27/10/2025
☝️نبی مکرم و محترمﷺ پر نزولِ " وحی " کے وقت بھی بڑے بڑے مناطقہ اور فلاسفہ موجود تھے ، بڑے بڑے مُدبّر و عُقلا و فُصحاء موجود تھے اور اس سے قبل کی اُمتوں میں بھی موجود ہے تھے جنہیں قوموں کا "دماغ" سمجھا جاتا تھا ، جو چاہتے تو لکڑی کے ستون کو بھی اپنی عقل سے سونے کا ثابت کرنے پہ قادر تھے۔۔۔۔۔ لیکن الله تعالیﷻ نے انسانوں کی ہدایت کے لیے کبھی بھی ان میں سے کسی کا انتخاب نہیں کیا ، تاریخ اس کے اوپر گواہ ہے اور حقیقت عَیاں ہے ۔ ۔۔۔ آخر کیوں ؟ تو جواب یہ ھے کہ عقل محدود ھے ، اور اسکے پاس علم " معلوم " ھے ، اسکے ذرائع محتمل ھیں ، جو ھمیشہ درست و صحیح نتائج اخذ کرنے اور حتمی فیصلہ دینے سے عاجز ھیں ۔ رھی اللهﷻ کی مُراد کا صحیح علم۔۔۔۔ تو وہ عقل سے حاصل نہیں ھوسکتا ، وہ اس وقت تک " علمِ مفقود " ھے جب تک اللهﷻ خود اُسکو ظاہر نہ کر دے ۔ پھر عقلی تفاوت اور قبول و رد کا مختلف معیار کسی بھی اجتماعی و حتمی و فیصلہ کُن نتیجے پر کبھی نہیں پہنچ سکتا۔۔۔۔ یہی وجہ ھے کہ الله تعالیٰ ﷻ نے ہمیشہ انسان کی ہدایت کے لیے اپنی "وحی" بھیجی ، اپنی طرف سے ہدایت بھیجی ، اور اس کو انسان کی ہدایت و رہنمائی اور منشور کے طور پر مقرر فرمایا اور دنیا اور آخرت کی تمام بھلائیاں اِسی وحی کے ساتھ جوڑ دیں ۔۔۔۔لہذا ۔۔۔۔۔آج "وحی الٰہی" کے مقابلے میں کوئی عقل کو پیش کرے تو وہ بے عقل و جاہل اور احمق انسان ھے۔ بھلے وہ سُفہاء اور بے وقوفوں کا امام کیوں نہ ہو۔۔۔۔کیونکہ اُس نے " محدود" سے غیب اور "لامحدود" کا احاطہ کرنے کی کوشش کی۔۔۔۔۔۔۔ جیسا کہ دور حاضر کے بعض مغربی متاثرین اور علم مستشرقین سے مغلوب حضرات و ذہن ہیں جن کی عقلی توجیہات بلکہ "رُدودِ اسلامی" کی اُن کے اپنے ہاں اور اپنے اندھے اور بے عقل مقلدین کے ہاں تو اہمیت اور مقام ہو سکتا ہے لیکن اہل علم اور ورثاءِ نبوّت کے نزدیک ایک بے حیثیت مُفسِد سے زیادہ کچھ نہیں ۔۔۔۔۔۔۔دور حاضر کے جملہ منکرین حدیث ، اور جسم و روح کو حقیقی اسلام کی پابندیوں سے آزاد کروانے والے " مُہم جو "خود ساخت اسکالر (مولوی) شامل ہیں۔۔۔ یہ سب مغرب زدہ اور علمی شکست خوردہ ہیں ۔۔۔۔۔جو پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک طرف کر کے محض ڈکشنریوں سے اسلام ثابت کرنے پر لگے ہوئے ہیں۔۔۔۔اِن احمقوں کے نزدیک پیغمبر ﷺ صرف قُرآن کے "الفاظ" بتانے آۓ تھے۔ علاوہ اسکے انکے پاس اللهﷻ کی طرف سے کوئ اور منشور و ھدایت نہیں تھی۔۔۔۔جسکو اسلام یا منشورِ الہیﷻ کہا جا سکے۔۔۔۔اور جس سے اللهﷻ کی صحیح و حقیقی مُراد معلوم ہو سکے۔۔۔۔ یہ سب حقیقت میں گمراہی کی اصل ہیں۔۔۔۔اور شیطان کے مُبلّغ ھیں۔۔۔۔