07/05/2024
💝 *ناپسند کی شادی کرنے کے بعد ظلم کرنا*
📿 *نا پسند ہونے کے باوجود شادی کرکے ظلم کرنے کی اصلاح:*
1️⃣ نجانے کتنے ہی ایسے المناک واقعات سامنے آتے ہیں کہ ایک لڑکے کو کوئی رشتہ پسند نہیں ہوتا، لیکن اس کے باوجود بھی وہ والدین کی خاطر اس کو قبول کرلیتا ہے، لیکن شادی ہوجانے کے بعد وہ اپنی بیوی سے نفرت اور بے رخی اختیار کرلیتا ہے، اس کے حقوق ادا نہیں کرتا اور اس پر ظلم وستم شروع کردیتا ہے اور جگہ جگہ یہی چرچا کرتا پھرتا ہے کہ مجھے تو یہ پہلے ہی سے پسند نہ تھی۔ ارے بھئی! جب آپ کو وہ لڑکی پسند ہی نہ تھی تو والدین کی خاطر قبول کرکے اس کی زندگی برباد کرنے کی کیا ضرورت تھی؟ اس میں اس کا کیا قصور تھا؟ محض اس بنیاد پر اس پر ظلم کرنے اور اس کے حقوق ادا نہ کرنے کا کیا جواز ہے؟ اور جب اس سے اتنی ہی نفرت تھی تو شادی کے بعد اس کے قریب گئے ہی کیوں؟ اور پھر یہ بچوں کی پیدائش کیسی؟ یہ کیسا شرمناک، دوغلہ، افسوس ناک اور غیر انسانی رویہ ہے! کیا اس حرکت کی سنگینی کا احساس تب ہوگا جب کوئی آپ کی بہن بیٹی کے ساتھ ایسا سلوک کرے گا؟! اور جب آپ نے اس لڑکی کو والدین کی خاطر قبول کر ہی لیا ہے تو اب اسے دل وجان سے بھی قبول کرلیں اور دل ودماغ میں منفی باتوں کو جگہ نہ دیں بلکہ انھیں کھلا چھوڑ دیں، یوں رفتہ رفتہ دل کو بھی قبول ہوجائے گی۔
2️⃣ زیرِ نظر معاملے میں بہت سے والدین کی یہ غلطی ہوتی ہے کہ وہ اپنے بیٹے کے لیے ایسا رشتہ کرنا چاہتے ہیں جس پر بیٹا راضی نہیں ہوتا حتی کہ اس معاملے میں والدین جبر کی ممکنہ صورتیں بھی اختیار کرنے سے دریغ نہیں کرتے، ظاہر ہے کہ ایسا کرنا نامناسب ہے، جبکہ بیٹوں کی غلطی یہ ہوتی ہے کہ وہ والدین کی پسند کو بالکلیہ اور بلاوجہ مسترد کرنے پر بضد ہوتے ہیں اور بہر صورت اپنی پسند پر اصرار کرتے ہیں، ظاہر ہے کہ یہ بھی مناسب نہیں۔ مذکورہ تفصیل کی روشنی میں مشورہ یہ ہے کہ والدین کو چاہیے کہ وہ نکاح کے معاملے میں محض جبر سے کام نہ لیں، بلکہ بیٹے کی رائے، رضامندی اور مصلحت کو بھی اہمیت دیں، اسی طرح بیٹے کو بھی چاہیے کہ وہ بلاوجہ انکار اور ضد کا مظاہرہ نہ کرے بلکہ والدین کی رائے کو بھی سمجھنے اور اہمیت دینے کی کوشش کرے کیوں کہ عمومًا والدین اپنے تجربات، خیرخواہی اور شفقت کے پیشِ نظر اپنی اولاد کے لیے بہتر ہی سوچتے ہیں اور عمومًا ان کا فیصلہ بہتر ہی ہوتا ہے، گویا کہ یہ نکاح کا معاملہ باہمی اعتماد، رضامندی، مصلحت، افہام وتفہیم اور مشاورت سے حل کرلیا جائے تو بہت مفید رہتا ہے۔
✍🏼۔۔۔ مفتی مبین الرحمٰن صاحب مدظلہم
فاضل جامعہ دار العلوم کراچی