Abu ul Qasim Awais Attari Rizvi Ziyai

Abu ul Qasim Awais Attari Rizvi Ziyai Informations de contact, plan et itinéraire, formulaire de contact, heures d'ouverture, services, évaluations, photos, vidéos et annonces de Abu ul Qasim Awais Attari Rizvi Ziyai, Immobilier, Democratic Republic of the.

28/03/2025
07/12/2024

صدیق اکبر رضی الله عنه

کوٹ مٹھن خواجہ غلام فرید رحمتہ اللہ علیہ کے مزار پر حاضری
27/07/2024

کوٹ مٹھن خواجہ غلام فرید رحمتہ اللہ علیہ کے مزار پر حاضری

28/05/2024

فلسطین کا تعارف۔امت مسلمہ پہ ظلم اور ہمارا کردار
اسلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ ۔
(سبحان الذی اسریٰ بعبدہ لیلا من المسجد الحرام الی المسجد الاقصیٰ الذی بارکنا حولہ لنیریہ من ایاتنا انہ ھو السمیع البصیر)۔ ترجمہ کنز العرفان ۔(پاک ہے وہ زات جس نے اپنے خاص بندے کو رات کے کچھ حصے میں مسجد حرام سے مسجد اقصیٰ تک سیر کرائی جس کے اردگرد ہم نے برکتیں رکھی ہیں تاکہ ہم اسے اپنی عظیم نشانیاں دکھائیں۔ بے شک وہی سننے والا دیکھنے والا ہے) ۔۔۔ ( پارہ 15 سورت بنی اسرائیل آیت نمبر 1)۔ روح البیان جلد 1 صفحہ 102۔ پر ہے (من زار بیت المقدس محتسبا اعطاہ اللہ ثواب الف شھید وحرم اللہ جسدہ علی النار ومن زار عالما فکأنما زار بیت المقدس) جس نے ثواب کی نیت سے بیت المقدس کی زیارت کی اللہ تعالیٰ اسے ہزار شھیدوں کا درجہ عطا فرمائے گا اور اللہ تعالیٰ اس کا جسم دوزخ کی آگ پر حرام کردے گا اور جس نے عالم کی زیارت کی تو گویا اس نے بیت المقدس کی زیارت کی اور بھی بہت سی احادیث کریمہ مسجد اقصیٰ کی فضیلت کی شاہد ہیں
آیئے بیت المقدس کو کچھ تاریخ کے آئینے میں دیکھتے ہیں۔ دنیا کے جن شہروں کی عزت وتکریم ہے ان میں سے ایک یروشلم (بیت المقدس) ہے جو مسلمانوں یہودیوں اور عیسائیوں کے لیے یکساں باعثِ عزت و احترام ہے بیت المقدس کی تاریخ اتنی ہی پرانی ہے جس قدر کے نسل انسانی اور اس کی تاریخ ۔ یہ مقدس شہر کتنی ہی بار اجڑا اور پھر اس تابانی کے ساتھ آباد ہوا۔ ( بیت المقدس)۔ آخری بار جب اس شہر کو جب سکون حاصل ہوا وہ سلطنت عثمانیہ کے قیام تک جاری رہا سلطنت عثمانیہ کے زوال کے اب یہ پھر اپنی پرانی تاریخ میں داخل ہوچکا ہے اور پچھلے سات آٹھ ماہ سے یہودیوں کی درندگی کا شکار ہے
اور اس پر امت مسلمہ کی خاموشی باعث شرم ہے اس کی قدر و منزلت اور فضیلت میں بہت سی باتیں ہیں مگر ان سب میں اعلیٰ بات یہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بیت المقدس کی طرف منہ کرکے سترہ یا اٹھارہ مہینے نماز ادا فرمائی ( تفسیر جلالین) اس سے معلوم ہوا کہ بیت المقدس ہمارا قبلہ اول ہے اور اس کا ادب و احترام ہمارے ایمان کا حصہ ہے مگر ہم آج بحثیت مسلمان اپنے فلسطینی بھائیوں کا کتنا ساتھ دے رہے ہیں آج ہر شخص جہاد کی بات کررہا ہے جو بلکل درست بھی ہے لیکن جب تک مملکت اسلامیہ جہاد کا اعلان نہیں کرتی تب تک ضروری ہے کہ ہم ممکنہ ذرائع کے زریعے سے اپنے فلسطینی بھائیوں کی مدد کریں ۔مثال کے طور پر دعوت اسلامی کا شعبہ ایف جی آر ایف امدادی سرگرمیوں میں مصروف ہے تو ہمیں چاہیے کہ جتنا ممکن ہوسکے ان کی مدد کریں تاکہ یہ لوگ آپ کے فلسطینی بھائیوں کی مدد کریں اور آپ کے دل کو راحت محسوس ہو۔
مگر میں بحثیت مسلمان امت مسلمہ کے لیڈروں سے گزارش کروں گا کہ وہ اس مسئلہ کو حل کرنے میں اس طرح کردار ادا کریں جس طرح وہ اپنے اپنے ممالک کے مسائل کو حل کرنے کے لیے آواز اٹھاتے ہیں کیونکہ یہ فقط ایک یروشلم (قدس) کا مسئلہ نہیں بلکہ پوری امت مسلمہ کا مسئلہ ہے جیسے یہودیوں نے آپس میں اتحاد کیا ہوا ہے ایک اتحاد کی ضرورت امت مسلمہ کو بھی ہے ۔ جو مسلمان یا مسلمان ممالک یہ امید لگائے بیٹھے ہیں کہ بڑی طاقتیں اس مسئلے کو حل کریں گی وہ اس غلط فہمی کا شکار نہ ہوں کیونکہ اگر بڑی طاقتوں نے اس مسئلے کا کوئی حل نکالنا ہوتا تو وہ یہ کر چکے ہوتے۔
میں بحثیت مسلمان تمام امت مسلمہ کے لیڈروں اور مسلمانوں سے گزارش کرتا ہوں کہ آپس میں اتحاد قائم کرکے جلد از جلد مسئلہ فلسطین کو حل کریں ورنہ روز قیامت رب تعالیٰ اور اس کے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے مجرم بن کر پیش ہونے کے لیے تیار رہیئے گا۔ آخر میں اپنے تمام مسلمان بھائیوں جن پر ظلم ہو رہا ہے بلخصوص فلسطین برما کشمیر کے بھائیوں کے لیے دعا کرتا ہوں کہ اللہ پاک ان پر اپنا رحم وکرم نازل فرمائے اور بلخصوص حماس کے بھائیوں کو فتح یابی عطا فرمائے اور اللہ تعالیٰ امت مسلمہ میں اپنے مظلوم بھائیوں کی مدد کے لیے اتحاد و اتفاق عطا فرمائے (آمین)۔
ابو القاسم محمد اویس عطاری
27 May 2k24
بروز پیر شریف

27/02/2024

💓💓علم دین کی فضیلت اور علم دین کن سے حاصل کیا جائے 💓💓
تفسیر کبیر میں ہے سرکار نامدار صلی اللہ علیہ وسلم ایک صحابی رضی اللہ عنہ سے محو گفتگو تھے کہ وحی آئی یہ شخص جو آپ کے ساتھ بات کر رہا ہے اسکی عمر صرف ایک ساعت اور باقی رہ گئی ہے وہ عصر کا وقت تھا سرکار مدینہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس صحابی رضی اللہ عنہ کو اس بات سے آگاہ فرمایا تو وہ بیقرار ہوگئے اور عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے ایسا عمل بتائیے جو اس وقت میرے لیئے زیادہ مناسب ہو سرکار مدینہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اشتغل بالتعلم یعنی علم حاصل کرنے میں مشغول ہو جاؤ تو وہ علم حاصل کرنے میں مشغول ہو گئے اور مغرب سے قبل انتقال فرما گئے راوی کہتے ہیں اگر علم سے افضل کوئی اور چیز ہوتی تو سرکار صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت میں اسی کے کرنے کا حکم فرماتے۔ ایک حدیث میں فرمایا علماء انبیاء کے وارث ہیں اور اسی طرح بہت سی احادیث اور واقعات علم دین کی فضیلت اور علماء کی شان میں وارد ہوئے ہیں اب ذہن میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ علم دین کے اتنے سارے فضائل قرآن و حدیث میں آے ہیں تو پھر کیوں نہ علم دین حاصل کیا جائے مگر کس سے ؟ کیونکہ دور حاضر میں اتنے فرقے پیدا ہوچکے ہیں کہ اگر ان کو شمارکرنے بیٹھو تو ایک اچھا خاصہ وقت لگے گا اور پھر سب کا دعویٰ ہے کہ ہم قرآن و حدیث کے مطابق چل رہے ہیں اور وہ اپنے فرقے کو ثابت کرنے اور صحیح کہلوانے کے لیے دلائل بھی دیتے ہیں تو پھر کس کی پیروی کی جائے ؟ پہلے تو ہم یہ دیکھتے ہیں کہ جو لوگ یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ ہم قرآن و حدیث کے مطابق چل رہے ہیں وہ اپنے دعویٰ میں درست ہیں یا نہیں یا پھر وہ جن کی پیروی کرتے ہیں انکے عقائد و نظریات اسلام کے مطابق ہیں یا نہیں ان سب باتوں کی معلومات کے لیے اگر ہم دیکھیں کہ قرآن وحدیث ہماری کیا رہنمائی کر رہے ہیں تو قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ کونوا مع الصادقین۔ ترجمہ کنزالایمان(اے ایمان والو )سچوں کے ساتھ ہو جاؤ(پ11 التوبہ 119) اب اس آیت کریمہ کو پڑھ کر بھی ایک سوال زہن میں پیدا ہو سکتا ہے کہ سچے کون ہیں ؟تو اس جواب کو ایک حدیث سے سمجھنے کی کوشش کیجیئے۔ ترمذی شریف کی حدیث ہے حضرت عبدااللہ ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میری امت پر بعینہ ویسے حالات آئیں گے جیسے بنی اسرائیل پر آے تھے جیسے جوتی کی جوتی سے برابری حتی کہ اگر کسی نے اپنی ماں سے اعلانیہ زنا کیا تو میری امت میں بھی وہ ہوگا جو اس طرح کرے گا بے شک بنی اسرائیل بہتر فرقوں میں بٹ گئی تھی اور میری امت تہتر فرقوں میں بٹ جائیگی اور ایک فرقے کے سوا سب جہنمی ہیں عرض کی گئی یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وہ ایک فرقہ کونسا ہوگا ارشاد فرمایا۔ ما آنا علیہ واصحابی یعنی جس پر میں اور میرے صحابہ ہیں اور ابن ماجہ کی ایک روایت میں ہے۔ قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم۔ اتبعوا السواد الاعظم فائنہ من شذ شذ فی النار۔ روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سواد اعظم یعنی بڑی جماعت کی پیروی کرو کیونکہ جو الگ رہا وہ الگ ہی جہنم جائیگا۔(واہ اھلسنت )مذکورہ آیت کریمہ اور احادیث سے کم از کم تین سوال پیدا ہو سکتے ہیں۔ 1 سچے کون ہیں ؟ 2 کیا امت محمدیہ تہتر فرقوں میں بٹ چکی ہے اگر ایسا ہے تو وہ ایک جنتی فرقہ جس کا حدیث پاک میں زکر ہے جو تہتر میں سے ایک ہے وہ کون ہے؟3 آج کے زمانے میں سواد اعظم کون ہیں؟۔پہلے سوال کا جواب یہ ہے کہ یہ بات سب پر عیاں ہے کہ جو سچا ہوتا ہے وہ رب کا پیارا ہوتا ہے اور اھلسنت میں سچوں کو اولیاء اللہ صوفیاء اور سلف صالحین کے نام سے تعبیر کیا جاتا ہے اس سے پتہ چلتا ہے کہ جس فرقے میں اولیاء اللہ ہونگے وہی ما انا علیہ واصحابی کے مصداق ہونگے اور آج کے زمانے میں جس جماعت میں اولیاء اللہ ہیں ہر صاحب عقل اس بات کو جانتا ہے بغیر کسی مبالغے کے وہ جماعت اھلسنت و جماعت ہی ہے(2) دوسرے سوال کا جواب یہ ہے کہ رہی یہ بات کہ تہتر فرقے پورے ہو چکے ہیں یا نہیں ؟۔ اس کے متعلق علماء کرام فرماتے ہیں یہاں فرقوں سے مراد اصولی فرقے مراد ہیں یعنی وہ فرقے جن کا آپس میں عقائد میں اختلاف ہو فروعی مسائل میں اختلاف مراد نہیں ہے کیونکہ فروعی اختلاف تو صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین میں بھی تھا لہذا حنفی مالکی شافعی حنبلی قادری سہروردی چشتی نقشبندی الگ الگ فرقے نہیں ہیں بلکہ ایک جماعت(فرقہ)ہے جس کا نام اھلسنت و جماعت ہے کیونکہ یہ سب عقائد میں ایک ہیں فروع میں اختلاف ہے ۔ اسی حدیث کی بنیاد پر جس میں عرض کی گئی کی وہ جنتی فرقہ کون سا ہو گا تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جس پر میں اور میرے صحابہ ہیں یعنی ہم اھلسنت و جماعت ہیں اھلسنت سے مراد حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت پر عمل کرنے والے اور جماعت سے مراد صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی اطاعت کرنے والے ۔یاد رہے فروع میں اختلاف رکھنے والے فرقوں کی تعداد تو سینکڑوں میں ہے لیکن عقائد میں اختلاف رکھنے والے فرقوں کی تعداد ابھی تہتر نہیں ہوئی اور تہتر فرقوں سے مراد وہی فرقے ہیں جو عقائد میں مختلف ہونگے (3) مذکورہ دونوں سوالوں کے جواب کو اگر مدنظر رکھا جائے تو یہ بات معلوم ہوتی ہے جو تیسرے سوال کا جواب بھی ہے کہ آج کے زمانے میں اھلسنت و جماعت ہی ایسی جماعت ہے جس کی تعداد دنیا میں سب سے زیادہ ہے کیونکہ آج ہم جس ملک کا بھی سفر کرلیں اس ملک میں سنی بکثرت ملیں گے چاہے پھر وہ امام شافعی کے پیروکار ہوں یا امام اعظم ابو حنیفہ کے یا دوسرے کسی امام کے اور عقل انسانی بھی اس بات کو تسلیم کرتی ہے کہ دنیا میں جس جماعت کی کثرت ہے وہ اھل سنت وجماعت ہی ہے یعنی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کے مطابق اھل سنت وجماعت ہی سواد اعظم ہے ۔۔ اس مختصر تحریر پر اگر تھوڑا غور کیا جائے تو زہن اس کو تسلیم کرے گا کہ قرآن وحدیث کی روشنی کے مطابق اھل سنت وجماعت ہی حق پر ہے اور جس جماعت کے حق ہونے کا ثبوت قرآن وحدیث سے ہو پھر اسی جماعت سے ہی دین کا علم حاصل کرنا درست ہوگا ۔ابو القاسم محمد اویس عطاری جامعہ المدینہ صحرائے مدینہ ملتان شریف۔ 03266769009

27/02/2024

💓اصل سنی کون ۔ تعویذات اور ہم💓
اسلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ ۔۔ آج ہم بڑے فخر سے دعویٰ کرتے ہیں کہ ہم پکے صحیح العقیدہ سنی مسلمان ہیں کیا ہم نے اس دعویٰ پر کبھی غور کیا کہ کیا میں جو دعویٰ کررہا ہوں اس پر میرا ظاہری عمل صادق بھی آتا ہے ۔ یا میں صرف نام کا سنی ہوں ؟ نام کے سنی سے مراد جس نے کہ دیا کہ فلاں شے بھی سنیوں کے عقائد ونظریات میں سے ہے اور میں نے بغیر تحقیق کئے اس پر عمل شروع کردیا کہیں ایسا تو نہیں ہے آگر ایسا ہے تو زرا رکیں اور غور کریں کہ آج ہمیں رب سے بغیر وسیلے کے دعا مانگے ہوے کتنہ عرصہ گزر چکا ہے یا میں بغیر وسیلے کے دعا مانگتے ہوئے ڑر کیوں جاتا ہوں یا میرے زہن میں ایسا وسوسہ کیوں آتا ہے کہ کہیں میں دیوبندی تو نہیں ہو گیا ہوں جو میں بغیر کسی وسیلے کے دعا مانگ رہا ہوں؟ آگرایسا ہے تو زرا رکیں اور یہ یاد رکھیں کہ اھلسنت و جماعت کے عقائد ونظریات میں یہ نہیں ہے کہ آگر آپ بغیر وسیلے کے دعا کریں گے تو وہ قبول ہی نہیں ہوگی یا پھر بغیر وسیلے کے دعا مانگنے سے بندہ دیوبندی ہو جاتا ہے بلکہ مسلک اھلسنت کے مطابق وسیلے کے زریعے دعا مانگنا جائز و مستحب ہے اسی طرح بہت سی ایسی چیزیں آج کے دور میں اھلسنت میں داخل ہیں جو کہ فرض واجب نہیں مگر عوام اھلسنت ان کو فرض واجب سمجھ کر عمل کر رہی ہے ایسے ہی کچھ معملا تعویذات کا بھی ہے عوام اھلسنت کو آگر کسی مسئلہ درپیش ہو تو وہ پہلہ طریقہ تعویذات کو سمجھتے ہیں کہ تعویذات کے ذریعے سے ہمارا مسئلہ حل ہو جائے گا حلانکہ پہلا طریقہ تو اپنے رب سے مانگنا ہے اس کے بعد حضور صلیٰ اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اور سلف صالحین رحمۃ اللہ علیہم اجمعین کے وسیلے سے رب سے اپنی حاجت کو طلب کرنا ہے اگر یہ کہا جائے کہ سنیوں نے بہت سی ایسی چیزیں جو کہ مستحب تھیں ان کو فرض سمجھنا شروع کر دیا ہے تو بےجا نہیں ہوگا اگر ایسا نہیں ہے تو آج ہمیں محلے کی مسجد کے امام کا سامنا کرتے ہوئے ڑر لگتا ہے اور پیر صاحب کے پاس تعویذ لینے کے لیئے جاتے ہوئے ڑر کیوں نہیں لگتا میرے محترم بھائیوں میں تعویذات کو غلط یا نا جائز نہیں کہ رہا بلکہ میرا تعویذات کے متعلق وہی عقیدہ ہے جو اھلسنت و جماعت کا عقیدہ ہے کہ اپنے مسائل کے حل کے لیے تعویذات لینا جائز و مستحسن عمل ہے ۔ ہمارا امام مسجد سے ڈرنا اس لئے ہوتا ہے کہ کہیں امام صاحب ہم سے نمازوں کے بارے میں نہ پوچھ لیں یقین کریں کہ اگر ہر پیر تعویذ دینے سے پہلے اگر یہ پوچھنا شروع کر دیں کے نمازیں کہاں پڑھو گے ؟ تو یقیناً ہماری مساجد میں نمازیوں کی تعداد میں اچھا خاصہ اضافہ ہو جائے گا خدارا میرے تمام اھلسنت بھائیوں سے گزارش ہے کہ فرائض کو فرائض سمجھیے اور مستحبات کو مستحبات اور اپنے طرز زندگی کو اھلسنت و جماعت کے عقائد ونظریات کے مطابق گزاریے اور اپنے تمام دینی مسائل سنی صحیح العقیدہ عالم دین اور مفتی اسلام سے کلیر کروائیے ۔۔ اللہ پاک ہم سب کو مسلک اھلسنت و جماعت کے ساتھ مخلص و وفادار رکھے (آمین)۔ ابو القاسم محمد اویس عطاری جامعہ المدینہ صحرائے مدینہ ملتان شریف

ماشاءاللہ بہت خوب مفتی صاحب آپ نے تو زید کی عقل ٹھکانے لگا دی یہ ہے میرے مرشد کا فیضان بتا دو لوگوں کو کے الیاس قادری صا...
03/01/2024

ماشاءاللہ بہت خوب مفتی صاحب آپ نے تو زید کی عقل ٹھکانے لگا دی یہ ہے میرے مرشد کا فیضان بتا دو لوگوں کو کے الیاس قادری صاحب کے بڑے احسانوں میں سے ایک اس امت کو بہترین مفتی دینا بھی ہے کمال مفتی حسان صاحب کمال کردیا آپ نے

مرشد امام احمد رضا خان محدث بریلی علیہ الرحمہ
15/12/2023

مرشد امام احمد رضا خان محدث بریلی علیہ الرحمہ

Adresse

Democratic Republic Of The

Site Web

Notifications

Soyez le premier à savoir et laissez-nous vous envoyer un courriel lorsque Abu ul Qasim Awais Attari Rizvi Ziyai publie des nouvelles et des promotions. Votre adresse e-mail ne sera pas utilisée à d'autres fins, et vous pouvez vous désabonner à tout moment.

Partager