دینی معلومات islamic knowledge

دینی معلومات islamic knowledge आप सब के मन में अगर कोई दीनी सवाल हो तो पूछ सकते हो

29/10/2022

« مختصــر ســوانح حیــات »

*غوث الاعظم شیخ عبد القادر جیلانی رحمۃ اللّٰه تعالٰی علیہ*

*نام و نسب:*
*اسم گرامی:* شیخ عبدالقادر جیلانی۔
*کنیت:* ابو محمد۔
*اَلقاب:* محبوبِ سبحانی، پیرانِ پیر، محی الدین۔ عامۃ المسلمین میں آپ *’’غوث الاعظم‘‘* کے نام سے مشہور ہیں۔
*والدِ ماجد کا نام:* حضرت سیّد ابو صالح موسیٰ رحمۃ اللّٰه علیہ۔
*سلسلۂ نسب:* سیّدنا شیخ عبدالقادر جیلانی بن سیّد ابو صالح موسیٰ بن سیّد عبداللہ جیلانی بن سیّد یحییٰ زاہد بن سیّد محمد بن سیّد داؤد بن سیّد موسیٰ بن سیّد عبد اللہ بن سیّد موسیٰ الجون بن سیّد عبداللہ محض بن سیّدحسن مُثنیّٰ بن سیّدنا امام حسن بن امیر المومنین سیّدنا علی المرتضیٰ رضی اللّٰه تعالیٰ عنہم۔

*سلسلۂ مادری:*
*کنیت:* ام الخیر۔
*لقب:* اَمَۃُ الْجَبَّار۔
*اسم مبارک:* ’’ فاطمہ بنتِ عبد اللہ صومعی الحسنی‘‘۔
*سلسلۂ نسب:* فاطمہ بنتِ سیّد عبد اللہ صومعی بن سیّد ابو جمال بن سیّد محمد بن سیّد محمود بن سیّد طاہر بن سیّد ابو عطار بن سیّد عبداللہ بن سیّدابو کمال بن سیّد عیسیٰ بن سیّد علاء الدین بن سیّد محمد بن سیّدنا امام علی رضا بن سیّدنا امام موسیٰ کاظم بن سیّدنا امام جعفر صادق بن سیّدنا امام محمد باقر بن سیّدنا امام زین العابدین بن سیّدنا امام حسین بن سیّدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ تعالٰی عنھم۔
*آپ ’’نجیب الطرفین‘‘* سیّد ہیں۔
*(تذکرہ قادریّہ، ص 129، از پیر سیّد طاہر علاؤ الدین گیلانی)*

*تاریخِ ولادت:* آپ کی ولادتِ باسعادت یکم رمضان المبارک 470ھ مطابق 15؍مارچ 1078ء کو شمالی ایران میں’’بحیرۂ کیسپین‘‘ کے جنوبی ساحل پر ’’گیلان‘‘ نامی قصبے میں ہوئی ۔

*تحصیلِ علم:* بچپن میں والدِ محترم کا وصال ہوگیا تھا۔ والدۂ ماجدہ کی آغوش میں تربیت پائی؛ اور انہوں نے تربیت کا حق ادا کردیا۔ دس سال کی عمر میں مکتب میں پڑھنے جاتے تو فرشتے فرماتے: *’’اِفْسَحُوْا لِوَلِیِّ اللہ‘‘* (اللہ کے ولی کےلیے جگہ چھوڑ دو)۔
اپنے قصبہ جیلان میں ہی حفظ کرلیا تھا۔ جب عمر اٹھارہ سال ہوئی تو تحصیل ِعلم کےلیے بغداد کا قصد کیا۔ چھ سو (600) کلو میٹر سے زائد، تکلیف دہ اور خطرناک سفر طے کرکے 488ھ میں بغداد پہنچے۔ بغداد میں علم تجوید اور قراءتِ سبعہ میں مہارت حاصل کی۔ اسی طرح علمِ فقہ و اُصولِ فقہ؛ عرصۂ دراز تک بہت بڑے فقہاء مثلاً ابوالوفا علی بن عقیل حنبلی، ابوالخطاب محفوظ الکلوازنی الحنبلی، قاضی ابویعلیٰ، محمد بن الحسین بن محمدالفراء الحنبلی، قاضی ابوسعید؛
اور علمِ حدیث؛ محمد بن الحسن الباقلائی، ابو سعید محمد بن عبد الکریم بن حشیشا، محمد بن محمد الفرسی وغیرہ سے جب کہ علم ِادب ابو زکریا یحییٰ بن علی التبریزی سے حاصل فرمایا۔
*(قلائدالجواہر، ص4)*

شیخ عبد الوہاب شعرانی اور شیخ محقق شیخ عبد الحق محدث دہلوی رحمۃ اللّٰہ علیہ فرماتے ہیں: ’’یتکلم فی ثلاثۃ عشر علماء‘‘ غوث الاعظم تیرہ علموں میں بیان فرماتے تھے۔
*(سیرتِ غوث الثقلین، ص644)*

شیخ عبدالوہاب شعرانی رحمۃ اللّٰه علیہ فرماتے ہیں: ’’مدرسۂ عالیہ میں لوگ آپ سے تفسیر، حدیث، فقہ اور علم کلام پڑھتے، دوپہر سے پہلے اور بعد دونوں وقت تفسیر، حدیث، فقہ، کلام، اصول،صرف و نحو؛ اور بعد نمازِ ظہر قرأتِ سبعہ کے ساتھ قرآن مجید پڑھاتے تھے۔‘‘
*(طبقات الکبریٰ ، ج1، ص127)*

علم ادب، لغت، اور نحو کے مشہور امام ابو محمد الخشاب نحوی فرماتے ہیں:
’’میں عالم شباب میں علم نحو پڑھتا تھا۔ ایک مرتبہ آپ کی مجلس میں حاضر ہوا۔ آپ نے مجھے دیکھ کر فرمایا تم ہمارے پاس رہو، ہم تمہیں زمانے کا سیبویہ بنادیں گے، آپ کےپاس پڑھنے لگا، بہت قلیل عرصے میں آپ سےوہ سیکھا جوگزشتہ عمر میں حاصل نہ کر سکا تھا۔ مسائل ِ نحویہ و علوم عقلیہ و نقلیہ کےاصول و قواعد مجھے اچھی طرح ذہن نشین ہوگئے۔‘‘
*(قلائد الجواہر، ص32)*

اسی طرح شیخ الاسلام شیخ شہاب الدین سہروردی، شیخ الاسلام علامہ ابن قدامہ حنبلی، قطب الاقطاب شیخ علی بن ہیتی وغیرہم رحمہم اللّٰہ؛ آپ کے شاگرد اور تربیت یافتہ ہیں۔
آپ کےصاحبزادے سیّد عبدالوہاب رحمۃ اللّٰه علیہ فرماتے ہیں:

’’آپ نے 528ھ تا 561ھ تینتیس سال درس و تدریس اور فتاوٰی نویسی کے فرائض سر انجام دیے۔‘‘
*(قلائد الجواہر، ص18)*

علامہ شعرانی رحمۃ اللّٰه علیہ فرماتے ہیں:
’’کانت فتواہ تعرض علی العلماء باالعراق فتعجبھم اشدا الاعجاب فیقولون سبحان من انعم علیہ‘‘ یعنی علمائے عراق کے سامنے آپ کے فتاوٰی پیش کیے جاتے تھے، تو ان کو آپ کی علمی قابلیت و صلاحیت پر سخت تعجب ہوتا تھا؛ اور وہ یہ پکار اٹھتے تھے کہ وہ ذات پاک ہے جس نے ان کو ایسی علمی نعمت سےنوازا ہے۔
*(طبقات الکبرٰی، ج1، ص127)*

آپ کےعلمی کمالات کےبارے میں مذکورہ تمام اقوال عشر ِعشیر بھی نہیں ہیں۔ بیان کرنے کا مقصد یہ ہےکہ ہمارے زمانے کے واعظین صرف آپ کی کرامات پر اکتفاء کر کے دادِ تحسین وصول کرتے ہیں، علمی مقام بیان نہیں کیاجاتا، اور اکثر سجادہ و متولیان ِ اولیاءِ کرام علم و عمل سے کوسوں دور ہیں؛ اگر ان کو علم دشمن کہا جائے تو بےجا نہ ہوگا۔
یہ حضرات اپنی مجالس میں علم ِدین اور علما کی توہین کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہےکہ وہ خانقاہیں جو ماضی میں علوم و فنون کا مرکز تھیں آج وہاں کچھ اور مناظر ہیں؛
جیسا کہ ڈاکٹر اقبال مرحوم نے فرمایا ہے:

قم بِاذنِ اللہ کہہ سکتے تھے جو، رُخصت ہوئے
خانقاہوں میں مجاور رہ گئے یا گورکن

*خود غوث الاعظم فرماتے ہیں:*
’’دَرَسْتُ الْعِلْمَ حَتَّى صِرْتُ قُطْبًا
وَنِلْتُ السَّعْدَ مِنْ مَّوْلَى الْمَوَالِيْ‘‘

*ترجمہ:* ’’میں نے علم حاصل کیا یہاں تک کہ قطبیت کے مرتبے پر فائز ہوا، میں نے استاذ الاساتذہ شیخ کامل کے حضور حاضر ہوکر سعادت کی منزلوں کو پایا۔‘‘
*(قصیدۂ غوثیہ)*

*بیعت و خلافت:* سیّدنا ابو سعید مبارک مخزومی رحمۃ اللّٰه علیہ کے دستِ حق پرست پر بیعت ہوئے اور خرقۂ خلافت حاصل کیا۔

*سیرت و خصائص:* محبوبِ سبحانی، قطبِ ربانی، شہبازِ لامکانی، محی الدین، شیخ الاسلام، غوث الاعظم سیّدنا شیخ عبد القادر جیلانی رحمتہ اللہ علیہ۔ آپ کے اخلاقِ حسنہ اور فضائلِ حمیدہ کی تعریف وتوصیف میں تمام متأخرین اولیائے ِ کاملین کے تذکرے بےشمار ہیں۔ قدرت نے آپ کو ایسے اعلیٰ اخلاق و محامد سے متصف فرمایا تھا کہ آپ کے معاصرین آپ کی تحسین کیے بغیر نہیں رہتے تھے۔ اپنے تو اپنے غیر مسلم بھی آپ کےحسن ِسلوک کے گرویدہ تھے۔ آپ اسلامی اخلاق اور انسانی اوصاف کے پیکر تھے۔ شیخ حراوہ فرماتے ہیں: ’’میں نے اپنی زندگی میں آپ سے بڑھ کر کوئی کریم النفس، رقیق القلب، فراخ دل اور خوش اخلاق نہیں دیکھا‘‘۔
آپ اپنے علوِّ مرتبت اور عظمت کے باوجود ہر چھوٹے بڑے کا لحاظ رکھتے تھے۔ سلام کرنے میں ہمیشہ سبقت فرماتے تھے۔کمزوروں اور مسکینوں کے ساتھ تواضع وانکساری کے ساتھ پیش آتے، لیکن اگر کوئی بادشاہ یا حاکم آجاتا تو آپ مطلقاً تعظیم نہ فرماتے اور نہ ہی ساری عمر کسی بادشاہ یا وزیر کے دروازے پر گئے، نہ عطیات قبول کیے۔مفلوک الحال لوگوں کے ساتھ مُروَّت سے پیش آتے۔ سچائی اور حق گوئی کا دامن کبھی نہیں چھوڑا خواہ کتنے ہی خطرات کیوں نہ در پیش ہوتے، مگر سچ کہنے سے کبھی بھی چوکتے نہیں تھے۔ حاکموں کے سامنے بھی حق بات کہتے تھے اور کسی کی ناراضگی کو خاطر میں نہیں لاتے تھے، بلکہ مصلحت و خوف کو پاس تک بھٹکنے نہیں دیتے تھے۔ آپ معروف (نیکی) کا حکم دیتے اور منکرات (برائی) سے روکتے تھے۔آپ کے اعلائے کلمۃ الحق نے سلاطین اور امراء کے محلات میں زلزلہ بپا کر دیا تھا۔ سیّدنا غوثِ اعظم رحمۃ اللّٰہ علیہ مجسمہ ایثار و سخاوت تھے۔ دریا دلی کا یہ عالم تھا کہ جو کچھ پاس ہوتا سب غریبوں اور حاجت مندوں میں تقسیم فرما دیتے۔ عفو و کرم کے پیکر جمیل تھے۔ کسی پر ظلم برداشت نہیں کرتے اور فوراً امداد پر کمر بستہ ہوجاتے، مگر خود اپنے معاملے میں کبھی بھی غصّہ نہیں آتا۔لوگوں کی غلطیوں اور کوتاہیوں سے درگزر فرماتے۔
امام ابو عبداللہ محمد یوسف البرزالی لکھتے ہیں: ’’آپ مستحبات الدعوات تھے، ہمیشہ اللہ کے ذکر وفکر میں مشغول رہتے اور کثرتِ ذکر اور خوفِ خدا سے آپ کی آنکھیں اشک بار رہتیں ۔ آپ انتہائی رقیق القلب، شگفتہ رو، کریم النفس ، فراخ دست، ذی علم، بلند اخلاق اور عالی نسب تھے۔ عبادات اور مجاہدے میں آپ سب سے رفیع الشان تھے اور آپ کانورانی چہرہ ہمیشہ بشّاش اور تبسُّم آمیز نظر آتا۔‘‘
مفتی عراق محمد بن حامد البغدادی لکھتے ہیں: ’’آپ فحش باتوں سے کوسوں دور تھے، اپنی ذات کے معاملے میں آپ کو نہ کبھی کسی پر غصّہ آیا اور نہ ہی آپ نے کسی سے انتقام لیا، سوائے اس کےکہ کسی نے ایسا کام کیا ہو جو اللہ تعالیٰ کے غضب کا باعث ہو، تو آپ غضب ناک ہوجاتے۔ آپ اللہ تعالیٰ کی توحید کے حوالے سے کسی رُو رعایت کے قائل نہ تھے۔‘‘ کرامات کے علاوہ ہم نےصرف آپ کی سیرتِ مبارکہ کی ایک مختصر جھلک پیش کرنے کی کوشش کی ہے۔ جس طرح رسول اللہﷺ کے معجزات بےشمار ہیں، اسی طرح آپ کی کرامات بھی بےشمار ہیں۔آپ رحمۃ اللّٰه علیہ خود فرماتے ہیں: ’’ہر ولی کسی نہ کسی مُقتدا کے نقشِ قدم پرگامزن رہتا ہے اور میں بَدرُ الکمال یعنی سیّدالمرسلین ﷺکے نقش قدم پر ہوں۔‘‘

*شریعت کی پابندی:* آپ اپنے مریدین اور شاگردوں کوقرآن و حدیث،اور فقہ و تصوف کی تلقین فرمایا کرتے اور خصوصی طور پر اس بات کی طرف بھی توجہ دلاتے تھے کہ جو تصوف، فقہ کے تابع نہیں وہ اللہ تعالیٰ تک پہنچانے والا نہیں ہے۔ آپ کا ارشاد گرامی ہے: ’’شریعت جس حقیقت کی گواہی نہ دے وہ زندیقیت ہے۔ اپنے رب کی بارگاہ کی طرف کتاب و سنّت کے دو پروں کےساتھ پروازکرو۔ اپنا ہاتھ رسول اللہﷺ کے دستِ مبارک میں دے کر اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضری دو۔ فرض عبادتوں کا ترک زندیقیت اور گناہوں کا ارتکاب معصیت ہے۔‘‘
*(الفتح الربانی، 145)*

*تاریخِ وصال:* آپ کا وصال 11؍یا 17؍ ربیع الآخر 561ھ کو 91 سال کی عمر مبارک میں بغداد میں ہوا۔
*(تذکرۂمشائخِ قادریّہ رضویہ، ص256؛ سیرتِ غوث اعظم، ص247)*

*طالب دعا -- محمد دانش سلامی

29/10/2022

”ربیع الآخر“ یا ”ربیع الثانی“ ؟؟
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
کل ایک بھائی نے پوچھا کہ "ربیع الثانی" لکھنا کیسا ہے؟
اس پر راقم الحروف نے مختصر میں یہ سطریں لکھ دیں:

” مہینے کا اصل علم "ربیع الآخر" ہے اور "اعلام" میں تصرف و تغیر منع ہے۔
نیز یہ کہ اہل عرب "ثانی" کا استعمال وہاں کرتے ہیں جہاں کوئی "ثالث" یعنی تیسرا بھی ہو، اور چوں کہ یہاں "ربیع" کا کوئی "ثالث" یعنی تیسرا نہیں۔
لہذا "ربیع الآخر" ہی لکھنے اور بولنے کا التزام کیا جائے۔“

نوٹ:
(مزید تفصیل کے لیے، اسی موضوع پر قبلہ مفتی نثار احمد مصباحی اور مفتی شاہد علی مصباحی زید مجدہما کی لکھی گئی ایک مشترکہ تحریر بعنوان: ”ربیع الآخِر، “جمادی الأُولیٰ” اور “جُمادَی الآخِرۃ“ کا مطالعہ فرمائیں!
نیز راقم الحروف کی تحریر بعنوان:”جُمادی الآخرہ" یا "جُمادی الأخری“ ؟؟ کا مطالعہ بھی مفید ہوگا۔)
‌‌ـــــــــــــــــــــــــــــ
محمد شفاء المصطفی شفا مصباحی
یکم ربیع الآخر ۱۴۴۴ھ.

27/10/2022

*︗︗︗︗︗︗︗︗︗︗︗︗︗︗︗︗*
*_🌴🌹 دینی معلومات 🌹🌴_*
*︘︘︘︘︘︘︘︘︘︘︘︘︘︘︘︘*

*◈• ━━━━━━━━ •◈• ━━━━━━━━ •◈*
*✰ علمِ فِقہ کی چند اِصطلاحات ✰*
*◈• ━━━━━━━━ •◈• ━━━━━━━━ •◈*

*فرضِ اعتقادی:* جو دلیلِ قطعی سے ثابت ہو (یعنی ایسی دلیل سے جس میں کوئی شبہ نہ ہو) اس کا انکار کرنے والا آئمہ حنفیہ کے نزدیک مطلقاً کافر ہے اور اگر اس کی فرضیت دینِ اسلام کا عام خاص پر روشن واضح مسئلہ ہو جب تو اس کے منکر کے کفر پر اجماعِ قطعی ہے ایسا کہ جو اس منکر کے کفر میں شک کرے خود کافر ہے اور بہرحال جو کسی فرضِ اعتقادی کو بِلا عذر صحیح شَرع قصداً ایک بار بھی چھوڑے فاسق ومرتکبِ کبیرہ ومستحقِ عذابِ نار ہے جیسے نماز، رکوع، سجود۔

*فرضِ عملی:* وہ جس کا ثبوت تو ایسا قطعی دلیل سے نہ ہو مگر نظرِ مجتہد میں بحکم دلائلِ شرعیہ جزم ہے کہ بـے اس کے کئے آدمی بری الذمہ نہ ہوگا یہاں تک کہ اگر وہ کسی عبادت کے اندر فرض ہے تو وہ عبادت بـے اس کے کئے باطل وکالعدم ہوگی۔
اس کا بـے وجہ انکار فسق وگمراہی ہے، ہاں! اگر کوئی شخص کہ دلائلِ شرعیہ میں نظر کا اہل ہے دلیلِ شرعی سے اس کا انکار کرے تو کر سکتا ہے۔
جیسے آئمہ مجتہدین کے اِختلافات کہ ایک امام کسی چیز کو فرض کہتے ہیں اور دوسرے نہیں مثلاً حنفیہ کے نزدیک چوتھائی سر کا مسح وُضو میں فرض ہے اور شافعیہ کے نزدیک ایک بال کا اور مالکیہ کے نزدیک پورے سر کا، حنفیہ کے نزدیک وُضو میں *"لبِسْمِ اللّٰه"* کہنا اور نیّت سنّت ہے اور حنبلیہ وشافعیہ کے نزدیک فرض اور ان کے سوا اور بہت سی مثالیں ہیں۔
اس فرضِ عملی میں ہر شخص اُسی کی پیروی کرے جس کا مُقلّد ہے اپنے امام کے خلاف بلا ضرورتِ شرعی دوسرے کی پیروی جائز نہیں۔

*واجِبِ اعتقادی:* وہ کہ دلیل ظنی سے اس کی ضرورت ثابت ہو۔ فرضِ عملی و واجِبِ عملی اِسی کی دو قِسمیں ہیں اور وہ اِنھیں دو میں منحصر ہیں۔

*واجِبِ عملی:* وہ واجِبِ اعتقادی کہ بـے اس کے کئے بھی بری الذمہ ہونے کا احتمال ہو مگر ظن اس کی ضرورت پر ہے اور اگر کسی عبادت میں اس کا بجالانا درکار ہو تو عبادت بـے اس کے ناقص رہے مگر ادا ہو جائے۔
مجتہد دلیلِ شرعی سے واجب کا انکار کر سکتا ہے اور کسی واجب کا ایک بار بھی قصداً چھوڑنا گناہِ صغیرہ ہے اور چند بار ترک کرنا کبیرہ۔

*سنّتِ مؤکّدہ:* وہ جس کو حضور انور ﷺ نے ہمیشہ کیا ہو، البتہ بیان جواز کے واسطے کبھی ترک بھی فرمایا ہو یا وہ کہ اس کے کرنے کی تاکید فرمائی ہو مگر جانبِ ترک بِالکل مسدور نہ فرمادی ہو، اس کا ترک اِساءَت اور کرنا ثواب اور نادراً ترک پر عتاب اور اس کی عادت پر استحقاقِ عذاب۔

*سنّتِ غَیر مؤکّدہ:* وہ کہ نظرِ شرع میں ایسی مطلوب ہو کہ اس کے ترک کو ناپسند رکھے مگر نہ اس حد تک کہ اس پر وعیدِ عذاب فرمائے عام ازیں کہ حضور انور ﷺ نے اس پر مداوت فرمائی یا نہیں، اس کا کرنا ثواب اور نہ کرنا اگرچہ عادةً ہو موجبِ عتاب نہیں۔

*مُستَحب:* وہ کہ نظرِ شرع میں پسند ہو مگر ترک پر کچھ ناپسندی نہ ہو، خواہ خود حضور انور ﷺ نے اسے کیا یا اس کی ترغیب دی یا علماۓاکرام نے پسند فرمایا اگرچہ احادیث میں اس کا ذکر نہ آیا۔
اس کا کرنا ثواب اور نہ کرنے پر مطلقاً کچھ نہیں۔

*مُبَاح:* وہ کہ جس کا کرنا نہ کرنا یکساں ہو۔

*حرامِ قطعی:* یہ فرض کا مُقابل ہے، اس کا ایک بار بھی قصداً کرنا گناہِ کبیرہ وفسق ہے اور بچنا فرض وثواب۔

*مکروہ تَحریمی:* یہ واجب کا مُقابل ہے، اس کے کرنے سے عبادت ناقص ہو جاتی ہے اور کرنے والا گنہگار ہوتا ہے اگرچہ اس کا گناہ حرام سے کم ہے اور چند بار اس کا اِرتکاب کبیرہ ہے۔

*اِساءَت:* جس کا کرنا بُرا ہو اور نادراً کرنے والا مستحقِ عتاب اور اِلتزامِ فعل پر استحقاقِ عذاب۔
یہ سنّتِ مؤکّدہ کے مُقابل ہے۔

*مکروہ تنزیہی:* جس کا کرنا شرع کو پسند نہیں مگر نہ اس حد تک کہ اس پر وعیدِ عذاب فرمائے۔
یہ سنّتِ غَیر مؤکّدہ کے مُقابل ہے۔

*خِلافِ اَولیٰ:* وہ کہ نہ کرنا بہتر تھا، کیا تو کچھ مضائقہ عتاب نہیں، یہ مستحب کا مُقابل ہے۔
ان کے بیان میں عبارتیں مختلف ملیں گی مگر یہی عطر تحقیق ہے۔
*وللّٰه الحمد حمدًا کثیرًا مبارکًا فیہ مبارکًا علیہ کما یجب ربنا ویرضٰی*

*ضــــروری ہــــدایت:*
*پــــوسٹ میــــں کســــی بھــــی طَــــرح کــــی تَبــــدیــــلی نــــہ کــــریــــں۔ بَلــــکہ ہــــوســــکے تــــو ثَــــواب کــــی نِیَت ســــے اِس پــــوسٹ کــــو آگــــے پہنــــچـائیــــں۔*
*◈• ━━━━━━━━ •◈• ━━━━━━━━ •◈*
*(📚 بہارِ شریعت: جلد اوّل، حصہ دوم، ص 282 تا 284، ناشر المکتبتہ المدینہ دہلی الھند)*
*◈• ━━━━━━━━ •◈• ━━━━━━━━ •◈*

*︗︗︗︗︗︗︗︗︗︗︗︗︗︗︗︗*
*_🌴🌹 مُحَمَّد خَالِد رَضَا نُورِی🌹🌴_*
*︘︘︘︘︘︘︘︘︘︘︘︘︘︘︘︘*

27/10/2022

دنیائے فقہ میں سراج الفقہا مفتی نظام الدین صاحب حفظہ اللہ کا نام محتاج تعارف نہیں ـ سراج الفقہا مفتی نظام الدین حفظہ اللہ کا شمار اعلی ہستیوں میں ہوتا ہے ۔ انہیں نہ صرف فقہ میں بلکہ درس و تدریس اور تصنیفات و تالیفات میں بھی ید طولی حاصل ہے انہوں نے اپنے علمی تصنیفات کے ذریعے علمی حلقوں کو ایک نئی راہ پر گامزن کیا ـ انہوں نے قرآنی آیات، احادیث مبارکہ اور اہل سنت کی ترجمانی بہت ہی سہج طریقے سے کی ہے ـ ان کی فقہ دانی میں رنگ اعلی حضرت ، شارح بخاری اور فقیہ ملت رحمھم اللہ کی جلوہ گری ہے ــ
سراج الفقہا مفتی نظام الدین حفظہ اللہ کی فقاہت ان کی شخصیت اور مزاج کے ساتھ پوری مناسبت رکھتی ہے ـ یہ بات بلکل واضح ہے کہ اگر فنکار خود دار اور صالح اقدار کا پاس دار ہو تو اسے دشوار گزار مراحل طے کرنے پڑتے ہیں ـ
مفتی نظام الدین حفظہ اللہ بہت سنبھل کر فتوی دیتے ہیں ۔ اسپ تخیل کو بے لگام نہیں چھوڑتے ۔ معقولیت و معنویت ان کے کلام کے اصل جوہر ہیں ـــ
سراج الفقہا مفتی نظام الدین حفظہ اللہ ایسے علمی حلقوں کی صف سے تعلق رکھتے ہیں جن کے علم و آگہی کا دائرہ معتبر اور مبسوط ہے ، جو ایک طرف ان کی تخیلی اڑانوں پر قابو رکھتا ہے تو دوسری طرف انہیں پیچیدہ مسائل کی گتھی سلجھانے پر اکساتا ہے ۔ یہ محض روایت سے گہرے شغف کی بنا پر پیدا نہیں ہوسکتا بلکہ اس کے لیے غیر معمولی استعداد اور فنی دسترس کا ہونا بھی ضروری ہے اور یہ چیزیں سراج الفقہا مفتی نظام الدین حفظہ اللہ کے یہاں بدرجۂ اتم موجود ہے ـــ
حضرت سراج الفقہا دام ظلہ کا قلم بڑا سیّال اور برق رفتار واقع ہوا ہے، اب تک آپ کے قلمِ زرنگار سے مختلف عنوانات پر سواسو سے زائد مضامین اور مقالات معرض وجود میں آچکے ہیں۔ ان میں سے کچھ خاص مقالے یہ ہیں:

(۱) قیاس حجت شرعی ہے(۲)اتر پردیش کے مسلمانوں کے مسائل اور ان کا حل(۳)امام احمد رضا اور جدید فقہی مسائل (۴)امام احمد رضا کا ذوقِ عبادت مکتوبات کے آئینے میں (۵)تقلید عرفی کی شرعی حیثیت (۶)پرنٹنگ ایجنسی کے احکام (۷)سرکار غوث اعظم کا فقہی مسلک (۸)تصوف اور اسلام (۹)حضور مفتی اعظم بحرِ فقاہت کے در شاہوار (۱۰) قضاۃ اور ان کے حدود ولایت (۱۱)بہار شریعت کا مختصر تعارف (۱۲)حضور خواجہ غریب نواز ﷫ کا فقہی مذہب (۱۳) اسلامی درس گاہوں کے اسبابِ زوال اور ان کا علاج (۱۴)مساجد میں مدارس کا قیام (۱۵)میوچول فنڈ کی شرعی حیثیت(۱۶) پرافٹ پلس کی شرعی حیثیت (۱۷)در آمد بر آمد ہونے والے گوشت کا حکم (۱۸) زینت کے لیے قرآنی آیات کا استعمال (۱۹)فیضانِ رسالت (۲۰)مصطفی جانِ رحمت اور حقوقِ انسانی (۲۱)مذہبی چینل کا شرعی حکم فتاوی رضویہ کی روشنی میں (۲۲)لغزشِ زبان سے صادر ہونے والے کلمات کب کفر ہیں، کب نہیں؟ (۲۳) مسلکِ اہلِ سنت ہی مسلکِ اعلی حضرت ہے (۲۴)حدیثِ افتراقِ امت اور بہتر فرقے (۲۵)نماز کے احکام پر ریل کے بدلتے نظام کا اثر (۲۶)انٹر نیٹ کے مواد و مشمولات کا شرعی حکم (۲۷)غیر رسمِ عثمانی میں قرآن حکیم کی کتابت (۲۸)ڈی این اے ٹیسٹ شرعی نقطۂ نظر سے (۲۹) قومی و ملی مسائل میں اہلِ سنت کا کردار- ضرورت اور طریق کار (۳۰) جینیٹک ٹیسٹ اور اس کی شرعی حیثیت (۳۱)جدید ذرائعِ ابلاغ سے نکاح کب جائز، کب ناجائز؟ (۳۲) بلیک برن وغیرہ بلادِ برطانیہ میں عشا، وتر اور صوم کے وجوب کی تحقیق(۳۳)روزہ میں گل لگانے کی شرعی حیثیت (۳۴)سفر میں جمع بین الصلاتین (۳۵)صدقۂ فطر کا وزن ۲؍کلو۴۷؍گرام ہے (۳۶)مسجد دوسری جگہ منتقل نہیں ہو سکتی (۳۷)قربانی کے فضائل و مسائل (۳۸)نماز کی اہمیت مسائل کی روشنی میں (۳۹)آج کل سنی جامعات کس نہج پر ہیں (۴۰)اختلافی مسائل رحمت یا زحمت؟ (۴۱) سنّی دار الافتا کا کردار اور مفتیانِ عظام (۴۲)بیمۂ جان و مال کی تحقیق (۴۳)الکحل آمیز دواؤں کا استعمال (۴۴)جھوٹ بولنے کا درد ناک انجام (۴۵)دینِ حق اور اس کی بے بہا تعلیمات (۴۶)فلمی گانوں کا ہول ناک منظر (۴۷)میوزک نما ذکر کے ساتھ نعتِ مصطفے ﷺ پڑھنا اور سننا (۴۸)ایڈز زدہ حاملہ عورت کو حمل ساقط کرانے کی اجازت نہیں(۴۹)چیک اور پرچی کی کٹوتی کا شرعی حکم (۵۰)دُیُون اور ان کے منافع پر زکوٰۃ(۵۱)دیہات میں جمعہ و ظہر با جماعت (۵۲) باغات و تالاب کا رائج اجارہ (۵۳)غیر مسلم ممالک میں جمعہ و عیدین (۵۴)تقلیدِ غیر کب جائز، کب ناجائز؟ (۵۵)چھت سے سعی و طواف کا مسئلہ (۵۶)حاجی مقیم پر قربانی واجب ہے (۵۷)معاملہ کرایہ فروخت شرعی نقطۂ نظر سے (۵۸)بیت المال، مسلم کالج اور اسکول کے نام پر تحصیلِ زکوٰۃ(۵۹)یوروکائنیز انجیکشن سے علاج کا شرعی حکم (۶۰) صاحبِ زمین پر قربانی و صدقۂ فطر کا وجوب (۶۱)انجکشن مفسدِ صوم ہے، یا نہیں (۶۲) واشنگ مشین میں دھلے گئے کپڑے پاک ہیں، یا ناپاک؟ (۶۳)حالتِ احرام میں خوشبو دار مشروبات پینے کا حکم (۶۴)عصر حاضر میں دار القضا کی ضرورت (۶۵)تمناےموت شرعاممنوع ہے (۶۶)استمداد و استعانت پر ایک تحقیقی بحث (۶۷)اسلامی تصورِ توحید اور ائمۂ کرام (۶۸)مدارس میں طریقت اور خانقاہوں میں شریعت کا نفاذ ہو (۶۹)اسما و صفاتِ باری تعالی (۷۰)حافظِ ملت اپنی تعلیمات کے آئینے میں (۷۱)حضور احسن العلما بحیثیت شیخ کامل (۷۲)حضرت صدر الافاضل بحیثیت مفسرِ قرآن (۷۳) حضرت صدر العلما میرٹھی بشیر القاری کے آئینے میں (۷۴) مسلم معاشرے کی خرابیاں اور ان کی اصلاح کے راستے (۷۵)اصولِ تدریسِ فقہ و اصولِ فقہ (۷۶)جبری جہیز کی لعنت (۷۷) الإمام الترمذی ومآثرہ العلمیۃ (عربی) (۷۸) المحدث أحمد علی السہارن فوري (عربی) (۷۹) ترجمۃ صاحب الصحیح: الامام أبی الحسن مسلم بن الحجاج القشیری- رحمۃ اللہ تعالی علیہ- (عربی) (۸۰) ترجمۃ الشارح:الإمام أبي زکریا یحیی بن شرف النووی شارح صحیح مسلم (عربی) ان میں سے دو مقالات[۱ - اور- ۵] شامل کتاب ہیں۔ (ویکیپیڈیا)

مقالات کے علاوہ درج ذیل علمی و تحقیقی کتابیں آپ کے قلم سے اب تک معرضِ تحریر میں آچکی ہیں، ان میں کچھ مطبوعہ ہیں اور کچھ غیر مطبوعہ:

(۱) الحواشی الجلیّہ فی تایید مذہب الحنفیّۃ علی شرح صحیح مسلم(۲) فقہ حنفی کا تقابلی مطالعہ کتاب و سنت کی روشنی میں(۳)عصمت انبیا(۴)لاؤڈ اسپیکر کا شرعی حکم (۵)شیئر بازار کے مسائل(۶)جدید بینک کاری اور اسلام (۷)مشینی ذبیحہ مذاہب اربعہ کی روشنی میں (۸) مبارک راتیں (۹)عظمت والدین (۱۰)امام احمد رضا پر اعتراضات-ایک تحقیقی جائزہ (۱۱)ایک نشست میں تین طلاق کا شرعی حکم (۱۲)فقہ اسلامی کے سات بنیادی اصول (۱۳)دو ملکوں کی کرنسیوں کا ادھار، تبادلہ و حوالہ (۱۴) انسانی خون سے علاج کا شرعی حکم (۱۵)دکانوں، مکانوں کے پٹّے اورپگڑی کے مسائل (۱۶)تحصیل صدقات پر کمیشن کا حکم (۱۷)خاندانی منصوبہ بندی اور اسلام(۱۸)تعمیر مزارات احادیث نبویہ کی روشنی میں (۱۹)خسر، بہو کے رشتے کا احترام اسلام کی نگاہ میں (۲۰) اعضا کی پیوند کاری (۲۱)فلیٹوں کی خرید و فروخت کے جدید طریقے (۲۲)بیمہ وغیرہ میں ورثہ کی نامزدگی کی شرعی حیثیت(۲۳)فقدان زوج کی مختلف صورتوں کے احکام (۲۴) کان اور آنکھ میں دوا ڈالنا مفسدِ صوم ہے، یا نہیں (۲۵)جدید ذرائع ابلاغ اور رویتِ ہلال (۲۶)طویل المیعاد قرض اور ان کے احکام (۲۷) طبیب کے لیے اسلام اور تقوی کی شرط (۲۸)نیٹ ورک مارکیٹنگ کا شرعی حکم (۲۹)فسخ نکاح بوجہ تعسّرِ نفقہ (۳۰)فقہ حنفی میں حالاتِ زمانہ کی رعایت فتاوی رضویہ کے حوالے سے (۳۱) مسلکِ اعلی حضرت عصر حاضر میں مسلکِ اہلِ سنت کی مترادف اصطلاح (۳۲)جداگانہ احکام اور فقہی اختلافات کے حدود حقائق و شواہد کے اجالے میں (۳۳) چلتی ٹرین میں نماز کا حکم فتاویٰ رضویہ اور فقہ حنفی کی روشنی میں(۳۴)مساجد کی آمدنی سے اے سی وغیرہ کے اخراجات کا انتظام (۳۵)تعدی مرض شرعی نقطہ نظر سے (۳۶)خلافتِ شرعی اور فضائلِ خلفاے راشدین (۳۷)جلوسِ عید میلاد النبی ﷺ سنتِ صحابہ کی یادگار (۳۸)برقی کتابوں کی خرید و فروخت شرعی نقطہ نظر سے(۳۹)مسئلۂ کفاءت عصرِ حاضر کے تناظر میں (۴۰) بینکوں کی ملازمت شریعت کی روشنی میں (۴۱)اجتہاد کیا ہے اور مجتہد کون ؟ (۴۲)تہتر میں ایک کون؟ (۴۳)ترکِ تقلید اور غیر مقلدین کے اجتہادی مسائل (۴۴)ثبوتِ ہلال کی نو صورتیں (۴۵)اور ۱۵؍جلدوں میں آپ کے لکھے ہوئے فتاوی، جو دار الافتا،جامعہ اشرفیہ کی امانت ہیں۔ (ویکیپیڈیا)

ایں سعادت بزورِ بازو نیست
تانہ بخشد خدائے بخشندہ
✍ ذاکر حسین گیا بہار انڈیا
22/ اکتوبر 2022

26/10/2022

آئینہ سیمانچل

امام مظلوم اورمظلوم امام

امام پر ظلم وستم کی کہانی جو کربلا سے شروع ہوئی تھی ۔ وہ ظلم وستم مساجد کے اماموں پر آج بھی جاری وساری ہے ۔ وقت بدلا حالات بدلے صدیاں گزر گئیں ۔ مگر امام پر ظلم وستم کی کہانی نہیں بدلی ۔ پھرچاہے وہ امام اعظم ہوں ۔یا امام احمد ابن حنبل ۔ یاامام ربانی مجدد الف ثانی ہوں ۔ ائمہ دین ہوں یا ائمہ مساجد ۔ تاریخ کے اوراق ائمہ کی مظلومیت پر مرثیہ خواں ہیں ۔ اورآج بھی آے دن امام کی مظلومیت کی خبرآتی رہتی ہے ۔
*یزید۔ ظلم کا استعارہ ہے۔ حضرت حسین مظلومیت کا *
یزیدتومرگیا ۔ لیکن یزیدیت آج بھی زندہ ہےمساجدمیں اراکین مساجدکی شکل میں ۔ (بقول فرزدق شاعر )امام حسین کی طرح عوام ومصلیان کی زبانی ہمدردی امام کے ساتھ ہوتی ہے ۔ مگر تائیدوحمایت وہ اراکین کی ہی کرتے ہیں ۔ تب کے یزیدوں کوامام حسین کےاہل وعیال پررحم نہیں آیاتھا۔ آج کےیزیدوں کوبھی اماموں کے اہل وعیال پررحم نہیں آتا ہے ۔ نہ تب کے یزیدوں کو امام حسین کے مسافروپردیسی ہونے کا خیال تھا ۔ نہ آج کے یزیدوں کو خیال آتا ہے ۔ نہ تب کے یزیدوں کو امام حسین کی فضیلت کے آیات واحادیث آثار یاد تھے۔ نہ آج کےیزیدوں کوعلماءوحفاظ اماموں کی فضیلت کےآیات واحادیث وآثار یاد ہے ۔امام حسین کے بعدان کے اہل وعیال کا کوئی پرسان حال نہ تھا ۔ امام مسجد کے بعد بھی ان کے اہل وعیال کا کوئی پرسان حال نہیں ہوتا ہے ۔
کل کا یزید اپنے کیئےپر بظاہرنادم تھا ۔ آج کے یزید اپنے کیئے پر فخر کرتا ہے ۔ کل کے یزید پر لوگ لعنت بھیجتے ہیں ۔ آج کے یزید کولوگ سلام کرتے ہیں ۔ کل کے یزید سے لوگ نفرت کرتےہیں ۔ آج کے یزید کی لوگ تعریف کرتے ہیں ۔ پیشہ ورمقررتعریف کرتے ہیں ۔ اکثر پیر مغاں بھی تعریف کرتے ہیں ۔ بعض مفتی وقاضیان شہر اختلافات وجھگڑے سے فرصت پاتے ہیں تووہ بھی اراکین مساجد کی تعریف کرتےہیں۔ سب نے اپنے اپنے حصے کا ظلم امام کیلِے وقف کر رکھا ہے ۔ کل کے یزید کے فسق پر اجماع قائم ہے ۔ آج کے اکثریزیدوں کےفسق پر اجماع سکوتی نافذ ہے۔ ۔حدیث شریف میں ہے ۔ اذاوسداالامرالی غیر اہلہ فنتظرواالساعہ ۔ بخاری۔ نااہل کو ذمہ داری سونپنا قیامت کی علامت ہے ۔ کل کا یزید بھی نااہل تھا ۔ آج کے یزید بھی نااہل ہیں ۔ وہ بھی قیامت کی علامت تھا۔ یہ بھی قیامت کی علامت ہیں ۔ ناظرین ۔ دنیا کے کسی شراب میں وہ نشہ نہیں جو شراب اقتدار میں نشہ ہے ۔ پھر وہ چاہے تخت سلطنت کے اقتدارکانشہ ہو ۔ یاپھر مساجد کی تولیت کے اقتدارکا نشہ ۔نشئہ اقتدارسے مخمور اراکین کے کرداروعمل سے انا ربکم الاعلی ۔ کی فرعونی صدائے بازگشت سنائی دیتی ہے ۔ کہ امام وموذن کی۔ زندگی۔ان کی عزت وآبرو۔ان کی روزی روٹی کے ہم مالک ومختار ہیں ۔ جب چاہیں ذلیل ورسواکریں ۔ جب چاہیں جھوٹےالزامات لگائیں۔جب چاہیں ان کی روزی روٹی چھین لیں ۔ کبھی مقامی وبیرونی کے نام پر۔ کبھی سلسلوں کے نام پر۔ کبھی خانقاہوں کےنام پر کبھی پیروں کے نام پر ۔ کبھی سریلی آواز کے نام پر۔ کبھی کچھ کبھی کچھ ۔ حاصل کلام ۔ ستانےکے ہزاروں بہانے ڈھونڈلیتے ہیں ۔گویا پوری دنیا کربلا بن گیا ہے ۔ اوراس میں امام یکہ وتنہا مجسمہ حیرت ویاس مظلومیت کی متحرک تصویر بن کر رہ گیا ہے.
حیراں ہوں دل کو رووں کہ پیٹوں جگر کو میں
مقدور ہو تو ساتھ رکھوں نوحہ گر کو میں
پوری دنیامیں سب سے سستہ مزدور ایشیامیں پائے جاتے ہیں ۔اور ایشیامیں جو سب سے سستہ مزدور ہے اسے امام وموذن کہتے ہیں ۔ جس کی مزدوری یومیہ مزدور کی دیھاری 400 روپےسے بھی کم ہے ۔ اس بےقدری کے ذمہ دارنہ صیہونی طاقت ہےنہ صلیبی طاقت اور نہ ہی ہندتوا کی ۔ مختلف تنظیمیں ۔ بلکہ کٹر سنی اراکیں مساجد ہے ۔ جسے پوری قوم کا درپردہ تائیدوحمایت حاصل ہے۔ مسجدکروروں کی بناتے ہیں ۔ مگر امام کو مزدوری یومیہ مزدور سےبھی کم دیتے ہیں۔ یاللعجب
تمام دینی دنیاوی تعلیم گاہوں ۔ کمپبیوں فیکٹریوں میں امتحان اور انٹرویو ۔ان کےماہرین لیتے ہیں ۔ مگر امام کی قرات اور علم کا امتحان وہ اراکین مساجد لیتے ہیں ۔جس کی سات نسل میں بھی کوئی علم قرات کا جاننے والا نہیں ہوتا ہے۔ اس سے زیادہ دین کابھونڈا مزاق اور کیا ہوگا ۔
۔99۔فی صد اراکیںن مساجد علم دین وشریعت سے جاہل ہیں ۔ اور کچھ برملا کہ دیتے ہیں ۔ہم شریعت کو نہیں مانتے ہمارا دل جو چاہےگا وہی کرینگے۔ اسلئیے مفتی شریف الحق صاحب فرماتے ہیں ۔
* اگر مسجدوں کے متولی اورمدرسوں کے مہتمم بخش دیئے جائینگے توکوئی مسلمان جہنم میں نہیں جائینگے۔
معارف شارح بخاری ۔ 295*
( ان تمام باتوں میں مستثنیات کا لحاظ لازم ہے)

* کثرت مکاتب ومدارس کاسبب قریب *

ہر چھوٹے بڑےشہر میں بہت سے مدرسے کھل گئے ۔ جس پر عوام وخواص سب کو اعتراض ہے۔ مگر یہ تمام علماء ۔ اراکین مساجد کے ستائے ہوئے امام ہیں ۔ پہلےیہ بھی امام تھے باربار رسوا ہونے کےبجائے مدرسہ قائم کرلیئے۔ لہذا ۔ جو علماء مدرسہ قائم کئے ۔ خانقاہ بناے۔ تعویز گنڈہ کرتے ہیں یا کوئی کاروبار کرتے ہیں ۔ سب کے سب کامیاب ہیں ۔ خوشحال ہیں ان کے اہل وعیال پرسکون ہیں ۔ انکے بچے کانوینٹ اسکول میں پڑھتے ہیں ۔ اکثر کے ذاتی مکان ہیں ۔ مگر مسجدوں کے امام بے یقینی کی زندگی گزارتے ہیں ۔تنگ دست ہیں ۔ ذاتی مکان تو سوچ بھی نہیں سکتے۔ اپنے بچوں کی اعلی تعلیم کیلئے ہزار بار سوچنا پڑتا ہے۔ کوئی شخص کسی عالم کو ان کے مدرسے۔ انکی خانقاہ ۔ ان کے تعویزگنڈے ۔ ان کے کاروبار سے نکال نہیں سکتا ۔ اور نہ اب تک کوئی نکال پایاہے ۔. . مگر امام کو جب چاہیں نکال دیتے ہیں ۔ کھڑےکھڑےنکال دیتے ہیں چھٹی پر ہیں تو نکال دیتے ہیں ۔ لاک ڈاون کےوقت امدادباہمی کے نئے نئے باب کھلے حتی کہ ناچنےگانےوالوں نے بھی بلاتفریق مددکی ۔ اس وقت بھی اماموں کی مدد کی بجاے ان پر ظلم بند نہ ہوا ۔ حضرت مسلم بن عقیل کو کوفہ میں اپنے بچوں کے ساتھ پناہ کی تلاش میں پھرتے ہوئے پڑھا ۔ مگرلااک ڈاون میں اماموں کواپنے بچوں کے ساتھ پناہ تلاش کرتے ہوئے بہتوں نے دیکھا ۔
کثرت مدارس اگر خرابی ہے ۔ تو اس خرابی کے سبب قریب اوراصل ذمہ دار اراکین مساجد ہیں ۔ اور عالم اسباب میں سبب کا انکار خالق اسباب کی توہین ہے۔

ملک کے مختلف جگہوں سے جب کسی عالم وحافظ کا جنازہ سیمانچل پہنچتا ہے ۔ لاک ڈاون کے بعدتو ہرمہینہ بلکہ ہرہفتہ پہنچتا ہے ۔ توپوراعلاقہ۔اشکبار اورماحول سوگوارہوجاتاہے ۔ بوڑھے ماں باپ ۔ ان کی بیوہ۔ اور کم سن بچوں کی آہ وفغاں سے کربل کی یاد آجاتی ہے ۔ ان میں سے اکثر کی موت ہارٹ اٹیک ۔سےہوتی ہے ۔ جس کا سبب ۔ذہنی ۔ قلبی ۔روحانی ۔اذیت ہے۔ جو اراکین مساجد
اپنے امام کوبطور نزرانہ دیتے ہیں ۔ ایسے بیسوں امام کو ذاتی طور پر جاتا ہوں ۔ جو اب دنیا میں نہیں رہے ۔جس کی تازہ مثال علاقہ گوال پوکھر کے گاوں بابھن باڑی کے مولنا اخترمدنی ہےجوسورت شہر میں انتقال فرماے اللہ تبارک وتعالی اپنے حبیب کےصدقے ان سب کی مغفرت فرمائے ۔ اور جو زندہ ہیں ان کے جان ومال عزت وآبرو کی حفاظت فر مائے. آمین بجاہ سیدالمرسلین

محمد مجیب الرحمن اشرفی
9172215592

19/10/2022

मौलाना नूर आलम मिस्बाही

مولانا نور عالم مصباحی

18/09/2022

حضرتِ اویس قرنی رح حضور نبی پاک صل اللہُ علیہ وسلم کى زیارت نہیں کر سکے لیکن دل میں حسرت بہت تھى کے حضور کا دیدار کر لوں...
بوڑھى ماں تھیں اور انھی کى خدمت آپ کو حضور کے دیدار سے روکے ہوئے تھى...
ادھر حضور یمن کى طرف رُخ کر کے کہا کرتے تھے کے مجھے یمن سے اپنے یار کى خوشبو آ رہی ہے ایک صحابی نے کہا حضور آپ اُس سے اتنا پیار کرتے ہیں اور وہ ہے کہ آپ سے ملنے بھى نہیں آئے تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ اُس کى بوڑھى اور نابینا ماں ہے جس کی اویس بہت خدمت کرتا ہے اور اپنی بوڑھی ماں کو وہ تنہا چھوڑ کر نہیں آ سکتا۔
آپ ﷺ نے حضرت عمرؓ اورحضرت علیؓ سے مخاطب ہوتے ہوئے فرمایا کہ تمہارے دورمیں ایک شخص آئے گا جس کا نام ہو گا اویس بن عامر، قد ہو گا درمیانہ، رنگ ہو گا کالا، اور جسم پر ایک سفید داغ ہو گا۔ جب وہ آئے توتم دونوں نے اس سے دعا کرانا کیونکہ اویس نے ماں کی ایسی خدمت کی ہے جب بھی وہ دعا کے لیے ہاتھ اٹھاتا ہے تو اللہ اس کی دعا کبھی رد نہیں کرتا۔
حضرت عمر دس سال خلیفہ رہے اور ہر سال حج کرتے ہر حضرت اویس قرنی کو تلاش کرتے لیکن انہیں اویس نہ ملتے۔ ایک دفعہ حضرت عمر نے سارے حاجیوں کو میدان عرفات میں اکٹھا کر لیا اور کہا کہ تمام حاجی کھڑے ہو جائیں پھر کہا کہ سب بیٹھ جاو صرف یمن والے کھڑے رہو تو سب بیٹھ گئے اور صرف یمن والے کھڑے رہے۔ پھر کہا کہ یمن والے سارے بیٹھ جاو صرف قبیلہ مراد کھڑا رہے پھر کہا مراد والے سب بیٹھ جاو صرف قرن والے کھڑے رہو تو صرف ایک آدمی بچا اورحضرت عمر نے کہا کہ تم قرنی ہو تو اس شخص نے کہا ہاں میں قرنی ہوں توحضرت عمر نے کہا کہ اویس کوجانتے ہو؟ تو اس شخص نے کہا کہ ہاں جانتا ہوں وہ تو میرے سگے بھائی کا بیٹا ہے۔ آپ نے پوچھا کہ اویس ہے کدھر؟ تو اس شخص نے کہا کہ وہ عرفات گیا ہے اونٹ چرانے، آ پ نے حضرت علی ؓ کو ساتھ لیا اورعرفات کی طرف دوڑ لگائی جب وہاں پہنچے تو دیکھا کہ اویس قرنی درخت کے نیچے نمازپڑھ رہے ہیں اور اونٹ چاروں طرف چررہے ہیں۔ آپ دونوں آکربیٹھ گئے اور حضرت اویس قرنی کی نمازختم ہونے کا انتظار کرنے لگے۔ جب حضرت اویس نے سلام پھیرا توحضرت عمر نے پوچھا کون ہو بھائی؟تو حضرت اویس قرنی نے کہا میں اللہ کا بندہ، تو حضرت عمرؓ نے کہا کہ سارے ہی اللہ کے بندے ہیں لیکن تمھارا نام کیا ہے؟ تو حضرت اویس نے کہا کہ آپ کون ہیں؟ حضرت علی ؓ نے کہا کہ یہ امیرالمومنین عمربن خطاب ہیں اورمیں علی بن ابی طالب ہوں۔
حضرت اویس کایہ سننا تھا کہ وہ تھرتھر کانپنے لگے اور کہا کہ جی میں معافی چاہتا ہوں میں نے آپ کوپہچانا نہیں تھا میں تو پہلی دفعہ حج پر آیا ہوں۔ حضرت عمر ؓ نے کہا کہ تم اویس ہو؟ تو انہوں نے کہا ہاں میں ہی اویس ہوں۔ حضرت عمرؓ نے کہا کہ ہاتھ اٹھا اور ہمارے لیے دعاکر وہ رونے لگے اور کہا کہ میں دعا کروں؟ آپ لوگ سردار اور میں نوکر آپ کا اور میں آپ لوگوں کے لیے دعا کروں؟ توحضرت عمرنے کہا کہ ہاں اللہ کے نبی ؐ کا حکم تھا کہ اویس جب بھی آئے تو اس سے دعا کروانا۔ پھر حضرت اویس قرنی نے دونوں کے لیے دعا کی۔
آپ ﷺ نے فرمایا کہ جب لوگ جنت میں جا رہے ہوں گے تو حضرت اویس قرنی بھی چلیں گے اس وقت اللہ تعالیٰ فرمائیں گے کے باقیوں کو جانے دو اور اویس کو روک لو اس وقت حضرت اویس قرنی ؓ پریشان ہوجائیں گے اور کہیں گے کہ اے خدا آپ نے مجھے دروازے پرکیوں روک لیا گیا تو اللہ تعالی ٰ فرمائیں گے کہ پیچھے دیکھو جب پیچھے دیکھیں گے توپیچھے کروڑوں اربوں کے تعداد میں جہنمی کھڑے ہوں گےتو اس وقت خدا فرمائیں گے کہ اویس تیری ایک نیکی نے مجھے بہت خوش کیا ہے’’ ماں کی خدمت‘‘تو انگلی کا اشارہ کرجدھرجدھرتیری انگلی پھرتی جائے گی میں تیرے طفیل ان کوجنت میں داخل کرتا جاوں گا۔

Address

Maharajganj
273163

Telephone

+917897695728

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when دینی معلومات islamic knowledge posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to دینی معلومات islamic knowledge:

Share

Category