Rad- E-Batil

Rad- E-Batil جزاکم اللہ خیراً!
**والسلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ**

Inshallah .
23/11/2024

Inshallah .

Inshallah 💖 For seeing live follow this page and come 🫴 this page Date 23 after Namaz e ESHA
09/10/2024

Inshallah 💖
For seeing live follow this page and come 🫴 this page Date 23 after Namaz e ESHA

24/09/2024

Mashallah
..

.
..

19/09/2024

Mashallah
.

.


.

17/09/2024

*آج ہے جشن ولادت مرحبا یا مصطفی ﷺ*♡︎

یا نبی اپنی ولادت کی خوشی میں دیجئے ♡︎
*مجھ کو بس اپنی محبت مرحبا یامصطفیﷺ*♡︎

دے دو تم عطار کو عیدی میں چشم اشکبار♡︎
*اپنا غم دو اپنی الفت مرحبا یامصطفیﷺ*♡︎

.
.

05/09/2024

دُعَا دَعْوٌ یا دَعْوَتٌ سے بناہے جس کے معنی بلانا یا پکارنا ہے ۔قرآن شریف میں لفظ دعا پانچ معنی میں استعمال ہوا ہے ۔۱۔پکارنا، ۲۔بلانا، ۳۔مانگنا یا دعا کرنا، ۴۔پوجنا یعنی معبود سمجھ کر پکارنا، ۵۔ تمنا آرزو کرنا۔ رب تَعَالٰی فرماتا ہے :
(۱) اُدْعُوْهُمْ لِاٰبَآىٕهِمْ هُوَ اَقْسَطُ عِنْدَ اللّٰهِۚ ( پ ۲۱، الاحزاب : ۵)
انہیں ان کے باپوں کی نسبت سے پکارو یہ اللہ کے نزدیک عدل ہے ۔
(۲) وَّ الرَّسُوْلُ یَدْعُوْكُمْ فِیْۤ اُخْرٰىكُمْ ( پ ۴، اٰل عمرٰن : ۱۵۳)
اور پیغمبر تم کو تمہارے پیچھے پکارتے تھے ۔
(۳) لَا تَجْعَلُوْا دُعَآءَ الرَّسُوْلِ بَیْنَكُمْ كَدُعَآءِ بَعْضِكُمْ بَعْضًاؕ ( پ ۱۸، النور : ۶۳)
رسول کے پکارنے کو بعض کے بعض کو پکارنے کی طر ح نہ بناؤ ۔
ان جیسی تمام آیات میں دعا بمعنی پکارنا ہے ۔ رب تَعَالٰی فرماتا ہے :
(۱) اُدْعُ اِلٰى سَبِیْلِ رَبِّكَ بِالْحِكْمَةِ وَ الْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ ( پ ۱۴، النحل : ۱۲۵)
اپنے رب کے راستہ کی طر ف لوگو ں کو حکمت اور اچھی نصیحت سے بلاؤ ۔
(۲) وَ ادْعُوْا شُهَدَآءَكُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ ( پ ۱، البقرۃ : ۲۳)
اور بلاؤ اپنے مدد گار وں کو اللہ کے سوا۔
(۳) وَ لْتَكُنْ مِّنْكُمْ اُمَّةٌ یَّدْعُوْنَ اِلَى الْخَیْرِ ( پ ۴، اٰل عمرٰن : ۱۰۴)
اور تم میں ایک گر وہ ایسا ہونا چاہیے جو بھلائی کی طر ف بلائے ۔
ان جیسی آیات میں دعا کے معنی بلانے کے ہیں ۔ رب تَعَالٰی فرماتا ہے :
(۱) اُدْعُوْا رَبَّكُمْ تَضَرُّعًا وَّ خُفْیَةًؕ ( پ ۸، الاعراف : ۵۵)
اپنے رب سے عاجزی سے خفیہ طو ر پر دعا مانگو ۔
(۲) اِنَّ رَبِّیْ لَسَمِیْعُ الدُّعَآءِ(۳۹) ( پ ۱۳، ابراہیم : ۳۹)
بے شک میرا رب دعا کا سننے والاہے ۔
(۳) رَبَّنَا وَ تَقَبَّلْ دُعَآءِ(۴۰) ( پ ۱۳، ابراہیم : ۴۰)
اے ہمارے رب میری دعا سن لے ۔

(۴) فَاِذَا رَكِبُوْا فِی الْفُلْكِ دَعَوُا اللّٰهَ مُخْلِصِیْنَ لَهُ الدِّیْنَ
( پ ۲۱، العنکبوت : ۶۵)
جب وہ کشتی پر سوار ہوتے ہیں توخداسے دعامانگتے ہیں دین کو اس کیلئے خالص کر کے ۔
(۵) وَّ لَمْ اَكُنْۢ بِدُعَآىٕكَ رَبِّ شَقِیًّا(۴) ( پ ۱۶، مریم : ۴)
اے میرے رب میں تجھ سے دعا مانگنے میں کبھی نامراد نہ رہا ۔
(۶) اُجِیْبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ اِذَا دَعَانِۙ ( پ ۲، البقرۃ : ۱۸۶)
میں دعا مانگنے والے کی دعا کو قبول کرتا ہوں جب مجھ سے دعا کرتا ہے۔
(۷) وَ مَا دُعَآءُ الْكٰفِرِیْنَ اِلَّا فِیْ ضَلٰلٍ(۱۴) ( پ ۱۳، الرعد : ۱۴)
اور نہیں ہے کافرو ں کی دعا مگر بربادی میں ۔
(۸) هُنَالِكَ دَعَا زَكَرِیَّا رَبَّهٗۚ ( پ ۳، اٰل عمرٰن : ۳۸)
وہا ں زکریا نے اپنے رب سے دعا کی ۔
ان جیسی تمام آیات میں دعا کے معنی دعا مانگنا ہیں ۔ رب تَعَالٰی فرماتا ہے :
وَ لَكُمْ فِیْهَا مَا تَشْتَهِیْۤ اَنْفُسُكُمْ وَ لَكُمْ فِیْهَا مَا تَدَّعُوْنَؕ(۳۱) نُزُلًا مِّنْ غَفُوْرٍ رَّحِیْمٍ۠(۳۲) ( پ ۲۴، حمٓ السجدۃ : ۳۱)
اور تمہارے لئے جنت میں وہ ہوگا جو تمہارے دل چا ہیں اور تمہارے لئے وہاں وہ ہوگا جس کی تم تمنا کرو ۔
اس آیت میں دعا بمعنی آرزو کرنا، چاہنا ، خواہش کرنا ہے۔(۱) اِنَّ الَّذِیْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ عِبَادٌ اَمْثَالُكُمْ ( پ ۹، الاعراف : ۱۹۴)
جنہیں تم خدا کے سوا پوجتے ہو وہ تم جیسے بندے ہیں ۔
(۲) وَّ اَنَّ الْمَسٰجِدَ لِلّٰهِ فَلَا تَدْعُوْا مَعَ اللّٰهِ اَحَدًاۙ(۱۸) ( پ ۲۹، الجن : ۱۸)
بے شک مسجدیں اللہ کی ہیں تو اللہ کے ساتھ کسی کو نہ پوجو۔
(۳) وَ مَنْ اَضَلُّ مِمَّنْ یَّدْعُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ مَنْ لَّا یَسْتَجِیْبُ لَهٗۤ اِلٰى یَوْمِ الْقِیٰمَةِ ( پ ۲۶، الاحقاف : ۵)
اس سے بڑھ کر گمراہ کون ہے جو خدا کے سوا ایسوں کو پوجتا ہے جو اس کی عبادت قبول نہ کرے قیامت تک ۔
(۴) قَالُوْا ضَلُّوْا عَنَّا بَلْ لَّمْ نَكُنْ نَّدْعُوْا مِنْ قَبْلُ شَیْــٴًـاؕ- ( پ ۲۴، المؤمن : ۷۴)
کافر کہیں گے کہ وہ غائب ہوگئے ہم سے بلکہ ہم ا س سے پہلے کسی چیز کو نہ پوجتے تھے ۔
(۵) وَ الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ لَا یَخْلُقُوْنَ شَیْــٴًـا وَّ هُمْ یُخْلَقُوْنَؕ(۲۰) اَمْوَاتٌ غَیْرُ اَحْیَآءٍۚ ( پ ۱۴، النحل : ۲۰، ۲۱)
اور وہ جن کی یہ مشرکین پوجا کرتے ہیں اللہ کے سوا وہ کسی چیز کو پیدا نہیں کرتے بلکہ وہ پیدا کئے جاتے ہیں یہ مردے ہیں زندہ نہیں ۔
(۶) وَ اِذَا رَاَ الَّذِیْنَ اَشْرَكُوْا شُرَكَآءَهُمْ قَالُوْا رَبَّنَا هٰۤؤُلَآءِ شُرَكَآؤُنَا الَّذِیْنَ كُنَّا نَدْعُوْا مِنْ دُوْنِكَۚ ( پ ۱۴، النحل : ۸۶)
اورجب مشرکین اپنے معبودوں کو دیکھیں گے تو کہیں گے اے رب ہمارے یہ ہمارے وہ معبود ہیں جنہیں ہم تیرے سوا پوجا کرتے تھے ۔
ان جیسی تمام وہ آیات جن میں غیر خدا کی دعا کو شرک وکفر کہا گیا یا اس پر جھڑکا گیا ان سب میں دعا کے معنی عبادت (پوجا) ہے اور یدعون کے معنی ہیں وہ پوجتے ہیں اس کی تفسیر قرآن کی ان آیتو ں نے کی ہے جہاں دعا کے ساتھ عبادت یا الٰہ کا لفظ آگیا ہے ، فرماتا ہے :
(۱) هُوَ الْحَیُّ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ فَادْعُوْهُ مُخْلِصِیْنَ لَهُ الدِّیْنَؕ-اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ(۶۵) قُلْ اِنِّیْ نُهِیْتُ اَنْ اَعْبُدَ الَّذِیْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ ( پ ۲۴، المؤمن : ۶۶)
وہ ہی زندہ ہے کہ اس کے سوا کوئی معبود نہیں تو اسے پوجو۔ اس کے لئے دین کو خالص کر کے سب خوبیاں اللہ رب العالمین کیلئے ہیں تم فرماؤ میں منع کیا گیا ہوں کہ انہیں پوجوں جنہیں تم اللہ کے سوا پوجتے ہو۔
اس آیت میں لَآ اِلٰہَ اِلَّا ہُوَ ا ور اَنْ اَعْبُدَ نے صاف بتادیا کہ یہاں دعا سے پوجنا مراد ہے نہ کہ پکارنا۔
(۲) وَ قَالَ رَبُّكُمُ ادْعُوْنِیْۤ اَسْتَجِبْ لَكُمْؕ-اِنَّ الَّذِیْنَ یَسْتَكْبِرُوْنَ عَنْ عِبَادَتِیْ سَیَدْخُلُوْنَ جَهَنَّمَ دٰخِرِیْنَ۠(۶۰) ( پ ۲۴، المؤمن : ۶۰)
اور تمہارے رب نے فرمایا کہ مجھ سے دعا کرومیں تمہاری دعاقبول کرو ں گا بیشک وہ جو میری عبادت سے تکبر کرتے ہیں وہ عنقریب ذلیل ہو کر دو زخ میں جائیں گے
یہاں دعا سے مراد دعا مانگنا ہے اور دعا بھی عبادت ہے اس لئے ساتھ ہی عبادت کا ذکر ہو افقط پکارنا مراد نہیں ۔
(۳) وَ مَنْ اَضَلُّ مِمَّنْ یَّدْعُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ مَنْ لَّا یَسْتَجِیْبُ لَهٗۤ اِلٰى یَوْمِ الْقِیٰمَةِ وَ هُمْ عَنْ دُعَآىٕهِمْ غٰفِلُوْنَ(۵) وَ اِذَا حُشِرَ النَّاسُ كَانُوْا لَهُمْ اَعْدَآءً وَّ كَانُوْا بِعِبَادَتِهِمْ كٰفِرِیْنَ(۶) ( پ ۲۶، الاحقاف : ۵۔۶)
اور اس سے بڑھ کر گمراہ کون ہے جو خدا کے سوا اس کی پوجا کرتا ہے جو قیامت تک اس کی نہ سنیں اور جب لوگوں کا حشر ہوگا تو یہ ان کے دشمن ہوں گے اور ان کی عبادت سے منکر ہوجاویں گے۔یہاں بھی دعا سے مراد پکارنا نہیں بلکہ پوجنا یعنی معبود سمجھ کرپکارنا مراد ہے کیونکہ ساتھ ہی ان کے اس فعل کو عبادت کہا گیا ہے۔ ان آیات نے ان تمام کی شرح کردی جہاں غیر خدا کی دعاکو شرک فرمایا گیا اور بتا دیا کہ وہاں دعا سے مراد پوجنا یا دعا مانگنا ہے اور دعا بھی عبادت ہے اگر غیر خدا کو پکارنا شرک ہوتا تو جن آیتو ں میں پکارنے کا حکم دیا گیا ۔ ان سے ان آیات کا تعارض ہوجاتا ۔ پکارنے کی آیات ہم نے ابھی پیش کردیں اس لئے عام مفسرین ان ممانعت کی آیتو ں میں دعا کے معنی عبادت کرتے ہیں ان کی یہ تفسیر قرآن کی ان آیتوں سے حاصل ہے ۔
اعتراض : دعا کے معنی کسی لغت میں عبادت نہیں دعا کے معنی بلانا، نداکر نا عام لغت میں مذکور ہیں لہٰذا ان تمام آیتوں میں اس کے معنی پکارنا ہی ہیں .

جواب : یہ بہت بڑا جھوٹ ہے اردو لغت کی مشہور کتاب فیروز اللغات میں دعا کے معنی اللّٰہ تعالیٰ کی عبادت کے ہی کیے گئے ہیں اوردعاکے لغوی معنی پکارنا ہیں او ر اصطلاحی معنی عبادت ہیں ۔ قرآن میں یہ لفظ دونوں معنوں میں استعمال ہوا جہاں دعا کی اجاز ت ہے وہا ں لغوی پکارنا مراد ہیں اور جہاں غیر خدا کی دعا سے ممانعت ہے وہاں عرفی معنی پوجنا مراد ہیں ۔ جیسے لغت میں صلوۃ کے معنی دعا ہیں اور عرفی معنی نماز۔ قرآن میں اَقِیْمُوا الصَّلٰوۃَ میں صلوٰۃسے مراد نمازہے اور صَلِّ عَلَیْہِمْ اور صَلُّوْاعَلَیْہِ وَسَلِّمُوْا تَسْلِیْمًا میں صلوٰۃسے مراددعا ہے ۔ تمہارا اعتراض ایسا ہے جیسے کوئی نماز کا انکار کردے اور کہے قرآن میں جہاں بھی صلوٰۃآیاہے وہاں دعامرادہے کیونکہ یہی اس کے لغوی معنی ہیں ایسے ہی طواف کے لغوی معنی گھومنا ہیں اورا صطلاحی معنی ایک خاص عبادت ہیں قرآن میں یہ لفظ دونوں معنوں میں استعمال ہو اہے ۔
دوسرے یہ کہ واقعی دعا کے معنی پکارنا ہیں مگر پکارنے کی بہت سی نوعیتیں ہیں جن میں سے کسی کو خدا سمجھ کر پکارنا عبادت ہے ، ممانعت کی آیات میں یہی مراد ہے یعنی کسی کو خدا سمجھ کر نہ پکارے ۔ اس کی تصریح قرآن کی اس آیت نے فرمادی :
وَ مَنْ یَّدْعُ مَعَ اللّٰهِ اِلٰهًا اٰخَرَۙ-لَا بُرْهَانَ لَهٗ بِهٖۙ-فَاِنَّمَا حِسَابُهٗ عِنْدَ رَبِّهٖؕ ( پ ۱۸، المؤمنون : ۱۱۷)
اور جو خدا کے ساتھ دوسرے خدا کو پکارے جس کی اس کے پاس کوئی دلیل نہیں تو اس کا حساب رب کے پاس ہے ۔
اس آیت نے خوب صاف فرمادیا کہ پکارنے سے خدا سمجھ کر پکارنا مراد ہے ۔

اعتراض : ان ممانعت کی آیتو ں میں پکارنا ہی مراد ہے مگر کسی کو دور سے پکارنا مراد ہے یہ سمجھ کر کہ وہ سن رہا ہے یہ ہی شرک ہے .

جواب : یہ بالکل غلط ہے ۔ قرآن کی ان آیتو ں میں دور نزدیک کا ذکر نہیں ۔ یہ قید آپ نے اپنے گھر سے لگائی ہے نیز یہ قید خود قرآن کی اپنی تفسیر کے بھی خلاف ہے لہٰذا مردود ہے نیز اگر دور سے پکارنا شرک ہو تو سب مشرک ہوجائیں گے حضرت عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے مدینہ منورہ سے حضرت ساریہ رضی اللہ تَعَالٰی عنہکو پکارا حالانکہ وہ نہا وند میں تھے ۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے کعبہ بنا کر تمام دور کے لوگوں کو پکارا اور تمام روحوں نے جو قیامت تک پیدا ہونیوالی تھیں انہوں نے سن لیا جس کا ذکر قرآن مجید میں ہے ۔ آج نمازی حضور علیہ السلام کو پکارتا ہے : اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ اَیُّھَا النَّبِیُّ اے نبی! علیہ الصلوۃ والسلام آپ پر سلام ہو ۔اگر یہ شرک ہو جاتا تو ہر نمازی کی نماز تو بعد میں ختم ہو۔ ایمان پہلے ختم ہوجائے آج موبائل کے ذریعہ دور سے لوگو ں کو پکارتے ہیں او روہ سن لیتے ہیں اگر کہا جائے کہ موبائل کی بجلی کی طاقت ایک سبب ہے اور سبب کے ماتحت دور سے سننا شرک نہیں تو ہم بھی کہیں گے کہ نبوت کے نور کی طاقت بھی ایک سبب ہے اور سبب کے ماتحت سننا شر ک نہیں غرضیکہ یہ اعتراض نہایت ہی لغوہے ۔
اعتراض : ممانعت کی آیتو ں میں مردو ں کو پکارنا مراد ہے یعنی مرے ہوئے کو پکارنا یہ سمجھ کر کہ وہ سن رہاہے شرک ہے ۔

جواب : یہ بھی غلط ہے چند وجہ سے ایک یہ کہ یہ قید تمہارے گھر کی ہے قرآن میں نہیں آئی۔ رب تَعَالٰی نے مردہ ، زندہ ، غائب ، حاضر ، دور نزدیک کی قید لگا کر ممانعت نہ فرمائی ۔ لہٰذا یہ قید باطل ہے ۔ دوسرے یہ کہ یہ تفسیر خود قرآن کی تفسیر کے خلاف ہے ۔ اس نے فرمایا کہ دعا سے مراد عبادت ہے ۔ تیسرے یہ کہ اگر مردو ں کو پکارنا شرک ہو تو ہرنمازی نمازمیں حضور علیہ الصلوۃ والسلام کو پکارتا ہے : اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ اَیُّھَا النَّبِیُّ اے نبی! علیہ الصلوۃ والسلام آپ پر سلام ہو، حالانکہ حضور وفات پاچکے ہیں ہم کو حکم ہے کہ قبر ستان جا کر یوں سلام کریں : اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ دَارَ قَوْمٍ مِّنَ الْمُسْلِمِیْنَ ، اے مسلمانوں کے گھر والو! تم پر سلام ہو۔
ابراہیم علیہ السلام نے ذبح کیے ہوئے پرندوں کو پکارا اور انہوں نے سن لیا ۔ رب تَعَالٰی نے فرمایا :
ثُمَّ ادْعُهُنَّ یَاْتِیْنَكَ سَعْیًاؕ ( پ ۳، البقرۃ : ۲۶۰)
پھر ان مرے ہوئے پرندوں کو پکار و وہ دوڑتے ہوئے تم تک آجائیں گے ۔
حضرت صالح علیہ السلام اور حضرت شعیب علیہ السلام نے قوم کو ان کی ہلاکت کے بعد پکارا ، صالح علیہ السلام کا قصہ سورۂ اعراف میں اس طر ح بیان ہوا :
فَاَخَذَتْهُمُ الرَّجْفَةُ فَاَصْبَحُوْا فِیْ دَارِهِمْ جٰثِمِیْنَ(۷۸) فَتَوَلّٰى عَنْهُمْ وَ قَالَ یٰقَوْمِ لَقَدْ اَبْلَغْتُكُمْ رِسَالَةَ رَبِّیْ وَ نَصَحْتُ لَكُمْ وَ لٰكِنْ لَّا تُحِبُّوْنَ النّٰصِحِیْنَ(۷۹)
( پ ۸، الاعراف : ۷۸۔۷۹)
تو انہیں زلزلے نے پکڑلیا تو وہ اپنے گھروں میں اوندھے پڑے رہ گئے تو صالح نے ان سے منہ پھیر ا اور کہا اے میری قوم بے شک میں نے تم تک اپنے رب کا پیغام پہنچادیا اور تمہارا بھلا چاہا مگر تم خیر خواہوں کو پسند نہیں کرتے ۔
شعیب علیہ السلام کا واقعہ اسی سورۂ اعراف میں کچھ آگے یوں بیان فرمایا :
فَتَوَلّٰى عَنْهُمْ وَ قَالَ یٰقَوْمِ لَقَدْ اَبْلَغْتُكُمْ رِسٰلٰتِ رَبِّیْ وَ نَصَحْتُ لَكُمْۚ-فَكَیْفَ اٰسٰى عَلٰى قَوْمٍ كٰفِرِیْنَ۠(۹۳)( پ ۹، الاعراف : ۹۳)
شعیب نے ہلاکت کفار کے بعد ان سے منہ پھیرا اور کہا اے میری قوم ! میں نے تجھے اپنے رب کے پیغام پہنچا دیئے اور تمہاری خیر خواہی کی تو میں کا فر قوم پر کیسے غم کرو ں ؟
ان دونوں آیتو ں میں فَتَوَلّٰی کی ف سے معلوم ہوا کہ ان دونوں پیغمبر وں علیہما الصلوۃ والسلام کا یہ خطاب قوم کی ہلاکت کے بعد تھا ۔ خود ہمارے نبی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے بدر کے دن مرے ہوئے ابوجہل، ابولہب، امیہ ابن خلف وغیرہ کفار کو مخاطب کیا اور حضرت فاروق اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے عرض کرنے پر فرمایا کہ تم ان مردوں سے زیادہ نہیں سنتے ۔
( صحیح البخاری ، کتاب الجنائز ، باب ماجاء فی عذاب القبر ، الحدیث ۱۳۷۰، ج ۱، ص ۴۶۲، دار الکتب العلمیۃ )
کہیے ! اگر قرآن کے فتوے سے مردوں کو پکارنا شرک ہے تو ان انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام کے اس پکارنے کا کیا جواب دوگے ۔ غرضیکہ یہ اعتراض محض باطل ہے ۔

اعتراض : کسی کو دور سے حاجت روائی کے لئے پکارنا شرک ہے اور ممانعت کی آیتو ں میں یہی مراد ہے لہٰذا اگر کسی نبی ولی کو دور سے یہ سمجھ کر پکارا گیا کہ وہ ہمارے حاجت روا ہیں تو شرک ہوگیا ۔

جواب : یہ اعتراض بھی غلط ہے ۔ اولًا تو اس لئے کہ قرآن کی ممانعت والی آیتو ں میں یہ قید نہیں تم نے اپنے گھر سے لگائی ہے ۔لہٰذا معتبر نہیں ۔ دو سرے اس لئے کہ یہ تفسیر خود قرآن کی اپنی تفسیر کے خلاف ہے جیسا کہ ہم نے بیان کر دیا ۔ تیسرے اس لئے کہ ہم نے بتادیا کہ اللہ کے بندے دور سے سنتے ہیں خواہ نورنبوت سے یا نور ولایت سے۔جب یہ دونوں باتیں علیحد ہ علیحد ہ صحیح ہیں تو ان کا مجموعہ شرک کیونکر ہوسکتا ہے ۔قرآن فرمارہا ہے کہ اللہ کے بندے وفات کے بعد سن بھی لیتے ہیں اور جواب بھی دیتے ہیں جوخاص خاص کو محسوس ہوتا ہے ۔ رب فرماتا ہے :
وَ سْــٴَـلْ مَنْ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ مِنْ رُّسُلِنَاۤ اَجَعَلْنَا مِنْ دُوْنِ الرَّحْمٰنِ اٰلِهَةً یُّعْبَدُوْنَ۠(۴۵) ( پ ۲۵، الزخرف : ۴۵)
اے حبیب ان رسولوں سے پوچھوجو ہم نے آپ سے پہلے بھیجے کیا ہم نے خدا کے سوا ایسے معبود بنائے ہیں جن کی عبادت کی جائے ۔
غور کر و کہ نبی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے زمانہ میں انبیاء سابقین علیہم الصلوۃ والسلام وفات پاچکے تھے۔ مگر رب تَعَالٰی فرمارہا ہے کہ اے محبوب ! ان وفات یافتہ رسولوں سے پوچھ لوکہ کیا کوئی خدا کے سوا اور معبود ہے اور پوچھا اس سے جاتا ہے جو سن بھی لے اور جواب بھی دے ۔پتا لگا کہ اللہ کے بندے بعد وفات سنتے اور بولتے ہیں معراج کی رات سارے وفات یافتہ رسولوں نے حضور علیہ الصلوۃ والسلام کے پیچھے نماز پڑھی ۔
خلاصہ یہ ہے کہ دعا قرآن کریم میں بہت سے معنوں میں استعمال ہوا ہے ہر جگہ اس کے وہ معنی کرنا چاہئیں جو وہاں کے مناسب ہیں ۔ جن یتیم العلم بیچاروں نے ہرجگہ اس کے معنی پکارنا کئے ہیں وہ ایسے فحش ہیں جس سے قرآنی مقصد فوت ہی نہیں بلکہ بدل جاتا ہے۔ اسی لئے ان یتیم العلم بیچاروں کو اس پکارنے میں بہت سی قیدیں لگانی پڑتی ہیں کبھی کہتے ہیں غائب کو پکارنا ، کبھی کہتے ہیں مردہ کو پکارنا، کبھی کہتے ہیں دور سے سنانے کیلئے پکارنا، کبھی کہتے ہیں مافوق الاسباب سنانے کے لئے دور سے پکارنا شرک ہے مگر پھر بھی نہیں مانتے پھر تعجب ہے کہ جب کسی کو پکارنا عبادت ہوا تو عبادت کسی کی بھی کی جائے شرک ہے ، زندہ کی یا مردہ کی ، قریب کی یادور کی پھر یہ قیدیں بے کار ہیں ۔ غرضکہ یہ معنی نہایت ہی غلط ہیں ۔ ان جگہوں میں دعا سے مراد پوجنا ہے ۔ اس معنی پر نہ کسی قید کی ضرورت ہے نہ کوئی دشواری پیش آسکتی ہے ۔دُعَا دَعْوٌ یا دَعْوَتٌ سے بناہے جس کے معنی بلانا یا پکارنا ہے ۔قرآن شریف میں لفظ دعا پانچ معنی میں استعمال ہوا ہے ۔۱۔پکارنا، ۲۔بلانا، ۳۔مانگنا یا دعا کرنا، ۴۔پوجنا یعنی معبود سمجھ کر پکارنا، ۵۔ تمنا آرزو کرنا۔ رب تَعَالٰی فرماتا ہے :
(۱) اُدْعُوْهُمْ لِاٰبَآىٕهِمْ هُوَ اَقْسَطُ عِنْدَ اللّٰهِۚ ( پ ۲۱، الاحزاب : ۵)
انہیں ان کے باپوں کی نسبت سے پکارو یہ اللہ کے نزدیک عدل ہے ۔
(۲) وَّ الرَّسُوْلُ یَدْعُوْكُمْ فِیْۤ اُخْرٰىكُمْ ( پ ۴، اٰل عمرٰن : ۱۵۳)
اور پیغمبر تم کو تمہارے پیچھے پکارتے تھے ۔
(۳) لَا تَجْعَلُوْا دُعَآءَ الرَّسُوْلِ بَیْنَكُمْ كَدُعَآءِ بَعْضِكُمْ بَعْضًاؕ ( پ ۱۸، النور : ۶۳)
رسول کے پکارنے کو بعض کے بعض کو پکارنے کی طر ح نہ بناؤ ۔
ان جیسی تمام آیات میں دعا بمعنی پکارنا ہے ۔ رب تَعَالٰی فرماتا ہے :
(۱) اُدْعُ اِلٰى سَبِیْلِ رَبِّكَ بِالْحِكْمَةِ وَ الْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ ( پ ۱۴، النحل : ۱۲۵)
اپنے رب کے راستہ کی طر ف لوگو ں کو حکمت اور اچھی نصیحت سے بلاؤ ۔
(۲) وَ ادْعُوْا شُهَدَآءَكُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ ( پ ۱، البقرۃ : ۲۳)
اور بلاؤ اپنے مدد گار وں کو اللہ کے سوا۔
(۳) وَ لْتَكُنْ مِّنْكُمْ اُمَّةٌ یَّدْعُوْنَ اِلَى الْخَیْرِ ( پ ۴، اٰل عمرٰن : ۱۰۴)
اور تم میں ایک گر وہ ایسا ہونا چاہیے جو بھلائی کی طر ف بلائے ۔
ان جیسی آیات میں دعا کے معنی بلانے کے ہیں ۔ رب تَعَالٰی فرماتا ہے :
(۱) اُدْعُوْا رَبَّكُمْ تَضَرُّعًا وَّ خُفْیَةًؕ ( پ ۸، الاعراف : ۵۵)
اپنے رب سے عاجزی سے خفیہ طو ر پر دعا مانگو ۔
(۲) اِنَّ رَبِّیْ لَسَمِیْعُ الدُّعَآءِ(۳۹) ( پ ۱۳، ابراہیم : ۳۹)
بے شک میرا رب دعا کا سننے والاہے ۔
(۳) رَبَّنَا وَ تَقَبَّلْ دُعَآءِ(۴۰) ( پ ۱۳، ابراہیم : ۴۰)
اے ہمارے رب میری دعا سن لے ۔

(۴) فَاِذَا رَكِبُوْا فِی الْفُلْكِ دَعَوُا اللّٰهَ مُخْلِصِیْنَ لَهُ الدِّیْنَ
( پ ۲۱، العنکبوت : ۶۵)
جب وہ کشتی پر سوار ہوتے ہیں توخداسے دعامانگتے ہیں دین کو اس کیلئے خالص کر کے ۔
(۵) وَّ لَمْ اَكُنْۢ بِدُعَآىٕكَ رَبِّ شَقِیًّا(۴) ( پ ۱۶، مریم : ۴)
اے میرے رب میں تجھ سے دعا مانگنے میں کبھی نامراد نہ رہا ۔
(۶) اُجِیْبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ اِذَا دَعَانِۙ ( پ ۲، البقرۃ : ۱۸۶)
میں دعا مانگنے والے کی دعا کو قبول کرتا ہوں جب مجھ سے دعا کرتا ہے۔
(۷) وَ مَا دُعَآءُ الْكٰفِرِیْنَ اِلَّا فِیْ ضَلٰلٍ(۱۴) ( پ ۱۳، الرعد : ۱۴)
اور نہیں ہے کافرو ں کی دعا مگر بربادی میں ۔
(۸) هُنَالِكَ دَعَا زَكَرِیَّا رَبَّهٗۚ ( پ ۳، اٰل عمرٰن : ۳۸)
وہا ں زکریا نے اپنے رب سے دعا کی ۔
ان جیسی تمام آیات میں دعا کے معنی دعا مانگنا ہیں ۔ رب تَعَالٰی فرماتا ہے :
وَ لَكُمْ فِیْهَا مَا تَشْتَهِیْۤ اَنْفُسُكُمْ وَ لَكُمْ فِیْهَا مَا تَدَّعُوْنَؕ(۳۱) نُزُلًا مِّنْ غَفُوْرٍ رَّحِیْمٍ۠(۳۲) ( پ ۲۴، حمٓ السجدۃ : ۳۱)
اور تمہارے لئے جنت میں وہ ہوگا جو تمہارے دل چا ہیں اور تمہارے لئے وہاں وہ ہوگا جس کی تم تمنا کرو ۔
اس آیت میں دعا بمعنی آرزو کرنا، چاہنا ، خواہش کرنا ہے۔(۱) اِنَّ الَّذِیْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ عِبَادٌ اَمْثَالُكُمْ ( پ ۹، الاعراف : ۱۹۴)
جنہیں تم خدا کے سوا پوجتے ہو وہ تم جیسے بندے ہیں ۔
(۲) وَّ اَنَّ الْمَسٰجِدَ لِلّٰهِ فَلَا تَدْعُوْا مَعَ اللّٰهِ اَحَدًاۙ(۱۸) ( پ ۲۹، الجن : ۱۸)
بے شک مسجدیں اللہ کی ہیں تو اللہ کے ساتھ کسی کو نہ پوجو۔
(۳) وَ مَنْ اَضَلُّ مِمَّنْ یَّدْعُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ مَنْ لَّا یَسْتَجِیْبُ لَهٗۤ اِلٰى یَوْمِ الْقِیٰمَةِ ( پ ۲۶، الاحقاف : ۵)
اس سے بڑھ کر گمراہ کون ہے جو خدا کے سوا ایسوں کو پوجتا ہے جو اس کی عبادت قبول نہ کرے قیامت تک ۔
(۴) قَالُوْا ضَلُّوْا عَنَّا بَلْ لَّمْ نَكُنْ نَّدْعُوْا مِنْ قَبْلُ شَیْــٴًـاؕ- ( پ ۲۴، المؤمن : ۷۴)
کافر کہیں گے کہ وہ غائب ہوگئے ہم سے بلکہ ہم ا س سے پہلے کسی چیز کو نہ پوجتے تھے ۔
(۵) وَ الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ لَا یَخْلُقُوْنَ شَیْــٴًـا وَّ هُمْ یُخْلَقُوْنَؕ(۲۰) اَمْوَاتٌ غَیْرُ اَحْیَآءٍۚ ( پ ۱۴، النحل : ۲۰، ۲۱)
اور وہ جن کی یہ مشرکین پوجا کرتے ہیں اللہ کے سوا وہ کسی چیز کو پیدا نہیں کرتے بلکہ وہ پیدا کئے جاتے ہیں یہ مردے ہیں زندہ نہیں ۔
(۶) وَ اِذَا رَاَ الَّذِیْنَ اَشْرَكُوْا شُرَكَآءَهُمْ قَالُوْا رَبَّنَا هٰۤؤُلَآءِ شُرَكَآؤُنَا الَّذِیْنَ كُنَّا نَدْعُوْا مِنْ دُوْنِكَۚ ( پ ۱۴، النحل : ۸۶)
اورجب مشرکین اپنے معبودوں کو دیکھیں گے تو کہیں گے اے رب ہمارے یہ ہمارے وہ معبود ہیں جنہیں ہم تیرے سوا پوجا کرتے تھے ۔
ان جیسی تمام وہ آیات جن میں غیر خدا کی دعا کو شرک وکفر کہا گیا یا اس پر جھڑکا گیا ان سب میں دعا کے معنی عبادت (پوجا) ہے اور یدعون کے معنی ہیں وہ پوجتے ہیں اس کی تفسیر قرآن کی ان آیتو ں نے کی ہے جہاں دعا کے ساتھ عبادت یا الٰہ کا لفظ آگیا ہے ، فرماتا ہے :
(۱) هُوَ الْحَیُّ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ فَادْعُوْهُ مُخْلِصِیْنَ لَهُ الدِّیْنَؕ-اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ(۶۵) قُلْ اِنِّیْ نُهِیْتُ اَنْ اَعْبُدَ الَّذِیْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ ( پ ۲۴، المؤمن : ۶۶)
وہ ہی زندہ ہے کہ اس کے سوا کوئی معبود نہیں تو اسے پوجو۔ اس کے لئے دین کو خالص کر کے سب خوبیاں اللہ رب العالمین کیلئے ہیں تم فرماؤ میں منع کیا گیا ہوں کہ انہیں پوجوں جنہیں تم اللہ کے سوا پوجتے ہو۔
اس آیت میں لَآ اِلٰہَ اِلَّا ہُوَ ا ور اَنْ اَعْبُدَ نے صاف بتادیا کہ یہاں دعا سے پوجنا مراد ہے نہ کہ پکارنا۔
(۲) وَ قَالَ رَبُّكُمُ ادْعُوْنِیْۤ اَسْتَجِبْ لَكُمْؕ-اِنَّ الَّذِیْنَ یَسْتَكْبِرُوْنَ عَنْ عِبَادَتِیْ سَیَدْخُلُوْنَ جَهَنَّمَ دٰخِرِیْنَ۠(۶۰) ( پ ۲۴، المؤمن : ۶۰)
اور تمہارے رب نے فرمایا کہ مجھ سے دعا کرومیں تمہاری دعاقبول کرو ں گا بیشک وہ جو میری عبادت سے تکبر کرتے ہیں وہ عنقریب ذلیل ہو کر دو زخ میں جائیں گے
یہاں دعا سے مراد دعا مانگنا ہے اور دعا بھی عبادت ہے اس لئے ساتھ ہی عبادت کا ذکر ہو افقط پکارنا مراد نہیں ۔
(۳) وَ مَنْ اَضَلُّ مِمَّنْ یَّدْعُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ مَنْ لَّا یَسْتَجِیْبُ لَهٗۤ اِلٰى یَوْمِ الْقِیٰمَةِ وَ هُمْ عَنْ دُعَآىٕهِمْ غٰفِلُوْنَ(۵) وَ اِذَا حُشِرَ النَّاسُ كَانُوْا لَهُمْ اَعْدَآءً وَّ كَانُوْا بِعِبَادَتِهِمْ كٰفِرِیْنَ(۶) ( پ ۲۶، الاحقاف : ۵۔۶)
اور اس سے بڑھ کر گمراہ کون ہے جو خدا کے سوا اس کی پوجا کرتا ہے جو قیامت تک اس کی نہ سنیں اور جب لوگوں کا حشر ہوگا تو یہ ان کے دشمن ہوں گے اور ان کی عبادت سے منکر ہوجاویں گے۔یہاں بھی دعا سے مراد پکارنا نہیں بلکہ پوجنا یعنی معبود سمجھ کرپکارنا مراد ہے کیونکہ ساتھ ہی ان کے اس فعل کو عبادت کہا گیا ہے۔ ان آیات نے ان تمام کی شرح کردی جہاں غیر خدا کی دعاکو شرک فرمایا گیا اور بتا دیا کہ وہاں دعا سے مراد پوجنا یا دعا مانگنا ہے اور دعا بھی عبادت ہے اگر غیر خدا کو پکارنا شرک ہوتا تو جن آیتو ں میں پکارنے کا حکم دیا گیا ۔ ان سے ان آیات کا تعارض ہوجاتا ۔ پکارنے کی آیات ہم نے ابھی پیش کردیں اس لئے عام مفسرین ان ممانعت کی آیتو ں میں دعا کے معنی عبادت کرتے ہیں ان کی یہ تفسیر قرآن کی ان آیتوں سے حاصل ہے ۔
اعتراض : دعا کے معنی کسی لغت میں عبادت نہیں دعا کے معنی بلانا، نداکر نا عام لغت میں مذکور ہیں لہٰذا ان تمام آیتوں میں اس کے معنی پکارنا ہی ہیں .

جواب : یہ بہت بڑا جھوٹ ہے اردو لغت کی مشہور کتاب فیروز اللغات میں دعا کے معنی اللّٰہ تعالیٰ کی عبادت کے ہی کیے گئے ہیں اوردعاکے لغوی معنی پکارنا ہیں او ر اصطلاحی معنی عبادت ہیں ۔ قرآن میں یہ لفظ دونوں معنوں میں استعمال ہوا جہاں دعا کی اجاز ت ہے وہا ں لغوی پکارنا مراد ہیں اور جہاں غیر خدا کی دعا سے ممانعت ہے وہاں عرفی معنی پوجنا مراد ہیں ۔ جیسے لغت میں صلوۃ کے معنی دعا ہیں اور عرفی معنی نماز۔ قرآن میں اَقِیْمُوا الصَّلٰوۃَ میں صلوٰۃسے مراد نمازہے اور صَلِّ عَلَیْہِمْ اور صَلُّوْاعَلَیْہِ وَسَلِّمُوْا تَسْلِیْمًا میں صلوٰۃسے مراددعا ہے ۔ تمہارا اعتراض ایسا ہے جیسے کوئی نماز کا انکار کردے اور کہے قرآن میں جہاں بھی صلوٰۃآیاہے وہاں دعامرادہے کیونکہ یہی اس کے لغوی معنی ہیں ایسے ہی طواف کے لغوی معنی گھومنا ہیں اورا صطلاحی معنی ایک خاص عبادت ہیں قرآن میں یہ لفظ دونوں معنوں میں استعمال ہو اہے ۔
دوسرے یہ کہ واقعی دعا کے معنی پکارنا ہیں مگر پکارنے کی بہت سی نوعیتیں ہیں جن میں سے کسی کو خدا سمجھ کر پکارنا عبادت ہے ، ممانعت کی آیات میں یہی مراد ہے یعنی کسی کو خدا سمجھ کر نہ پکارے ۔ اس کی تصریح قرآن کی اس آیت نے فرمادی :
وَ مَنْ یَّدْعُ مَعَ اللّٰهِ اِلٰهًا اٰخَرَۙ-لَا بُرْهَانَ لَهٗ بِهٖۙ-فَاِنَّمَا حِسَابُهٗ عِنْدَ رَبِّهٖؕ ( پ ۱۸، المؤمنون : ۱۱۷)
اور جو خدا کے ساتھ دوسرے خدا کو پکارے جس کی اس کے پاس کوئی دلیل نہیں تو اس کا حساب رب کے پاس ہے ۔
اس آیت نے خوب صاف فرمادیا کہ پکارنے سے خدا سمجھ کر پکارنا مراد ہے ۔

اعتراض : ان ممانعت کی آیتو ں میں پکارنا ہی مراد ہے مگر کسی کو دور سے پکارنا مراد ہے یہ سمجھ کر کہ وہ سن رہا ہے یہ ہی شرک ہے .

جواب : یہ بالکل غلط ہے ۔ قرآن کی ان آیتو ں میں دور نزدیک کا ذکر نہیں ۔ یہ قید آپ نے اپنے گھر سے لگائی ہے نیز یہ قید خود قرآن کی اپنی تفسیر کے بھی خلاف ہے لہٰذا مردود ہے نیز اگر دور سے پکارنا شرک ہو تو سب مشرک ہوجائیں گے حضرت عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے مدینہ منورہ سے حضرت ساریہ رضی اللہ تَعَالٰی عنہکو پکارا حالانکہ وہ نہا وند میں تھے ۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے کعبہ بنا کر تمام دور کے لوگوں کو پکارا اور تمام روحوں نے جو قیامت تک پیدا ہونیوالی تھیں انہوں نے سن لیا جس کا ذکر قرآن مجید میں ہے ۔ آج نمازی حضور علیہ السلام کو پکارتا ہے : اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ اَیُّھَا النَّبِیُّ اے نبی! علیہ الصلوۃ والسلام آپ پر سلام ہو ۔اگر یہ شرک ہو جاتا تو ہر نمازی کی نماز تو بعد میں ختم ہو۔ ایمان پہلے ختم ہوجائے آج موبائل کے ذریعہ دور سے لوگو ں کو پکارتے ہیں او روہ سن لیتے ہیں اگر کہا جائے کہ موبائل کی بجلی کی طاقت ایک سبب ہے اور سبب کے ماتحت دور سے سننا شرک نہیں تو ہم بھی کہیں گے کہ نبوت کے نور کی طاقت بھی ایک سبب ہے اور سبب کے ماتحت سننا شر ک نہیں غرضیکہ یہ اعتراض نہایت ہی لغوہے ۔
اعتراض : ممانعت کی آیتو ں میں مردو ں کو پکارنا مراد ہے یعنی مرے ہوئے کو پکارنا یہ سمجھ کر کہ وہ سن رہاہے شرک ہے ۔

جواب : یہ بھی غلط ہے چند وجہ سے ایک یہ کہ یہ قید تمہارے گھر کی ہے قرآن میں نہیں آئی۔ رب تَعَالٰی نے مردہ ، زندہ ، غائب ، حاضر ، دور نزدیک کی قید لگا کر ممانعت نہ فرمائی ۔ لہٰذا یہ قید باطل ہے ۔ دوسرے یہ کہ یہ تفسیر خود قرآن کی تفسیر کے خلاف ہے ۔ اس نے فرمایا کہ دعا سے مراد عبادت ہے ۔ تیسرے یہ کہ اگر مردو ں کو پکارنا شرک ہو تو ہرنمازی نمازمیں حضور علیہ الصلوۃ والسلام کو پکارتا ہے : اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ اَیُّھَا النَّبِیُّ اے نبی! علیہ الصلوۃ والسلام آپ پر سلام ہو، حالانکہ حضور وفات پاچکے ہیں ہم کو حکم ہے کہ قبر ستان جا کر یوں سلام کریں : اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ دَارَ قَوْمٍ مِّنَ الْمُسْلِمِیْنَ ، اے مسلمانوں کے گھر والو! تم پر سلام ہو۔
ابراہیم علیہ السلام نے ذبح کیے ہوئے پرندوں کو پکارا اور انہوں نے سن لیا ۔ رب تَعَالٰی نے فرمایا :
ثُمَّ ادْعُهُنَّ یَاْتِیْنَكَ سَعْیًاؕ ( پ ۳، البقرۃ : ۲۶۰)
پھر ان مرے ہوئے پرندوں کو پکار و وہ دوڑتے ہوئے تم تک آجائیں گے ۔
حضرت صالح علیہ السلام اور حضرت شعیب علیہ السلام نے قوم کو ان کی ہلاکت کے بعد پکارا ، صالح علیہ السلام کا قصہ سورۂ اعراف میں اس طر ح بیان ہوا :
فَاَخَذَتْهُمُ الرَّجْفَةُ فَاَصْبَحُوْا فِیْ دَارِهِمْ جٰثِمِیْنَ(۷۸) فَتَوَلّٰى عَنْهُمْ وَ قَالَ یٰقَوْمِ لَقَدْ اَبْلَغْتُكُمْ رِسَالَةَ رَبِّیْ وَ نَصَحْتُ لَكُمْ وَ لٰكِنْ لَّا تُحِبُّوْنَ النّٰصِحِیْنَ(۷۹)
( پ ۸، الاعراف : ۷۸۔۷۹)
تو انہیں زلزلے نے پکڑلیا تو وہ اپنے گھروں میں اوندھے پڑے رہ گئے تو صالح نے ان سے منہ پھیر ا اور کہا اے میری قوم بے شک میں نے تم تک اپنے رب کا پیغام پہنچادیا اور تمہارا بھلا چاہا مگر تم خیر خواہوں کو پسند نہیں کرتے ۔
شعیب علیہ السلام کا واقعہ اسی سورۂ اعراف میں کچھ آگے یوں بیان فرمایا :
فَتَوَلّٰى عَنْهُمْ وَ قَالَ یٰقَوْمِ لَقَدْ اَبْلَغْتُكُمْ رِسٰلٰتِ رَبِّیْ وَ نَصَحْتُ لَكُمْۚ-فَكَیْفَ اٰسٰى عَلٰى قَوْمٍ كٰفِرِیْنَ۠(۹۳)( پ ۹، الاعراف : ۹۳)
شعیب نے ہلاکت کفار کے بعد ان سے منہ پھیرا اور کہا اے میری قوم ! میں نے تجھے اپنے رب کے پیغام پہنچا دیئے اور تمہاری خیر خواہی کی تو میں کا فر قوم پر کیسے غم کرو ں ؟
ان دونوں آیتو ں میں فَتَوَلّٰی کی ف سے معلوم ہوا کہ ان دونوں پیغمبر وں علیہما الصلوۃ والسلام کا یہ خطاب قوم کی ہلاکت کے بعد تھا ۔ خود ہمارے نبی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے بدر کے دن مرے ہوئے ابوجہل، ابولہب، امیہ ابن خلف وغیرہ کفار کو مخاطب کیا اور حضرت فاروق اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے عرض کرنے پر فرمایا کہ تم ان مردوں سے زیادہ نہیں سنتے ۔
( صحیح البخاری ، کتاب الجنائز ، باب ماجاء فی عذاب القبر ، الحدیث ۱۳۷۰، ج ۱، ص ۴۶۲، دار الکتب العلمیۃ )
کہیے ! اگر قرآن کے فتوے سے مردوں کو پکارنا شرک ہے تو ان انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام کے اس پکارنے کا کیا جواب دوگے ۔ غرضیکہ یہ اعتراض محض باطل ہے ۔

اعتراض : کسی کو دور سے حاجت روائی کے لئے پکارنا شرک ہے اور ممانعت کی آیتو ں میں یہی مراد ہے لہٰذا اگر کسی نبی ولی کو دور سے یہ سمجھ کر پکارا گیا کہ وہ ہمارے حاجت روا ہیں تو شرک ہوگیا ۔

جواب : یہ اعتراض بھی غلط ہے ۔ اولًا تو اس لئے کہ قرآن کی ممانعت والی آیتو ں میں یہ قید نہیں تم نے اپنے گھر سے لگائی ہے ۔لہٰذا معتبر نہیں ۔ دو سرے اس لئے کہ یہ تفسیر خود قرآن کی اپنی تفسیر کے خلاف ہے جیسا کہ ہم نے بیان کر دیا ۔ تیسرے اس لئے کہ ہم نے بتادیا کہ اللہ کے بندے دور سے سنتے ہیں خواہ نورنبوت سے یا نور ولایت سے۔جب یہ دونوں باتیں علیحد ہ علیحد ہ صحیح ہیں تو ان کا مجموعہ شرک کیونکر ہوسکتا ہے ۔قرآن فرمارہا ہے کہ اللہ کے بندے وفات کے بعد سن بھی لیتے ہیں اور جواب بھی دیتے ہیں جوخاص خاص کو محسوس ہوتا ہے ۔ رب فرماتا ہے :
وَ سْــٴَـلْ مَنْ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ مِنْ رُّسُلِنَاۤ اَجَعَلْنَا مِنْ دُوْنِ الرَّحْمٰنِ اٰلِهَةً یُّعْبَدُوْنَ۠(۴۵) ( پ ۲۵، الزخرف : ۴۵)
اے حبیب ان رسولوں سے پوچھوجو ہم نے آپ سے پہلے بھیجے کیا ہم نے خدا کے سوا ایسے معبود بنائے ہیں جن کی عبادت کی جائے ۔
غور کر و کہ نبی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے زمانہ میں انبیاء سابقین علیہم الصلوۃ والسلام وفات پاچکے تھے۔ مگر رب تَعَالٰی فرمارہا ہے کہ اے محبوب ! ان وفات یافتہ رسولوں سے پوچھ لوکہ کیا کوئی خدا کے سوا اور معبود ہے اور پوچھا اس سے جاتا ہے جو سن بھی لے اور جواب بھی دے ۔پتا لگا کہ اللہ کے بندے بعد وفات سنتے اور بولتے ہیں معراج کی رات سارے وفات یافتہ رسولوں نے حضور علیہ الصلوۃ والسلام کے پیچھے نماز پڑھی ۔
خلاصہ یہ ہے کہ دعا قرآن کریم میں بہت سے معنوں میں استعمال ہوا ہے ہر جگہ اس کے وہ معنی کرنا چاہئیں جو وہاں کے مناسب ہیں ۔ جن یتیم العلم بیچاروں نے ہرجگہ اس کے معنی پکارنا کئے ہیں وہ ایسے فحش ہیں جس سے قرآنی مقصد فوت ہی نہیں بلکہ بدل جاتا ہے۔ اسی لئے ان یتیم العلم بیچاروں کو اس پکارنے میں بہت سی قیدیں لگانی پڑتی ہیں کبھی کہتے ہیں غائب کو پکارنا ، کبھی کہتے ہیں مردہ کو پکارنا، کبھی کہتے ہیں دور سے سنانے کیلئے پکارنا، کبھی کہتے ہیں مافوق الاسباب سنانے کے لئے دور سے پکارنا شرک ہے مگر پھر بھی نہیں مانتے پھر تعجب ہے کہ جب کسی کو پکارنا عبادت ہوا تو عبادت کسی کی بھی کی جائے شرک ہے ، زندہ کی یا مردہ کی ، قریب کی یادور کی پھر یہ قیدیں بے کار ہیں ۔ غرضکہ یہ معنی نہایت ہی غلط ہیں ۔ ان جگہوں میں دعا سے مراد پوجنا ہے ۔ اس معنی پر نہ کسی قید کی ضرورت ہے نہ کوئی دشواری پیش آسکتی ہے ۔

03/09/2024

کیا اللّٰہ کے علاوہ کسی بھی مخلوق سے (زندہ ہو یا مردہ)مخلوق سمجھ کر مانگنا شرک کہلاتا ہے ؟.



21/08/2024

"اس بیان میں دینِ اسلام کی اہمیت اور ہمارے روزمرہ کے مسائل کا حل قرآن و سنت کی روشنی میں بیان کیا گیا ہے۔ اس ویڈیو کو دیکھ کر اپنی زندگی کو اسلامی اصولوں کے مطابق بہتر بنائیں اور اپنے ایمان کو مضبوط کریں

21/08/2024

**بسم اللہ الرحمن الرحیم**
**السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ**

تمام نئے اور موجودہ دوستوں کو ہماری اسلامی Facebook پیج پر خوش آمدید!

یہ پیج اللہ کے کلام اور نبی کریم ﷺ کی سنت کی روشنی میں اسلامی تعلیمات، احادیث مبارکہ، اور علم دین سے متعلق معلومات فراہم کرنے کے لیے بنایا گیا ہے۔ ہمارا مقصد آپ کے ایمان کو مضبوط کرنا اور آپ کو دینی مسائل پر رہنمائی فراہم کرنا ہے۔

ہمارے ساتھ جڑ کر اسلامی بیانات، روزمرہ کے اذکار، اور اسلامی تاریخ سے سیکھنے کا موقع پائیں۔ اپنی زندگی کو دین اسلام کے مطابق بہتر بنانے کے لیے ہمارے مواد سے استفادہ کریں۔

پیج کو لائک کریں، شیئر کریں، اور ہمیں اپنی دعاؤں میں یاد رکھیں۔

جزاکم اللہ خیراً!
**والسلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ**

Address


Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Rad- E-Batil posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

  • Want your business to be the top-listed Realtor/realty Service?

Share