Tahqiq-e-Islami

Tahqiq-e-Islami Islamic knowledge and Tehqeeq

19/06/2026
12/04/2026

💥 ایک اشکال و غلط فہمی کا جواب کہ 👈 "" غامدی اپنی کتابوں میں اور اپنی گفتگو میں آحادیث کوڈ کرتا ھے ، جبکہ مولوی خواہ مخواہ اُسے منکرِ حدیث کہتے ھیں "" 💥

💥وہ حدیثوں کو محض تاریخی اخبار مانتا ھے۔۔ حدیثوں کو "دینی مصدر" نہیں مانتا۔۔اسکے نزدیک یہ جھوٹ اور سچ کے درمیانی چیز ھے۔۔۔اگر کوئ انہیں سچ کہے تو اسی کے ھاں سچ ھے۔۔اور کوئ اگر جھوٹ کہے اور انکار کر دے تو وہ بھی ٹھیک ھے۔۔۔اسکےلیۓ حدیث اور سنت کے اوپر اسکے لیکچرز سن لو۔۔۔ چنانچہ جتنا وہ مانتا ھے اتنا ہر منکر حدیث مانتا ھے ۔۔ البتہ یہ اسے نہ شرعی حجت مانتا ھے ، نہ شرعی دلیل ۔۔۔ اسکا حدیثوں کو کوڈ کرنا محض دھوکہ اور فریب ھے ۔ کیونکہ یہ اگر حدیث کوڈ نہ کرے تو تھوڑی تھوڑی دیر بعد قرآن کی خودساختہ تفسیر میں پھنس جاتا ھے۔۔ جب کوئ راستہ نہیں ملتا اور دیوار سے لگ جاتا ھے ۔۔۔ تو پھر اسے گرگٹ کی طرح رنگ بدلنا پڑتا ھے ۔۔۔ تب یہ وہ بات کوڈ کرتا ھے ۔ جسے یہ یقینی تسلیم نہیں کرتا ، جسے یہ دینی مصدر ۔ دلیل تسلیم نہیں کرتا۔۔لیکن پھر کیا کرے ۔۔لوگوں کا اس پر سے اعتماد جاتا ھے ۔۔ اور جو خود ساختہ " مذھبی سکالر " کا لیبل ھے۔۔۔وہ اُترتا ھے ۔ مجبورا جسکا رد کیا اُسی کو کوڈ کرنا پڑتا ھے ۔۔۔ بطور دلیل نہیں ۔۔۔بلکہ بطورِ تائید ۔۔۔جیسے بعض اوقات آدمی اپنی تائید میں وہ حوالے بھی دے دیتا ھے ۔. جنکی وہ شدت سے مخالفت اور تردید کرتا ھے۔۔۔
لہذا " دلیل " اور " تائید " کے فرق کو ملحوظ رکھا جاۓ تو اسکی حقیقت بالکل کُھل جاتی ھے ۔۔ لیکن عامی آسانی سے اس تک پہنچ نہیں پاتا ۔۔۔اور یوں یہ اسکی لاعلمی سے فائدہ اُٹھاتا ھے۔۔۔اور دیکھنے والا یہی سمجھتا ھے۔۔ کہ مولوی خواہ مخواہ " شفیق " المعروف جاوید غامدی " کے خلاف ھیں۔

26/03/2026
25/03/2026
25/03/2026

▪️بجلی مہنگی ، تیل مہنگا ، علاج مہنگا ، تعلیم مہنگی ، انصاف مہنگا ، مہنگائی ہی مہنگائی اور جبکہ عوام میں سے کئی حکومت سے فریاد کر رہے ہوتے ہیں کہ عوام کے وسائل ختم ہو گئے ہیں ، ذرائع معاش نہیں رھے ، لوگ بھوکوں مر رہے ہیں ، خود کشیاں کر رہے ہیں ،۔۔۔۔۔۔۔
وغیرہ ، وغیرہ ، وغیرہ۔۔۔۔
لہذا مہنگائی کو ختم کیا جائے ، ہماری فریاد سنی جائے ، ہم بھی پاکستانی ہیں ،
لیکن پہلی بات تو یہ ہے کہ اِنہوں نے خود دو قومی نظریے کی بنیاد پر اپنا الگ سے ملک بنایا تھا ۔۔۔۔لہذا ہر دور کی حکومت پورے خشوع و خضوع کے ساتھ اور دلجَمی کے ساتھ اپنا تن من دھن لگا دیتی ہے اس نظریے کی حفاظت پر ۔۔۔۔۔۔۔
چنانچہ 78 سالوں سے دو قومیں پاکستان میں رہ رہی ہیں ۔۔۔
ایک وہ جو ترقی پر ترقی کر رہی ہے ، خوشحال ہے ، نسلوں تک خوشحال ہے ، جن کے علاقے میں بہاریں ھی بہاریں ہیں ، خزاں کا کہیں گزر نہیں ھوتا۔۔۔ ہمارا ملک اس پالیسی میں "جنت نظیر" ہے ۔۔۔۔۔
اور جس نے قرآن میں جنت کے نظارے دیکھے ہیں اُنہیں معلوم ہے کہ جنت میں جہاں جنَّتی رہتے ہیں وہیں اُن کے خُدَّام بھی رہتے ہیں ۔۔۔۔۔۔ مزید یہ کہ اُن خُدَّاموں کی جنَّتِیوں کی طرح نہ تو کوئی خواہشات ہوتی ہیں اور نہ ہی کوئی ضروریات ، نہ ہی کوئی حاجات بلکہ وہ تو صرف جنت میں جنتیوں کی ضروریات وحاجات کی تکمیل کے لیے ہوتے ہیں اور خدمت کے لیے خاص ہوتے ہیں۔۔۔۔ خدمت ھی خدمت اور کوئی مطالبہ نہیں۔۔۔۔
چنانچہ یہ جنت کی دوسری قسم خُدّام والی ہم عوام ہیں۔۔۔۔ البتہ تھوڑا سا فرق یہ ہے کہ جس جنت کا ذکر قرآن میں ہے وہ اللہ تعالی ﷻ والی جنت ہے اور جس جنت میں ہم رہ رہے ہیں یہاں جنتیوں اور خدام کی تقسیم "فرعون اور شداد" والی ہے یہاں جو چیز بھی مہنگی ہوتی ہے وہ خُدَّاموں کے لیے دوبارہ کبھی سستی نہیں ہوتی اور جو چیز جتنی بھی مہنگی ہوتی رہے وہ جنتیوں کے لیے کبھی مہنگی نہیں ہوتی ۔ اس لیے اے جنت نظیر مملکت خداداد کے باسِیو صرف اللهﷻ ہی ھے جو یہاں تمہاری فریاد سُن سکتا ہے نہ کہ جنَّت کے "فرعون اور شداد" سُنیں گے ۔۔۔۔ ان کے نزدیک تم "خدّامِ دنیا" ہو تم خدّام ہی رہو۔۔۔ جیسے "فرعون وھامان" کے خدَّام بنی اسرآئیل تھے ۔۔۔۔ جن کے لیے نہ کوئی عدالتیں تھیں ، نہ کوئی نظام تھا ، جن کے نہ کوئی مطالبات تھے ، نہ کوئی ضروریات تھیں ، نہ کوئی ان کے لیے انصاف تھا۔۔۔۔ جو صرف اور صرف کسی اور کے لیے زندگی گزارتے تھے ، مزدوریاں کرتے تھے ، کماتے تھے ، اولادیں پیدا کرتے تھے ، اور مر جاتے تھے ،۔۔۔۔۔
☝️لیکن ہاں نا امیدی کفر ہے ایک امید رکھو کہ یہ طویل رات جو تمہارے اوپر چھائی ہوئی ہے گزر جائے گی اور یہ حسین خواب جو وقت کے فرعون اور شداد دیکھتے ہیں یہ ٹوٹ جائیں گے ، بکھر جائیں گے ، عنقریب ایک صبح ہونے والی ہے جو صرف انصاف کے لیے ہوگی ، انصاف کا ترازو قائم ہوگا اور مظلوم کو ظالم سے حق دلایا جائے گا اور بمع سود کے دلایا جائے گا۔۔۔۔۔ اللهﷻ سے فریاد کرنا نہ چھوڑو وہ ھم سب کی ضرورتیں پوری کرتا ھے اور وہ ضرورتیں پوری کرتا رھے گا۔۔۔۔
جس طرح پتھر میں موجود کیڑے کی کرتا ھے۔۔۔۔۔۔
☝️ھاں ھم میں سے ہر آدمی اپنے اعمال پر بھی نظر رکھے۔۔۔۔کہ کہیں ھم وہ فصل تو نہیں کاٹ رھے۔۔۔۔جو ھم نے کاشت کی تھی۔۔۔۔۔۔۔
کیونکہ ھمارا ربّﷻ تو مخلوق کیلیۓ رحمان و رحیم ھے۔

💥علمی احساس کمتری میں مبتلاء خلجان کا مارا ھوا شخص۔۔۔۔۔۔۔۔۔جو شیخ کہلوانا چاھتا ھے۔لیکن بےحیثیت ھے۔جو استاذنا المکرم کہل...
24/03/2026

💥علمی احساس کمتری میں مبتلاء خلجان کا مارا ھوا شخص۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جو شیخ کہلوانا چاھتا ھے۔لیکن بےحیثیت ھے۔
جو استاذنا المکرم کہلوانا چاھتا ھے۔ لیکن بے حیثیت ھے۔۔۔۔۔
جو فضیلۃ الشیخ کہلوانا چاھتا ھے۔ لیکن بے حیثیت ھے۔۔۔۔
جو شیخ التفسیر و الحدیث کہلوانا چاھتا ھے۔ لیکن بےحیثیت ھے۔۔۔۔۔
جو اندر ھی اندر سے گُھٹتا ھے ، علمی بے حیثیتی اُسکے اندر کو جلاتی ھے۔۔۔لیکن بغیر پَروں کے جوہڑ میں رھنے والا مینڈک ، عقاب کی اڑان نہیں اُڑ سکتا ، علم کی بُلندیوں کو نہیں پہنچ سکتا۔۔۔۔۔۔
صرف " ٹر ٹر " کرسکتا ھے۔ ایک دو چھلانگیں لگا سکتا ھے۔۔۔۔لیکن اپنی اوقات سے بڑھ نہیں سکتا۔۔۔۔۔۔
اسکی مثال اس شخص کی ھے۔۔جو موت کے بغیر شہادت کے رُتبے کو پہنچنا چاھتا ھے۔۔۔۔۔
یہ اور اس جیسے دو چار " عوامی ٹٹُّو " ۔۔۔جنکی علمی دنیا میں دو ٹکے کی اوقات نہیں۔۔۔۔۔۔
یہ حسد اور بغض سے بھرے ھوۓ ، علماء سے خار کھانے والے ، رافضیت ، و مودودیت و غامدیت کے متاثرین ، کہ جن کی کل کائنات " آوارہ مطالع ، بکھری ہوئ سوچ ، ھے۔۔فکری گمراھیوں میں گردن تک ڈوبے ہوۓ۔۔۔۔۔
اس جاھل نفسیاتی مریض و برساتی مینڈک کا شکار وھی ھوتے ھیں۔۔۔جو علمی لحاظ سے ان سے بھی گۓ گزرے ھیں۔۔۔۔۔
جن کا نہ اپنا کوئ معیار ھے ، اور نہ ھی زندگی کے ساتھ وہ سنجیدہ ھیں۔۔۔۔۔۔
لہذا " ساحل رجیم " بھی بھاڑے کا ٹٹو ھی ھے ۔ اور ٹٹو ھی رھے گا۔🧐

📖 عیسیٰ خیل ( شہر )( جامع دوست محمّد خان۔اھلحدیث )📖  نماز کے اوقات📖 27 دسمبر 2025 کیلیۓ
26/12/2025

📖 عیسیٰ خیل ( شہر )
( جامع دوست محمّد خان۔اھلحدیث )
📖 نماز کے اوقات
📖 27 دسمبر 2025 کیلیۓ

27/10/2025

☝️نبی مکرم و محترمﷺ پر نزولِ " وحی " کے وقت بھی بڑے بڑے مناطقہ اور فلاسفہ موجود تھے ، بڑے بڑے مُدبّر و عُقلا و فُصحاء موجود تھے اور اس سے قبل کی اُمتوں میں بھی موجود ہے تھے جنہیں قوموں کا "دماغ" سمجھا جاتا تھا ، جو چاہتے تو لکڑی کے ستون کو بھی اپنی عقل سے سونے کا ثابت کرنے پہ قادر تھے۔۔۔۔۔ لیکن الله تعالیﷻ نے انسانوں کی ہدایت کے لیے کبھی بھی ان میں سے کسی کا انتخاب نہیں کیا ، تاریخ اس کے اوپر گواہ ہے اور حقیقت عَیاں ہے ۔ ۔۔۔ آخر کیوں ؟ تو جواب یہ ھے کہ عقل محدود ھے ، اور اسکے پاس علم " معلوم " ھے ، اسکے ذرائع محتمل ھیں ، جو ھمیشہ درست و صحیح نتائج اخذ کرنے اور حتمی فیصلہ دینے سے عاجز ھیں ۔ رھی اللهﷻ کی مُراد کا صحیح علم۔۔۔۔ تو وہ عقل سے حاصل نہیں ھوسکتا ، وہ اس وقت تک " علمِ مفقود " ھے جب تک اللهﷻ خود اُسکو ظاہر نہ کر دے ۔ پھر عقلی تفاوت اور قبول و رد کا مختلف معیار کسی بھی اجتماعی و حتمی و فیصلہ کُن نتیجے پر کبھی نہیں پہنچ سکتا۔۔۔۔ یہی وجہ ھے کہ الله تعالیٰ ﷻ نے ہمیشہ انسان کی ہدایت کے لیے اپنی "وحی" بھیجی ، اپنی طرف سے ہدایت بھیجی ، اور اس کو انسان کی ہدایت و رہنمائی اور منشور کے طور پر مقرر فرمایا اور دنیا اور آخرت کی تمام بھلائیاں اِسی وحی کے ساتھ جوڑ دیں ۔۔۔۔لہذا ۔۔۔۔۔آج "وحی الٰہی" کے مقابلے میں کوئی عقل کو پیش کرے تو وہ بے عقل و جاہل اور احمق انسان ھے۔ بھلے وہ سُفہاء اور بے وقوفوں کا امام کیوں نہ ہو۔۔۔۔کیونکہ اُس نے " محدود" سے غیب اور "لامحدود" کا احاطہ کرنے کی کوشش کی۔۔۔۔۔۔۔ جیسا کہ دور حاضر کے بعض مغربی متاثرین اور علم مستشرقین سے مغلوب حضرات و ذہن ہیں جن کی عقلی توجیہات بلکہ "رُدودِ اسلامی" کی اُن کے اپنے ہاں اور اپنے اندھے اور بے عقل مقلدین کے ہاں تو اہمیت اور مقام ہو سکتا ہے لیکن اہل علم اور ورثاءِ نبوّت کے نزدیک ایک بے حیثیت مُفسِد سے زیادہ کچھ نہیں ۔۔۔۔۔۔۔دور حاضر کے جملہ منکرین حدیث ، اور جسم و روح کو حقیقی اسلام کی پابندیوں سے آزاد کروانے والے " مُہم جو "خود ساخت اسکالر (مولوی) شامل ہیں۔۔۔ یہ سب مغرب زدہ اور علمی شکست خوردہ ہیں ۔۔۔۔۔جو پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک طرف کر کے محض ڈکشنریوں سے اسلام ثابت کرنے پر لگے ہوئے ہیں۔۔۔۔اِن احمقوں کے نزدیک پیغمبر ﷺ صرف قُرآن کے "الفاظ" بتانے آۓ تھے۔ علاوہ اسکے انکے پاس اللهﷻ کی طرف سے کوئ اور منشور و ھدایت نہیں تھی۔۔۔۔جسکو اسلام یا منشورِ الہیﷻ کہا جا سکے۔۔۔۔اور جس سے اللهﷻ کی صحیح و حقیقی مُراد معلوم ہو سکے۔۔۔۔ یہ سب حقیقت میں گمراہی کی اصل ہیں۔۔۔۔اور شیطان کے مُبلّغ ھیں۔۔۔۔

Address

London

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Tahqiq-e-Islami posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share

Category