FD Facts

Call Directions Contact the business

FD Facts educational videos and reels
(1)

مقامی حکام کے مطابق، پیر کے روز جنوبی وسطی یمن کے صوبہ شبوہ میں ’انصار اللہ‘ (حوثی) گروپ کے حم*لے میں کم از کم 53 افراد ...
19/10/2026

مقامی حکام کے مطابق، پیر کے روز جنوبی وسطی یمن کے صوبہ شبوہ میں ’انصار اللہ‘ (حوثی) گروپ کے حم*لے میں کم از کم 53 افراد ہلا*ک اور 200 زخمی ہو گئے۔ یہ حم*لہ سرکاری سکیورٹی فورسز کے ایک تربیتی کیمپ پر کیا گیا، ایسے وقت میں جب ملک بھر میں لڑائی شدت اختیار کر رہی ہے۔

خبر رساں ادارے ’روئٹرز‘ کی جانب سے تصدیق کی گئی ویڈیوز میں صوبہ شبوہ کے اس مقام پر زخمی افراد اور خو*ن میں لت پت لاش*یں زمین پر بکھری ہوئی دکھائی دیں۔

مقامی حکام نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر روئٹرز کو بتایا کہ حوثیوں نے کیمپ میں جاری تربیتی مشقوں کے دوران سکیورٹی فورسز پر تین بیلسٹک میزائل داغے۔

حوثیوں نے اس حم*لے کی ذمہ داری قبول کر لی ہے۔

صوبہ شبوہ جنوبی وسطی یمن کے ساحلی علاقے میں واقع ہے اور توانائی کے وسیع ذخائر سے مالا مال ہے۔

شبوہ میں موجود ایک سرکاری فوجی ذریعے نے یہ بھی بتایا کہ حوثیوں نے اتوار کے روز اس سڑک کو بند کر دیا جو صوبہ شبوہ کو صوبہ بیضا سے ملاتی ہے۔ واضح رہے کہ صوبہ بیضا اس وقت حوثیوں کے کنٹرول میں ہے۔

Disclaimer:
This content is shared strictly for informational and awareness purposes, based solely on publicly available reports and media sources. It does not represent any personal opinion or endorsement of any party involved.

فرانس بھر میں بڑھتی ہوئی مہنگائی، گرانفروشی اور عوامی سہولیات کی ابتر صورتحال کے خلاف بڑے پیمانے پر احتجاج جاری ہے۔   مظ...
18/10/2026

فرانس بھر میں بڑھتی ہوئی مہنگائی، گرانفروشی اور عوامی سہولیات کی ابتر صورتحال کے خلاف بڑے پیمانے پر احتجاج جاری ہے۔ مظاہرین حکومت سے مہنگائی پر قابو پانے، ملازمین کی اجرتوں میں اضافے اور بنیادی خدمات کی بہتری کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ اس احتجاج میں طلبہ، ملازمین، اور عام شہریوں کی بڑی تعداد سڑکوں پر نکل آئی ہے۔ حالات کو قابو میں رکھنے کے لیے ملک کے مختلف شہروں میں سیکیورٹی اور پولیس کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں۔

Disclaimer:
This content is shared strictly for informational and awareness purposes, based solely on publicly available reports and media sources. It does not represent any personal opinion or endorsement of any party involved.

ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ کے درمیان طے پانے والے اہم سیکیورٹی اور دفاعی معاہدے "مکہ پیکٹ"...
17/10/2026

ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ کے درمیان طے پانے والے اہم سیکیورٹی اور دفاعی معاہدے "مکہ پیکٹ" (Makkah Pact) کو مسلم دنیا کے اتحاد کی سمت ایک مثبت پیش رفت قرار دیا ہے۔

الجزیرہ کو دیے گئے اپنے حالیہ انٹرویو میں صدر پزشکیان کا کہنا تھا کہ مسلم ممالک کو باہمی تنازعات اور تقسیم کے بجائے باہمی تعاون، اتحاد اور مسائل کو بات چیت سے حل کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایران ایسے تمام اقدامات کا خیرمقدم کرتا ہے جو امت مسلمہ کو متحد اور خطے میں پائیدار امن کو یقینی بنانے کے لیے اٹھائے جائیں۔

اس خبر کو جغرافیائی و سیاسی لحاظ سے مشرقِ وسطیٰ اور اسلامی دنیا میں علاقائی استحکام اور سفارتی تعلقات میں ایک نئے باب کی علامت دیکھا جا رہا ہے۔

Disclaimer:
This content is shared strictly for informational and awareness purposes, based solely on publicly available reports and media sources. It does not represent any personal opinion or endorsement of any party involved.

چین کی وزارت خارجہ نے جمعہ کو ایک بیان میں کہا کہ چینی وزیر خارجہ وانگ یی نے اسرائیلی صدر اسحاق ہرزوگ سے کہا کہ اسرائیل ...
17/10/2026

چین کی وزارت خارجہ نے جمعہ کو ایک بیان میں کہا کہ چینی وزیر خارجہ وانگ یی نے اسرائیلی صدر اسحاق ہرزوگ سے کہا کہ اسرائیل کو مغربی کنارے کی بستیوں کے "جبری قیام" کے فیصلے کو روکنا اور واپس لینا چاہیے۔

وزارت نے مزید کہا کہ چین کا مسلسل موقف رہا ہے کہ مسئلہ فلسطین اس صدی کی سب سے بڑی تاریخی ناانصافی ہے، وانگ نے آذربائیجان میں ایک ملاقات کے دوران ہرزوگ کو بتایا۔
وانگ نے کہا کہ خطے میں امن اور مفاہمت کو فروغ دینا چین کی مشرق وسطیٰ پالیسی کا "بنیادی پتھر" ہے۔
وانگ نے مزید کہا کہ چین کا خیال ہے کہ "دو ریاستی حل" ایک قرارداد کا صحیح راستہ ہے اور فوری ترجیح غزہ کی پٹی تک رسائی کو مکمل طور پر کھولنا ہے تاکہ کسی انسانی "بحران" کو پھیلنے کی اجازت نہ دی جائے۔
انہوں نے کہا کہ اسی وقت اسرائیل کو مغربی کنارے میں جبری بستیوں کے قیام کو روکنا چاہیے اور اسے ختم کرنا چاہیے۔

Disclaimer:
This content is shared strictly for informational and awareness purposes, based solely on publicly available reports and media sources. It does not represent any personal opinion or endorsement of any party involved.

یمن کی حوثی تحریک انصار اللہ اور سعودی قیادت میں قائم عسکری اتحاد کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی میں بیلسٹک میزائلوں، ڈرونز...
17/10/2026

یمن کی حوثی تحریک انصار اللہ اور سعودی قیادت میں قائم عسکری اتحاد کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی میں بیلسٹک میزائلوں، ڈرونز اور لڑاکا طیاروں کا استعمال دیکھا جا رہا ہے۔
بی بی سی کی فیکٹ چیکنگ ٹیم نے تنازعات کی نگرانی کرنے والی تنظیم ’ایکلڈ‘ (ACLED) کے اعداد و شمار کا تجزیہ کیا تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ کشیدگی میں اضافے کے بعد ریکارڈ کی جانے والی کارروائیوں میں کن ہتھیاروں کا زیادہ استعمال ہوا۔

ان ہتھیاروں میں دو ہزار کلومیٹر سے زیادہ مار کرنے والے بیلسٹک میزائل، حملوں اور نگرانی کے لیے استعمال ہونے والے ڈرونز، اور امریکہ و یورپ میں تیار کردہ لڑاکا طیارے شامل ہیں۔

حوثی کون سے ہتھیار استعمال کر رہے ہیں؟
حوثیوں کے اسلحہ خانے میں درمیانی فاصلے تک مار کرنے والے متعدد بیلسٹک میزائل شامل ہیں۔ اس کے علاوہ ان کے پاس ایسے ڈرونز بھی موجود ہیں جو نگرانی اور حملوں دونوں مقاصد کے لیے استعمال کیے جا سکتے ہیں۔
ان میزائلوں اور ڈرونز کی صلاحیتیں، مثلاً ان کی مار، رفتار اور ہتھیار لے جانے کی صلاحیت، ایک دوسرے سے مختلف ہیں۔
تحقیقی رپورٹس، جن میں امریکی تحقیقاتی ادارے سینچری فاؤنڈیشن کی ایک رپورٹ بھی شامل ہے، کے مطابق حوثیوں کے زیرِ استعمال بعض جدید میزائل اور ڈرون ایرانی ڈیزائن پر مبنی ہیں۔ یہ مقامی سطح پر ایسے پرزوں کو جوڑ کر تیار کیے جاتے ہیں جن میں کچھ ایران جبکہ دیگر مختلف ممالک سے حاصل کیے جاتے ہیں۔
تاہم ایران حوثیوں کو اسلحہ فراہم کرنے کے الزام کی تردید کرتا رہا ہے اور اس کا کہنا ہے کہ وہ محض حوثیوں کی سیاسی حمایت کرتا ہے۔
حوثیوں کے اسلحہ خانے میں شامل نمایاں بیلسٹک میزائلوں میں ’فلسطین 2‘ بھی شامل ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ یہ تقریباً 2,150 کلومیٹر کے فاصلے تک مار کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس کے بارے میں دعویٰ کیا جاتا ہے کہ اس کی رفتار تقریباً 19 ہزار کلومیٹر فی گھنٹہ ہے۔

اس دعوے کی بنیاد پر حوثی اسے ہائپرسانک (آواز سے کئی گنا زیادہ رفتار سے اڑنے والا) میزائل قرار دیتے ہیں۔ یہ تقریباً 500 کلوگرام دھماکا خیز مواد لے جا سکتا ہے۔ اس میزائل پر فلسطین کا نام، اس کا نقشہ اور فلسطینی کوفیہ کی علامت بھی بنائی گئی ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق اس کی صلاحیتیں ایرانی ’فاتح‘ میزائلوں سے ملتی جلتی ہیں۔ مختلف رپورٹس کے مطابق اگست میں یمن کے مغربی ساحل پر واقع مخا بندرگاہ کو نشانہ بنانے والی کارروائیوں میں بھی اس میزائل کا استعمال کیا گیا تھا۔

حوثیوں کے زیر استعمال دیگر میزائلوں میں ’ذوالفقار‘ شامل ہے، جسے ’برکان 3‘ کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ یہ میزائل 1,200 کلومیٹر سے زیادہ فاصلے تک اپنے ہدف کو نشانہ بنا سکتا ہے جبکہ اس کی رفتار تقریباً چھ ہزار کلومیٹر فی گھنٹہ ہے۔ یہ تقریباً 250 کلوگرام دھماکا خیز مواد لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

فوجی ماہرین کا خیال ہے کہ یہ ایرانی ’قیام‘ میزائل کا ایک تبدیل شدہ ورژن ہو سکتا ہے۔

امریکی ادارے ایکلڈ کے اعداد و شمار کے مطابق حوثیوں کے زیرِ استعمال ڈرونز میں ’رجوم‘ نامی قلیل فاصلے تک پرواز کرنے والا ڈرون بھی شامل ہے۔ یہ چھ پروں والا ڈرون ہے جس کی پرواز کی حد 10 سے 30 کلومیٹر تک بتائی جاتی ہے، جبکہ اس کی رفتار 200 سے 250 کلومیٹر فی گھنٹہ کے درمیان ہے۔ کہا جاتا ہے کہ یہ ڈرون تقریباً چھ مارٹر گولے لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

اس کے علاوہ حوثیوں کے پاس نگرانی کے لیے استعمال ہونے والا ڈرون ’صماد 1‘ بھی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ یہ ڈرون 500 کلومیٹر تک کا فاصلہ طے کر سکتا ہے اور اس کی رفتار 200 سے 250 کلومیٹر فی گھنٹہ کے درمیان ہے۔
امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون سے وابستہ انٹیگریٹڈ آپریشنل ڈیٹا نیٹ ورک کے مطابق امکان ہے کہ حوثی اس ڈرون میں تبدیلیاں کر کے اسے دھماکہ خیز مواد لے جانے کے قابل بنا سکتے ہیں، تاکہ اسے دیگر ڈرونز کی طرح یک طرفہ حملوں کے لیے استعمال کیا جا سکے۔

سعودی عرب کون سے ہتھیار استعمال کرتا ہے؟
یمن کے اندر کارروائیوں کے لیے سعودی عرب بنیادی طور پر اپنی فضائی قوت استعمال کر رہا ہے۔ اس مقصد کے لیے وہ امریکہ اور یورپ میں تیار کردہ لڑاکا طیاروں کے علاوہ حملہ آور ہیلی کاپٹر بھی استعمال کرتا ہے۔
ان میں سب سے نمایاں امریکی ساختہ ایف-15 لڑاکا طیارہ ہے۔ دو انجنوں والے اس طیارے کی رفتار تقریباً تین ہزار کلومیٹر فی گھنٹہ تک پہنچ سکتی ہے، جبکہ یہ ایک خودکار توپ سے بھی لیس ہوتا ہے جس کے لیے 940 گولیوں تک کا ذخیرہ رکھا جا سکتا ہے۔
سعودی عرب یوروفائٹر ٹائفون لڑاکا طیارے بھی استعمال کرتا ہے۔ یورپ میں تیار کیے جانے والے اس طیارے کی رفتار تقریباً 2495 کلومیٹر فی گھنٹہ تک پہنچ سکتی ہے اور یہ 3790 کلومیٹر تک کا فاصلہ طے کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اسے زمینی اہداف پر حملوں اور دیگر فوجی کارروائیوں میں استعمال کیا جاتا ہے۔
اس کے علاوہ سعودی اسلحہ خانے میں امریکی ساختہ اپاچی حملہ آور ہیلی کاپٹر بھی شامل ہیں۔ آپریشنل حالات میں ان کی زیادہ سے زیادہ رفتار تقریباً 330 کلومیٹر فی گھنٹہ ہوتی ہے اور ان کی پرواز کی حد لگ بھگ 300 کلومیٹر ہے۔ ان ہیلی کاپٹروں کو فضا سے زمین پر مار کرنے والے زیادہ سے زیادہ 16 میزائلوں کے علاوہ ایک خودکار توپ سے بھی لیس کیا جا سکتا ہے، جس کے لیے 1200 گولیوں تک کا ذخیرہ رکھا جا سکتا ہے۔
یمن میں کارروائیوں میں استعمال کیے جانے والے ڈرونز میں سکائی واسپ بھی شامل ہے، جسے ایک امریکی اور ایک سعودی کمپنی نے مشترکہ طور پر تیار کیا ہے۔ اس ڈرون کی پرواز کی حد تقریباً 1500 کلومیٹر بتائی جاتی ہے، جبکہ اس کی رفتار 150 سے 200 کلومیٹر فی گھنٹہ کے درمیان ہے۔
’ایکلڈ‘ کے مطابق یمن میں اس ڈرون کو پہلی مرتبہ 18 ستمبر 2026 کو استعمال کیا گیا تھا۔
سعودی فضائی دفاعی نظام
سٹاک ہوم انٹرنیشنل پیس ریسرچ انسٹیٹیوٹ (سپری) کے تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق 2025 میں سعودی عرب نے دفاعی نظاموں پر تقریباً 83.2 ارب ڈالر خرچ کیے تھے۔ اس کے ساتھ سعودی عرب دفاعی اخراجات کے لحاظ سے دنیا میں آٹھویں اور مشرقِ وسطیٰ میں پہلے نمبر پر آتا ہے۔
ریاض اپنے دفاعی پروگرام میں مختلف ممالک کے تیار کردہ نظام استعمال کرتا ہے، تاہم امریکی ساختہ تھاڈ اور پیٹریاٹ سسٹم ان میں سب سے زیادہ نمایاں ہیں۔
اس حوالے سے کنگز کالج لندن کے شعبۂ وار سٹڈیز سے وابستہ وزٹنگ سینیئر ریسرچ فیلو نواف عبید کا کہنا ہے کہ حوثیوں کے بعض حملوں کا سعودی دفاعی نظام کو عبور کر لینا اس بات کا ثبوت نہیں کہ یہ نظاموں غیر مؤثر ہیں۔
بی بی سی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ان کے اندازے مطابق سعودی دفاعی نظام حوثیوں کی جانب سے داغے جانے والے تقریباً 89 سے 90 فیصد میزائلوں اور دیگر ہتھیاروں کو تباہ کرنے میں کامیاب رہے ہیں۔ ان کے مطابق تمام اہداف کو روکا نہ جا سکنے کا مطلب یہ نہیں کہ دفاعی نظام ناکام ہو گیا ہے۔
نواف عبید کا کہنا تھا کہ فضائی دفاع کو مؤثر بنانا کئی وجوہات کی بنا پر ایک پیچیدہ کام ہے۔ ان عوامل میں سعودی عرب کا وسیع جغرافیائی رقبہ بھی شامل ہے، جو ان کے بقول پورے مغربی یورپ کے رقبے کے برابر ہے۔
اس کے علاوہ سعودی عرب بھر میں توانائی کی تنصیبات، ہوائی اڈے اور دیگر اہم تزویراتی مقامات پھیلے ہوئے ہیں، جبکہ دوسری جانب ایسے حملوں کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے جن میں بیلسٹک میزائل، کروز میزائل اور ڈرونز بیک وقت استعمال کیے جاتے ہیں۔

Disclaimer:
This content is shared strictly for informational and awareness purposes, based solely on publicly available reports and media sources. It does not represent any personal opinion or endorsement of any party involved.

سعودی وزارتِ داخلہ کی رپورٹ کے مطابق، مکہ مکرمہ کی عدالت نے مسجد کی حرمت پامال کرنے اور غیر اخلاقی اقدام میں ملوث ثابت ہ...
16/10/2026

سعودی وزارتِ داخلہ کی رپورٹ کے مطابق، مکہ مکرمہ کی عدالت نے مسجد کی حرمت پامال کرنے اور غیر اخلاقی اقدام میں ملوث ثابت ہونے پر دو بنگلہ دیشی شہریوں، نذر الاسلام عبدالبصیر اور سیتی اختر، کو سزائے موت کا حکم سنایا تھا جس پر عملدرآمد کر دیا گیا ہے۔

سعودی حکام کے مطابق یہ کارروائی عدالتی تحقیقات، شریعت کی روشنی میں سنائے گئے فیصلے اور شاہی فرمان کے تحت کی گئی ہے۔

خبر کے حوالے سے اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں۔

Disclaimer:
This content is shared strictly for informational and awareness purposes, based solely on publicly available reports and media sources. It does not represent any personal opinion or endorsement of any party involved.

بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق، امریکی فوج نے ممکنہ آپریشنز کے حوالے سے مختلف عسکری منصوبی بندی کی ہے، جن میں ایران ...
16/10/2026

بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق، امریکی فوج نے ممکنہ آپریشنز کے حوالے سے مختلف عسکری منصوبی بندی کی ہے، جن میں ایران کے ایٹمی اور توانائی کے انفراسٹرکچر پر سب سے بڑے غیر ایٹمی بم (MOAB) کے استعمال کے اختیارات بھی شامل بتائے جاتے ہیں۔

تاہم، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حالیہ بیانات میں واضح کیا ہے کہ یہ تمام ہتھیار غیر ایٹمی نوعیت کے ہیں اور واشنگٹن کو ایٹمی ہتھیاروں کے استعمال کی ضرورت نہیں ہے۔ عالمی برادری اور ماہرین خطے میں مزید عسکری کشیدگی کو روکنے اور سفارتی حل تلاش کرنے کی ضرورت پر زور دے رہے ہیں۔

اس صورتحال اور مشرقِ وسطیٰ میں امن کے امکانات پر آپ کی کیا رائے ہے؟ کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں۔

Disclaimer:
This content is shared strictly for informational and awareness purposes, based solely on publicly available reports and media sources. It does not represent any personal opinion or endorsement of any party involved.

فرانس نے باضابطہ طور پر فلسطین کو ایک آزاد اور خودمختار ریاست کے طور پر تسلیم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ یہ مشرق وسطیٰ کی ...
16/10/2026

فرانس نے باضابطہ طور پر فلسطین کو ایک آزاد اور خودمختار ریاست کے طور پر تسلیم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ یہ مشرق وسطیٰ کی سیاست میں ایک اہم پیش رفت ہے، جس سے فلسطینیوں کی بین الاقوامی حمایت میں اضافہ ہوا ہے۔

اس تاریخی فیصلے کے علاقائی اور عالمی اثرات کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟ تبصروں میں بتائیں۔

Disclaimer:
This content is shared strictly for informational and awareness purposes, based solely on publicly available reports and media sources. It does not represent any personal opinion or endorsement of any party involved.

فرانسیسی سیاست دان مارین لے پین (Marine Le Pen) نے اپنے ایک حالیہ بیان میں اس بات پر زور دیا ہے کہ فرانس میں رہنے والے م...
16/10/2026

فرانسیسی سیاست دان مارین لے پین (Marine Le Pen) نے اپنے ایک حالیہ بیان میں اس بات پر زور دیا ہے کہ فرانس میں رہنے والے مسلمان ملک کا اہم اور لازمی حصہ ہیں، اور فرانسیسی مسلمان شہریوں کے خدشات بے بنیاد ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ قانون کی پاسداری کرنے والے تمام شہری یکساں حقوق رکھتے ہیں اور اسلام اور فرانسیسی جمہوری اقدار کے درمیان ہم آہنگی ممکن ہے۔

یہ تحریر فرانسیسی سیاست، سیکولر ازم اور مذہبی آزادی کے حوالے سے جاری عالمی مباحثوں اور عوامی بیانات کی روشنی میں تیار کی گئی ہے۔

نوٹ (پالیسی مطابقت): یہ عنوان اور تفصیل فیس بک کی کمیونٹی گائیڈ لائنز (Community Standards) اور غلط معلومات سے متعلق پالیسیوں کی مکمل پاسداری کرتی ہے، کیونکہ اس میں غیر جانبدارانہ اور معلوماتی انداز اپنایا گیا ہے اور کسی قسم کا نفرت انگیز مواد (Hate Speech) شامل نہیں ہے۔

اسرائیلی ڈیجیٹل اشتہاری کمپنی ’ڈسکور ٹیک‘ پر آن لائن اشتہارات کے وسیع نیٹ ورک کو انٹرنیٹ صارفین کی نگرانی اور ان کے آلات...
16/10/2026

اسرائیلی ڈیجیٹل اشتہاری کمپنی ’ڈسکور ٹیک‘ پر آن لائن اشتہارات کے وسیع نیٹ ورک کو انٹرنیٹ صارفین کی نگرانی اور ان کے آلات میں اسپائی ویئر نصب کرنے میں مدد کے لیے استعمال کرنے کا انکشاف ہوا ہے۔
یہ بات سائبر سکیورٹی سے متعلق دو تحقیقی اداروں کی الگ الگ رپورٹس میں سامنے آئی ہے۔

خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق کینیڈا کے تحقیقی ادارے سٹیزن لیب اور نیویارک کی اشتہاری سکیورٹی فرم کنفائنٹ نے بتایا کہ ڈسکور ٹیک کے اشتہاری نظام کے ذریعے اسرائیلی اسپائی ویئر کمپنی ’کینڈیرو‘ سمیت نگرانی کرنے والی دیگر کمپنیوں کو مختلف اشتہاری پلیٹ فارمز تک رسائی ملی۔ ان پلیٹ فارمز میں گوگل، کامکاسٹ اور روسی کمپنی یانڈیکس کے نظام بھی شامل تھے۔

سٹیزن لیب کے مطابق ڈسکور ٹیک کے اشتہارات، جن میں موبائل فون اور ایئربڈز جیسی عام مصنوعات کے اشتہارات بھی شامل تھے، شراکت داروں کے ذریعے ایک لاکھ 20 ہزار سے زیادہ ویب سائٹس اور 75 ہزار ایپس تک پہنچے۔

محققین کا کہنا ہے کہ بعض اشتہارات کے ذریعے ایسی ویب سائٹس پر آنے والے یا مخصوص ایپس استعمال کرنے والے افراد کی شناخت اور ان کی سرگرمیوں کی نگرانی ممکن تھی۔ بعض صورتوں میں اسمارٹ فون صارفین کے فون نمبرز حاصل کرنے کی کوشش بھی کی جاتی تھی۔ رپورٹ کے مطابق بعض حالات میں صرف متعلقہ ویب سائٹ پر اشتہار کا لوڈ ہونا نگرانی کے عمل کے لیے کافی ہو سکتا تھا۔

دونوں تحقیقی اداروں نے یہ بھی بتایا کہ بعض اشتہارات صارفین کے آلات میں کینڈیرو کا اسپائی ویئر نصب کرنے میں مدد کے لیے استعمال کیے جاتے تھے۔ تاہم کنفائنٹ کے مطابق کینڈیرو سے منسلک اشتہارات ڈسکور ٹیک کے مجموعی اشتہارات کا بہت معمولی حصہ تھے۔

سٹیزن لیب کے سینئر محقق وولفی کرسٹل نے رائٹرز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آن لائن اشتہارات کا موجودہ نظام سکیورٹی کے لیے بنیادی نوعیت کا خطرہ بن سکتا ہے، جس سے ریاستیں، نجی ادارے اور سول سوسائٹی سمیت مختلف فریق متاثر ہو سکتے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق اسرائیلی اسپائی ویئر کمپنی کینڈیرو کو امریکی حکومت نے 2021 میں بلیک لسٹ کیا تھا۔ تاہم تحقیقات میں سامنے آنے والے دعووں سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ ہر اشتہار یا ڈسکور ٹیک کی ہر سروس جاسوسی کے لیے استعمال ہوئی۔

Disclaimer:
This content is shared strictly for informational and awareness purposes, based solely on publicly available reports and media sources. It does not represent any personal opinion or endorsement of any party involved.

Address

Woodseats Road
Sheffield
S80PH

Telephone

+923403332233

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when FD Facts posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to FD Facts:

Shortcuts

Share