Tahqiq-e-Islami

Tahqiq-e-Islami Islamic knowledge and Tehqeeq

27/10/2025

☝️نبی مکرم و محترمﷺ پر نزولِ " وحی " کے وقت بھی بڑے بڑے مناطقہ اور فلاسفہ موجود تھے ، بڑے بڑے مُدبّر و عُقلا و فُصحاء موجود تھے اور اس سے قبل کی اُمتوں میں بھی موجود ہے تھے جنہیں قوموں کا "دماغ" سمجھا جاتا تھا ، جو چاہتے تو لکڑی کے ستون کو بھی اپنی عقل سے سونے کا ثابت کرنے پہ قادر تھے۔۔۔۔۔ لیکن الله تعالیﷻ نے انسانوں کی ہدایت کے لیے کبھی بھی ان میں سے کسی کا انتخاب نہیں کیا ، تاریخ اس کے اوپر گواہ ہے اور حقیقت عَیاں ہے ۔ ۔۔۔ آخر کیوں ؟ تو جواب یہ ھے کہ عقل محدود ھے ، اور اسکے پاس علم " معلوم " ھے ، اسکے ذرائع محتمل ھیں ، جو ھمیشہ درست و صحیح نتائج اخذ کرنے اور حتمی فیصلہ دینے سے عاجز ھیں ۔ رھی اللهﷻ کی مُراد کا صحیح علم۔۔۔۔ تو وہ عقل سے حاصل نہیں ھوسکتا ، وہ اس وقت تک " علمِ مفقود " ھے جب تک اللهﷻ خود اُسکو ظاہر نہ کر دے ۔ پھر عقلی تفاوت اور قبول و رد کا مختلف معیار کسی بھی اجتماعی و حتمی و فیصلہ کُن نتیجے پر کبھی نہیں پہنچ سکتا۔۔۔۔ یہی وجہ ھے کہ الله تعالیٰ ﷻ نے ہمیشہ انسان کی ہدایت کے لیے اپنی "وحی" بھیجی ، اپنی طرف سے ہدایت بھیجی ، اور اس کو انسان کی ہدایت و رہنمائی اور منشور کے طور پر مقرر فرمایا اور دنیا اور آخرت کی تمام بھلائیاں اِسی وحی کے ساتھ جوڑ دیں ۔۔۔۔لہذا ۔۔۔۔۔آج "وحی الٰہی" کے مقابلے میں کوئی عقل کو پیش کرے تو وہ بے عقل و جاہل اور احمق انسان ھے۔ بھلے وہ سُفہاء اور بے وقوفوں کا امام کیوں نہ ہو۔۔۔۔کیونکہ اُس نے " محدود" سے غیب اور "لامحدود" کا احاطہ کرنے کی کوشش کی۔۔۔۔۔۔۔ جیسا کہ دور حاضر کے بعض مغربی متاثرین اور علم مستشرقین سے مغلوب حضرات و ذہن ہیں جن کی عقلی توجیہات بلکہ "رُدودِ اسلامی" کی اُن کے اپنے ہاں اور اپنے اندھے اور بے عقل مقلدین کے ہاں تو اہمیت اور مقام ہو سکتا ہے لیکن اہل علم اور ورثاءِ نبوّت کے نزدیک ایک بے حیثیت مُفسِد سے زیادہ کچھ نہیں ۔۔۔۔۔۔۔دور حاضر کے جملہ منکرین حدیث ، اور جسم و روح کو حقیقی اسلام کی پابندیوں سے آزاد کروانے والے " مُہم جو "خود ساخت اسکالر (مولوی) شامل ہیں۔۔۔ یہ سب مغرب زدہ اور علمی شکست خوردہ ہیں ۔۔۔۔۔جو پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک طرف کر کے محض ڈکشنریوں سے اسلام ثابت کرنے پر لگے ہوئے ہیں۔۔۔۔اِن احمقوں کے نزدیک پیغمبر ﷺ صرف قُرآن کے "الفاظ" بتانے آۓ تھے۔ علاوہ اسکے انکے پاس اللهﷻ کی طرف سے کوئ اور منشور و ھدایت نہیں تھی۔۔۔۔جسکو اسلام یا منشورِ الہیﷻ کہا جا سکے۔۔۔۔اور جس سے اللهﷻ کی صحیح و حقیقی مُراد معلوم ہو سکے۔۔۔۔ یہ سب حقیقت میں گمراہی کی اصل ہیں۔۔۔۔اور شیطان کے مُبلّغ ھیں۔۔۔۔

26/10/2025
23/09/2025
14/09/2025

☝☝غامدی و غامدیت کا پہلا مقدمہ " حدیثِ رسول ﷺ غیرمحفوظ و غیر یقینی ، اس سے دین ثابت نہیں ہوتا۔🗣️

☝اب عقل کی بات ہے کہ ایک آدمی پوری امت کو غلط قرار دیتا ہے ، قرآن کے خود ساختہ معانی و مفاہیم لے رہا ہے اور لوگوں کو باور کراتا ہے کہ خود پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کے شاگرد (صحابہ ) تک اللہﷻ کے پیغمبر ﷺ سے سکھایا ہوا عِلم و تعلیم محفوظ نہ رکھ سکے ، قرآن کی تفسیر و تبیین و بیانُ القران محفوظ نہ رکھ سکے ، بھلے وہ ہزاروں میں تھے۔۔۔۔۔۔۔۔۔

▪ لیکن آج کا یہ غلط عربی لکھنے اور پڑھنے والا شخص ۔۔۔۔اپنی کتابیں لکھ رہا ہے اپنے بیانات ریکارڈ کروا رہا ہے اپنے انسٹیٹیوٹ بنا کر اپنی فکر عام کر رہا ہے کہ یہ سب قیامت تک محفوظ رہے گا اور دین اب اپنی اصلی شکل میں آگیا ، اپنی اصلی لائن و پٹڑی پر آگیا ، یہ وہی دین ہے وہی تفسیرِ قرآن ہے و تبین و بیانِ قرآن ہے جسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام کو پڑھایا ، سکھایا ، سمجھایا ، تعلیم دی تھی۔۔۔۔ لیکن وہ محفوظ نہ رکھ سکے بلکہ اسے متغیَّر کر دیا ۔اب خاص کر "غامدی" نے آکر اسے اپنی اصل شکل و صورت میں بحال کر دیا ۔۔۔1450 سال سے پوری امت گمراہی و ضلالت پر چل رہی تھی ، گمراہی لکھ رہی تھی ، گمراہی کی دعوت دے رہی تھی ، اور دین الہیﷻ و شریعت محمدی صلی اللہ علیہ وسلم کے مقابلے میں ایک دین و شریعت بنائے ہوئے تھی۔۔۔۔ لیکن بھلا ہو "غامدی" کا کہ جسے جبرائیل علیہ السلام نے وہ اصل مُسَوَّدے لا کر دے دیۓ جو لوحِ محفوظ میں محفوظ تھے اور جن سے تشریحات و تفسیرِ قرآن و بیانِ قرآن و تبینِ قرآن نبی مکرم و محترم صلی اللہ علیہ وسلم پر اُتارے جاتے تھے۔۔۔ لیکن افسوس صد افسوس کہ ان ﷺ کے صحابہ رضی اللہ عنہم کچھ بھی محفوظ نہ رکھ سکے ۔ کہ جن پر اِعتماد و اِعتبار کیا جائے ، یقین کیا جائے ، دین سمجھ کے اپنایا جائے ۔ ان کی جو ذمہ داری تھی اُسوہ پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کو بعد والوں تک بعینہ ہی پہنچانے کی۔۔۔۔ اُنہوں نے اُسے ہی ضائع کر دیا ، اُسی کو محفوظ نہ رکھ سکے ، ہاۓ افسوس صد افسوس۔۔۔۔

▪ تو لامحالہ نتیجہ یہی نکلے گا کہ اُن حضرات کے پاس پھر تو جو کچھ بھی تھا تو غیر یقینی ، ملاوٹ زدہ ، سچ اور جھوٹ کا پلندہ تھا۔۔۔۔کیونکہ اس بات میں بھی کوئی دو رائے نہیں کہ انسان اپنے پاس جو کچھ لکھ کر محفوظ کرتا ہے تو وقتاً فوقتاً اُس سے فائدہ اُٹھاتا ہے ، رہنمائی لیتا ہے ، اور اگر خاص کر وہ دین الہیﷻ سے متعلق ہو تو وہ چاہتا ہے کہ اسے آگے پہنچائے ، تعلیم دے تاکہ مخلوق الہیﷻ کو اس سے فائدہ ہو وہ جہنم میں جانے سے بچ جائیں اور آسمانی ہدایت کا راستہ اَپنائیں لیکن ہائے افسوس اِن اصحابِ محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے سنا بھی ، سمجھا بھی ، تعلیم بھی حاصل کی۔۔۔۔ لیکن محفوظ نہ رکھ سکے بلکہ بھلا دیا ، اسے لکھا بھی خود پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات طیبہ میں بلکہ ان ﷺ کے سامنے لکھتے رہے لیکن متغیَّر کر دیا ، ملاوٹ کر دی ، محفوظ نہ رکھ سکے ۔۔۔۔۔۔۔۔نتیجہ سامنے ہے آج تک اُن کا دیا ہوا دین 1450 سال سے اُمت اپنے سینے سے لگائے ہوئے ھے ، اپنی کتابوں میں سجائے ہوئے ، محفوظ کیے ہوئے ، عمل پیرا ہے ، اسے اپنا دستور و منشور بنائے ہوئے ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔

▪لیکن حقیقت میں بھلا ہے وہ کیا ۔۔؟؟؟؟؟؟؟

▪جی جی بقول عصر حاضر کے نابغۂ روزگار ، علامہ ، نقاد ، مفسر قرآن ، مجتہد عالَم ، معقولی ، نکتہ دان ، امین الوحی الحقیقی جناب شفیق احمد المعروف "غامدی" صاحب کے۔۔۔۔۔۔
▪ایک غیر یقینی چیز جس میں سچ اور جھوٹ ملا دیا گیا اور پھر اُس سچ کو جھوٹ سے الگ کوئی نہیں کر سکا ، کچھ جھوٹ تو بالکل واضح ہے جسے حدیث کو ماننے والے بھی جھوٹ ہی سمجھتے ہیں اور کچھ سچ ہے وہ جس میں 50٪ جھوٹ کا امکان ہے کہ پتہ نہیں وہ سچ ہے یا جھوٹ ۔ کچھ نہیں کہا جا سکتا ۔۔۔۔۔لہذا اس ظن و تخمین سے دین بھلا کیسے ثابت ہوگا۔ ؟؟؟؟

👌اب ظاہر ہے جب انہوں نے یہ بات کی تو سائل سوال کر سکتا ہے کہ اب پھر امت مسلمہ کیا کرے تو انہوں نے بتایا کہ میں نے دین کو اصلی پٹڑی پر چڑھا دیا ۔ اب اسے محفوظ کرو۔۔۔ میں کتابیں بھی لکھوں گا۔۔۔ بیانات بھی ریکارڈ کراؤں گا۔۔۔ انسٹیٹیوٹ بھی بناؤں گا۔۔۔ کیونکہ اب میرے اس اثاثے کو "آسمانی تائید" حاصل ھے۔ اب یہی قرآن کی حقیقی تفسیر ہے اور یہی حقیقی مُرادِ باری تعالی ہے جو پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم پہ اللہ تعالیﷻ نے اُتاری تھی اور پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو دی تھی۔۔۔ لیکن افسوس ! صد افسوس ! وہ کچھ بھی محفوظ نہ رکھ سکے اور نہ ان کے شاگرد کچھ محفوظ رکھ سکے پوری امت کو (معاذ اللہ) اُن لوگوں نے ایک سَراب(دھوکے) کے پیچھے لگا دیا اور 1450 سال سے وہ اِسی سَراب کے پیچھے لگی ہوئی ہے ۔ جس کا انجام صرف اور صرف ہلاکت اور جہنم ہے ۔

☝البتہ آج اگر کوئی بچنا چاہتا ہے اِس ہلاکت سے تو ۔۔۔ مَیں شفیق احمد عُرف "غامدی" جو دین پیش کر رہا ہوں اسے اپنا لے ، اسی کو محفوظ کر لے ، اسی کو حرزِ جاں بنا لے اور اسے ہی دنیا و آخرت کی بھلائیوں کی مُنتہیٰ سمجھے۔۔ میرے پیچھے چلے یہی اُس کے لیے دنیا اور آخرت کی بھلائیاں لائے گا اور آخرت کی نجات کی ضمانت دے گا۔۔۔۔۔۔۔

وغیرہ . . وغیرہ . . . وغیرہ

☝ ہم فقط یہی کہیں گے ایسے شخص اور اسکے مقلِّدین کیلیۓ
۔۔۔۔۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔۔۔۔

11/09/2025

☝ بعض لوگ کہتے ھیں غامدی دین میں کیا گڑ بڑ کر رھا ھے۔۔۔۔ جبکہ وہ بھی تقلید کا قائل نہیں۔۔۔۔اور اھلحدیث بھی تقلید کے قائل نہیں۔۔۔۔جبکہ اھلحدیث غامدی کا ہر پہلو سے رد کر رھے ھیں۔۔۔۔اور اس پر فکری گمراھی کے فتوے لگا رھے ھیں۔۔۔کیوں آخر ؟؟؟؟؟
☝گڑ بڑ یہی ھے۔ کہ غامدی صاحب بھولے بھالے مُرغوں کو پھنسانے کیلیۓ ۔ گیدڑ والی آذانیں دے رھے ھیں۔
☝غامدی صاحب ۔۔علم نبوت کو۔۔۔ قرآن کی تبیین۔۔۔۔ اور ۔۔۔۔بیان قرآن کو جس پر 1450 سال سے تمام اُمت کا اجماع ھے دین کا حصہ نہیں سمجھتے ۔۔۔۔۔انکی سوچ اور فکر یہی ھے کہ حدیث پیغمبرﷺ سے دین ثابت نہیں ہوتا۔۔۔۔بلکہ وہ شک اور یقین کے درمیانی چیز ھے۔۔۔۔۔غلط بھی ہو سکتی ہے اور صحیح بھی۔۔۔۔
☝ یعنی غامدی صاحب کے نزدیک 1450 سال سے پوری اُمت کیا سُنی کیا شیعہ سب گمراھی پہ اجماع کیۓ ھوۓ تھے۔۔۔۔۔کہ غامدی اور دیگر انکے ھم نَوا قَوَّال پیدا ہوگۓ۔۔۔جنوں نے اس راز سے پردہ اُٹھایا کہ خود پیغمبرﷺ تک کو پتہ نہیں تھا کہ اُنکے اصحاب۔رض۔ گمراھی اکٹھی کر رہے ھیں۔۔۔۔اور انﷺ کی زندگی میں ھی ، انکے سامنے ایک متوازی دین بنا رہے ھیں۔ لیکن پیغمبرﷺ پھر بھی کسی مصلحت کے تحت خاموش رھے۔۔۔معاذ الله ثم۔معاذ الله

14/08/2025

سوال=غامدی کہتا ھے ۔ صحیح بخاری تاریخ کی کتاب ھے۔اسکے ٹائیٹل پر بھی لکھا ہوا ھے۔

جواب

’’الجامع المسند الصحيح المختصر من أمور رسول الله صلى الله عليه وسلم وسننه وأيامه‘‘۔

یہ تالیف کا اصل نام ھے۔۔
اسمیں کہاں لکھا ھے کہ یہ تاریخ کی کتاب ھے؟؟؟
مؤلف۔رح۔ نے کہاں دعویٰ کیا کہ یہ تاریخ کی کتاب ھے۔؟؟؟
جب امام نے خود تفسیر کر دی۔۔تو خواہ مخواہ کے غامدی کے پراگندہ خیالات و اُلجھی ہوئ فکر کی بھلا کیا حیثیت !؟
پوری دنیا کے منکرین حدیث کو چیلنج ھے۔۔کہ متقدمین میں سے کن معتبر محدثین آئمہ فن نے صحیح بخاری کو تاریخ کی کتاب کہا ؟؟ اور دین کی کتاب ہونے کی حیثیت کا انکار کیا ؟؟؟
کیونکہ فن حدیث میں غامدی زیرو ھے۔بےحیثیت ھے۔۔اور تفسیر قرآن کے اصول بھی اکثر بغل سے نکالے ھوۓ ھیں۔۔یا معتزلہ اور بعض گمراہ فرقوں کے یا پھر معقولیوں کے ھیں۔۔جنہوں نے منطق اور فلسفے کا سہارا اسلیۓ لیا کہ انکے پاس کوئ الہامی رھنمائ نہیں تھی۔
مزید غامدی مغرب سے متاثر ھے۔ مستشرقین کے آگے بھی سجدہ ریز ھے۔۔اور قدیم یونانی فلسفے سے بھی اُدھار مال خریدا ھوا ھے۔۔
ھم کہتے ھیں قرآن میں۔قصص ، تاریخ،عقائد،عبادات،معاملات،زھد،تفسیر،اصول،بلاغہ، وغیرہ درجنوں موضوع ھیں۔ تو اب کیا قرآن کی بھی حیثیت بدل دےگا غامدی؟؟؟
ذھنی خلجان و الجھنوں کا شکار شخص ھے۔جو علمِ دین کوتاریخ اور اپنے ظنون و اوھام کو علم کہتا ھے۔۔دراصل یہ خودفریبی کے مرض میں مبتلاء شخص ھے۔جس کی ہانی میں سے شروع ھو کر میں پہ ختم ھوتی ھے۔

قرونِ اولیٰ کا بچھڑا مسافر، منزل پر پہنچ گیاانا للہ و انا الیہ راجعون1982ء کی بات ہے۔ جنوبی کوریا کا ایک وزیر کویت کے دو...
20/07/2025

قرونِ اولیٰ کا بچھڑا مسافر، منزل پر پہنچ گیا
انا للہ و انا الیہ راجعون
1982ء کی بات ہے۔ جنوبی کوریا کا ایک وزیر کویت کے دورے پر آیا۔ اسلام، اس کی تعلیمات اور کویتی مسلمانوں کے اخلاق اور طرز حیات سے کافی متاثر ہوا۔ اس نے کویتی وزراء سے کہا کہ ہے کوئی ایسا شخص جو اپنے آپ کو کوریا کے لیے وقف کر دے۔ کورین لوگ اس دولت سے محروم ہیں اور آپ کے پاس اتنا خوبصورت دین ہے؟ وزراء کیا جواب دیتے۔ کچھ عرصہ بعد یونیورسٹی کے ایک نوجوان پروفیسر کو کورین وزیر کی یہ بات معلوم ہوئی تو اس نے کہا کہ میں اس کام کے لیے تیار ہوں۔ یہ عظیم شخص گو کہ جسماً تو ہمارے زمانے میں رہتا تھا، لیکن قلب و روح کے اعتبار سے یہ قرون اولیٰ کا مسافر، جو شاید صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور تابعینؒ کے قافلے سے پیچھے رہ گیا تھا۔ اس نے لگی بندھی بہترین ملازمت، گھر بار، بیوی بچے، پرتعیش زندگی، غرض سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر ایک انجان ملک میں مستقل قیام کے لیے روانہ ہو گیا۔ جہاں کوئی اس کی جان پہچان نہیں، ملک بھی وہ جس کے باسی کہنے کو تو سات خداؤں کے ماننے والے، مگر عملاً سب ملحد، پھر یہ وہیں کا ہوکر رہ گیا۔ اس بات کو 41 برس بیت گئے، مگر اس شخص نے جب دین کے لیے وطن چھوڑا تو کبھی واپس آنے کا خیال بھی دل سے نکال دیا۔ یہ ہے کون اور اس عرصے میں اس نے کیا خدمات سر انجام دیں؟ کیا انقلاب برپا کیا؟ آیئے پڑھتے ہیں:
یہ کویت کی ایک یونیورسٹی کے پروفیسر اور وزارتِ اوقاف سے وابستہ مشہور علمی شخصیت الإمام الشيخ الدكتور عبد الوهاب زاهد الحق ہیں۔ بہت بڑی علمی ہستی، اتنی بڑی کہ نوجوانی میں ہی ان کا شمار کبار علماء میں ہوتا تھا۔ جب اسلام آباد میں اسلامی یونیورسٹی کا قیام عمل میں لایا گیا تو اس کی صدارت کے لیے جس شخصیت پر نظر انتخاب ٹھہری، یہ وہی تھے۔ حکومت پاکستان نے ان سے درخواست کی کہ یونیورسٹی کے وائس چانسلر بن کر قسم الفقه و الحدیث کو سنبھالیں، کویتی وزارتِ اوقاف کی خواہش تھی کہ وہ ان کے ساتھ کام جاری رکھیں اور الموسوعة الفقهية مرتب فرمائیں۔ سعودی حکومت بھی چاہتی تھی کہ وہ ان کے یہاں تدریس کریں۔ مگر شیخ نے یہ سب کچھ ٹھکرایا اور دین کی دعوت کے کٹھن سفر پر روانہ ہوئے۔ کوریا میں نہ ان کا کوئی جاننے والا تھا اور نہ ہی وہ کورین زبان جانتے تھے۔ کوریا پہنچ کر انہوں نے پہلے مقامی زبان سیکھنے پر توجہ دی، پھر وہاں کے ماحول کو سمجھا۔ لوگوں کے عقائد و رسومات اور ذہنی خیالات کا ادراک کر لیا۔ معلوم ہوا کہ یہاں کے بیشتر لوگ سات خداؤں پر ایمان رکھتے ہیں۔ بہت سے لوگ عیسائی بھی تھے اور ملحدین کی بھی کمی نہیں تھی۔ شیخ نے تفسیر اور حدیث کا علم جامعہ ازہر سے حاصل کیا تھا، جبکہ وہ الفقہ المقارن Comparative jurisprudence پر پی ایچ ڈی تھے۔
جب شیخ نے کوریا میں دعوت کا کام شروع کیا تو اس وقت وہاں مسلمانوں کی تعداد انگلی پر گنی جاسکتی تھی۔ لیکن اب ان کے ہاتھوں ہزاروں کورین مسلمان ہوچکے ہیں۔ انہوں نے نو مسلموں کو بھی اسلام کی دعوت کے کام پر لگا دیا۔ دارالحکومت سيؤول میں جامع مسجد صدیق کی بنیاد رکھی اور پھر اسے نور اسلام کے پھیلانے کا مرکز بنا دیا۔ پھر مختلف شہروں میں کئی مساجد کے ساتھ اسلامک سینٹرز قائم کیے۔ شیخ عبد الوہاب نے کورین زبان میں اسلام کے تعارف پر کئی کتابیں لکھیں۔ ان کی ایسی کتب کی تعداد 55 ہے۔ کوریا میں سیٹل ہونے کے بعد ایک مرتبہ مصر کے بزنس ٹائیکون عبد اللطیف الشریف نے الشیخ عبد الوہاب کو آفر کی کہ وہ کوریا میں ان کے بزنس پارٹنر بن جائیں۔ پرافٹ کا نصف حصہ انہیں ملے گا۔ یوں ملین ڈالر بیٹھے بٹھائے انہیں مل جائیں گے۔ لیکن شیخ نے کہا کہ عبد اللطیف! میں عرب کی سرزمین، اچھی نوکری اور سب کچھ مال کے لیےنہیں چھوڑا تھا، مجھے مال کی کوئی ضرورت نہیں۔ میں یہاں صرف اسلام کی دعوت کے لیے مقیم ہوں۔ مجھے کورین لوگوں کو جہنم سے بچانے کی فکر ہے۔ میں کاروباری جھنجھٹ میں نہیں پڑ سکتا۔ یہ سن کر عبداللطیف بہت خوش ہوئے اور کہا کہ میں آپ کی اس میدان میں کیا مدد کرسکتا ہوں؟ شیخ نے کہا کہ دو شہر ایسے رہ گئے ہیں، جہاں کوئی مسجد نہیں ہے۔ مجھے دو مسجد بنوا کر دے دیں۔ عبداللطیف نے اسی وقت دونوں مساجد کی تعمیر کے تمام اخراجات شیخ کو دے دیئے۔ ایک مسجد ابو بکر الصدیق کے اور دوسری عمر بن الخطاب کے نام سے قائم ہوئی۔ اب دونوں کا شمار کوریا کی مشہور مساجد میں ہوتا ہے۔ شیخ ابھی تک کوریا میں 80 مساجد اور درجنوں اسلامی سینٹر بنا چکے ہیں۔ غیر رسمی مساجد یعنی مصلوں کی تعداد سینکڑوں میں ہے۔
واضح رہے کہ 1930ء میں پارک جے سنگ Park Jaeseoung پہلا کورین شخص تھا، جو مسلمان ہوا تھا اور اب وہاں مسلمانوں کی تعداد لاکھوں میں ہے۔ اسلام قبول کرنے والوں کی تعداد میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے۔ شیخ کا کہنا ہے کہ مجھے کورین نو مسلموں پر فخر ہے۔ یہ قیامت کے دن میرے آگے ہوں گے۔ یہی میرا سرمایہ ہیں۔ میں نے ان کے لیے عقائد کی درستی کے لیے 23 کتابیں لکھی ہیں۔ الدکتور عبد الوہاب زاہد الحق کا اصل تعلق شام کے تاریخی شہر حلب سے تھا۔ جہاں وہ 1941ء کو پیدا ہوئے۔ 1984ء سے وہ کوریا میں مقیم اور اسلام کی روشنی پھیلاتے رہے۔ وہ کوریا کے مفتی اعظم اور سیوول کی مرکزی مسجد ابو بکر صدیق کے امام و خطیب تھے۔ ان کے سات بیٹے ہیں، پوتوں کی تعداد 35 ہے۔ وہ فرماتے ہیں کہ مسلم ممالک کی طرف سے اسلام کے نشر واشاعت میں نہایت سستی کا مظاہرہ کیا جا رہا ہے۔ ان کی اس فریضے پر کوئی توجہ ہی نہیں ہے۔ جس پر وہ قیامت کے دن جوابدہ ہوں گے۔
ابھی فیس بک کھولی تو ایک عرب پیج سے حضرت شیخ کی وفات حسرت آیات کا اعلان نظر سے گزرا، گوگل پر سرچ کیا تو اس سانحۂ ارتحال کی تصدیق ہوگئی۔ 84 سال کی عمر میں قرونِ اولیٰ کا بچھڑا ہوا یہ مسافر اپنی منزل پر پہنچ گیا۔ 41 سال تک وہ کوریا میں نگر نگر حق کی صدا لگاتا رہا اور بے شمار لوگوں کو اپنے رب سے جوڑ کر خود بھی اس مہربان آقا کے حضور حاضر ہوگئے۔ اللہ جل شانہ ان کی مساعیٔ جمیلہ شرفِ قبولیت عطا فرمائے، پسماندگان کو صبر جمیل و اجر جزیل سے نوازے۔ پوری امت ان کے سوگواروں میں شامل ہے اور ہم سب کو ان کے نقش قدم پر چلنے کی توفیق دے۔ آمین۔
(ضیاء چترالی)

16/05/2025

۔۔۔۔۔۔◾. نماز میں صف بندی کی فضیلت و احکام ◾۔۔۔۔۔

______________________. 1. _____________________

◾ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مُنْتَظِرُ الصَّلَاةِ مِنْ بَعْدِ الصَّلَاةِ كَفَارِسٍ اشْتَدَّ بِهِ فَرَسُهُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَلَى كَشْحِهِ تُصَلِّي عَلَيْهِ مَلَائِكَةُ اللَّهِ مَا لَمْ يُحْدِثْ أَوْ يَقُومُ وَهُوَ فِي الرِّبَاطِ الْأَكْبَرِ. [مسند احمد:8625] اسنادہ حسن

◾ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: *ایک نماز کے بعد دوسری نماز کا انتظار کرنے والا آدمی اس مجاہد کی طرح ہوتا ہے جس کا گھوڑا اللہ کے راستے میں اپنے پہلو پر تیار کھڑا ہو،*
• اس کے لئے اللہ کے فرشتے اس وقت تک دعائے مغفرت کرتے رہتے ہیں جب تک وہ بے وضو نہ ہو جائے یا وہاں سے کھڑا نہ ہو جائے اور وہ رباط اکبر (سب سے اہم چوکیداری میں شمار) ہوگا۔

______________________. 2. _____________________

◾ عن الْبَرَاء بْن عَازِبٍ يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّ اللَّهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى الصَّفِّ الْأَوَّلِ. [سنن ابن ماجة:997]

◾ براء بن عازب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: *بیشک اللہ پہلی صف والوں پر اپنی رحمت نازل فرماتا ہے، اور اس کے فرشتے ان کے حق میں دعا کرتے ہیں۔*


______________________ 3. _____________________

◾ عَنْ الْعِرْبَاضِ بْنِ سَارِيَةَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُصَلِّي عَلَى الصَّفِّ الْأَوَّلِ ثَلَاثًا وَعَلَى الثَّانِي وَاحِدَةً. [سنن النسائی:817] صحیح

◾ عرباض بن ساریہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ *رسول اللہ ﷺ پہلی صف (والوں) کے لیے تین بار اور دوسری صف (والوں) کے لیے ایک بار (مغفرت کی) دعا فرماتے تھے۔

______________________. 4. ____________________

◾ عن عبد الله بن عمر مرفوعا به خيارُكُم ألينُكُم مَناكبَ في الصَّلاةِ ، وما مِن خطوةٍ أعظَمُ أجرًا مِن خطوةٍ مَشاها رَجلٌ إلى فرجةٍ في الصَّفِّ فسدَّها. [السلسلة الصحيحة:2533]

◾ عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تم میں سے بہتر لوگ وہ ہیں جو نماز میں (صفوں میں مل کر کھڑے ہونے کے معاملے میں) نرم کندھوں والے ہیں۔
• *اور اس قدم سے زیادہ کسی قدم پر اجر نہیں جو صف کے شگاف کو پر کرنے کے لیے اٹھایا جاتا ہے۔

______________________. 5. ____________________

◾ عن عائشة قالت قال رسول الله صلى الله عليه وسلم مَنْ سَدَّ فُرْجَةً فِي صَفٍّ رَفَعَهُ اللَّهُ بِهَا دَرَجَةً ، أَوْ بَنَى لَهُ بَيْتًا فِي الْجَنَّةِ. [السلسلة الصحيحة:1892]

◾ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس نے (صف کے) شگاف کو پر کیا، اللہ اس کے لیے جنت میں گھر بنائے گا اور ایک درجہ بلند کر دے گا۔

______________________. 6. ____________________

◾ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم سَوُّوا صُفُوفَكُمْ فَإِنَّ تَسْوِيَةَ الصَّفِّ مِنْ تَمَامِ الصَّلاَةِ [صحیح مسلم:975]

◾ انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اپنی صفوں کو برابر کیا کرو کیونکہ صفوں کا برابر کرنا نماز کی تکمیل کا حصہ ہے۔

06/04/2025

Address

London

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Tahqiq-e-Islami posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share

Category