07/11/2025
*پرانا خواب شرمندہ تعبیر، پنجاب میں قبضہ مافیا ختم*
پنجاب میں برسوں سے عوام کی زندگیوں پر مسلط قبضہ مافیا کے خلاف آخرکار فیصلہ کن قدم اٹھا لیا گیا ہے۔ وہ لوگ جو اپنی زمینوں، جائیدادوں اور محنت کی کمائی پر ناجائز قبضوں سے تنگ آ چکے تھے، اب سکون کا سانس لے سکتے ہیں۔
پنجاب حکومت نے ’’پنجاب پروٹیکشن آف اونرشپ آف امویبل پراپرٹی آرڈیننس 2025ء‘‘ کی منظوری دے کر ایک تاریخی سنگ میل عبور کیا ہے۔ یہ وہ فیصلہ ہے جس نے برسوں سے زمین کے مقدمات میں پھنسے عام شہریوں کو امید کی ایک نئی کرن دکھائی ہے۔ اب زمین کے تنازعات عدالتوں کے طویل چکروں کے بجائے ڈسپیوٹ ریزولیشن کمیٹی کے ذریعے حل ہوں گے، اور سب سے بڑی بات یہ کہ ہر کیس کا فیصلہ 90 دن کے اندر کیا جائے گا۔
یہ وہ نظام ہے جو انصاف کو وقت کے ساتھ باندھتا ہے۔ شہریوں کو برسوں انتظار نہیں کرنا پڑے گا، اور جس کا حق ہوگا، وہ حق دار خود زمین کا مالک بنے گا۔
پنجاب کے تمام اضلاع میں ڈپٹی کمشنر کی سربراہی میں چھ رکنی کمیٹیاں تشکیل دی جا رہی ہیں۔ ان میں ڈی پی او اور دیگر افسران بھی شامل ہوں گے تاکہ انتظامی، قانونی اور عملی اقدامات ایک ساتھ کیے جا سکیں۔ کمیٹی کا فیصلہ ہونے کے بعد صرف 24 گھنٹوں کے اندر زمین قبضہ مافیا سے واگزار کرائی جائے گی۔ یہ وہ رفتار ہے جو ماضی کے نظام میں ناممکن لگتی تھی۔
پہلی بار ایسا ہوگا کہ زمین کا مالک اپنی زمین کے تحفظ کے لیے در بدر کی ٹھوکریں کھانے کے بجائے حکومت کو اپنے ساتھ پائے گا۔ پنجاب میں اب کوئی کسی کی زمین نہیں چھین سکے گا۔
قبضہ مافیا کے خلاف کارروائی کو مزید مؤثر بنانے کے لیے حکومت نے پیرا فورس کی خدمات حاصل کرنے پر بھی غور کیا ہے۔ اس کے ساتھ زمینوں کا ڈیجیٹل ریکارڈ تیار کیا جا رہا ہے تاکہ کسی بھی قسم کے جعلسازی یا دوہری ملکیت کے امکانات ختم کیے جا سکیں۔ شفافیت کے لیے زمینوں سے متعلق کارروائیوں کی سوشل میڈیا پر لائیو اسٹریمنگ کی تجویز بھی دی گئی ہے، جو ایک غیر معمولی قدم ہے۔
یہ تمام اقدامات نہ صرف عوامی اعتماد کو بحال کریں گے بلکہ سرمایہ کاروں کو بھی پنجاب میں زمین اور تعمیراتی منصوبوں میں سرمایہ کاری کے لیے محفوظ ماحول فراہم کریں گے۔
قبضہ مافیا کے خلاف اس جنگ میں سب سے اہم بات یہ ہے کہ اگر کسی فریق کو کمیٹی کے فیصلے پر اعتراض ہو، تو وہ ہائی کورٹ کے ریٹائرڈ جج کی سربراہی میں قائم خصوصی ٹربیونل میں اپیل کر سکتا ہے۔ اور یہ ٹربیونل بھی 90 دن کے اندر فیصلہ سنانے کا پابند ہوگا۔ اس طرح انصاف میں تاخیر کا دروازہ ہمیشہ کے لیے بند کر دیا گیا ہے۔
ہمارے معاشرے میں ایک عام آدمی کے لیے زمین صرف ایک ٹکڑا نہیں ہوتی، بلکہ اس کی عزت، اس کا مستقبل، اس کی اولاد کی ضمانت ہوتی ہے۔ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے بالکل درست کہا کہ ’’عام آدمی کے لیے اس کی چھوٹی سی جائیداد ہی اس کی پوری دنیا ہوتی ہے۔‘‘پہلے جب یہ دنیا کسی قبضہ گروپ کے ہاتھوں چھن جاتی تھی تو اس کے پاس کوئی دروازہ نہیں رہتا تھا جہاں وہ انصاف مانگنے جا سکے۔ اب حکومت نے نہ صرف انصاف کا دروازہ کھولا ہے بلکہ اس کے سامنے ایک نیا نظام رکھ دیا ہے جو طاقتور اور کمزور میں فرق نہیں دیکھتا۔
پنجاب حکومت کا یہ اقدام صرف قبضہ مافیا کے خلاف کارروائی نہیں بلکہ معاشرتی عدل کی بحالی کی ایک کوشش ہے۔ برسوں سے پھیلی مایوسی کو امید میں بدلنے والا یہ فیصلہ عوام کے دلوں میں اعتماد کی نئی روشنی پیدا کرے گا۔ پنجاب اگر اس نظام کو کامیابی سے چلا لیتا ہے تو یہ ماڈل پورے پاکستان کے لیے ایک مثال بن سکتا ہے۔
قبضہ مافیا کا خاتمہ محض ایک قانونی عمل نہیں بلکہ سماجی انصاف کی بنیاد ہے۔ یہ اقدام اس بات کا اعلان ہے کہ اب ریاست واقعی ماں بن گئی ہے جو اپنے ہر شہری کے ساتھ کھڑی ہے۔اگر حکومت اس نظام کو شفاف، غیر سیاسی اور مضبوط بنائے رکھے تو آنے والا وقت وہ ہوگا جب کوئی شہری زمین خریدتے ہوئے یہ سوچے گا نہیں کہ "قبضہ ہو جائے گا" بلکہ فخر سے کہے گا کہ "یہ زمین میری ہے، اور اس پر میرا حق محفوظ ہے۔