبر پختونخوا میں 29.5 فیصد کی شرح یہ بتاتی ہے کہ 2015 سے 2018 تک کا اضافہ علاقائی مسائل جیسے تنازعات اور قدرتی آفات کا نتیجہ ہے۔ ٹرانسپورٹ، کمیونیکیشن اور کان کنی جیسے شعبوں میں غریبوں کو نوکریاں نہ ملنا یہ ظاہر کرتا ہے کہ ترقی کا فائدہ صرف ایک محدود طبقے تک محدود ہے، جو معاشرتی تناؤ کو بڑھاتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق، 2001 میں غربت 64.3 فیصد سے کم ہو کر 2018 تک 21.9 فیصد پر آئی تھی، مگر اب یہ واپس 25.3 فیصد پر پہنچ گئی ہے یہ الٹا سفر نہ صرف پچھلی کامیابیوں کو ضائع کر رہا ہے بلکہ یہ بھی ثابت کر رہا ہے کہ موجودہ ماڈل اب اپنی افادیت کھو چکا ہے۔
ورلڈ بینک کے چیف اکنامسٹ ٹوبیاس حقے کا بیان اس بحث کو مزید گہرا کرتا ہے، جب وہ کثیرالطرفہ قرض دہندگان کی پالیسیوں کا دفاع کرتے ہیں کہ غربت کا خاتمہ میکرو اکنامک استحکام، افراط زر میں کمی، آمدنی میں اضافہ، اور معیشت کو کھولنے جیسے عوامل پر منحصر ہے۔ یہ درست ہے، مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کی ہدایات پر مبنی یہ ماڈل پاکستان جیسے ملک میں مکمل طور پر کامیاب نہیں ہوا، کیونکہ یہ مقامی عوامل جیسے بدعنوانی اور سیاسی مداخلت کو نظر انداز کرتا ہے۔ بین الاقوامی خط افلاس پر غربت 45 فیصد ہے، جبکہ قومی پیمانے پر 25.3 فیصد یہ فرق پیمانوں کی مختلف تعریفوں سے زیادہ، حقیقت کی کمزور عکاسی کا نتیجہ ہے۔ پاکستان میں ورلڈ بینک کی کنٹری ڈائریکٹر بولورما آمگابازر کا مشورہ کہ اصلاحات کو تیز کیا جائے، خاص طور پر خواتین اور نوجوانوں کے لیے روزگار پیدا کر کے، ایک عملی راستہ دکھاتا ہے۔ مگر یہ تجاویز صرف کاغذی نہیں رہنی چاہییں؛ انہیں عملی جامہ پہنانے کے لیے سیاسی ارادے کی ضرورت ہے۔ رپورٹ یہ بھی بتاتی ہے کہ 2018 میں آبادی کا 14 فیصد معمولی جھٹکوں سے غربت میں گرنے کے خطرے میں تھا، جو معیشت کی کمزور لچک کو ظاہر کرتا ہے۔
اس صورتحال کا تجزیہ یہ بتاتا ہے کہ پاکستان کو ایک نئے ترقیاتی ماڈل کی ضرورت ہے ایک ایسا ماڈل جو شامل ہو، پائیدار ہو، اور کمزور طبقات کو تحفظ دے۔ زراعت کو جدید ٹیکنالوجی سے آراستہ کیا جائے، تعلیم اور صحت پر سرمایہ کاری بڑھائی جائے، ٹیکس سسٹم کو منصفانہ بنایا جائے، اور بدعنوانی کو جڑ سے اکھاڑا جائے۔ اگر یہ اصلاحات نہ کی گئیں تو غربت کی یہ دلدل مزید پھیلے گی، جو معاشرتی انتشار کا باعث بن سکتی ہے۔ مگر اگر ہم نے اب جرأت دکھائی تو یہ ملک خوشحالی کی نئی منزلوں کو چھو سکتا ہے۔ یہ وقت ہے کہ ہم اعداد سے آگے بڑھ کر انسانی درد کو دیکھیں اور ایک ایسا پاکستان بنائیں جہاں غربت تاریخ کی بات ہو۔
#غربت #غریبي #مہنگاہی
























Mian Shahid IslamMian Shahid IslamDHA Lahore Residents

Address


Opening Hours

Monday 09:00 - 17:00
Tuesday 09:00 - 17:00
Wednesday 09:00 - 17:00
Thursday 09:00 - 17:00
Friday 09:00 - 17:00
Saturday 09:00 - 17:00
Sunday 09:00 - 17:00

Telephone

+9242111150150

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Mian Shahid Islam posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Mian Shahid Islam:

  • Want your business to be the top-listed Realtor/realty Service?

Share