09/01/2026
نام سے بہت کچھ ہوتا ہے
عمر فراہی
اگر آپ سمجھتے ہیں کہ نام کا اثر نہیں ہوتا یا نام میں کیا رکھا ہے یا نام سے کیا ہوتا ہے تو آپ بہت بھولے ہیں ۔نام کا اثر ہوتا ہے ۔آپ چاہے اپنے بچوں کو مدرسے میں نہ بھیجیں اسے اردو نہ پڑھائیں وہ ٹوپی نہ لگاۓ وہ ہولی دیوالی اور کرسمس بھی مناکر خود کو سیکولر ثابت کرے یا کسی غیر مسلم عورت سے شادی بھی کر لے اور دہریہ بھی ہو جاے ۔ اگر اس کا نام عمر یا امام یا اکبر اور ممدانی ہے تو وہ شک کے دائرے میں ہے ۔یقین نہ آۓ تو مختار عباس نقوی اور شاہنواز حسین کو دیکھ لیں انہوں نے اپنی پارٹی کے لئے کیا کچھ نہیں کیا لیکن انہیں بھارتی سنسد کی ایک نشست کے لائق بھی نہیں سمجھا گیا ۔ایم جے اکبر بڑے شوق سے اس خیمے میں گئے تھے آج وہ گمنام ہو چکے ہیں ۔سیما مصطفی نے اسی وقت ایم جے اکبر کے بارے میں کہا تھا کہ ایک وقت کا ذہین صحافی اس نے اپنے آپ کو کہیں کا نہیں چھوڑا ۔مگر وہ کیا کرتے ان کی اپنی مجبوری تھی ۔کیا انہوں نے تحلکہ کے ایڈیٹر ترون تیجپال کا حشر نہیں دیکھا ہوگا ؟
اگر ایم جے اکبر بی جے پی میں نہیں جاتے تو کیا می ٹو کے فتنے سے بچ پاتے ؟۔
ایم جے اکبر حقیقت میں ایک ذہین اور سمجھدار صحافی تھے جتنی شہرت اور دولت کمانی تھی کما لیا آخری وقت میں وہ کیوں ہرش چندر بننے کی کوشش کرتے ۔ہمارے یہاں اب ہریش چندر بننے کا مطلب سولی پر چڑھنا ہوتا ہے ۔ایم جے اکبر جانتے تھے کہ نام سے کیا ہوتا ہے !
کنہیا بھی خاموش ہوگیا اور وہ شہلہ رشید سنا ہے اس نے بھی اپنا نظریہ بدل لیا ہے کیوں کہ اس نے بھی دیکھ لیا کہ اب صفورا زرگر اور گل فشاں فاطمہ ہونا بھی ۔۔۔۔۔ !