Islamic information

Islamic information قرآن وحدیث کی روشنی میں دینی احکام ومسائل لوگوں تک پہنچانے کیلئے یہ پیج بنایا گیاہے
علماء دیوبند زندہ باد

💝 *ناپسند کی شادی کرنے کے بعد ظلم کرنا*📿 *نا پسند ہونے کے باوجود شادی کرکے ظلم کرنے کی اصلاح:*1️⃣ نجانے کتنے ہی ایسے الم...
07/05/2024

💝 *ناپسند کی شادی کرنے کے بعد ظلم کرنا*

📿 *نا پسند ہونے کے باوجود شادی کرکے ظلم کرنے کی اصلاح:*
1️⃣ نجانے کتنے ہی ایسے المناک واقعات سامنے آتے ہیں کہ ایک لڑکے کو کوئی رشتہ پسند نہیں ہوتا، لیکن اس کے باوجود بھی وہ والدین کی خاطر اس کو قبول کرلیتا ہے، لیکن شادی ہوجانے کے بعد وہ اپنی بیوی سے نفرت اور بے رخی اختیار کرلیتا ہے، اس کے حقوق ادا نہیں کرتا اور اس پر ظلم وستم شروع کردیتا ہے اور جگہ جگہ یہی چرچا کرتا پھرتا ہے کہ مجھے تو یہ پہلے ہی سے پسند نہ تھی۔ ارے بھئی! جب آپ کو وہ لڑکی پسند ہی نہ تھی تو والدین کی خاطر قبول کرکے اس کی زندگی برباد کرنے کی کیا ضرورت تھی؟ اس میں اس کا کیا قصور تھا؟ محض اس بنیاد پر اس پر ظلم کرنے اور اس کے حقوق ادا نہ کرنے کا کیا جواز ہے؟ اور جب اس سے اتنی ہی نفرت تھی تو شادی کے بعد اس کے قریب گئے ہی کیوں؟ اور پھر یہ بچوں کی پیدائش کیسی؟ یہ کیسا شرمناک، دوغلہ، افسوس ناک اور غیر انسانی رویہ ہے! کیا اس حرکت کی سنگینی کا احساس تب ہوگا جب کوئی آپ کی بہن بیٹی کے ساتھ ایسا سلوک کرے گا؟! اور جب آپ نے اس لڑکی کو والدین کی خاطر قبول کر ہی لیا ہے تو اب اسے دل وجان سے بھی قبول کرلیں اور دل ودماغ میں منفی باتوں کو جگہ نہ دیں بلکہ انھیں کھلا چھوڑ دیں، یوں رفتہ رفتہ دل کو بھی قبول ہوجائے گی۔
2️⃣ زیرِ نظر معاملے میں بہت سے والدین کی یہ غلطی ہوتی ہے کہ وہ اپنے بیٹے کے لیے ایسا رشتہ کرنا چاہتے ہیں جس پر بیٹا راضی نہیں ہوتا حتی کہ اس معاملے میں والدین جبر کی ممکنہ صورتیں بھی اختیار کرنے سے دریغ نہیں کرتے، ظاہر ہے کہ ایسا کرنا نامناسب ہے، جبکہ بیٹوں کی غلطی یہ ہوتی ہے کہ وہ والدین کی پسند کو بالکلیہ اور بلاوجہ مسترد کرنے پر بضد ہوتے ہیں اور بہر صورت اپنی پسند پر اصرار کرتے ہیں، ظاہر ہے کہ یہ بھی مناسب نہیں۔ مذکورہ تفصیل کی روشنی میں مشورہ یہ ہے کہ والدین کو چاہیے کہ وہ نکاح کے معاملے میں محض جبر سے کام نہ لیں، بلکہ بیٹے کی رائے، رضامندی اور مصلحت کو بھی اہمیت دیں، اسی طرح بیٹے کو بھی چاہیے کہ وہ بلاوجہ انکار اور ضد کا مظاہرہ نہ کرے بلکہ والدین کی رائے کو بھی سمجھنے اور اہمیت دینے کی کوشش کرے کیوں کہ عمومًا والدین اپنے تجربات، خیرخواہی اور شفقت کے پیشِ نظر اپنی اولاد کے لیے بہتر ہی سوچتے ہیں اور عمومًا ان کا فیصلہ بہتر ہی ہوتا ہے، گویا کہ یہ نکاح کا معاملہ باہمی اعتماد، رضامندی، مصلحت، افہام وتفہیم اور مشاورت سے حل کرلیا جائے تو بہت مفید رہتا ہے۔
✍🏼۔۔۔ مفتی مبین الرحمٰن صاحب مدظلہم
فاضل جامعہ دار العلوم کراچی

07/05/2024

ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی رہائی کے بارے میں قائد محترم کا مختصر گفتگو

07/05/2024

*حماس نے جنگ بندی معاہدے کی تجاویز منظور کرلی ہیں*

*اب امید ہیں ان شاءاللہ جنگ بند ہو جاۓ گی*ذاکر

سوال: السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ مفتی صاحب یہ بات سنا ہے اکثر کہ شادی کرنے سے ایمان مکمل ہو جاتا ہے کیا یہ حدیث ہےج...
06/05/2024

سوال:

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ مفتی صاحب یہ بات سنا ہے اکثر کہ شادی کرنے سے ایمان مکمل ہو جاتا ہے کیا یہ حدیث ہے

جواب:

وعلیکم السلام
اس مضمون کی حدیث معجم الاوسط ، شعب الایمان، اور مشکاۃ المصابیح وغیرہ میں ہے ،حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "جس بندہ نے نکاح کرلیا اس نے اپنا آدھا دین مکمل کرلیا، اب اسے چاہیے کہ باقی آدھے کے بارے میں اللہ تعالیٰ سے ڈرتا رہے"۔

انسان کے جسم میں دو چیزیں ایسی ہیں جو عام طور پر دین میں نقصان اور فساد کا سبب بنتی ہیں: (1) شرم گاہ (2) پیٹ۔

حدیث کا مطلب یہ ہے کہ جس شخص نے نکاح کرکے شرمگاہ کے فتنے وفساد سے نجات پائی تو اب اسے چاہیے کہ وہ پیٹ کے فتنے وفساد سے بچنے کے لیے کوشش کرتا رہے، اور باری تعالیٰ سے ڈرتا رہے، حلال کمائی اور حلال رزق کے ذریعے اپنے اہل وعیال کا پیٹ بھرے ؛ تاکہ دین کی پوری بھلائی حاصل ہو۔

اس لیے اگر کوئی شخص پہلے ہی سے پیٹ اور دیگر فتنوں سے بچتا رہا ہو تو وہ نکاح کے ذریعے اپنی شرم گاہ کے فتنے سے بھی بچ جاتا ہے اور اس کو دین کی پوری بھلائی حاصل ہوجاتی ہے۔

مشكاة المصابيح (2/ 930)
'' وعن أنس قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «إذا تزوج العبد فقد استكمل نصف الدين، فليتق الله في النصف الباقي»''۔

مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح (5/ 2049)
'' «فليتق الله في النصف الباقي» أي: في بقية أمور دينه، وجعل التزوج نصفاً مبالغةً للحث عليه. وقال الغزالي: الغالب في إفساد الدين الفرج والبطن، وقدكفى بالتزوج أحدهما، ولأن في التزوج التحصن عن الشيطان، وكسر التوقان، ودفع غوائل الشهوة، وغض البصر، وحفظ الفرج''.فقط واللہ اعلم

فتوی نمبر : 143909201166

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

06/05/2024

جنگل میں آگ کی طرح پھیلا دیں اور ظالموں کو پکڑوائیں 🙏
سرکار ان ظالموں کے چہرے واضح ھیں
اوربتایا جارھا ھے کہ یہ ممتاز آباد ملتان کا واقعہ ھے۔
بزرگ شہری پر اتنا ظلم ؟
ریاست کے اندر ریاست یہ کیا تماشہ ھے ؟
سرکار یہ ظالم بچنے نہیں چاھیئے 🫵

امام صاحب نماز جمعہ کا سلام پھیر کر فارغ ہوئےتو پیچھے سےکسی نمازی کی آواز آئی۔مولانا صاحب! دعا کرا دیں کہ ہمارے ملک کے م...
06/05/2024

امام صاحب نماز جمعہ کا سلام پھیر کر فارغ ہوئےتو پیچھے سےکسی نمازی کی آواز آئی۔
مولانا صاحب! دعا کرا دیں کہ ہمارے ملک کے معاشی حالات ٹھیک ہو جائیں۔
امام صاحب نے جیب سے 5 ہزار کا نوٹ نکالا اور کہا:
یہ مجھے باہر مسجد کےدروازے سے ملا ہے جسکا ہو ہاتھ اُٹھائے۔
10 لوگوں نے ہاتھ اٹھا لیے۔
امام صاحب نے نوٹ جیب میں رکھا اور کہا:
یہ میرا ہی ہے۔
لہٰذا پہلے خود ٹھیک ہو جاؤ ، معاشی حالات بھی ٹھیک ہو جائیں گے...

06/05/2024

سوال:
السلام علیکم، بہت سارے لوگ کہتے ہیں کہ عمرہ کرنے کے بعد حج فرض ہوجاتا ہے اگر نہیں کریں گے تو کیا گنہگار میں شامل ہو جائیں گے؟

جواب نمبر: 145525
بسم الله الرحمن الرحيم

Fatwa ID: 051-052/D=2/1438


وعلیکم اسلام، سال کے کسی بھی وقت میں عمرہ کرنے سے حج فرض ہو جائے ایسا نہیں ہے بلکہ حج اس عمرہ کرنے والے پر فرض ہوتا ہے۔ (۱) جس نے اپنا حج فرض ادا نہ کیا ہو اور (۲) وہ عمرہ اشہر حج میں کررہا ہو اور (۳) عمرہ کرنے کے بعد حج کی تاریخ تک مکہ میں رکنے کے اخراجات اس کے پاس ہوں نیز (۴) قانونی طور پر مکہ میں رکنے میں رکاوٹ نہ ہو لہٰذا اگر کوئی شخص اشہرِ حج ہی میں عمرہ کررہا ہو مگر بقرعید تک رکنے کا اس کے پاس خرچ نہ ہو یا حکومت کی طرف سے ویزہ نہیں ہے تو اس پر حج فرض نہ ہوگا۔ عن ابن عمر قال جاء رجل إلی النبي صلی اللہ علیہ وسلم فقال: یا رسول اللہ ما یوجب الحجَّ؟ قال: الزاد والراحلة، ترمذی: ا/۱۶۸، باب في إیجاب الحج بالزاد الخ۔ الحج واجب علی الأحرار البالغین العقلاء الأصحاء إذا قدروا علی الزاد والراحلة فاضلا عن المسکن وما لابد منہ وعن نفقہ عیالہ إلی حین عودہ۔ ہدایة: ۱/ ۲۳۱- ۲۳۲، ط: اشرفي دیوبند۔

واللہ تعالیٰ اعلم

دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

حیات النبی ا اور قرآنحیات النبی ا اور قرآنجب سے بعض مدعیان نے حیات النبی ا کا انکار کیا ہے‘ اس وقت سے وہ حیاتِ انبیاء کے...
06/05/2024

حیات النبی ا اور قرآن
حیات النبی ا اور قرآن

جب سے بعض مدعیان نے حیات النبی ا کا انکار کیا ہے‘ اس وقت سے وہ حیاتِ انبیاء کے خلاف قرآن پاک کی ان آیات کریمہ کو پیش کرتے رہتے ہیں جن میں ہر انسان کے لئے موت کو لازم قرار دیا گیا ہے‘ جیسے ”انک میت وانہم میتون“ حالانکہ اس سے کسی کو انکار نہیں ہے‘ یہ دنیوی موت ہرایک کے لئے ہے اور سرور کائنات ا پر بھی یہ وقت آیا اور گذر گیا‘ سوال یہ ہے کہ اس کے بعد جب ہرآدمی کی روح لوٹاکر نکیر منکر کا سوال وجواب ہوتا ہے آیا دوسروں کی طرح آنحضرت ا کی روح مبارک بھی لوٹائے جانے کے بعد پھر علیحدہ کی جاتی ہے یا نہیں یا روح مبارک کا اس دنیا والے جسد مبارک سے تعلق باقی رہتا ہے جس کی وجہ سے آپ ا درود وسلام روضہ مبارک پر پڑھا جانے والا سنتے اور اس کا جواب دیتے ہیں یا روح کا کوئی تعلق نہیں رہتا اور آپ ا کا جسد بے روح وبے شعور پڑا رہتا ہے۔
احادیث صحیحہ کی وجہ سے حیات النبی ا کے قائل اہلسنت والجماعة اسی حیات کے قائل ہیں‘ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ آپ ا پر اصطلاحی موت طاری نہیں ہوئی‘ اس لئے حیات النبی ا کے مقابلہ میں ”انک میت وانہم میتون“ کی آیت کریمہ اورحضرت ابوبکر صدیق کا خطبہ: ”فان محمداً قدمات“ پیش کرنا تعصب‘ ہٹ دھرمی‘ کوڑمغز یا عوام کو فریب دینے کی کوشش کے مترادف ہے‘ آنحضرت ا نے جو ارشاد فرمایا کہ: انبیاء علیہم السلام اپنی قبروں میں زندہ ہیں۔ اس کا مطلب اس دنیا میں زندہ رہنے کا نہیں‘ بلکہ یہاں سے جانے کے بعد قبر میں زندگی کاذ کر ہے۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ کا صاف ارشاد ہے :
”لاتقولوا لمن یقتل فی سبیل اللہ اموات بل احیاء ولکن لاتشعرون“۔
”کہ جو اللہ کی راہ میں قتل ہوجائیں انہیں مردہ نہ کہو بلکہ وہ زندہ ہیں“۔
اس میں بھی قتل (موت) کے بعد دوسری زندگی کا ذکر ہے گویا یہ موت اور قتل تو مسلم اور خارج از بحث ہے بحث موت کے بعد قبر کی زندگی کی ہے جس کا بعض لوگ انکار کرتے اور اپنی توحید کا سکہ جمانا چاہتے ہیں۔بلکہ سرگودھا میں جہاں ایک طرف حضرت مولانا جامع طریقت وشریعت حضرت مولانا مفتی محمد شفیع صاحب مہتمم سراج العلوم جیسے محقق عالم اور حیات النبی ا کے قائل بزرگ ہیں‘ وہاں (بزعم خود) ایک اور مایہٴ ناز ہستی نقلی حسین علی بنی ہوئی ہے اس کو علم کا ہیضہ ہوگیا ہے‘ وہ حضور ا کی حیات کے قول کو شرک فی التوحید لکھتے ہیں۔ حضرت سراج الالیاء خواجہ سراج الدین صاحب موسیٰ زئی شریف رحمہ اللہ کے استاذ اور خلیفہ حضرت مولانا حسین علی صاحب مرحوم بہت بلند پایہ عالم اور بزرگ تھے‘ وہ صاحبِ حال تھے اور اپنے بلند مقام سے بعض باتیں فرمادیتے تھے جن میں جمہور علماء اور اکابر دیوبند ان کا ساتھ نہ دیتے تھے‘ لیکن وہ اپنے حال اور غالب کیفیت سے مجبور تھے‘ لیکن خدا بچائے نقلی اور مصنوعی حسین علیوں سے۔ خدا گنجے کوناخن نہ دے‘ اگر ان کا اختیار ہو(تو) کسی مخالف کو اسلام کے اندر نہ رہنے دیں‘ مگر ہرشخص حضرت مولانا حسین علی صاحب قدس سرہ نہیں بن سکتا۔ قرآن کے منکر کون ہیں؟
قرآن پاک میں ہے کہ اللہ تعالیٰ کی راہ میں قتل ہونے والوں کو مردہ نہ کہو‘ بلکہ وہ زندہ ہیں۔ یہ منکر کہتاہے کہ ان کو زندہ نہ کہو‘ بلکہ مردہ ہیں۔ بتایئے! صاف صاف قرآن پاک کا مقابلہ نہیں ہے؟ ”العیاذ باللہ تعالیٰ“ شہیدوں سے بہرحال پیغمبروں کا درجہ بڑھا ہوا ہے‘ اگر شہداء کو مردہ کہنے کی ممانعت ہے تو انبیاء کو مردہ کہنا یقیناً ممنوع ہوگا۔ ہم ”انک میت وانہم میتون“ کو مان لینے کے بعد قبر میں حیات کے قائل ہیں جس کا قرآنِ پاک نے انکار نہیں کیا اور حدیث پاک نے ثبوت دیا ہے اور منکر‘ان احادیث کے مشترکہ مضمون کی تصدیق سے بھی انکار کرتے ہیں جو متبادر ہے اور نص قرآن کے بھی خلاف کہتے ہیں۔ قرآنِ حکیم کا حکم ہے ان کو مردہ نہ کہو وہ زندہ ہیں۔ ان کا فیصلہ ہے ان کو زندہ نہ کہو وہ مردہ ہیں۔ بتایئے! قرآن کے مقابلہ میں گفتگو کرکے آپ اوروں کو الزام دیتے ہیں۔”میں الزام ان کو دیتا تھا قصور اپنا نکل آیا“
حضرت مولانا محمد قاسم نانوتوی رحمہ اللہ
البتہ حضرت مولانا محمد قاسم نانوتوی نے آنحضرت ا کی موت ‘ لوگوں کی موت سے علیحدہ قسم بتائی ہے۔ متعارف موت کا ان کو انکار نہیں‘ بھلا یہ کوئی مسلمان کرسکتاہے؟ البتہ انہوں نے فرمایا کہ: جہاں اور بہت سی باتوں میں حضور ا کے حالات اوروں سے مختلف تھے‘ اسی طرح آپ ا کی موت بھی اور طرح تھی۔ اوروں میں خروج روح تھا‘ آپ ا میں ایسا نہیں‘ بلکہ جیسے چراغ پر ڈھکنا رکھ دیا جائے جیسے ڈھکنے کے بعد چراغ کی روشنی کے اثبات نہیں رہتے‘ اگرچہ وہ بجھا نہیں ہے ‘اسی طرح روح مبارک کے سمٹ جانے سے جسد مبارک پر ظاہری اثبات باقی نہیں رہتے جس سے دنیوی خلائق واعمال کا خاتمہ ہوکر دفن فرمادیا جاتا ہے‘ یہی موت ہے۔
یہاں یہ سوال کہ خروجِ روح وقبضِ روح کے ظاہری اور متبادر معانی کے یہ خلاف ہے‘ تو عرض ہے کہ خروجِ روح‘ دخولِ روح‘ نفخِ روح‘ قبضِ روح ‘ ارسالِ روح اور تعلقِ روح بالبدن یہ سب الفاظ ایسے ہیں جن کے ظاہر پر ایمان لانا ہوگا اور مطلب اللہ تعالیٰ کے حوالے کرنا ہوگا خود روح امر رب ہے جس کا ادراک آسان کام نہیں ہے‘ یہ سب امور غیر مدرک بالکنہ ہیں۔ کیا قرآن پاک میں یہ ذکر نہیں کہ موت اور نیند دونوں حالتوں میں روح قبض کی جاتی ہے؟ موت والی روک دی جاتی ہے اور نیند والی چھوڑ دیتے ہیں۔ کیا نیند والے کی روح قبض ہوکر بھی اس میں حس وحرکت نہ تھی؟ ضرور تھی۔ اس کے برعکس سکتہ کے بیمار میں روح ہوتی ہے‘ مگر ادراک قطعاً نہیں ہوتا‘ نہ نبض چلتی ہے‘ نہ سانس آتاہے‘ اس لئے روح اور اس کی صفات کے بارہ میں جو کلمات نبی کریم اسے وارد ہیں ان پر ایمان لاکر حقیقت کو اللہ تعالیٰ کے سپرد کردینا چاہئے۔
ایک اور طرح سے
جب قرآن پاک نے تصریح فرمادی ہے کہ شہداء کو مردہ مت کہو‘ بلکہ وہ زندہ ہیں‘ مصنوعی حسین علی کہتے ہیں کہ موت کا معنی ہے روح کا جسم سے علیحدہ ہونا‘ تو ہم کہتے ہیں حیات کا معنی ہوا روح کا جسم میں داخل ہونا تو جب قرآن پاک شہداء کو زندہ قرار دیتاہے تو بات وہی عود روح کی ہوگی اور اگر یہاں حیات کے معنی میں آپ کوئی تاویل کرکے اس کو روح وجسد کے اتصال کے سوا کوئی اور جامہ پہنانے ہیں تو انبیاء کی موت میں بھی اگر موت کا متعارف معنی چھوڑ کر دوسرا معنی مراد لیا جائے‘ جیسے حضرت نانوتوی  فرما تے ہیں تو کیوں کسی موحد کی ماں مرے اور اس کو مشرک قرار دے کر تمام علماء دیوبند کے بزرگوں پر ہاتھ صاف کرکے بے دینوں کے لئے راہ ہموار کرے۔
مصنوعی لوگوں کا انجام
اللہ تعالیٰ حضرات موسیٰ زئی شریف کے متبعین اور حضرت مولانا حسین علی صاحب کے اسوہ پر چلن‘ کی توفیق ہرایک کو دے‘ مگر اللہ تعالیٰ مصنوعی حسین علیوں سے بچائے۔ ایک مصنوعی حسین علی مولوی منور الدین مرزائی ہوگیا اب خود تو وہ مسلمان ہوگیا‘ مگر بے شمار شاگرد کافر کے کافر ہی رہ گئے‘ اب مصنوعی حسین علی حیات النبی ا کو شرک قرار دیتے ہیں‘ خدا تعالیٰ جانے ان کا اور ان کے متبعین کا حشر کیا ہوگا ؟ ہمارا عقیدہ ہے: اللہ تعالیٰ کا حکم ہے‘ مردہ نہ کہو‘ ہم نہیں کہتے۔ اس کا حکم ہے وہ زندہ ہیں‘ ہم نے کہا: بے شک زندہ ہیں جو نہ مانے اپنا سرکھائے۔
ذاکر

06/05/2024

اللہ اکبر۔۔۔۔
اللہ تعالیٰ جب چاہے جس سے چاہے، کام لے! یہاں تک کہ مچھر سے بھی!

یہ امریکہ کی مشی گن یونیورسٹی کی گریجویشن تقریب ہے، جہاں ہزاروں طلباء اور ان کے اہل خانہ گریجویشن تقریب کے دوران غزہ اور فلسطین کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے کھڑے ہیں۔

پرندوں کا ذبح، شکار اور کھاناسوال1-  پرندہ کو ذبح کرنے کا کیا طریقہ ہے؟2- کیا صرف کھانے کے شوق سے پرندہ کا غلیل وغیرہ سے...
06/05/2024

پرندوں کا ذبح، شکار اور کھانا
سوال
1- پرندہ کو ذبح کرنے کا کیا طریقہ ہے؟

2- کیا صرف کھانے کے شوق سے پرندہ کا غلیل وغیرہ سے شکار کرنا جائز ہے؟

3- جو دعا ذبح کرتے وقت پڑھتے ہیں اگر وہ تین چار دفع پڑھ لی تو کوئی حرج تو نہیں؟

4- کیسے پتا چلے کہ کون سا پرندہ حلال ہے اور کون سا حرام؟

جواب
1- پرندے کو ذبح کرنے کا طریقہ وہی ہے جو مرغی وغیرہ کے ذبح کا طریقہ ہے، یعنی پرندے کو قبلہ رو لٹاکر تیز چھری ہاتھ میں لے کرقبلہ رخ ہوکر ''بسم الله الله أكبر''پڑھ کر گلے پر چھری چلائی جائے،یہاں تک کہ جانور کی چار رگیں کٹ جائیں،اور گردن الگ نہ ہو ، ایک رگ "نرخرہ" جس سے جانور سانس لیتاہے،دوسری وہ رگ جس سے دانہ پانی جاتاہے،اور دو شہہ رگیں جو "نرخرہ" کے دائیں بائیں ہوتی ہیں،اگر ان چار رگوں میں سے تین رگیں بھی کٹ جائیں، تب بھی ذبح درست ہے۔

2- پرندوں کا شکار کرنا جائز ہے، اور شکار کیے ہوئے حلال پرندوں کا کھانا بھی جائز ہے، شرعی طور پر اس میں قباحت نہیں ہے، شکار کا جائز ہونا قرآن و حدیث سے ثابت ہے، اللہ نے حلال پرندوں کو کھانا حلال کیا ہے اور ان کو انسانوں کے نفع کے لیے بنایا ہے، بشرطیکہ شکار کرنے سے لہو ولعب مقصود نہ ہو۔ نیز شکار کو پیشہ بنانا اور شکارکرکے فروخت کرنا یہ بھی جائز اور درست ہے۔ البتہ شرعی حدود کا خیال اور عبادات کا اہتمام بھی ساتھ لازم ہے، شکار کی وجہ سے نمازیں قضا کرنا درست نہ ہوگا۔

غلیل کے شکار کا حکم لاٹھی کا ہے؛ لہذا غلیل سے شکار کیے ہوئے پرندے پر قابو پاکر اسے ذبح کیا تو اس کا کھانا جائز ہے، اگر غلیل ہی سے مرگیا تو اس کا کھانا جائز نہیں ہے۔

(ماخوذ از آپ کے مسائل اور ان کا حل، ج 5/ ص 294)

یہ بھی یاد رہے کہ بندوق کی گولی سے کیا ہوا شکار اگر ذبح سے پہلے مرجائے تو اس کا کھانا جائز نہیں ہوگا، اور اگر گولی سے شکار کرنے کے بعد جانور کو زندہ زخمی حالت میں پالیا اور پھر اس کو اللہ کا نام لے کر ذبح کردیا جائے تو اس کو کھانا جائز ہوگا؛ لہٰذا بسم اللہ پڑھ کر چھوڑی ہوئی گولی سے کیا ہوا شکار ذبح سے قبل مر جائے تو اس کا کھانا جائز نہیں ہے۔

البتہ اگر دھاری دار چیز (جیسے تیر وغیرہ) سے شکار کیا جائے، اور اسے چھوڑنے سے پہلے بسم اللہ پڑھ لیا جائے اور اس جانور پر قابو پانے سے پہلے ہی وہ مرجائے تو اس شکار کا کھانا درست ہوگا۔

3- تین یا چار مرتبہ دعا پڑھنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔

4- باقی پرندوں کے حلال یا حرام ہونے کا مدار اس بات پر ہے کہ جو پرندہ اپنے پنجوں سے شکار کرتا ہو وہ حرام ہے اور جو اپنے پنجوں سے شکار نہ کرتا ہو، وہ حلال ہے۔

Please fallow me
06/05/2024

Please fallow me

Adresse

Democratic Republic Of The

Site Web

Notifications

Soyez le premier à savoir et laissez-nous vous envoyer un courriel lorsque Islamic information publie des nouvelles et des promotions. Votre adresse e-mail ne sera pas utilisée à d'autres fins, et vous pouvez vous désabonner à tout moment.

Partager