Arifa Muzaffar - Real Estate Agent

Arifa Muzaffar - Real Estate Agent A boutique real estate brokerage that is built on a unique concept of providing a one stop solution to its clients.

A boutique real estate brokerage that is built on a unique concept of providing a one stop solution to its clients and agents, by bringing together a wide range of real estate related services and professionals under one roof. Our mission is to provide unparalleled and professional services, in quality and range to our clients and agents in the residential, commercial and construction/development

real estate sectors. We offer better value than our competitors, by using progressive methodologies, innovative tools and state of the art technologies.

Luxury Living With South West views, 1+1 Massey Tower On Yonge Street WITH TWO(2) LOCKERS, Den Can Be The Second Bedroom...
08/09/2026

Luxury Living With South West views, 1+1 Massey Tower On Yonge Street WITH TWO(2) LOCKERS, Den Can Be The Second Bedroom from the 35th Floor, Fully , Designer Kitchen With B/I Top Of the Line Appliances, Engineered Hardwood Floors Throughout, Smooth Ceiling, Balcony Overlooking Spectacular Panoramic Views Of the Lake And Downtown Toronto, Face Yonge St, Open View Of Toronto City Hall, Unit Comes/W 2 Lockers, Best Location Directly across The Eaton Centre,Just Steps to Dundas Subway Fvie Star Amanities Building Including Roof Top Deck/Garden, Fitness Centre, Steam Room, Night Life, Public Transit, Subway All At Your Doorsteps,Three Large Built-In Closets. Modern Kitchen With Center Island. 24 Hour Concierge. A Must See! All measurement must be verified by buyer and buyer's agent. thanks
listed for, $549000.
Taxes. $3,637.20,
Maintenance $718.89
Dir/Cross St. Yonge/Dundas
Directions. Yonge/Dundas
A/C. Central Air
Heating Type. Forced Air
Balcony. Open
Laundry Ensuite
Locker. Owned

نظام ڈھے جانے کی 68 سالہ پرانی خبر ڈاکٹر شہزاد اقبال شام روزنامہ پاکستان 9 اگست 2026 https://dailypakistan.com.pk/09-Aug...
08/09/2026

نظام ڈھے جانے کی 68 سالہ پرانی خبر
ڈاکٹر شہزاد اقبال شام روزنامہ پاکستان 9 اگست 2026

https://dailypakistan.com.pk/09-Aug-2026/1951043
"
68 سال پرانی یہ خبر کہ "ملکی نظام ڈھہ چکا ہے"، وزیر داخلہ کو ہمیں سنانے کی ضرورت نہیں تھی۔ ملکی نظام ان کی پیدائش سے 20 سال قبل 7 اکتوبر 1958 کو ملک فیروز خان نون کی معزولی کے ساتھ ہی ڈھا دیا گیا تھا۔ وزیراعظم نون کے ساڑھے 12 ہزار مربع کلومیٹر گوادر کو مسقط سے لے کر ملک میں شامل کرنے تک نظام ٹھیک تھا۔ ذرا ان کی معزولی کا سبب تو بتائیں۔ نظام ڈھا کر سینکڑوں مربع کلومیٹر ایران کو، ہزاروں مربع کلومیٹر چین کو، 55 ہزار مربع میل مکتی باہنی کو اور سینکڑوں مربع میل سیاچین بھارت کو دے دیا گیا۔ "شکریہ راحیل شریف" نے ایک چوکی انگور اڈہ افغانستان کو بخشی تو کرنل انعام عدالت جا پہنچے کہ "سرحدوں میں تبدیلی صوبائی اور وفاقی اسمبلیوں و حکومتوں کا اختیار ہے، انگور اڈا کا یہ تماشا کیا ہے"؟ گرا ہوا نظام اٹھانے کی کرنل انعام کی یہ عاجزانہ سی کوشش تھی۔ وزیر داخلہ نے نظام ڈھہ جانے کی خبر جس کسی سے سنی ہے اسے بتا دیں کہ 1958 والے پاکستانی مر چکے ہیں. مہم جوئی؟ مشتری ہوشیار باش!

آئین شکنوں کے محصولہ بدنما دھبے فوج نے حالیہ پاک بھارت جنگ میں لگ بھگ 70 فیصد دھو دیے تھے۔ جنگ تو ایئر فورس نے لڑی تھی۔ تاہم نیوی و آرمی کا چوکنا رہنا بھی اہم تھا۔ یہ جنگ ایئر چیف اور ہمارے جانباز ہوا بازوں نے وزیراعظم کی قیادت میں لڑی تھی۔ جنگی روایت کے تحت پیچھے چھاونی میں جوتے گانٹھنے والا موچی بھی تمغہ جنگ پاتا ہے۔ گویا ایئر فورس کی جنگ ہونے کے باوجود یہ تینوں افواج کی جنگ تھی۔ میری شعوری زندگی کا یہی ایک وہ سال ہے جو میں نے آسودگی اور بے فکری سے گزارا۔ خیبر اور بلوچستان میں اوسطا نصف درجن محافظ روزانہ شہید ہونے پر بھی میں یہی سوچتا کہ ملک مضبوط ہاتھوں میں ہے۔ ٹی ٹی پی اور بی ایل اے نامی فتنوں سے بھی ہم نمٹ لیں گے۔

ادھر فیلڈ مارشل صاحب کی تقریر آیات و احادیث لیے ہوتی ہے۔ فارم 45 و 47 پر میرا ذہن واضح تھا۔ میں یہی دلیل دیتا رہا کہ ہم 10، 10 سال مارشل لا بھگت چکے ہیں، فارم 47 والی یہ حکومت اس سے تو بہتر ہے، لہذا اگلے انتخابات کی تیاری کیجئے۔ آیات و احادیث سنتے سنتے میں وجد میں آجاتا کہ ہو نہ ہو، جنرل ضیا کے ادھورے کام ان کا یہ تسلسل مکمل کرے گا۔ اللہ بھلا کرے، وزیر داخلہ کا جنہوں نے پورا نظام ڈھہ جانے کی خبر سناکر ملک کو متعدد صوبوں میں تقسیم کرنے کا عندیہ دیا۔ اسی حالت وجد میں اپنے علامہ مرحوم نے مجھے جھنجوڑا: "ارے او خوابیدہ بالک! غفلت کی گہری نیند, گہری نیند, گہری نیند سے اٹھ جا ( از خواب گراں, خواب گراں, خواب گراں خیز)۔ میں بیدار تو ہو گیا، پر نیم خوابیدہ سا رہا۔ کیا کہا آیات و احادیث اور جنرل ضیا کا تسلسل؟ "زلف آوارہ گریباں چاک او مست شباب/تیری صورت سے تجھے درد آشنا سمجھا تھا میں". سامنے دیکھا تو سلمان تاثیر کے ابا اور علامہ کے مصاحب محمد دین تاثیر کھڑے اپنا دیوان پڑھ رہے تھے۔

حساس گفتگو سے قبل میں مختلف نمائندہ افراد سے بات کر کے لکھتا ہوں۔ اس دفعہ کچھ زیادہ افراد سے رائے لی۔ صوبوں والا بیان تو وزیر داخلہ کا تھا لیکن لوگوں سے پتا چلا کہ جنگ سے ملی نیک نامی بیان کے ساتھ ہی ہوا میں اڑ گئی۔ میں سمجھتا تھا کہ مقتدرہ سے صرف تحریک انصاف نالاں ہے اور حکومتی جماعتیں خاموش رہ کر بھی وہی جذبات رکھتی ہیں۔ لیکن پتا چلا کہ میثاق جمہوریت کی اسپرٹ پر قوم جتنی آج متحد ہے، اتنی کبھی نہیں رہی۔ کون سی جنگی فتح، کیسا نظام، کہاں کے صوبے، کیا ان پڑھ اور کیا دانشور کسی بھی ہوش مند شخص کا اب یہ سب کچھ مسئلہ ہی نہیں رہا۔ کہاں کی آیات اور کیسی احادیث، پوری قوم کو میں نے اس بیان کے بعد دو ہی زمروں میں پایا۔ قائد والی فکر کے اسیر کروڑوں پاکستانی اور جنرل گریسی کا تسلسل۔ یہ دوسرا زمرہ صرف چند لاکھ میں ہے۔ یہ لاکھوں بھی لا تعلق پاکستانی ہی ہیں، ما سوائے ان کے کہ جن پر پینٹاگونی کلبوت چڑھے ہیں۔

ٹرانس اٹلانٹک تھپکیوں نے ایک کو فخر ایشیا تو اگلے کو متحدہ پاکستان کا آخری صدر بنا ڈالا، مرد حق سے کام لیا پھر ٹشو پیپر قرار دے دیا۔ بزدل سورما کا صدارتی نظام کولن پاول کی ایک کال پر ڈھہ گیا تھا۔ اسی کال کے نتیجے میں آج خیبر اڑھائی عشروں سے خونم خون ہے۔ بڈھے بلوچ کو مار کر چہکتا صوبہ آتش فشاں کر دیا۔ آزاد کشمیر کو گریڈ 20 سے چلایا تو نتیجہ کالعدم ایکشن کمیٹی کو ناقابل یقین تقویت دینا نکلا۔

سندھ میں قوم پرستوں کا قلع قمع کرنے میں پیپلز پارٹی کا اہم کردار رہا ہے۔ بھلے اس نے کراچی کو کھنڈر بنا دیا ہے، درست کہ اس کے سندھی اسکور بورڈ پر کوئی ترقیاتی کام نہیں لیکن یہ جماعت بہرحال وفاق کی علامت ہے۔ سندھ سے شورش دور کرنے اور اسے وفاق میں رکھنے کو اس نے قوم پرستوں کو ختم کر دیا۔ چنانچہ آپ کو جان لینا چاہیے کہ ٹرانس اٹلانٹک تھپکیوں کا مقصد ہوتا کیا ہے۔ حرف آخر ذہن ان تھپکیوں پر آج یوں تو نقطہ انتہا پر ہے لیکن عملاً یہ ذہن وہیں 1958 میں ہے۔ نئے صوبوں کا فتنہ آگے کرتے ہی سندھ بھی خیبر، بلوچستان اور آزاد کشمیر بنتا چلا جائے گا۔ "نظام ڈھہ چکا ہے" سے میں تو اس کے "عزیز ہم وطنو" والے ترجمے سے آگے جاتا ہی نہیں۔ اے خبردار! عوام 1958 والی کینچلی اتار کر آج 2026 میں پھنکاریں مار رہے ہیں۔

آج کوئی ایک ریاستی زمرہ ایسا نہیں جو قومی خزانے پر جائز ناجائز طریقے سے نہ جھپٹ رہا ہو۔ ججوں کو چھوڑیے، سپریم کورٹ کے ڈرائیور کی تنخواہ وفاقی سیکرٹری سے بھی زیادہ، اور سیکرٹری کی دوڑ مزید کی طرف۔ ارکان اسمبلی ناقابل یقین مراعات لے کر وہ کچھ مزید مانگ رہے ہیں کہ ابلیس بھی کان دبا کر بیٹھ جائے۔ رہے عوام تو وہ آتش بداماں ہو چکے ہیں۔ میں تو کسی انہونی سے لرزاں ہوں۔ آج ہمیں نئے صوبے نہیں با اختیار بلدیاتی ادارے اور اوپر کی سطح پر محمد خان جونیجو جیسا نستعلیق اور آہنی اعصاب والا وزیراعظم چاہیے۔ وہی جونیجو جس نے جرنیلوں کو بڑی بڑی شیورلیٹوں، مرسیڈیز اور فورڈ سے نکال کر ہزار سی سی والی خیبر میں بٹھا دیا تھا۔ یہی نیا نظام ہے اور یہی انقلاب ہے۔

68 سال پرانی یہ خبر کہ ”ملکی نظام ڈھہ چکا ہے“، وزیر داخلہ کو ہمیں سنانے کی ضرورت نہیں تھی۔ ملکی نظام ان کی پیدائش سے 20 سال قبل 7 اکتوبر 1958ء کو

Formal Complaint: Distraction Theft and Failure to Properly File Police ReportDear Haroon bhiI am writing to formally re...
05/07/2026

Formal Complaint: Distraction Theft and Failure to Properly File Police Report

Dear Haroon bhi
I am writing to formally report a serious incident of distraction theft involving my elder sister, Ms. Bushra Haroon, age 79, who resides in Brampton at 46 Glen Grove Crest, and to raise concern regarding the handling of her case at the police station.
On Thursday, between approximately 12:00 p.m. and 12:30 p.m., my sister was gardening outside her residence when a vehicle (a Honda CR-V) approached. A man (driver) and a woman (passenger), appearing to be of Caribbean origin, asked her for directions to an Indian grocery store. While she was standing near their car and assisting them, the woman engaged her in conversation and extended her hand in gratitude, stating that my sister reminded her of her mother.
The situation quickly escalated into a distraction theft. The woman placed an artificial chain around my sister’s neck and attempted to gift her a bangle. During this time, the male driver reached out from the car and held my sister’s hand, further distracting her. The woman then removed my sister’s real gold bangles under the pretense of putting on the gifted item.
Although my sister realized briefly and tried to secure her belongings by placing her gold bangles in her jacket pocket, the suspects managed to steal both her gold chain with pendant and her gold bangles from her pocket before leaving the scene. They also left behind artificial jewelry wrapped in paper.
My sister is a cancer survivor and diabetic, making this incident particularly distressing and traumatic for her.
Immediately after the incident, she sought assistance from a neighbour and went to the police station. She provided a full statement to a female officer, and an officer in charge confirmed that a report would be filed. She was given a report number at that

However, when she returned to the police station on Monday to follow up, she was informed that no report had been filed. Instead, she was given a card and told that there are “400 cases” and that she would be contacted if necessary. This response is deeply concerning and unacceptable.

IMG_2088.jpeg

We respectfully request:
Confirmation that the incident is officially recorded and properly documented.
Immediate investigation into the theft.
Clarification as to why no report appears to have been filed despite her initial visit and statement.
Assurance that appropriate procedures will be followed in handling this case.
This incident not only involves a serious crime targeting a vulnerable senior but also raises concerns about the adequacy of the response and accountability within the police service.
We look forward to your prompt attention to this matter.
Sincerely,

Arifa Muzaffar
CEO: Saaz’O Awaz Broadcasting ltd
6478986245
WWW.eawaz.com
Fb: eawaz radio.
YouTube: eawaz tv canada
Listen live on phone. 6478724900

Eawaz is the medium that allows us to bridge gaps between people, communities, interests, information and resources.

04/26/2025

Address

25 Watline Avenue, Suite #402
Mississauga, ON
L4Z2Z1

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Arifa Muzaffar - Real Estate Agent posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Arifa Muzaffar - Real Estate Agent:

Shortcuts

Share