08/07/2026
آج ایک مزدور بھائی کو دیکھا جو دوپہر کی شدید گرمی میں دیوار کے ساتھ بیٹھا تھا۔
میں نے سمجھا شاید آرام کر رہا ہے۔
پاس گیا تو دیکھا وہ اپنی چپل اتار کر پاؤں دبا رہا تھا۔
میں نے پوچھا،
“بھائی، طبیعت تو ٹھیک ہے؟”
ہلکا سا مسکرایا اور بولا،
“طبیعت ٹھیک ہے… بس پاؤں تھک گئے ہیں۔ ابھی دو جگہ اور کام کرنا ہے، پھر گھر جاؤں گا۔”
میں نے کہا،
“تھوڑی دیر اور آرام کر لیں۔”
وہ آسمان کی طرف دیکھ کر بولا،
“آرام تو کر لوں… لیکن پھر بچوں کا خرچ کون پورا کرے گا؟ اللہ نے آج کا رزق میرے نام لکھا ہے، مجھے صرف اس تک پہنچنا ہے۔”
اس کے بعد میرے پاس کہنے کو کچھ نہیں تھا۔
ہم اکثر لوگوں کے کپڑے دیکھتے ہیں، ان کی جیب دیکھتے ہیں، مگر ان کے کندھوں پر رکھی ذمہ داریاں نہیں دیکھتے۔
اللہ تعالیٰ ہر محنت کرنے والے کی تھکن کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے، ان کے رزق میں برکت عطا فرمائے اور کسی سفید پوش کو کسی کے سامنے ہاتھ پھیلانے کی نوبت نہ آئے۔ آمین۔ 🤲❤️
🤲❤️