12/04/2026
💥 ایک اشکال و غلط فہمی کا جواب کہ 👈 "" غامدی اپنی کتابوں میں اور اپنی گفتگو میں آحادیث کوڈ کرتا ھے ، جبکہ مولوی خواہ مخواہ اُسے منکرِ حدیث کہتے ھیں "" 💥
💥وہ حدیثوں کو محض تاریخی اخبار مانتا ھے۔۔ حدیثوں کو "دینی مصدر" نہیں مانتا۔۔اسکے نزدیک یہ جھوٹ اور سچ کے درمیانی چیز ھے۔۔۔اگر کوئ انہیں سچ کہے تو اسی کے ھاں سچ ھے۔۔اور کوئ اگر جھوٹ کہے اور انکار کر دے تو وہ بھی ٹھیک ھے۔۔۔اسکےلیۓ حدیث اور سنت کے اوپر اسکے لیکچرز سن لو۔۔۔ چنانچہ جتنا وہ مانتا ھے اتنا ہر منکر حدیث مانتا ھے ۔۔ البتہ یہ اسے نہ شرعی حجت مانتا ھے ، نہ شرعی دلیل ۔۔۔ اسکا حدیثوں کو کوڈ کرنا محض دھوکہ اور فریب ھے ۔ کیونکہ یہ اگر حدیث کوڈ نہ کرے تو تھوڑی تھوڑی دیر بعد قرآن کی خودساختہ تفسیر میں پھنس جاتا ھے۔۔ جب کوئ راستہ نہیں ملتا اور دیوار سے لگ جاتا ھے ۔۔۔ تو پھر اسے گرگٹ کی طرح رنگ بدلنا پڑتا ھے ۔۔۔ تب یہ وہ بات کوڈ کرتا ھے ۔ جسے یہ یقینی تسلیم نہیں کرتا ، جسے یہ دینی مصدر ۔ دلیل تسلیم نہیں کرتا۔۔لیکن پھر کیا کرے ۔۔لوگوں کا اس پر سے اعتماد جاتا ھے ۔۔ اور جو خود ساختہ " مذھبی سکالر " کا لیبل ھے۔۔۔وہ اُترتا ھے ۔ مجبورا جسکا رد کیا اُسی کو کوڈ کرنا پڑتا ھے ۔۔۔ بطور دلیل نہیں ۔۔۔بلکہ بطورِ تائید ۔۔۔جیسے بعض اوقات آدمی اپنی تائید میں وہ حوالے بھی دے دیتا ھے ۔. جنکی وہ شدت سے مخالفت اور تردید کرتا ھے۔۔۔
لہذا " دلیل " اور " تائید " کے فرق کو ملحوظ رکھا جاۓ تو اسکی حقیقت بالکل کُھل جاتی ھے ۔۔ لیکن عامی آسانی سے اس تک پہنچ نہیں پاتا ۔۔۔اور یوں یہ اسکی لاعلمی سے فائدہ اُٹھاتا ھے۔۔۔اور دیکھنے والا یہی سمجھتا ھے۔۔ کہ مولوی خواہ مخواہ " شفیق " المعروف جاوید غامدی " کے خلاف ھیں۔