09/05/2026
قسط 1
تمام تعریفیں اس ذاتِ باری تعالیٰ کے لیے ہیں جس نے قرآنِ مجید کو ہدایت و بصیرت کا سرچشمہ بنایا اور اس کے الفاظ میں ایسی وسعت اور گہرائی ودیعت فرمائی کہ ہر صاحبِ غور و فکر اس کے معانی کی نئی جہتوں سے مسلسل آشنا ہوتا رہتا ہے۔ درود و سلام اس ہستیٔ کامل پر جن پر یہ کلام نازل ہوا، جو اس کے سب سے بہتر مفسر اور معلم ہیں۔
قرآنِ مجید اپنے دامن میں جملہ علوم و فنون کو سمیٹے ہوئے ہے اور بے شمار خصوصیات کا حامل ہے۔ انہی امتیازات میں ایک نمایاں وصف یہ ہے کہ اس کا ہر لفظ اپنے اندر معانی کی ایک وسیع دنیا رکھتا ہے۔ ایک ہی لفظ مختلف مقامات پر جداگانہ مفاہیم کے ساتھ جلوہ گر ہوتا ہے، اور ہر مقام پر اس کا مفہوم سیاق و سباق کے مطابق متعین ہوتا ہے۔ یہی تنوع قرآن کے اسلوبِ بیان کی لطافت اور اس کی بلاغت کا روشن مظہر ہے۔
انہی بلیغ الفاظ میں سے ایک لفظ "أُمَّة" ہے۔
لفظ "أُمَّة" مادہ "أ م م" سے ماخوذ ہے، جس کے بنیادی معنی ہیں: قصد کرنا، کسی شے کی طرف متوجہ ہونا، اور اجتماع۔ اسی مادہ سے "أمّ" (ماں)، "إمام" (پیشوا) اور "أمّ القوم" (لوگوں کی قیادت کرنا) جیسے الفاظ نکلے ہیں۔
قرآنِ مجید میں لفظ "أُمَّة" مختلف معانی میں استعمال ہوا ہے، جن کی تفصیل آئندہ سطور میں پیش کی جائے گی۔
👉 (جاری ہے…)