یہ جو دیوانے سے دو چار نظر آتے ہیں
ان میں کچھ صاحب اسرار نظر آتے ہیں
تیری محفل کا بھرم رکھتے ہیں سو جاتے ہیں
ورنہ یہ لوگ تو بیدار نظر آتے ہیں
دور تک کوئی ستارہ ہے نہ کوئی جگنو
مرگ امید کے آثار نظر آتے ہیں
مرے دامن میں شراروں کے سوا کچھ بھی نہیں
آپ پھولوں کے خریدار نظر آتے ہیں
کل جنہیں چھو نہیں سکتی تھی فرشتوں کی نظر
آج وہ رونق بازار نظر آتے ہیں
حشر میں کون گواہی مری دے گا ساغرؔ
سب تمہارے ہی طرفدار نظر آتے ہیں
ساغر صدیقی
15/10/2023
Injh Vichde Mudh Nai Aaye Jaani Door Gaye🙏
12/10/2023
Beshak ❤️
John Elia Urdu poetry
08/10/2023
ہم نے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ اور صلاح الدین ایوبی رحمة الله عليه کا لشکر تو نہیں دیکھا ہاں ہم نے فلسطین میں انکے وارثین کو دیکھا ہے جو ایک بار پھر تاریخ رقم کرنے کے لئے سر پر کفن باندھے ہوئے ہیں ۔۔
اللہ پاک فلسطین کے لوگوں کی مدد فرما
03/10/2023
John Elia Urdu poetry
02/10/2023
اے اللّٰہ! میرے لیے ایسا دروازہ کھول دے جس کی وسعت مجھے حیران کر دے۔
John Elia Urdu poetry
28/09/2023
مـومـنـو پڑھتے رہو اپنے آقا پر درود ڪه
ہے فـرشـتـوں ڪا وظیفه الصلوة والسلام✨💞🎀
صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم ✨💙
John Elia Urdu poetry
23/09/2023
شرمندگی ہے ہم کو بہت ہم مِلے تمہیں
تم سر بسر خوشی تھے مگر غم مِلے تمہیں
میں اپنے آپ میں نہ ملا اس کا غم نہیں
غم تو یہ ہے کہ تم بھی بہت کم مِلے تمہیں
ہے جو ہمارا ایک حساب اُس حساب سے
آتی ہے ہم کو شرم کہ پیہم مِلے تمہیں
تم کو جہان شوق و تمنا میں کیا ملا
ہم بھی ملے تو درہم و برہم مِلے تمہیں
اب اپنے طور ہی میں نہیں سو کاش کہ
خود میں خود اپنا طور کوئی دم مِلے تمہیں
اس شہر حیلہ جُو میں جو محرم مِلے مجھے
فریاد جانِ جاں وہی محرم مِلے تمہیں
دیتا ہوں تم کو خشکیِ مژگاں کی میں دعا
مطلب یہ ہے کہ دامن پرنم مِلے تمہیں
میں اُن میں آج تک کبھی پایا نہیں گیا
جاناں! جو میرے شوق کے عالم مِلے تمہیں
تم نے ہمارے دل میں بہت دن سفر کیا
شرمندہ ہیں کہ اُس میں بہت خم مِلے تمہیں
یوں ہو کہ اور ہی کوئی حوّا مِلے مجھے
ہو یوں کہ اور ہی کوئی آدم مِلے تمہیں
Be the first to know and let us send you an email when John Elia Urdu poetry posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.