hafiz m.hamid

hafiz m.hamid Informations de contact, plan et itinéraire, formulaire de contact, heures d'ouverture, services, évaluations, photos, vidéos et annonces de hafiz m.hamid, Immobilier, Democratic Republic of the.

18/06/2025
18/06/2025

ملک احمد علی کی والدہ صاحبہ کی نماز جنازہ جمعرات 19 جون کو پسرور میں ادا کی جاٸے گی

پسرور: سیاسی و سماجی رہنما ملک احمد علی اور ملک احسن علی کی والدہ محترمہ کی نمازِ جنازہ جمعرات 19 جون 2025 کو صبح 11 بجے قبرستان مل لالو پسرور میں ادا کی جاٸے گی

02/06/2025

غزہ جہاں موت کی سسکیوں کے سوا کچھ سنائی نہیں دے رہا

علی ہلال

جنگ نے غزہ کو ہر حوالے سے تباہی سے دوچار کردیا ہے۔ معاملہ صرف انسانی قتل عام اور انفراسٹرکچر کی تباہی تک محدود نہیں رہا۔غزہ میں اخلاقی جرائم کے نیٹ ورکس بھی پھیل رہے ہیں۔چوتی چکاری، لوٹ مار اور اجرتی قتل۔

تاریخ میں پہلی مرتبہ غزہ میں غداروں کی گینگز بنے ہیں۔ جو امدادی اشیاء کی لوٹ مار سمیت دیگر فسادات میں بھی ملوث ہیں۔
غزہ کی موجودہ تباہی کی مثال ماضی میں نہیں ملتی۔ قوم کو بھوک اور پیاس میں مبتلا کرکے جس بدترین انداز میں ستایا گیا ہےیہ ایک المناک المیہ اور خون آلود باب ہے۔ جس کی منظر کشی کے لئے الفاظ نہیں مل رہے ہیں۔ آج کل جب کسی غزہ والے سے رابطہ ہوتا ہے تو ہمارے پاس خاموشی کے سوا کچھ نہیں ہوتا۔ میں نے بہت سے بھائیوں اور بہنوں کو جواب دینا بند کردیا ہے۔ پوچھنے کی جرات نہیں ہورہی ہے۔

کل ایک ایکٹیویٹیس خاتون کہہ رہی تھیں کہ علی آپ ہماری حالت کا اندازہ کسی بھی صورت نہیں لگا سکتے۔ ہم پر جو گزر رہی ہے اس کی تصویر کشی لفظوں میں ممکن نہیں ہے۔ ناہی کیمرے کی آنکھ میں وہ طاقت ابھی پیدا ہوئی ہے جو ہمارے اوپر بیتنے والے مظالم کو اس درد سمیت محفوظ کرکے دنیا کو سمجھا سکے، جسے ہم جھیل رہے ہیں۔ ہم بھوت پریت بن کر گھوم رہے ہیں۔ ہم انسان نہیں رہے۔ میں بیوٹی سیلون چلاتی تھی ۔ اچھی آمدنی تھی۔ بچے پڑھ رہے تھے۔ اور مستقبل کی امیدیں رکھ کر ہم آگے بڑھ رہے تھے۔ اب کچھ نہیں بھی رہا۔ سب کچھ اڑ گیا ۔ ہماری شکلیں بدل گئی ہیں۔ ہم زندہ لاشے ہیں۔ ہمیں خود سے وحشت محسوس ہورہی ہے۔ ہم نے آئینہ میں دیکھنا بند کردیا ہے۔ اب ہم امید بھی کھورہے ہیں۔ دنیا کیا کررہی ہے ہمیں اس سے کوئی غرض نہیں ۔ ہمیں کسی تہوار کی خوشی ہے اور نا ہی خبر۔ ہم خون کے ایک دلدل میں پھنس گئے ہیں۔ جہاں ہر سمت آگ ہے۔ موت ہے اور بے بسی ہے۔ اس بھیانک منظر میں صرف بارود کے دھماکوں ، بچوں کی چیخوں، مرتے لوگوں کی سسکیوں اور انسانی لاشوں کو بھنبھوڑتے ہوئے آوارہ کتوں کی خوفناک آوازوں کے سوا کچھ سنائی نہیں دے رہا ۔


02/06/2025

دنیا میں عوام ایک دوسرے کے لئے آسانیاں دینے کے لئے کوشش کرتی
ہے۔ ہمارے ملک میں مواقع ڈھونڈھتے کہ ایک دوسرے کو ذلیل کہاں کرنا ہے۔

02/06/2025

*وہ پہنچے بارگاہ حق* *میں کتنے سُرخرو ہوکر*

30 مئی کی صبح جب سورج کی کرنیں چہار سو پھیل رہی تھیں تو کراچی میں عظیم سانحہ بپا ہوگیا……علم وعمل کا ایک پہاڑ خوں میں نہا گیا……حق گوئی کا ایک اور ستون گرادیا گیا……شیطنت کی تاریکی آفتاب کی روشن کرنوں پر محیط ہوتی چلی گئی……
تیرگی پھرخونِ انساں کی قبا پہنے ہوئے
دے رہی ہے صبح نو کا کم نگاہوں کو فریب
وہ روشنیوں کا حوالہ……عظمتوں کا متوالا……اور صبح نوکا اُجالا ……ہمارا مقتدا اور پیشوا……وہ جراء ت وبسالت کاپیکر ……کون جانتا تھا کہ ضلع سوات کے علاقے شامزئی سے اپنے سفر حیات کا آغاز کرنے والا نظام الدین بالآخر روشنیوں کے حریف،سفّاک قاتلوں کے ہاتھوں اپنا خون شہر کراچی کی سرزمین پر بکھیر دے گا؟!۔
آج کراچی یتیم ہوگیا……نہیں! ……عالم اسلام ایک بے باک اور نڈر مربی وسرپرست سے محروم ہوگیا۔
وہ لب کشا ہوتے توزبان تحفظ حرمین شریفین کی پکار بن جاتی۔
وہ عالم اسلام کے چپے چپے سے تعلق رکھنے والے مظلوموں،مقہوروں،بے کسوں،،بے نواؤں،اور مجاہدوں کے لیے تناور شجرِ سایہ دار تھے۔
ہم جانتے ہیں کہ اس مرد قلندر سے کون کون سی قوتیں ہردم لرزہ براندام رہتی تھیں؟!……پاکستانی اقتدار کے ایوانوں سے لے کر لندن اور امریکا کے خوشنما محلات تک میں اس مرد قلندر کے ایک بیان سے دراڑیں پڑجایا کرتی تھیں۔
کتنے ہی علماء راہِ حق میں شہید کر دیے گئے ……جن کا قصور صرف یہ تھا کہ وہ قافلہ حق کے مضبوط پشتیبان تھے ……
مولاناڈاکٹر حبیب اللہ مختار شہید……مولانا مفتی عبدالسمیع شہید……مولانا عبداللہ شہید……مولانا عنایت اللہ شہید……مولانامفتی اقبال شہید……شیخ وقت مولانامحمدیوسف لدھیانوی شہید……شہید……شہید……شہید
ہاں مجھے یاد آیا……
حکومتوں کا جلال اہل حکم کی صولت
سیاہ کاروں کا زوراہل ہوس کی دولت
خبیث روحوں خبیث اعمال کی سیاست
وہ گندگی جس کا ظاہری رُوپ ہے نفاست
سبھی ہیں قافلہ حق سے لرزاں
یہ قافلہ…… پھول چاند پرچم
کتاب اٹھائے صدیوں سے چل رہا ہے
جلال وصولت کے ریگ زاروں سے
پابرہنہ گزر رہا ہے
علمائے حق کا قافلہ رَواں دَواں ہے
شہادتوں کا سفر سعادتوں کی منزلوں کو چھو رہا ہے
مگر ……اوتیرگی کے متوالو!
تم بتاؤ…… تمہاری منزل کیا ہے؟
میرے خون سے کھیلے جو
شعلوں میں جل جاتا ہے
میرے خون کا فوّارہ
سَیل ِ حق بن جاتا ہے
(یہاں تک لکھ چکا تھا کہ ساتھیوں نماز جنازہ میں شرکت کے لیے بلالیا)
جامعہ بنوری ٹاؤن کے دامن میں اور آس پاس کی سڑکوں اور گلیوں میں انسانوں کا سمندر عالم ربانی کے جنازے کو کندھا دینے کے لیے موجود تھا۔
سراپا غم……اشک بار آنکیں لیے ہوئے……غم واندوہ کی تصویر بنے ہوئے……
اس دوران میں سوچنے لگا
کیاعِلم یو نہی اٹھتا جائے گا؟
دَستِ قاتل یونہی وار کرتا رہے گا؟
کیا اللہ کا فرمان وَلَکُمْ فِی الْقِصَاصِ حَیٰوۃٌ یَّااُولِی الْاَلْبَابِ کا سبق بدستور طاق نسیاں میں رہے گا؟
جنازہ چل پڑا تھااور……
فضا میں نالہ وفریاد کی ہے کیفیت
ہر اِک آنکھ میں آنسو،ہر ایک ہونٹ پہ آہ
دِلوں کا غم سسکیوں میں ڈھلتا ہے
وہ دَرد ہے کہ سینہ پھٹتا ہے
مفتی صاحب جائیے ……
پروردگار کے حضور آپ سرخ رُو رَہے
قبائے نور سے سج کر، لہو سے باوضو ہوکر
وہ پہنچے بارگاہِ حق میں کتنے سُرخ رُو ہوکر

سَلامٌ عَلَیْکُمْ بِمَاصَبَرْتُمْ فَنِعْمَ عُقْبَی الدَّار

(شیخ الحدیث حضرت مولانا مفتی نظام الدین شامزئی شہید رحمہ اللہ کی شہادت کے روز لکھاگیا نثری مرثیہ، جو اگلے دن روزنامہ اسلام میں شائع ہوا……ملا معاویہ حنفی)

02/06/2025

حالاں کہ قانون یہ بننا چاہیے کہ 25 سال کی عمر کے بعد جس کی شادی نہ کرائی گئی اس کے تمام رشتہ داروں کو تین سال قید بامشقت بمقام اڈیالہ ہمراہ قیدی نمبر 804 ہو گی۔منقول۔

31/05/2025

منفعت ایک ہے اس قوم کی، نقصان بھی ایک
ایک ہی سب کا نبیؐ، دین بھی، ایمان بھی ایک
حرَمِ پاک بھی، اللہ بھی، قُرآن بھی ایک
کچھ بڑی بات تھی ہوتے جو مسلمان بھی ایک
فرقہ بندی ہے کہیں اور کہیں ذاتیں ہیں
کیا زمانے میں پَنپنے کی یہی باتیں ہیں؟
ماخوذ از۔ جواب شکوہ (علامہ محمد اقبال)

Adresse

Democratic Republic Of The

Site Web

Notifications

Soyez le premier à savoir et laissez-nous vous envoyer un courriel lorsque hafiz m.hamid publie des nouvelles et des promotions. Votre adresse e-mail ne sera pas utilisée à d'autres fins, et vous pouvez vous désabonner à tout moment.

Partager