Mohd Shareef Raza Razvi

Mohd Shareef Raza Razvi Deeni ma'loomat

اے ایمان والو پوسٹ نمبر 87/89سورۃ التغابن آیت نمبر 14أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِبِسْمِ اللّٰهِ الرَّ...
12/03/2026

اے ایمان والو
پوسٹ نمبر 87/89
سورۃ التغابن آیت نمبر 14

أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

يٰۤاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡۤا اِنَّ مِنۡ اَزۡوَاجِكُمۡ وَاَوۡلَادِكُمۡ عَدُوًّا لَّكُمۡ فَاحۡذَرُوۡهُمۡ‌ۚ وَاِنۡ تَعۡفُوۡا وَتَصۡفَحُوۡا وَتَغۡفِرُوۡا فَاِنَّ اللّٰهَ غَفُوۡرٌ رَّحِيۡمٌ ۞

ترجمہ:
اے ایمان والو ! بیشک تمہاری بیویوں اور تمہاری اولاد میں سے کچھ تمہارے دشمن ہیں سو ان سے ہوشیار ہو، اور اگر تم معاف کردو اور درگزر کرو اور بخش دو تو بیشک اللہ بہت بخشنے والا ہے بےحد رحم فرمانے والا ہے

☆ Kanzul Iman Translation:

◆ ऐ ईमान वालो तुम्हारी कुछ बीबियां और बच्चे तुम्हारे दुश्मन हैं (फ़22) तो उनसे एहतियात रखो (फ़23) और अगर माफ़ करो और दरगुज़र करो और बख़्श दो तो बेशक अल्लाह बख़्शने वाला मेहरबान है।

☆ Tafsir e Khazain ul Irfan:
( 22 fa )
کہ تمہیں نیکی سے روکتے ہیں ۔
( 23 fa )
اور ان کے کہنے میں آکر نیکی سے باز نہ رہو ۔
شانِ نزول : چند مسلمانوں نے مکّہ مکرّمہ سے ہجرت کا ارادہ کیا تو ان کی بی بی اور بچّوں نے انہیں روکا اور کہا ہم تمہاری جدائی پر صبر نہ کرسکیں گے ، تم چلے جاؤ گے ہم تمہارے پیچھے ہلاک ہوجائیں گے ، یہ بات ان پر اثر کر گئی اور وہ ٹھہر گئے ، کچھ عرصہ کے بعد جب انہوں نے ہجرت کی تو انہوں نے اصحابِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو دیکھا کہ وہ دِین میں بڑے ماہر اور فقیہ ہوگئے ہیں ، یہ دیکھ کر انہوں نے اپنی بی بی ، بچّوں کو سزا دینے کا ارادہ کیا اوریہ قصد کیا کہ ان کا خرچ بند کردیں کیونکہ وہی لوگ انہیں ہجرت سے مانع ہوئے تھے جس کا یہ نتیجہ ہوا کہ حضور کے ساتھ ہجرت کرنے والے اصحاب علم وفقہ میں ان سے منزلوں آ گے نکل گئے ، اس پر یہ آیتِ کریمہ نازل ہوئی اور انہیں اپنے بی بی بچّوں سے درگذر کرنے اور معاف کرنے کی ترغیب فرمائی گئی ، چنانچہ آ گے ارشاد فرمایا جاتا ہے ۔
( AL-TAGHABUN - 64:14 )

12/03/2026
اے ایمان والو پوسٹ نمبر 86/89سورۃ نمبر المنافقون آیت نمبر 9أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِبِسْمِ اللّٰهِ...
11/03/2026

اے ایمان والو
پوسٹ نمبر 86/89
سورۃ نمبر المنافقون آیت نمبر 9

أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

يٰۤاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا لَا تُلۡهِكُمۡ اَمۡوَالُكُمۡ وَلَاۤ اَوۡلَادُكُمۡ عَنۡ ذِكۡرِ اللّٰهِ‌ۚ وَمَنۡ يَّفۡعَلۡ ذٰلِكَ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الۡخٰسِرُوۡنَ ۞

ترجمہ کنزالایمان:

اے ایمان والو ! تمہارے مال نہ تمہاری اولاد کوئ چیز تمہیں اللہ کے ذکر سے غافل نہ کرے (ف۲۱) اور جو ایسا کرے (ف۲۲) تو وہی لوگ نقصان میں ہیں (ف۲۳)۔
☆ Tafsir e Khazain ul Irfan:
( 21 fa )
پنجگانہ نمازوں سے یا قرآن شریف سے ۔
( 22 fa )
کہ دنیا میں مشغول ہو کر دِین کو فراموش کردے اور مال کی محبّت میں اپنے حال کی پروا نہ کرے اور اولاد کی خوشی کےلئے راحتِ آخرت سے غافل رہے ۔
( 23 fa )
کہ انہوں نے دنیائے فانی کے پیچھے دارِآخرت کی باقی رہنے والی نعمتوں کی پرواہ نہ کی ۔
( AL-MUNAFIQOON - 63:9 )

تفسیر صراط الجنان:

{یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا:اے ایمان والو! }
اس سے پہلی آیات میں منافقوں کے اَحوال بیان کئے گئے اور اب یہاں سے ایمان والوں کو نصیحت کی جا رہی ہے کہ اے ایمان والو! منافقوں کی طرح تمہارے مال اور تمہاری اولاد تمہیں اللّٰہ تعالیٰ کے ذکر سے غافل نہ کردے اور جوایسا کرے گا کہ دنیا میں مشغول ہو کر دین کو فراموش کردے گا، مال کی محبت میں اپنے حال کی پروا ہ نہ کرے گا اور اولاد کی خوشی کیلئے آخرت کی راحت سے غافل رہے گاتو ایسے لوگ ہی نقصان اٹھانے والے ہیں کیونکہ اُنہوں نے فانی دنیا کے پیچھے آخرت کے گھرکی باقی رہنے والی نعمتوں کی پرواہ نہ کی۔
( خازن، المنافقون، تحت الآیۃ: ۹، ۴ / ۲۷۴، مدارک، المنافقون، تحت الآیۃ: ۹، ص۱۲۴۵، ملتقطاً)

یہاں آیت کی مناسبت سے دنیا کے مال سے متعلق ایک حدیث ِپاک ملاحظہ ہو،چنانچہ حضرت حکیم بن حزام رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں :میں نے رسولِ کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے کچھ مال کا سوال کیااور بہت اِلتجاء کی تو آپ نے ارشاد فرمایا:

’’اے حکیم! تمہارا اتنی کثرت سے سوال کرنا کیا ہے ؟اے حکیم!بے شک یہ مال سرسبز اور میٹھا ہے اور ا س کے ساتھ ساتھ وہ لوگوں کے ہاتھوں کا میل ہے،اللّٰہ تعالیٰ کا ہاتھ دینے والے کے ہاتھ کے اوپر ہوتا ہے اور دینے والے کا ہاتھ اس کے ہاتھ کے اوپر ہوتا ہے جسے دیا گیا اور جسے دیا گیا اس کا ہاتھ سب سے نیچے ہوتا ہے۔
( مسند امام احمد، مسند المکیین، مسند حکیم بن حزام، ۵ / ۲۲۸، الحدیث: ۱۵۳۲۱)

اے ایمان والو پوسٹ نمبر 85/89سورۃ الجمعة آیت نمبر 9أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِبِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْ...
10/03/2026

اے ایمان والو
پوسٹ نمبر 85/89
سورۃ الجمعة آیت نمبر 9

أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

يٰۤاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡۤا اِذَا نُوۡدِىَ لِلصَّلٰوةِ مِنۡ يَّوۡمِ الۡجُمُعَةِ فَاسۡعَوۡا اِلٰى ذِكۡرِ اللّٰهِ وَذَرُوا الۡبَيۡعَ‌ ؕ ذٰ لِكُمۡ خَيۡرٌ لَّـكُمۡ اِنۡ كُنۡتُمۡ تَعۡلَمُوۡنَ ۞

ترجمہ:
اے ایمان والو ! جب جمعہ کے دن نماز (جمعہ) کی اذان دی جائے تو تم اللہ کے ذکر کی طرف دوڑ پڑو، اور خریدو فروخت چھوڑ دو ، یہ تمہارے لئے بہت بہتر ہے اگر تم جانتے ہو

☆ Kanzul Iman Translation:

◆ ऐ ईमान वालो जब नमाज़ की अज़ान हो जुमा के दिन (फ़21) तो अल्लाह के ज़िक्र की तरफ़ दौड़ो (फ़22) और ख़रीद व फ़रोख़्त छोड़ दो (फ़23) यह तुम्हारे लिये बेहतर है अगर तुम जानो।

☆ Tafsir e Khazain ul Irfan:
( 21 fa )
روزِ جمعہ اس دن کا نام عربی زبان میں عروبہ تھا جمعہ اس کو اسلئے کہا جاتا ہے کہ نماز کےلئے جماعتوں کا اجتماع ہوتا ہے وجہِ تسمیہ میں اور بھی اقوال ہیں سب سے پہلے جس شخص نے اس دن کا نام جمعہ رکھا وہ کعب بن لُوی ہیں پہلا جمعہ جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے اپنے اصحاب کے ساتھ پڑھا اصحابِ سیَر کا بیان ہے کہ حضور علیہ السلام جب ہجرت کرکے مدینہ طیّبہ تشریف لائے تو بارہویں ربیع الاوّل روزِ دوشنبہ کو چاشت کے وقت مقامِ قباء میں اقامت فرمائی دو شنبہ ، سہ شنبہ ، چہار شنبہ ، پنج شنبہ یہاں قیام فرمایا اور مسجد کی بنیاد رکھی روزِ جمعہ مدینہ طیّبہ کا عزم فرمایا بنی سالم بن عوف کے بطنِ وادی میں جمعہ کا وقت آیا اس جگہ کو لوگوں نے مسجد بنایا سیّدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے وہاں جمعہ پڑھایا اور خطبہ فرمایا جمعہ کا دن سیّدُ الایام ہے جو مومن اس روز مرے حدیث شریف میں ہے کہ اللہ تعالٰی اس کو شہید کا ثواب عطا فرماتا ہے اور فتنۂِ قبر سے محفوظ رکھتا ہے ۔ اذان سے مراد اذانِ اوّل ہے نہ اذانِ ثانی جو خطبہ سے متصل ہوتی ہے اگرچہ اذانِ اوّل زمانۂِ حضرت عثمانِ غنی رضی اللہ تعالٰی عنہ میں اضافہ کی گئی مگر وجوبِ سعی اور ترکِ بیع و شراء اسی سے متعلق ہے ۔ (کذافی الدرالمختار)
( 22 fa )
دوڑنے سے بھاگنا مراد نہیں ہے بلکہ مقصود یہ ہے کہ نماز کےلئے تیاری شروع کردو اور ذِکْرُاللہِ سے جمہور کے نزدیک خطبہ مراد ہے ۔
( 23 fa )
مسئلہ : اس سے معلوم ہوا کہ جمعہ کی اذان ہوتے ہی خرید و فروخت حرام ہوجاتی ہے اور دنیا کے تمام مشاغل جو ذکرِ الٰہی سے غفلت کا سبب ہوں اس میں داخل ہیں اذان ہونے کے بعد سب کو ترک کرنا لازم ہے ۔
مسئلہ : اس آیت سے نمازِ جمعہ کی فرضیّت اور بیع وغیرہ مشاغلِ دنیویہ کی حرمت اور سعی یعنی اہتمامِ نماز کا وجوب ثابت ہوا اور خطبہ بھی ثابت ہوا ۔
مسئلہ: جمعہ مسلمان ، مرد ، مکلّف ، آزاد ، تندرست ، مقیم پر شہر میں واجب ہوتا ہے نابینا اور لنگڑے پر واجب نہیں ہوتا صحتِ جمعہ کےلئے سات شرطیں ہیں ۔
(۱) شہر جہاں فیصلۂِ مقدمات کا اختیار رکھنے والا کوئی حاکم موجود ہو یا فناءِ شہر جو شہر سے متصل ہو اور اہلِ شہر اس کو اپنے حوائج کے کام میں لاتے ہوں(۲) حاکم (۳)وقتِ ظہر (۴)خطبہ وقت کے اندر (۵)خطبہ کا قبلِ نماز ہونا اتنی جماعت میں جو جمعہ کےلئے ضروری ہے(۶)جماعت اور اس کی اقلِّ مقدار تین مرد ہیں سوائے امام کے(۷)اذنِ عام کہ نمازیوں کو مقامِ نماز میں آنے سے روکا نہ جائے ۔
( AL-JUMA'H - 62:9 )

اے ایمان والو پوسٹ نمبر 81/89 سورۃ الممتحنة آیت نمبر 13أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِبِسْمِ اللّٰهِ الر...
02/03/2026

اے ایمان والو
پوسٹ نمبر 81/89
سورۃ الممتحنة آیت نمبر 13

أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

يٰۤاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا لَا تَتَوَلَّوۡا قَوۡمًا غَضِبَ اللّٰهُ عَلَيۡهِمۡ قَدۡ يَــئِـسُوۡا مِنَ الۡاٰخِرَةِ كَمَا يَــئِـسَ الۡكُفَّارُ مِنۡ اَصۡحٰبِ الۡقُبُوۡرِ ۞

ترجمہ:
اے ایمان والو ! ان لوگوں سے دوستی نہ کرو جن پر اللہ نے غضب فرمایا ہے، بیشک وہ آخرت سے مایوس ہوچکے ہیں جیسا کہ کفار قبر والوں سے مایوس ہوچکے ہیں ؏
☆ Kanzul Iman Translation:

◆ ऐ ईमान वालो उन लोगों से दोस्ती न करो जिन पर अल्लाह का ग़ज़ब है (फ़46) वह आख़िरत से आस तोड़ बैठे हैं (फ़47) जैसे काफ़िर आस तोड़ बैठे क़ब्र वालों से। (फ़48)

☆ Tafsir e Khazain ul Irfan:
( 46 fa )
ان لوگوں سے مراد یہود ہیں ۔
( 47 fa )
کیونکہ انہیں کُتُبِ سابقہ سے معلوم ہوچکا تھا اور وہ بیقین جانتے تھے کہ سیّدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم اللہ تعالٰی کے رسول ہیں اور یہود نے اس کی تکذیب کی ہے اسلئے انہیں اپنی مغفرت کی امید نہیں ۔
( 48 fa )
پھر دنیا میں واپس آنے کی یا یہ معنٰی ہیں کہ یہود ثوابِ آخرت سے ایسے ناامید ہوئے جیسے کہ مرے ہوئے کافر اپنی قبروں میں اپنے حال کو جان کر ثوابِ آخرت سے بالکل مایوس ہیں ۔
( AL-MUMTAHINAH - 60:13 )

فائیدہ:
آیت کریمہ میں حکم دیا گیا کہ یہودیوں اور مشرکین سے دوستی نہ کرو کیونکہ مشرکین آخرت کے منکر ہونے اور یہودی نبی کریم ﷺ کو برحق جاننے کے باوجود ایمان نہ لانے اور انکار کی وجہ سے آخرت کے ثواب سے نا امید ہو چکے ہیں۔

اے ایمان والو پوسٹ نمبر 78/89سورۃ الحشر آیت نمبر 18أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِبِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْ...
27/02/2026

اے ایمان والو
پوسٹ نمبر 78/89
سورۃ الحشر آیت نمبر 18

أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

يٰۤاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا اتَّقُوا اللّٰهَ وَلۡتَـنۡظُرۡ نَـفۡسٌ مَّا قَدَّمَتۡ لِغَدٍ‌ ۚ وَاتَّقُوا اللّٰهَ‌ؕ اِنَّ اللّٰهَ خَبِيۡرٌۢ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ ۞

ترجمہ کنزالایمان:

اے ایمان والو ! اللہ سے ڈرو (58ف)، اور ہر جان دیکھے کہ کل (قیامت) کے لیے کبا بھیجا (ف59)، اور اللہ سے ڈرو (ف 60)، بیشک اللہ کو تمہارے کاموں کی خبر ہے۔

☆ Tafsir e Khazain ul Irfan:
( 58 fa )
اور اس کے حکم کی مخالفت نہ کرو ۔
( 59 fa )
یعنی روزِ قیامت کےلئے کیا اعمال کئے ؟
( 60 fa )
اس کی اطاعت و فرمانبرداری میں سرگرم رہو ۔
( AL-HASHR - 59:18 )

مختصر تفسیر

آیتِ کریمہ کا خلاصہ یہ ہے کہ اے ایمان والو! تم جو کام کرتے اور چھوڑتے ہو ہر ایک میں اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور اس کے حکم کی مخالفت نہ کرو اور ہر جان دیکھے کہ اس نے قیامت کے دن کے لیے کیا اعمال کیے ہیں۔ تمہیں مزید تاکید کی جاتی ہے کہ اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور اس کی اطاعت و فرمانبرداری میں سرگرم رہو، بے شک اللہ تعالیٰ تمہارے اعمال سے خبردار ہے۔
(لہٰذا جب گناہ کرنے لگو تو سوچ لو کہ اللہ تعالیٰ ہمارے اس گناہ کو دیکھ رہا ہے اور قیامت کے دن اس کا حساب لے گا اور اس کی سزا دے گا)

مراقبہ...

اس آیت سے معلوم ہوا کہ ایک گھڑی غور و فکر کرنا بہت سے ذکر سے بہتر ہے۔

اپنے اعمال کے بارے میں سوچنا بہت افضل عمل ہے اور یہی مراقبہ ہے۔

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:

"آخرت کے معاملے میں گھڑی بھر غور و فکر کرنا ساٹھ سال کی عبادت سے بہتر ہے۔"

امام غزالی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
۱- مراقبہ کے معنی ہیں "نگہبانی کرنا"۔
۲- اس بات پر کامل یقین رکھنا کہ اللہ تعالیٰ اس کے ہر فعل اور خیال سے واقف ہے اور اس سے کسی بات کا کوئی پہلو پوشیدہ نہیں۔

اے ایمان والو پوسٹ نمبر 77/89سورۃ المجادلة آیت نمبر 12أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِبِسْمِ اللّٰهِ الرّ...
26/02/2026

اے ایمان والو
پوسٹ نمبر 77/89
سورۃ المجادلة آیت نمبر 12

أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

يٰۤاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡۤا اِذَا نَاجَيۡتُمُ الرَّسُوۡلَ فَقَدِّمُوۡا بَيۡنَ يَدَىۡ نَجۡوٰٮكُمۡ صَدَقَةً ‌ؕ ذٰ لِكَ خَيۡرٌ لَّكُمۡ وَاَطۡهَرُ ‌ؕ فَاِنۡ لَّمۡ تَجِدُوۡا فَاِنَّ اللّٰهَ غَفُوۡرٌ رَّحِيۡمٌ ۞

ترجمہ کنزالایمان

◆ اے ایمان والو جب تم رسول سے کوئی بات آہستہ عرض کرنا چاہو تو اپنی عرض سے پہلے کچھ صدقہ دے لو (ف۴۲) یہ تمہارے لئے بہتر اور بہت ستھرا ہے پھر اگر تمہیں مقدور نہ ہو تو اللّٰہ بخشنے والا مہربان ہے ۔
تفسیر خزائن العرفان:

(ف۴۲)
کہ اس میں باریابی بارگاہِ رسالت پناہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی تعظیم اور فقراء کا نفع ہے ۔
شانِ نزول : سیّدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی بارگاہ میں جب اغنیاء نے عرض و معروض کا سلسلہ دراز کیا اور نوبت یہاں تک پہنچ گئی کہ فقراء کو اپنی عرض پیش کرنے کا موقع کم ملنے لگا تو عرض پیش کرنے والوں کو عرض پیش کرنے سے پہلے صدقہ دینے کا حکم دیا گیا اور اس حکم پر حضرت علیِ مرتضٰی رضی اللہ تعالٰی عنہ نے عمل کیا ، ایک دینار صدقہ کرکے دس مسائل دریافت کئے ،

عرض کیا یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم وفا کیا ہے ؟
فرمایا توحید اور توحید کی شہادت دینا ۔
عرض کیا ، فساد کیا ہے ؟
فرمایا کفر و شرک ۔
عرض کیا حق کیا ہے ؟
فرمایا اسلام و قرآن اور ولایت جب تجھے ملے ۔
عرض کیا حیلہ کیا ہے یعنی تدبیر ؟
فرمایا ترکِ حیلہ ۔
عرض کیا مجھ پر کیا لازم ہے ؟
فرمایا اللہ تعالٰی اور اس کے رسول کی طاعت ۔
عرض کیا اللہ تعالٰی سے کیسے دعا مانگوں ؟
فرمایا صدق ویقین کے ساتھ ۔
عرض کیا ،کیا مانگوں ؟
فرمایا عاقبت ۔
عرض کیا اپنی نجات کےلئے کیا کروں؟
فرمایا حلال کھا اور سچ بول ۔
عرض کیا سرورکیا ہے ؟
فرمایا جنّت ۔
عرض کیا راحت کیا ہے ؟
فرمایا اللہ کا دیدار ۔

جب حضرت علیِ مرتضٰی رضی اللہ تعالٰی عنہ ان سوالوں سے فارغ ہوگئے تو یہ حکم منسوخ ہوگیا اور رخصت نازل ہوئی سوائے حضرت علیِ مرتضٰی رضی اللہ تعالٰی عنہ کے اور کسی کو اس پر عمل کرنے کا وقت نہیں ملا ۔ (مدارک و خازن) حضرت مترجِم قدّس سرّہ نے فرمایا یہ اس کی اصل ہے جو مزاراتِ اولیاء پر تصدیق کےلئے شیرینی وغیرہ لے جاتے ہیں ۔
( AL-MUJADILAH - 58:12 )

اے ایمان والو پوسٹ نمبر:76/89سورۃ المجادلة آیت نمبر 11أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِبِسْمِ اللّٰهِ الرّ...
25/02/2026

اے ایمان والو
پوسٹ نمبر:76/89
سورۃ المجادلة آیت نمبر 11

أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

يٰۤاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡۤا اِذَا قِيۡلَ لَـكُمۡ تَفَسَّحُوۡا فِى الۡمَجٰلِسِ فَافۡسَحُوۡا يَفۡسَحِ اللّٰهُ لَـكُمۡ‌ ۚ وَاِذَا قِيۡلَ انْشُزُوۡا فَانْشُزُوۡا يَرۡفَعِ اللّٰهُ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا مِنۡكُمۡ ۙ وَالَّذِيۡنَ اُوۡتُوا الۡعِلۡمَ دَرَجٰتٍ ‌ؕ وَاللّٰهُ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ خَبِيۡرٌ ۞

ترجمہ:
اے ایمان والوں ! جب تم سے کہا جائے کہ مجالس میں کشادہ ہو جائو تو کشادہ ہوجایا کرو ‘ اللہ تمہارے لئے کشادگی فرما دے گا اور جب تم سے کہا جائے : کھڑے ہو تو کھڑے ہوجایا کرو ‘ اللہ تم میں سے کامل مومنوں کے اور علم والوں کے درجات بلند فرمائے گا اور اللہ تمہارے تمام کاموں کی بےحد خبر رکھنے والا ہے

☆ Tafsir e Khazain ul Irfan:
( 39 fa )
شانِ نزول : نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم بدر میں حاضر ہونے والے اصحاب کی عزّت کرتے تھے ، ایک روز چند بدری اصحاب ایسے وقت پہنچے جب کہ مجلس شریف بھر چکی تھی ، انہوں نے حضور کے سامنے کھڑا ہو کر سلام عرض کیا ، حضور نے جواب دیا ، پھر انہوں نے حاضرین کو سلام کیا ، انہوں نے جواب دیا ، پھروہ اس انتظار میں کھڑے رہے کہ ان کےلئے مجلس شریف میں جگہ کی جائے مگر کسی نے جگہ نہ دی ، یہ سیّدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو گراں گذرا تو حضور نے اپنے قریب والوں کو اٹھا کر ان کےلئے جگہ کی ، اٹھنے والوں کو اٹھنا شاق ہوا ، اس پر یہ آیتِ کریمہ نازل ہوئی ۔
( 40 fa )
نماز کے یا جہاد کے یا اور کسی نیک کام کےلئے اور اسی میں داخل ہےتعظیمِ ذکرِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کےلئے کھڑا ہونا ۔
( 41 fa )
اللہ تعالٰی اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی اطاعت کے باعث ۔
( AL-MUJADILAH - 58:11 )

تفسیر صراط الجنان میں اس آیت کریمہ کے تحت فرماتے ہیں::

*بزرگانِ دین کی تعظیم کرنا سنت ہے*

اس آیت کے شانِ نزول سے معلوم ہوا کہ بزرگانِ دین کے لئے جگہ چھوڑنا اور ان کی تعظیم کر نا جائز بلکہ سنت ہے حتّٰی کہ مسجد میں بھی ان کی تعظیم کر سکتے ہیں کیونکہ یہ واقعہ مسجد ِنبوی شریف میں ہی ہوا تھا۔یاد رہے کہ حدیث ِپاک میں بزرگانِ دین اور دینی پیشواؤں کی تعظیم و توقیر کا باقاعدہ حکم بھی دیا گیا ہے، چنانچہ حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے ،سیّد المرسَلین صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’جن سے تم علم حاصل کرتے ہوان کے لئے عاجزی اختیار کرو اور جن کو تم علم سکھاتے ہو ان کے لئے تواضع اختیار کرو اور سرکَش عالِم نہ بنو۔
( الجامع لاخلاق الراوی، باب توقیر المحدّث طلبۃ العلم۔۔۔ الخ، تواضعہ لہم، ص۲۳۰، الحدیث: ۸۰۲)

لہٰذا ہر مسلمان کو چاہئے کہ وہ بزرگانِ دین کی تعظیم کرتا رہے اور ان کی بے ادبی کرنے سے بچے۔ اللّٰہ تعالیٰ ہمیں ادب و تعظیم کی توفیق عطا فرمائے،اٰمین۔

*مسلمانوں کی تعظیم کرنے کی ترغیب:*

اس آیت سے معلوم ہو اکہ ایک مسلمان کا اپنے دوسرے مسلمان بھائی کی تعظیم کرنا اللّٰہ تعالیٰ کو بہت پیارا ہے کیونکہ اس پر اللّٰہ تعالیٰ نے اجرو ثواب کا وعدہ فرمایا ہے لہٰذا مسلمانوں کو چاہئے کہ ایک دوسرے کی تعظیم کیا کریں ۔حضرت ابو موسیٰ اشعری رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے ،نبی اکرم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا’’بوڑھے مسلمان کی تعظیم کرنا اور اس حاملِ قرآن کی تعظیم کرناجو قرآن میں غُلُو نہ کرے اور ا س کے احکام پر عمل کرے اور عادل سلطان کی تعظیم کرنا،اللّٰہ تعالیٰ کی تعظیم کرنے میں داخل ہے ۔
( ابو داؤد، کتاب الادب، باب فی تنزیل الناس منازلہم، ۴ / ۳۴۴، الحدیث: ۴۸۴۳)

بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم*🕋 الصلوٰۃ والسلام علیك یا سیدی یا رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلّم 🕋*💐 السلام علی...
21/02/2026

بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم

*🕋 الصلوٰۃ والسلام علیك یا سیدی یا رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلّم 🕋*

💐 السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ

*💐 3رمضان المبارک*
*یومِ وصال یعنی عرس سراپا قدس جگر گوشۂ و شہزادی رسول ﷺ، زوجہ محترمہ حضرت سیدنا مولیٰ علی رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ، والدہ ماجدہ حضور حسنین کریمین، سیدہ کونین، سیدہ ظاہرہ طیبہ طاہرہ حضرت سیدہ فاطمتہ الزہرا رضی اللّٰہ تعالٰی عنہا مبارک ہ

❤️ Aalame Islaam Ke Jumla Khush Aqeedah Sunni Musalmanon Ko

*💫🌟3 Ramzanul Mubarak 🌟🌟URS Saraapa Quds💫Jigar Gosha Wa Shehzaadi-E-RASOOL ﷺ Zouja-E-Sarkar Moula ALI Shere KHUDA Radi Allaahu Ta'ala Anhu Maadir-E-Hasanain Kareemain, Sayyeda-E-Kaayinaat, Sayyeda Zaahera, Tayyeba Taahera, Khatune Jannat Hazrat Sayyidah Fatima tuz Zohra Raziyallahu Ta'ala Anha Bahut Bahut Mubarak Ho....💐💐💐💐💐*

*💐 منجانب:- انجمن رضائے مصطفیٰ ﷺ*

*🌹Minjaanib:- Anjuman RAZA-E-MUSTAFA ﷺ*

*💥Zaroori Guzarish:-*
🌸Pyare Musalmano... Mere *Pyare AAQA ﷺ Ke Pyare Ghulamo.... Aaj Ka Mubarak Din 3 Ramzanul Mubarak Ki Nisbat Se Hamarey Pyare AAQA Huzoor Sarwar-E-Kaayinaat ﷺ Ki Baargaahe Aqdas Me Khoob Khoob Durood-O-Salaam Ka Nazranah-E-Aqeedat Pesh Farmayein...
Aur Apne Dukan, Makan, Masajid, Madaris, Khanqah Me Qur'aan Khwani, Zikr-O-Azkar, Noori Mehfil, Sadqa Wa Khairat Wa Qul Sharif, Fateha Vaghaira Eisaale Sawaab Ka Ehtemaam Kar ke Jigar Gosha Wa Shehzadi-E-RASOOL Swallallāhu Ta'ala Alaihi Wasallam Sayyeda-E-Kaayinat, Hazrat Sayyeda BiBi Faatima Tuz Zohra Raziyallahu Ta'ala Anha Ki Baargaah E Aqdas Me Khoob Khoob Khiraaje Aqeedat Pesh Farmayein...*
Aur Apne Gaanv, Shahar, Muhallat Ki Masjidon Ko Panjagaana Namazon Se Aabaad Rakhkhein... Namaaz Deen Ka Sutoon Hai, Namaaz Pyare AAQA ﷺ Ki Mubarak Aankhon Ki Thandak Hai, Aur Namaaz Momin Ke Liye Me'araaj Hai...Lihaaza Pyare Musalmano...! Panjagaana Namazon Ko Baa Jama'at Paabandi Ke Saath Masjidon Me Sahi Ul Aqeedah Sunni Imaam Ki Iqtedaa Me Adaa Karo... Kisi bhi Badmazhab Ki Imamat Me Koyi bhi Namaaz Hargiz Adaa Nahi Hogi...Isliye Hamesha Sunni Sahi-Ul Aqeedah Imaam Ki Iqteda Hee Me Panjagana Namaazein Ada Karo... Ramazanul Mubarak Ke 30 Rozey Rakha Karo... Ye Muqaddas Mahina Khoob Khoob Ibadat Wa Riyazat Me Guzaro... Kasrat Se Qur'aan-E-Majeed Ki Tilawat Karo....Aur Koyi Ahabaab Ya Rishtedar Ya Ulamaye Haq Me se Ghareeb, Miskeen Ya Pareshan Haal Hain To Unki Khoob Khoob Madad Kiya Karein... Maaldar Hazraat Apni Zakaat Zaroor Adaa Karein.... Aapas Me Iqlaas Wa Muhabbat Wa Ittehaad Se Rahein... Silah Rahami Kiya Karein... Apne Gaanv, Shahar Aur Muhallat Me Apne Bachchon Aur Bachchiyon Ke Ilm Ke Liye Deeni DARS Gaah Asari Taaleem (Duniyavi Taaleem, School, College) Ke Saath Qaayim Karein... Aur Unka Bharpoor Ta'oon Karein...Aur Mulke Palestine Me Haaliya Jung Me Shaheed Hone Waaley Hamarey Musalman Bhaayi Aur Bahanon Aur Bachcon Ke Liye Maqsoos Du'aa Keejiye...Aur Unki Maali Imdaad Bhi Keejiye...* *جزاکم اللہ خیرا کثیرا فی الدنیا والآخرۃ*

راحتِ جانِ سلطانِ ہر دوسرا
نور چشمِ جنابِ حبیبِ خدا
عین لختِ دلِ سرورِ انبیاء
اُس بتولِ جگر پارہۂ مصطفیٰ
حجلہ آرائے عفت پہ لاکھوں سلام

راحتِ جاں جگر گوشۂ مصطفیٰ
بنت معصومۂ خانۂ مصطفیٰ
پرتو کاملِ جلوہۂ مصطفیٰ
اُس بتولِ جگر پارہۂ مصطفیٰ
حجلہ آرائے عفت پہ لاکھوں سلام

کانِ صبرورضا جانِ شرم و حیا
پیکر اتقاء گنجِ حلم و وفا
اُم حسنین اور زوجۂ مرتضیٰ
اُس بتولِ جگر پارہۂ مصطفیٰ
حجلہ آرائے عفت پہ لاکھوں سلام

آنکھ کا نور دل کا سکوں بن گیا
باخدا جس کا ہر ایک تارِ ردا
جس کی عصمت کا حوروں میں ہے تذکرہ
اُس بتولِ جگر پارہۂ مصطفیٰ
حجلہ آرائے عفت پہ لاکھوں سلام

نورِ قندیلِ کاشانۂ مصطفیٰ
ہر قدم رہروِ جادہۂ مصطفیٰ
یعنی خیرالنساء، آیۂ مصطفیٰ
اُس بتولِ جگر پارہۂ مصطفیٰ
حجلہ آرائے عفت پہ لاکھوں سلام

نازشِ طاعتِ مریم و آسیہ
نورِ عین شہنشاہِ ہر دوسرا
پیکرِ حلم و ایثار و شرم و حیا
اُس بتولِ جگر پارہۂ مصطفیٰ
حجلہ آرائے عفت پہ لاکھوں سلام

امہات و بناتِ جہاں کے لیے
اسوہ ہیں روز و شب امِ حسنین کے
چکی پیسے تو قرآں بھی پڑھتی رہے
جس کا آنچل نہ دیکھا مہ و مہر نے
اس ردائے نزاہت پہ لاکھوں سلام

وہ ردا جس کی تطہیر اللہ رے
آسماں کی نظر بھی نہ جس پہ پڑے
جس کا دامن نہ سہواً ہوا چھو سکے
جس کا آنچل نہ دیکھا مہ و مہر نے
اس ردائے نزاہت پہ لاکھوں سلام

نور کے جس پہ نورانی نقشے بنے
جس کی تقدیس کے عرش پہ زمزمے
چادرِ دل کشا واہ اللہ رے
جس کا آنچل نہ دیکھا مہ و مہر نے
اس ردائے نزاہت پہ لاکھوں سلام

اُس کی دہلیز پر عرشِ اعظم جھکے
حوریں لائیں جہیز اُس کا فردوس سے
خُلد میں اُس کے ہوتے ہیں یوں تذکرے
جس کا آنچل نہ دیکھا مہ و مہر نے
اس ردائے نزاہت پہ لاکھوں سلام

جس کو پایا ہے یکتا مہ و مہر نے
جس پہ سایا نہ ڈالا مہ و مہر نے
سر ادب سے جھکایا مہ و مہر نے
جس کا آنچل نہ دیکھا مہ و مہر نے
اس ردائے نزاہت پہ لاکھوں سلام

پردہ داری سدا ناز جس پہ کرے
کیسے آ جائے وہ غیر کے سامنے
کس طرح اس کو نا آشنا دیکھ لے
جس کا آنچل نہ دیکھا مہ و مہر نے
اس ردائے نزاہت پہ لاکھوں سلام

صادقہ، صالحہ، صائمہ، صابرہ
صاف دل، نیک خو، پارسا، شاکرہ
عابدہ، زاہدہ، ساجدہ، ذاکرہ
سیّدہ، زاھرہ، طیبہ، طاہرہ
جانِ احمد کی راحت پہ لاکھوں سلام

وجہ تسکینِ قلبِ شہِ دوسَرا
راضیہ، عابدہ، ساجدہ، شاکرہ
صابرہ، زاہدہ، صادقہ، ذاکرہ
سیّدہ، زاھرہ، طیبہ، طاہرہ
جانِ احمد کی راحت پہ لاکھوں سلام

جن کا نامِ مُبارک ہے بی فاطمہ
جو خواتینِ عالَم میں ہیں عالیہ
عابدہ، زاہدہ، ساجدہ، صالحہ
سیّدہ، زاھرہ، طیبہ، طاہرہ
جانِ احمد کی راحت پہ لاکھوں سلام

عالمہ، عاملہ، کاملہ، عادلہ
صالحہ، صاحبہ، ساترہ، سالکہ
مالکہ، حاکمہ، راحمہ، عاطفہ
سیّدہ، زاھرہ، طیبہ، طاہرہ
جانِ احمد کی راحت پہ لاکھوں سلام

صالحہ،صادقہ، صائمہ، صابرہ
فاطمہ، کاملہ، زاہدہ، ذاکرہ
نُورِ چشمِ نبی، عابدہ، شاکرہ
سیّدہ، زاھرہ، طیبہ، طاہرہ
جانِ احمد کی راحت پہ لاکھوں سلام

اُس کی عظمت کا ہے کب کسی کو پتہ
کب کسی پر عیاں اُس کا ہے مرتبہ
جس کی خاکِ قدم سُرمہِ چشمِ مَہ
سیّدہ، زاھرہ، طیبہ، طاہرہ
جانِ احمد کی راحت پہ لاکھوں سلام

قدسیوں کی درِ فاطمہ بوسہ گہ
جس کی پاکی کی کھائیں قسم مہر و مَہ
جس کا مریم سے بھی ہے بڑا مرتبہ
سیّدہ، زاھرہ، طیبہ، طاہرہ
جانِ احمد کی راحت پہ لاکھوں سلام

جس کا دامن ہے سادات کا دائرہ
شاہدہ، شاکرہ، فاخرہ، ناصرہ
عابدہ، ساجدہ، زاہدہ، صابرہ
سیدہ، زاھرہ، طیبہ، طاہرہ
جانِ احمد کی راحت پہ لاکھوں سلام

برتر از سارہ و مریم و ہاجرہ
فاطمہ، دینِ اسلام کی ناصرہ
حامدہ، خاشعہ، کاملہ، صابرہ
سیدہ، زاھرہ، طیبہ، طاہرہ
جانِ احمد کی راحت پہ لاکھوں سلام

*سیرتِ حضرت سیدہ فاطمۃ الزہراء رضی اللہ تعالی عنہا*

اسم شریف: فاطمہ (رضی اللہ تعالی عنہا)

والد ماجد: *حضور سیدِ کائنات، سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وسلم*

والدہ ماجدہ: *ام المومنین سیدتنا طیبہ و طاہرہ حضرت خدیجۃ الکبراء رضی اللہ تعالی عنہا*

کنیت مبارک: *ام محمد، ام الحسنین*

القابات: *بتول، زہراء، راضیہ، سیدۃ النساء العالمین، سیدۃ النساء اہل الجنۃ، زاکیہ، طاہرہ، مطہرہ (رضی اللہ تعالی عنہا)*

بھائ:
۱- حضرت قاسم رضی اللہ تعالی عنہ
۲- حضرت عبداللہ (القابات طاہر و طیب) رضی اللہ تعالی عنہ
۳- حضرت ابراھیم رضی اللہ تعالی عنہ (ام المومنین حضرت ماریہ قبطیہ رضی اللہ تعالی عنہا کے بطن سے پیدا ہوئے)

بہنیں:
۱- حضرت زینب رضی اللہ تعالی عنہا
۲- حضرت رقیہ رضی اللہ تعالی عنہا
۳- حضرت ام کلثوم رضی اللہ تعالی عنہا

ولادت مبارک:
آپ کی صحیح تاریخ ولادت کے بارے میں روایات مختلف ہیں؛
۱- بعثت سے ایک سال پہلے ہوئ
۲- اعلان اظہار نبوت کے پہلے سال ماہ جمادی الآخر میں ہوئ
۳- اعلان اظہار نبوت سے پانچ سال پہلے ہوئ (جمہور ارباب سیر نے اسی روائت کو صحیح اور مستند قرار دیا ہے

شعب ابی طالب میں مصائب:
حضرت سیدۃ النساء اہل الجنۃ رضی اللہ تعالی عنھا نے بھی اپنے والد ماجد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ شعب ابی طالب میں محصوری میں گزارا اور تمام سختیاں انتہائ صبر و استقامت کے ساتھ برداشت کیں

ہجرت:
مدینہ منورہ پہنچ کر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت زید بن حارثہ اور حضرت ابو رافع رضی اللہ تعالی عنھما کو مکہ مکرمہ بھیجا تاکہ وہاں سے اہل بیت کو لے آئیں - ساتھ میں کچھ اونٹ اور پانچ سو درھم بھی بھیجے - چنانچہ یہ ان سب کو لے آئے - حضرت عبداللہ بن ابی بکر صدیق رضی اللہ تعالی عنھما بھی اپنے والد ماجد کے اہل و عیال کو لیکر ان کے ساتھ آئے -

شادی:
سیدۃ النساء العالمین رضی اللہ تعالی عنھا کا نکاح مولائے کائنات حضرت علی المرتضی شیر خدا رضی اللہ تعالی عنہ کے ساتھ رمضان المبارک سنہ ۲ ہجری میں ہوا - یہ شادی اسلام کی سادگی کا مکمل نمونہ تھی - (بعض روایات میں ماہ ذی الحج، ماہ صفر اور ماہ ماہ رجب بیان کیا گیا ہے) - بوقت نکاح حضرت سیدہ کی عمر مبارکہ ۱۶ یا ۱۸ سال اور حضرت

علی کی عمر مبارک ۲۱ سال ۵ ماہ تھی -

جہیز:
۱- ایک بستر مصری کپڑے کا جس میں اون بھری ہوئ تھی
۲- ایک نقشی پلنگ یا تخت
۳- ایک مشکیزہ
۴- ایک چکی
۵- ایک جائے نماز
۶- مٹی کے چند برتن
۷- پیالہ
۸- دو یا تین چادریں
۹- دو نقرئ بازو بند
۱۰- ایک چمڑے کا تکیہ جس میں کھجور کی چھال بھری ہوئ تھی

رخصتی:
حضرت علی المرتضی رضی اللہ تعالی عنہ نے ایک چھوٹا سا مکان کاشانہ نبوت سے تھوڑے سے فاصلہ پر کرایہ پر لے رکھا تھا - حضور سید کائنات صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وسلم نے حضرت ام ایمن رضی اللہ تعالی عنھا کے ہمراہ سیدۃ النساء العالمین رضی اللہ تعالی عنھا کو حضرت علی کے گھر رخصت فرما دیا -
پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وسلم وہاں تشریف لے گئے، پانی منگوا کر اپنا لعاب مبارک اس میں ڈالا اور زوجین پر چھڑکا - پھر دعا فرمائ:
"اے اللہ! میں ان کو اور ان کی اولاد کو تیری پناہ میں دیتا ہوں شیطان رجیم سے" -
حضرت فاطمه رضی اللہ تعالی عنھا سے فرمایا:
"ہم نے ان کے ساتھ آپ کا نکاح کیا ہے جو دنیا میں نیک بخت اور آخرت میں صالحین میں سے ہیں" -

ولیمہ:
۱- ایک روائت کے مطابق حضرت سعد انصاری رضی اللہ تعالی عنہ نے ایک بھیڑ پیش کی جس سے ولیمہ کیا گیا
۲- دوسری روائت کے مطابق حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ گھی، چھوہارے اور پنیر لیکر آئے جس سے حلوہ بنایا گیا اور ولیمہ کیا گیا -

ازدواجی زندگی:
زوجین ایک دوسرے پر جان چھڑکتے تھے اور ایک دوسرے کے حقوق کا مکمل پاس و لحاظ رکھتے تھے - دونوں کی ازدواجی زندگی رہتی دنیا تک لوگوں کے لئے مثال ہے - حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ حضرت سیدہ کی نہائت عزت فرماتے اور بہت خیال رکھتے -
حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالی عنھا کے وصال شریف کے بعد ایک مرتبہ حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ سے ان کے متعلق پوچھا گیا تو آبدیدہ ہو گئے اور فرمایا:
"فاطمہ جنت کا ایک خوشبودار پھول تھیں - اگرچہ وہ دنیا سے چلی گئیں مگر ان کی خوشبو سے اب تک ہمارا دماغ معطر ہے - انہوں نے کبھی ہمیں شکائت کا موقع نہیں دیا" -

حضور صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وسلم کا وصالِ ظاہری:
سرکارِ دو عالم صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وسلم کے ظاہری وصال شریف پر حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالی عنھا انتہائ غمگین ہوئیں گریہ و زاری فرماتیں اور فرماتیں:
"اے اللہ عزوجل! فاطمہ کی روح کو حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وسلم کی روحِ مبارک سے ملا دے - اے اللہ! مجھے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وسلم کا دیدار نصیب فرما دے - اے اللہ! اپنے حبیب کے ثواب سے دور نہ فرما اور روز قیامت ان کی شفاعت سے محروم نہ فرما" -
اہل سیّر کہتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وسلم کے وصال شریف کے بعد کسی نے حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالی عنھا کو کبھی ہنستے ہوئے نہ دیکھا -

حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالی عنھا کا وصال:
حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وسلم نے اپنی پیاری بیٹی کو بشارت دی تھی:
"آخرت میں آپ سب سے پہلے ہم سے آکر ملیں گی"
آپ رضی اللہ تعالی عنھا کے وصال شریف کی تاریخ میں اہل سیر میں سخت اختلاف ہے - چند روایات مندرجہ ذیل ہیں:
۱- ۳ رمضان المبارک ۱۱ ھجری منگل کی شب
۲- حضور صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وسلم کے وصال شریف کے ستر دن یا دو ماہ، یا چار ماہ یا آٹھ ماہ یا اٹھارہ ماہ کے بعد وصال ہوا -

جنازہ:
ایک قول کے مطابق حضرت علی المرتضی اور دوسرے قول کے مطابق حضرت عباس بن عبد المطلب نے جنازہ پڑھایا - روضۃ الاحباب میں ہے کہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ نے نماز جنازہ پڑھائ -
وصیت فرمائ تھی:
"جب ہم دنیا سے رخصت ہو جائیں تو رات میں دفن کریں تاکہ نامحرموں کی آنکھیں ہمارے جنازے کو نہ دیکھیں" -
حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالی عنھا کا وصال شریف ہوا تو اہل مدینہ کے تمام مردو زن اشکبار ہو گئے اور لوگوں پر اس طرح حیرت و دیشت طاری ہوئ جس طرح سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وصال شریف کے دن طاری ہوئ تھی -

مزار مقدس:
آپ کا مزار مقدسہ و منورہ جنت البقیع شریف میں قبہِ عباس میں ہے جہاں تمام اہلِ بیتِ نبوّت آسودہ خواب ہیں -

(رضی اللہ تعالی عنہا)

*یا الٰہی رحم فرما مصطفیٰ ﷺ کے واسطے ۔۔۔*

*یا رسول اللّٰہ ﷺ کرم کیجئے خدا کے واسطے۔۔۔*

*مشکلیں حل کر شاہ مشکل کشاء کے واسطے۔۔۔۔*

*کر بلایں رد شہید کربلا کے واسطے۔۔۔۔*

*قادری کر، قادری رکھ، قادریوں میں اٹھا۔۔۔*

*قدر عبد القادر قدرت نما کے واسطے ۔۔۔ رضی اللہ تعالیٰ عنہ*

*🤲اللّٰہ سبحانہ وتعالیٰ اپنے پیارے محبوب حضور سرورِ کائنات ﷺ کے اور جگر گوشۂ رسول ﷺ حضرت سیدہ فاطمہ زہراء رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے صدقے عالم اسلام کے جملہ خوش عقیدہ سنی مسلمانوں کو ماہ رمضان مبارک کا صدقہ و جملہ فیوض و برکات عطا فرمائے اور رزق حلال میں خوب خوب برکتیں و رحمتیں و سعادتیں و دارین کی نعمتیں عطا فرمائے اور سب کی جان، مال، عزت، آبرو، وقار، اولاد، احباب، مساجد ، مدارس، خانقاہ، صوم و صلوٰۃ و مخصوس ایمان و عقیدہ و ناموسِ رسالت ﷺ کا تحفظ فرمائے۔۔۔ اور سب کے علم و عمل و عمر و صحت و تندرستی و تقویٰ و استقامت و رزق حلال میں خوب خوب برکتیں و دارین کی نعمتیں عطا فرمائے اور سب کو آپس میں اخلاص و محبت و اتحاد و اتفاق کے ساتھ مسلک اعلی حضرت پر قائم و دائم رکھے اور شریعت مطہرہ و عظمت مصطفی ﷺ و ناموسِ رسالت ﷺ کا تحفظ کرنے کا جزبئہ ایمانی عطا فرمائے اور جملہ آفات و بلیات و پریشانی و شیاطین و کفار و بد مذہبوں و ظالم حکمرانوں کے شر، فتنے، و گمراہیت سے محفوظ و مأمون فرمائے۔۔۔ اور سب کے مقاصد حسنہ میں خوب خوب کامیابی عطا فرمائے۔۔ اور ملک فلسطین میں جنگ کے سبب شہید ہوئے مسلمانوں کی مغفرت فرمائے ان کے درجات کو بلند فرمائے اور جو زخمی ہوئے ہیں ان کو مکمل شفائے کاملہ و صحت عاجلہ عطا فرمائے اور ان پر اپنا فضل وکرم عطا فرمائے اور ان کی غیب سے مدد و فتح و نصرت عطا فرمائے اور ہر مسلمانوں کو زلزلے، سیلاب و ہر حادثات سے محفوظ فرمائے اور جانشین حضور تاج الشریعہ قائد ملت حضرت علامہ مولانا مفتی محمد عسجد رضا خان قادری رضوی مدظلہ العالی و حضور محدث کبیر مدظلہ العالی و حضور سبحانی میاں صاحب قبلہ مدظلہ العالی و حضور توصیف ملت مدظلہ العالی و حضور لیاقت ملت مدظلہ العالیٰ و حضور غیاث ملت مدظلہ العالی و حضور گلزار ملت مدظلہ العالی و جملہ علمائے حق و مشائق عظام کو صحت و عافیت و سلامتی عطا فرمائے اور آپس میں اخلاص و محبت و اتحاد کے ساتھ دین متین کی خدمت کرنے کی توفیق رفیق اور مسلک اعلی حضرت پر خوب خوب استقامت عطا فرمائے اور ان کا سایۂ فیض کرم اہلسنّت پر تاقیامت جاری و ساری فرمائے اور جملہ سنیوں کو امیر المومنین حضرت سیدنا مولی علی و حسنین کریمین و پنجتن پاک و حضور غوثِ الاعظم دستگیر و خواجہ و رضا و مفتی اعظم ہند و تاج الشریعہ و جمیع بزرگانِ دین رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کے فیوض و برکات سے مستفید و مستفیض فرما کر ان کے نقش قدم پر چلنے کی توفیق رفیق عطا فرمائے اور تمام خوش عقیدہ مریضوں کے روحانی و جسمانی امراض کو دور فرما کر مکمل شفائے کاملہ و صحت عاجلہ عطا فرمائے۔۔ اور میرے مرحوم والدین کریمین و مرحومہ بہنیں اور جملہ خوش عقیدہ مرحومین و مرحومات کی مغفرت فرمائے اور ان کے درجات کو بلند فرمائے اور ان کے سئعات کو حسنات سے مبدل فرما کر جنت الفردوس میں اعلی مقام و مراتب پر فائز فرمائے اور حضور سرورِ کائنات ﷺ کے دست کرم سے جام کوثر اور پیارے آقا ﷺ کی شفاعت و رفاقت عطا فرمائے۔۔۔ آمین یا رب العالمین بجاہ سید المرسلین ﷺ*

21/02/2026

دیکھ کے جس کو جی نہیں بھرتا شہر مدینہ ایسا ہے

Address

Sangareddi

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Mohd Shareef Raza Razvi posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share

Category