Abdul Mustafa Azhari matini

Abdul Mustafa Azhari matini ABDUL MUSTAFA AZHARI MATINI

قسط 1تمام تعریفیں اس ذاتِ باری تعالیٰ کے لیے ہیں جس نے قرآنِ مجید کو ہدایت و بصیرت کا سرچشمہ بنایا اور اس کے الفاظ میں ا...
09/05/2026

قسط 1

تمام تعریفیں اس ذاتِ باری تعالیٰ کے لیے ہیں جس نے قرآنِ مجید کو ہدایت و بصیرت کا سرچشمہ بنایا اور اس کے الفاظ میں ایسی وسعت اور گہرائی ودیعت فرمائی کہ ہر صاحبِ غور و فکر اس کے معانی کی نئی جہتوں سے مسلسل آشنا ہوتا رہتا ہے۔ درود و سلام اس ہستیٔ کامل پر جن پر یہ کلام نازل ہوا، جو اس کے سب سے بہتر مفسر اور معلم ہیں۔

قرآنِ مجید اپنے دامن میں جملہ علوم و فنون کو سمیٹے ہوئے ہے اور بے شمار خصوصیات کا حامل ہے۔ انہی امتیازات میں ایک نمایاں وصف یہ ہے کہ اس کا ہر لفظ اپنے اندر معانی کی ایک وسیع دنیا رکھتا ہے۔ ایک ہی لفظ مختلف مقامات پر جداگانہ مفاہیم کے ساتھ جلوہ گر ہوتا ہے، اور ہر مقام پر اس کا مفہوم سیاق و سباق کے مطابق متعین ہوتا ہے۔ یہی تنوع قرآن کے اسلوبِ بیان کی لطافت اور اس کی بلاغت کا روشن مظہر ہے۔
انہی بلیغ الفاظ میں سے ایک لفظ "أُمَّة" ہے۔
لفظ "أُمَّة" مادہ "أ م م" سے ماخوذ ہے، جس کے بنیادی معنی ہیں: قصد کرنا، کسی شے کی طرف متوجہ ہونا، اور اجتماع۔ اسی مادہ سے "أمّ" (ماں)، "إمام" (پیشوا) اور "أمّ القوم" (لوگوں کی قیادت کرنا) جیسے الفاظ نکلے ہیں۔
قرآنِ مجید میں لفظ "أُمَّة" مختلف معانی میں استعمال ہوا ہے، جن کی تفصیل آئندہ سطور میں پیش کی جائے گی۔
👉 (جاری ہے…)

22/10/2024
10/06/2024

تفسیر جنان

{فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَ انْحَرْ: تو تم اپنے رب کے لیے نماز پڑھو اور قربانی کرو۔}
یعنی اے حبیب! صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ،اللّٰہ تعالیٰ نے آپ کو دونوں جہاں کی بے شمار بھلائیاں عطا کی ہیں اور آپ کو وہ خاص رتبہ عطا کیا ہے جو آپ کے علاوہ کسی اور کو عطا نہیں کیا، تو آپ اپنے اس رب عَزَّوَجَلَّ کے لیے نماز پڑھتے رہیں جس نے آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو،کوثر عطا کر کے عزت و شرافت دی تاکہ بتوں کے پجاری ذلیل ہوں اور بتوں کے نام پر ذبح کرنے والوں کی مخالفت کرتے ہوئے اپنے رب عَزَّوَجَلَّ کے لئے اوراس کے نام پر قربانی کریں ۔
اس آیت کی تفسیر میں ایک قول یہ بھی ہے کہ نماز سے نمازِ عید مراد ہے۔

23/10/2023

تَھْذِیْبُ الْاَطْفَالِ خَیْرُ الْاَشْغَالِ
یعنی
بچوں کی تہذیب و تربیت سب کاموں سے اہم ہے ۔

لیکن افسوس آج ہم اس اہم ذمہ داری سے غافل ہیں
جبکہ رب قدیر قرآن حکیم میں ارشاد فرما رہا ہے
یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا قُوْۤا اَنْفُسَكُمْ وَ اَهْلِیْكُمْ نَارًا وَّ قُوْدُهَا النَّاسُ وَ الْحِجارۃ.
تشریح
یعنی اے ایمان والو!اللّٰہ تعالیٰ اور ا س کے رسول صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی فرمانبرداری اختیار کرکے، عبادتیں بجالا کر، گناہوں سے باز رہ کر،اپنے گھر والوں کو نیکی کی ہدایت اور بدی سے ممانعت کرکے اور انہیں علم و ادب سکھا کراپنی جانوں اور اپنے گھر والوں کواس آگ سے بچاؤ جس کا ایندھن آدمی اور پتھر ہیں.
کیا ہم ایسا کر رہے ہیں؟ اپنا محاسبہ کریں اور اپنے بچوں کے أخلاق و کردار اور عادات و أطوار کا سنجیدگی سے معائنہ کریں اور بچوں کی تربیت پر خصوصی توجہ دیں کیونکہ اس سے خاندانوں اور قوموں کا مستقبل وابستہ ہے.

لیکن والدین کی طرز زندگی تربیت اولاد میں إیک کلیدی کردار ادا کرتی ہے کیونکہ والدین اپنے بچوں کے لئے نمونئے حیات ہیں والدین جیسا کریں گے بچے ویسا کریں گے کیونکہ بچے نقال ہوتے ہیں رب کریم نے بچوں کے اندر نقل کرنے کی صلاحیت رکھی ہے. جبکہ ماہر نفسیات کے مطابق بچپن میں بچوں کی تربیت بالمقابل جوانی کے بہت آسان جیسے زمین سے اُگنے والے نرم ونازک پودوں کو بہ سہولت کہیں بھی موڑا جاسکتاہے اسی طرح بچوں کے خیالات. افکار، اور طرز زندگی کو جس رخ پر لانا چاہتے ہیں لا سکتے ہیں اور جب جوانی کو پہونچ جائیں تو تبدیل کر نا بڑا مشکل ہو جاتا ہے جیسے تناور درخت کی شاخوں کا رخ بدلنا مشکل کام ہوتا
عبد المصطفیٰ ازہری
خادم جامعہ حنفیہ رضویہ

20/10/2023

جس امت کو قبرستان سے گذرتے وقت مردوں سے سلام کا حکم ہے پر افسوس آج وہ زندوں کو بھی سلام نہیں کرتی

16/08/2023

"ھ" اور "ہ" میں کیا فرق ہے؟

"ھاں" اور "ہاں" کیا دونوں ٹھیک ہیں؟ اسی طرح "ہم" اور "ھم" اگر فرق ہے تو کیا ہے؟

👈اردو میں دو چشمی *ھ* کا استعمال مرکب حروف تہجی بنانے کے لئے ہوتا ہے۔ مثلاً:
بھ، پھ، تھ، ٹھ، جھ، چھ، دھ، ڈھ، گھ، اور لھ وغیرہ۔

بعض جگہوں پر خوب صورتی یا کسی اور وجہ سے لوگ ابتدا میں *ھ* کا استعمال کرتے ہیں مثلاً "ھم"، "ھماری" اور "ھاں" وغیرہ .

لیکن یہ استعمال درست نہیں ہے۔ اول تو یہ کہ اردو میں *ھ* ابتداء لفظ میں کبھی آ ہی نہیں سکتا۔

کیوں کہ دوچشمی ‘‘ھ’’ کی اکیلی مستقل آواز نہیں ہے بلکہ اسے کسی دوسرے حرف کے ساتھ ملا کر لکھا اور پڑھا جاتا ہے۔ دو چشمی *ھ* اردو میں ہندی زبان سے اخذ کی گئی ہے اور یہ صرف چند حروف کے ساتھ ہی آسکتی ہے، اردو کے تمام حروف تہجی کے ساتھ نہیں آسکتی مثلاً:
بھ، پھ، تھ، ٹھ، جھ، چھ، دھ، ڈھ، گھ، اور لھ وغیرہ۔
اس کے علاوہ باقی حروف کے ساتھ دوچشمی *ھ* نہیں آتی، جبکہ ‘‘ *ہ* ’’ کی الگ مستقل آواز ہوتی ہے۔
ذیل میں دوچشمی *ھ* اور *ہ* کے چند جملے لکھے جارہے ہیں، انہیں پڑھ کر آپ کو خود ہی اندازہ ہوجائے گا کہ ان دونوں کے پڑھنے میں کیا فرق ہے اور اُردو زبان میں یہ دو مختلف ھ/ہ الگ الگ کیوں رائج ہیں:

"ھ" 👈 *بھ*: ننھے منے بچے سب کے من کو *بھاتے* ہیں۔
"ہ"👈 *بہ*: لاپرواہ لوگ پانی زیادہ *بہاتے* ہیں۔

"ھ"👈 *پھ*: بچے نے کاپی کا صفحہ *پھاڑ* دیا۔
"ہ"👈 *پہ* : *پہاڑ* پر چڑھنا ایک دشوار کام ہے۔

"ھ"👈 *تھ* : میرا ایک دوست *تھائی لینڈ* میں رہتا ہے۔
"ہ"👈 *تہ*: ابھی تک صرف ایک *تِہائی* کام ہوا ہے۔
"ھ"👈 *ٹھ* : ان دونوں کی آپس میں *ٹھنی* ہوئی ہے۔
"ہ"👈 *ٹہ*: درخت کی *ٹہنی* پر چڑیا *چہچہا* رہی ہے۔

"ھ"👈 *جھ*: آج فضا *بوجھل* سی ہے۔
"ہ"👈 *جہ* : *ابوجہل* اسلام کا سخت دشمن تھا۔

"ھ"👈 *چھ*: ڈاکٹر نے مریض کے جسم سے گولی کا *چَھرّا* نکال دیا ، یا قربانی کے جانور کے گلے پر *چُھرا* پھیر دو۔
"ہ"👈 *چہ*: اس کا *چہرہ* خوشی سے کِھلا پڑ رہا تھا۔

"ھ"👈 *دھ*: یار میرا *دھندہ* خراب مت کرو۔
"ہ"👈 *دہ*: وہ اس کا نجات *دہندہ* بن کر آیا۔

*نوٹ*:- *ڈ* کے ساتھ ‘‘ہ’’ اور *ر* کے ساتھ "ھ" کا جملہ نہیں آتا۔

"ھ"👈 *ڑھ*: میرے گھر کے آگے ڈم ڈم کی *باڑھ* لگی ہوئی ہے۔
"ہ"👈 *ڑہ*: میرے گھر کے پاس بھینسوں کا *باڑہ* ہے۔

"ھ"👈 *کھ*: میرا قلم *کھو* گیا ہے۔
"ہ"👈 *کہ*: ہاں اب *کہو*! کیا *کہنا* چاہ رہے تھے۔

"ھ"👈 *گھ*: جنگلات میں *گھنے* درخت ہوتے ہیں۔
"ہ"👈 *گہ*: اس نے اپنی شادی پر *گہنے* اور دیگر زیورات پہنے ہوئے تھے۔

یہ جملے صرف دوچشمی "ھ" اور "ہ" کے آپس میں فرق واضح کرنے کے لیے بطور مثال لکھے ہیں، اُمّید ہے اس سے آپ مستفید ہوں گے.
Copy & pest

05/08/2023

حضرت علی رضی اللٰٓہ تعالیٰ عنہ سے کسی نے سوال کیا کہ بھائی اور دوست میں کیا فرق ہے؟
آپنے ارشاد فرمایا کہ؛؛ دوست ہیرا ہے اور بھائی سونا؛؛ وہ شخص بڑی حیرت سے عرض کیا کہ حضور آپنے دوست کو ہیرے اور بھائی کو سونے سے مثال دی اسکیوجہ؟
آپنے فرمایا کہ؛؛ سونا اگر ٹوٹ جائے یا پھٹ جائے تو اسکو پگھلا کر پہلے جیسا کیا جا سکتا ہے. لیکن اگر ہیرے میں اسطرح کی کوئی کمی آجائے تو اس کو درست نہیں کیا جاسکتا ہے

हज़रत अली रदी अल्लाहु अन्हु से किसी ने प्रश्न पूछा। भाई और दोस्त के बीच क्या अंतर है?
उन्होंने कहा, " दोस्त हीरा और भाई सोना है।
उस व्यक्ति ने बड़े आश्चर्य से कहा, "हजरत, आपने दोस्त को हीरे और भाई को सोने से उदाहरण दिया। इसका क्या कारण है?
उन्होंने कहा, 'अगर सोना टूटता है या फटता है तो इसे पिघला कर पहले की तरह किया जा सकता है!
लेकिन हीरे में इस प्रकार यदि कोई कमी है तू इसे ठीक नहीं किया जा सकता है।

05/08/2023

سچی توبہ
امام نووی فرماتے ہیں کہ سچی توبہ وہ ہے جس کے اندر تین چیزیں جمع ہوں

(1)اس گناہ کو ترک کر دے جو وہ کر بیٹھا ہے

(2)اس پر دل میں شرمندگی اور ندامت محسوس کرے

(3)عزم مصمم کرے کہ پھر یہ گناہ نہیں کرے گا

Address

Itwa
272192

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Abdul Mustafa Azhari matini posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share

Category