10/06/2026
یاد رکھیں: جب پشتون متفق ہوگا، وہ دن فیصلہ کن ہوگا۔ یہ محض کوئی دھمکی نہیں، بلکہ تاریخ کا سبق ہے۔ پشتون جب اٹھتا ہے تو اپنے ہر نقصان، ہر آنسو اور ہر چھینے گئے حق کا حساب مانگتا ہے۔ ایک ایک قطرے سے لے کر اپنی زمین کے وسائل تک،
پشتون تحفظ موومنٹ (PTM) نے شروع دن سے یہی کوشش کی ہے کہ بکھری ہوئی آوازوں کو اکٹھا کیا جائے، ایک شعور دیا جائے، ایک راستہ دیا جائے۔ ان شاء اللہ وہ دن دور نہیں جب یہی منتشر آوازیں ایک طاقت بنیں گی، ایک اتحاد میں بدلیں گی۔
اور جب وہ دن آئے گا، تو جواب بھی ایسا ہوگا جو تاریخ میں لکھا جائے گا ، ایک ایسا جواب جو انصاف، حق اور عوامی طاقت کی بنیاد پر ہوگا۔ یہی وہ راستہ ہے جسے روکنے کے بجائے سمجھنے کی ضرورت ہے، کیونکہ قوموں کو ہمیشہ کے لیے دبایا نہیں جا سکتا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
افغانستان کے صوبہ خوست کے ضلع سپیرہ میں پاکستانی حملے کے نتیجے میں شہادتوں کی تعداد 19 تک پہنچ گئی ہے، جبکہ متعدد افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ ایک ایسی پالیسی کا تسلسل جس میں پشتون ہمیشہ نشانہ بنتا آیا ہے۔ ڈیورنڈ لائن کے اس پار ہو یا اُس پار، پشتون کبھی دہشتگردی کے نام پر، کبھی سکیورٹی کے نام پر، اور کبھی سرحدی پالیسیوں کے نام پر ، مگر نتیجہ ہمیشہ ایک ہی نکلا، پشتونوں کا جنازہ۔
پاکستانی ریاست کی پالیسیوں میں یہ تضاد اب چھپا ہوا نہیں رہا۔ ایک طرف پشتون علاقوں کو جنگ کا میدان بنایا جاتا ہے، دوسری طرف انہی لوگوں سے وفاداری کے تقاضے کیے جاتے ہیں۔
لر ہو یا بر، پشتونوں نے صرف نقصان اٹھایا ہے۔ گھروں سے بے دخلی، ماورائے عدالت واقعات، مسلسل خوف، اور وسائل پر بھی قبضہ یہ سب اتفاق نہیں ہے۔ یہ ایک واضح طرزِ عمل ہے جس نے پشتون علاقوں کو کمزور رکھا، تاکہ ان پر کنٹرول آسان رہے۔ معدنی وسائل سے مالا مال زمین، مگر وہاں کے لوگوں کے ہاتھ خالی ہے۔
کب تک پشتون صرف لاشیں اٹھائیں گے اور خاموش رہیں گے؟