Indus Properties

Indus Properties Indus holds a solid reputation for delivering exceptional architectural and interior design services to private sector, and industrial clients.

Indus Properties:

We provide the most professional, informative, loyal and dedicated service in the industry. The best interests of our clients will always come first and we will place the clients' concerns ahead of our own in each and every transaction, as we are dedicated to the development of long-term client relationships! Our team-approach philosophy ensures your needs are important to each

and every member of our organization. To make real estate as cost effective as possible while maintaining the highest level of service. * To provide accurate and up-to-date information, skilled analysis and sound real estate advice. * To continually explore new ideas and technology, to make the letting of real estate faster, less costly, and easier.

29/10/2018

از قلم: میر سید اکرام حسین ابلکلام ۔
ضمیر کے آئینے میں
لندن

کیوں نہ آج موجودہ حکومت کو صرف ضمیر کے آئینے کے سامنے سے گزار کر دیکھیں اور کچھ اچھی بات سمجھا دیں کہ آپ بجلی کی پیداوار میں اضافے کرنے کے لیے دوسرے ملکوں میں جانے سے پہلے اپنی غریب عوام کی سوچ کو تو جانو کہ غریب عوام کیا معلوم خود آپ کو اس کا حل تلاش کرنے میں مدد گار ثابت ہو ۔
اور اس مسلہ کا حل موجود ہے بہت آسان مگر مسلہ ارادوں کا سچا اور کھرا ہونا ضروری ہے۔

کبھی کبھی کچھ ڈاکٹر مرض کی صحیح تشخیص کرنے کے ماہر ہوتے ہیں ۔ مگر کبھی تشخیص تو ہو جاتی ہے کے مریض کو بیماری کیا ہے یہ بھی پتہ چل جاتا ہے کہ کیسے ہوئی یہ بیماری ۔ مگر علاج کرنے میں مشکلات پیدا ہو جاتی ہیں ۔
پھر ڈاکٹر مریض کی عمر ۔ اس کی باقی بیماریوں کو سامنے رکھتے ہوئے اور مریض کی باقی عادتیں بھی دیکھنا پڑتی ہیں سموکنگ وغیرہ وغیرہ ۔ پہر دوائیوں اور آپریشن کرنے کا طریقہ کار تیار کیا جاتا ہے ۔
موجودہ حکومت کا بھی کچھ ایسا ہی مسلہ ہے مسائل سے باخبر ہیں مگر اس پر قابو پانے کے طریقہ کار بہت کم طریقہ کار پر غور کیا جاتا ہے ۔

موجودہ حکومت ۔ پاکستان کی قوم کے غریب عوام کے مزاج کو سمجھنے کی کوشش کرے ۔ بلکہ سب سے پہلے جس مریض کا علاج کرنے جارہی ہے حکومت اس کی ہر ہر بیماریوں پر غور کرے ۔ اس کے حالات و عادات ۔ خوراک ۔صاف پانی ۔ کوڑے کے ڈھیر میں آبادیاں ۔ گندے نالے ۔۔ مہنگائی کا طوفان ( یہ سب کرپشن کے نام ہیں) جس میں یہ عوام زندہ رہے رہی ہے ۔ سب سے پہلے اس غریب عوام کے مزاج میں کیوں بے چینی ہے اس کو سمجھو وزیراعظم عمران خان صاحب آپ اس بات پر غور کریں کے آپ کی قوم کا مزاج کیا ہے ۔
اور کیا یہ ایک امیر ملک ہے یا غریب ملک ۔ عوام غریب ہے یا امیر ۔ غربت زیادہ ہے امیری اور حالات میں رہنے والی عوام کی کیا سوچ ہے ۔ آپ کو قوم کا طرح سوچتی ہے آپ یہ بات اچھی طرح معلوم ہونا چاہیے ۔ یہ مت سوچیں آپ کے ساتھیوں میں فلاں وزیر اعلیٰ یا وزیر یا مشیر اور یا آپ کا دوست کی کیا سوچ ہے اس قوم کے مسائل کے بارے میں ۔۔ نہیں آپ یہ جانیں کے میرے غریب ملک کی غریب عوام رہتی کیسے ہے ۔ اپنا روزگار کیسے کماتی ہے ۔ روزانہ کا گزر بسر کرنے کا کیا طریقہ اختیار کرتی ہے میری قوم کی عادات کیا ہیں ۔ ایک تنخواہ حاصل کرنے والا ملازمت پیشہ فرد آپنا گھر میں راشن پانی ۔ اور بجلی کے بلوں گیس کے لیے بل ۔ فون کا خرچہ ۔ اگر موٹر سائیکل ہے تو اس کا پیٹرول کا خرچہ گھر کا کرایہ کیسے چلاتا ہے اور اس کی سوچ کیا ہے وہ کہاں کہاں بچت کا سوچتا ہے ۔
جناب وزیراعظم عمران خان صاحب محترم غور سے دیکھیں اس غریب تنخواہوں کے ساتھ گزارنے والی عوام کا ایک مزاج ہے ایک طریقہ کار ان کے مزاج سے جڑا ہوا ہے ۔ آپ ان کے مزاج کے مطابق ان کی ضرورتوں کو پورا کرنے کی کوشش کریں ۔ یہ قوم خوش ہو کر قبول کرے گی ۔اور بہت خوشی خوشی قومی مسائل حل ہونا شروع ہو جائیں گے ۔
محترم جناب وزیراعظم عمران خان صاحب آپ کو کسی کے پاس جانا نہیں پڑےگا اگر آپ اس قوم کی عادات اور مزاج کو سمجھ گئے ایک بار غور کیجئے ۔۔
جناب عمران خان صاحب میں ایک عوام میں رہنے والا انسان ہوں ۔ پاکستانی عوام میں بہت ساری باتیں بہت ضروری ہیں سمجھنا ۔ میں بتاتا ہوں غور کیجئے اس قوم کا مزاج بلکل درست اور قابل تحسین ہے ۔ یہ قوم اپنی تمام تر ضرورتوں کو نقد رقم ادا کر کے پورا کرتی ہے ۔ جو روزانہ کی مجموعی ضرورت کی اشیاء کی ضرورت ہوتی ہے وہ کیش پر خریداری کرتی ہے یہ قوم اور اپنی مرضی اور اپنی بچت کے حساب سے خود سوچ سمجھ کر بہت حساب کتاب کے ساتھ کام چلانے کا فیصلہ کرنے کی حکمت عملی کا پتہ ہے اس قوم کو اچھی طرح پتہ ہے کہ میں نے کیسے اتنے پیسوں میں سب کام کرنے ہیں ۔ جیسے کے موٹر سائیکل کا پیٹرول اپنے حساب کتاب سے استعمال کرنا اور اسہی حساب سے خریدنا پہر بچت کے ساتھ استعمال کرنا ۔
موبائل فون کا کریڈٹ کارڈ نقد رقم سے خرید کر استعمال کرنا پہر بچت کا رجحان ہے س معمولی سے فون کارڈ جو نقد رقم ادا کر کے لیا مگر اس میں اب کیسے بچت کرنی ہے اس بات کی اس قوم کو خوب اچھی طرح سے پتہ ہے۔ یہ اصل بات اگر آپ اس غریب عوام کو پری ہے سسٹم ۔ جس طرح ساری دنیا میں سسٹم کام کر رہا ہے ۔ اگر یہ قوم موبائل فون ایپ ڈاؤن لوڈ کر کے کام کرسکتی ہے تو یہ سب کچھ کرسکتی ہے ۔ اس قوم کو سمجھنے کی ضرورت ہے بس ۔ اس کے مزاج کو سمجھ کر کام کریں ۔
Pay as you go ( pre pay metter system )
پوری دنیا میں کام کر رہے ہیں پاکستان میں کیوں نہیں ۔
قانون سازی کی جائے ۔
تمام دکانیں پر صرف پری پیڈ میٹر لگوانے کا قانونی طور پر آغاز کیا جاے ۔ لازمی قرار دیں
تمام فلیٹوں پر صرف پری پیڈ میٹر لگوانے کا قانونی طور پر آغاز کیا جاے۔ لازمی قرار دیں۔
فیکٹری مالکان اڈوانس سسٹم پر کام کریں ۔ ڈپازٹ اسکیم کے تحت۔ قانون نافذ کرنے کی ضرورت ہے بس۔ ورنہ پری پیڈ میٹر لگوانے کا قانونی طور پر حل تلاش کرنے کی ضرورت ہے۔
اس سے بجلی چوری بند ہو جائے گی ۔ سب سے بڑا فائدے میں عوام رہے گی ۔ جتنی ضرورت ہو اتنی بجلی خرید لی ۔ اڈوانس سسٹم موبائل فون ایپ کے ذریعے سے اپنی دکان ۔ مکان فلیٹ پر پری پیڈ میٹر لگوا کر ۔ بل سسٹم ختم اپنی مرضی سے اپنا خرچہ کنٹرول کیا ۔ حکومت کے پاس سے بجلی کے بل وصول کرنے کا عزاب ختم ۔ نادہندگان کیخلاف کارروائی کرنے والا اسٹاف کی تنخواہوں کی مد میں کروڑوں کی بچت ۔ اور رقم پہلے حکومت کے بینک اکاؤنٹس میں ہوگی جبکہ بجلی ابھی استعمال ہونا شروع بھی نہیں ہو گی ۔ جبکہ پری ہے سسٹم سے کرپشن پر قابو پایا جاسکتا ہے ۔ نادہندگان ختم ۔ رشوت خور کا رشوت کا راستہ بند ۔ عوام اپنی مرضی کے مالک ۔ حکومت خوش حکومت کے بنکوں میں پیسے پہلے سے موجود اور بجلی کی پیداوار میں اضافے کے لیے تیل کی قیمتوں کی ادائیگی کی رقم حکومت کے پاس موجود ہو گی ۔ آسانی سے مزید تیل خریداری کرے حکومت اور مزید بجلی پیدا کرنے والے انجن جو تیل نہ ہونے کی وجہ سے بند پڑے ہیں ان کو چلا کر مزید بجلی کی پیداوار میں ترقی کریں ۔ یہ قوم جانتی ہے اس کو کس طرح چیزوں کو استعمال کرنا ہے خاص طور پر جب گھر کے چرچے کی بات ہو تو اس قوم کا دماغ کام کرتا ہے اور کوئی نہ کوئی راستہ تلاش کرنے میں کامیاب ہو جاتیں ہیں ۔

موجودہ حکومت بہت جوش و خروش اور مکمل نہایت نیک نیتی کے ساتھ ملک و قوم کی خدمت میں عمل پیرا ہیں ۔ مگر جوش میں ہوش لازمی طور پر برقرار رکھنے کی ضرورت ہوتی ہے ۔ ورنہ مسائل کا معلوم ہونے کے باوجود ان کا حل سمجھ نہیں آتا ۔
پاکستانی عوام کے مسائل ساری دنیا کو معلوم ہیں ۔ مسلہ یہ ہے اس کو حل کیسے کرنا ہے ۔ اس کا طریقہ کار بہت سمجھداری سے سوچ سمجھ کر تلاش کرنے کی ضرورت ہے ۔
محترم جناب وزیراعظم عمران خان صاحب آپ کی کاوشیں اور آپ کی دن رات محنت قابل قدر ہیں ۔اور انشاللہ
اس پریشانی کا حل بہت آسان اور سستا ترین حل موجود ہے ۔جو اس وقت ۔پوری دنیا میں استعمال کیا جاتا ہے ۔ تمام یورپین ممالک ۔ بنگلادیش اور بھارت میں بھی ۔ کامیابی سے یہ پری ہے سسٹم کام کر رہا ہے ۔
اس سے حکومت کے پاس نا تو وسائل کی کمی پیدا ہوتی ہے ۔ اور نہ ہی بجلی چوری کی وارداتوں کی پریشانی ۔ یہ تمام سر درد پرائیوٹ کمپنیوں کا سر درد ہے ۔ مگر آج کے کمپیوٹر اور موبائل فون ایپ کے دور میں ہر کام کمپیوٹر کے ذریعے سے یا موبائل فون ایپ کے ذریعے سے کیا جاسکتا ہے ۔ اگر آپ پری پیڈ میٹر لگوانے کا قانونی طور پر آغاز کر دیں ۔ سب سے پڑا فائدے مند کام یہ ہوگا۔ لوڈشیڈنگ ختم ہو جائے گی ۔ عوام خوشحال ہوں گے ۔ لوگوں کے بجلی کے بلوں میں بہت کمی ہو گی ستی بجلی خریدنے کا رجحان پیدا ہو گا ۔ لوگ پری پیڈ میٹر میں خود مختار ہو جائیں گے ۔اپنی مرضی سے اپنے گھر کی بجلی کا بل خود بنائیں گے خود بچت کا طریقہ کار اپنی مرضی کے مطابق بنا کر اپنی زندگی میں سکون لے کر آئے گے ۔ جناب وزیراعظم عمران خان صاحب اس قوم کے مزاج کے مطابق ایک بار آپ یہ کام کر کے تو دیکھیں ۔ انشاللہ آپ کم از کم بجلی کی پیداوار کی وجہ سے جو بحران سے نکالنے میں کامیاب ہو جائیں گے ۔اور عوام کی مرضی کے مطابق کام کرتے رہیں اور عوام کی زندگی آسان بنانے کی کوشش کریں جو بھی حکومتی سطح پر اقدامات کیے جاتے ہیں وہ عوام کی زندگی میں آسانی پیدا کرنے کے لیے ہوتے ہیں ۔ تو پہر کیوں نہ سب سے پہلے اس عوام کے مزاج کو سامنے رکھ کر فیصلہ کریں ۔ جس میں عوام بچت کے ساتھ اور کچھہ حد تک خود مختار ہو مگر حکومت بھی مکمل طور پر فائدے مند رہے اور عوام بھی فائدے میں رہے ۔ علاج سے پہلے مریض کی تمام عادتیں جان لو اور پہر دوائیوں دو یا علاج شروع کریں ۔ اور اسان طریقہ کار علاج جس میں مریض خود راضی خوشی ٹھیک ہو جائے ۔ بس زرا علاج کرنے کا طریقہ انا چاہیے ۔ ہر بیماری کا علاج اس دنیا میں موجود ہے ۔ پاکستان میں عوام کو جدید ٹیکنالوجی سے فائدہ حاصل کرنے کی تربیت دی جائے اور آگاہی مہم کا آغاز کیا جاے ۔ اس سے آنے والی نسلوں کا مستقبل روشن ہو گا ۔
صرف بات اتنی سی ہے گر یہ ضمیر جاگ جاے اس آئینے کی سامنے سے گزر کر تو جو اقبال نے کہا تھا وہ سچ کہا ۔
ذرا نم ہو تو یہ مٹی بڑی زرخیز ہے ساقی

28/04/2016

Address

London
E34TU

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Indus Properties posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share

Category