Haji Mahiuddin official

Haji Mahiuddin official اسلامی تاریخی ادبی اور سیاسی مضامین کا نایاب پلیٹ فارم ( حاجی محی الدین اوفیشیل)

نام سے بہت کچھ ہوتا ہے عمر فراہی اگر آپ سمجھتے ہیں کہ نام کا اثر نہیں ہوتا یا نام میں کیا رکھا ہے یا نام سے کیا ہوتا ہے ...
09/01/2026

نام سے بہت کچھ ہوتا ہے

عمر فراہی

اگر آپ سمجھتے ہیں کہ نام کا اثر نہیں ہوتا یا نام میں کیا رکھا ہے یا نام سے کیا ہوتا ہے تو آپ بہت بھولے ہیں ۔نام کا اثر ہوتا ہے ۔آپ چاہے اپنے بچوں کو مدرسے میں نہ بھیجیں اسے اردو نہ پڑھائیں وہ ٹوپی نہ لگاۓ وہ ہولی دیوالی اور کرسمس بھی مناکر خود کو سیکولر ثابت کرے یا کسی غیر مسلم عورت سے شادی بھی کر لے اور دہریہ بھی ہو جاے ۔ اگر اس کا نام عمر یا امام یا اکبر اور ممدانی ہے تو وہ شک کے دائرے میں ہے ۔یقین نہ آۓ تو مختار عباس نقوی اور شاہنواز حسین کو دیکھ لیں انہوں نے اپنی پارٹی کے لئے کیا کچھ نہیں کیا لیکن انہیں بھارتی سنسد کی ایک نشست کے لائق بھی نہیں سمجھا گیا ۔ایم جے اکبر بڑے شوق سے اس خیمے میں گئے تھے آج وہ گمنام ہو چکے ہیں ۔سیما مصطفی نے اسی وقت ایم جے اکبر کے بارے میں کہا تھا کہ ایک وقت کا ذہین صحافی اس نے اپنے آپ کو کہیں کا نہیں چھوڑا ۔مگر وہ کیا کرتے ان کی اپنی مجبوری تھی ۔کیا انہوں نے تحلکہ کے ایڈیٹر ترون تیجپال کا حشر نہیں دیکھا ہوگا ؟
اگر ایم جے اکبر بی جے پی میں نہیں جاتے تو کیا می ٹو کے فتنے سے بچ پاتے ؟۔
ایم جے اکبر حقیقت میں ایک ذہین اور سمجھدار صحافی تھے جتنی شہرت اور دولت کمانی تھی کما لیا آخری وقت میں وہ کیوں ہرش چندر بننے کی کوشش کرتے ۔ہمارے یہاں اب ہریش چندر بننے کا مطلب سولی پر چڑھنا ہوتا ہے ۔ایم جے اکبر جانتے تھے کہ نام سے کیا ہوتا ہے !
کنہیا بھی خاموش ہوگیا اور وہ شہلہ رشید سنا ہے اس نے بھی اپنا نظریہ بدل لیا ہے کیوں کہ اس نے بھی دیکھ لیا کہ اب صفورا زرگر اور گل فشاں فاطمہ ہونا بھی ۔۔۔۔۔ !

19/11/2025
Shout out to my newest followers! Excited to have you onboard! Azharuddin Alam, हसन राजा
12/11/2025

Shout out to my newest followers! Excited to have you onboard! Azharuddin Alam, हसन राजा

مولانا نور اللہ قاسمی ایک صاحب کردار عالم دین تھےامارت شرعیہ میں منعقد تعزیتی نشست سے امیر شریعت کا اظہارِ غم ضلع سوپول ...
19/07/2025

مولانا نور اللہ قاسمی ایک صاحب کردار عالم دین تھے

امارت شرعیہ میں منعقد تعزیتی نشست سے امیر شریعت کا اظہارِ غم

ضلع سوپول کے ممتاز عالم دین اور امارت شرعیہ بہار، اڈیشہ، جھارکھنڈ و مغربی بنگال کے سابق رکن شوری حضرت مولانا محمد نور اللہ قاسمی مہتمم مدرسہ دینیہ دیں بندھی 18/ جولائی کو داغ مفارقت دے گئے، انا للہ و انا الیہ راجعون، ان کی عمر 67 کے قریب تھی، ان کی نماز نماز جنازہ میں شرکت کے لیے حضرت امیر شریعت مولانا احمد ولی فیصل رحمانی صاحب کی ہدایت پر امارت شرعیہ کے صدر قاضی شریعت مولانا انظار عالم قاسمی کی قیادت میں امارت شرعیہ کا ایک وفد جس میں دارالعلوم الاسلامیہ امارت شرعیہ کے شیخ الحدیث مفتی محمد منت اللہ قاسمی صاحب و دیگر افراد شامل تھے، مولانا کے آبائی وطن دین بندھی گیا، جہاں قاضی صاحب نے نماز جنازہ کے وقت مختصر تعزیتی خطاب فرمایا اور اہل خانہ سے ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے صبر کرنے کی تلقین فرمائی۔ ان کے وصال پر امارت شرعیہ پھلواری شریف میں ایک تعزیتی نشست امیر شریعت حضرت مولانا احمد ولی فیصل رحمانی کی صدارت میں منعقد ہوئی جس میں حضرت امیر شریعت نے فرمایا کہ مولانا کی علمی صلاحیت سے افرادِ ملت کو بڑے فوائد پہنچے جو ان کے لیے صدقہ جاریہ کے طور پر بلندی درجات کے باعث ہوں گے۔ جو انسان دنیا سے جاتا ہے وہ ہمارے لیے تدبر کی راہ چھوڑ کر جاتا ہے کہ ہم اللہ کی رضا و خوشنودی کے مطابق زندگی گزاریں، عمل میں اخلاص پیدا کریں؛ بلاشبہ مولانا مرحوم ایک مخلص، متبعِ سنت عالمِ دین؛ بلکہ صاحبِ کردار انسان تھے۔ اللہ تعالی ان کے درجات کو بلند فرمائے۔

امارت شرعیہ بہار، اڈیشہ، جھارکھنڈ و مغربی بنگال کے قائم مقام ناظم مولانا مفتی محمد سعید الرحمن قاسمی صاحب نے اظہار تعزیت کرتے ہوئے کہا کہ مولانا مرحوم ایک عالم با عمل اور متواضع شخصیت کے حامل انسان تھے۔ آپ نے دین اور علم دین کی اشاعت و خدمت میں زندگی بسر کی اور سینکڑوں حاملین علوم و نبوت کو تیار کیا؛ اس کی وجہ سے پورے علاقے میں ہر دل عزیز رہے۔ قدرت نے مولانا کو بہت سی خوبی اور صلاحیتوں سے نوازا تھا، معاملہ فہمی کے ساتھ صائب الرائے تھے جس کی وجہ سے آپ عام لوگوں میں بھی قدر و منزلت کی نظروں سے دیکھے جاتے تھے۔ امارت شرعیہ کے نائب ناظم مولانا مفتی محمد ثناء الہدیٰ قاسمی صاحب نے کہا کہ مولانا ایک عالمانہ وقار اور داعیانہ کردار کے حامل، دور اندیش اور صاحب عزیمت عالم دین تھے۔

مولانا مفتی محمد سہراب ندوی نائب ناظم نے کہا کہ وہ با اخلاص، باکردار اور مثبت فکر کے حامل عالم دین تھے، مولانا کو امارت شرعیہ سے بے پناہ محبت تھی وہ یہاں کے صدر النقیب بھی تھے اور امارت شرعیہ کے پیغام کو علاقے میں پھیلاتے تھے۔

مولانا مفتی وصی احمد قاسمی نائب قاضی شریعت نے کہا کہ مولانا نے عالمانہ شان کے ساتھ باوقار زندگی گزاری؛ بلاشبہ ان کی زندگی قابل رشک تھی۔

مولانا مفتی محمد احتکام الحق قاسمی قائم مقام مفتی امارت شرعیہ نے کہا کہ مولانا امت کی صلاح و فلاح کے لئے برابر فکر مند رہتے تھے۔

مولانا احمد حسین قاسمی مدنی معاون ناظم امارت شرعیہ نے کہا کہ مولانا ایک متواضع و منکسر المزاج عالم دین تھے ان کا حلقہ اثر بڑا وسیع تھا جہاں ہر شخص آپ کو عزت و احترام کی نگاہوں سے دیکھتا تھا۔ مولانا رضوان احمد ندوی معاون ناظم نے کہا کہ مولانا بڑے محسن و شفیق رہنما تھے، والد ماجد کی تربیت و فیض سے علمی ترقی کے منازل طے کرتے رہے، اللہ ان کی تربت پر رحمت کی بارش برسائے۔

آخر میں حضرت امیر شریعت نے مولانا کے لیے مغفرت کی دعا فرمائی اور پسماندگان سے ہمدردی کا اظہار کیا۔

12/07/2025

شاہی امام سید عبداللہ بخاری

معصوم مرادآبادی

آج دہلی کی شاہجہانی جامع مسجد کے شاہی امام سید عبداللہ بخاری کا یوم وفات ہے۔ انھوں نے آج ہی کے دن یعنی 8 جولائی 2009 کو دہلی میں رحلت فرمائی اور جامع مسجد کے پہلو میں اپنے خاندانی قبرستان میں مدفون ہوئے۔ ان کی پیدائش 1922میں ریاست راجستھان میں ہوئی تھی۔
میری نظر میں شاہی امام سیدعبداللہ بخاری اس ملت کے محسن تھے اور جو قومیں اپنے محسنوں کو فراموش کردیتی ہیں ان پر اللہ تعالیٰ اپنے محسن اتارنا بندکردیتا ہے۔ آج اس مضمون کا محرک یہی خیال پریشاں ہے۔ یوں بھی جب سے ملت اسلامیہ ہندپر برا وقت پڑا ہے مجھے نہ جانے کیوں بار بار ان کی یادآرہی ہے۔ان کا نہ تو سیاست سے کوئی ناطہ تھا اور نہ ہی وہ اس کے داؤپیچ جانتے تھے۔دراصل حالات نے انھیں مجبور کردیا تھا کہ وہ سیاست دانوں کے ساتھ اسٹیج شیئر کریں۔ حالانکہ ان کا یہ تجربہ زیادہ کارآمد ثابت نہیں ہوا، کیونکہ سیاست دانوں نے ان کے ساتھ بھی وہی سلوک کیا جو وہ اکثر ایسے لوگوں کے ساتھ کرتے ہیں جو برے وقت میں ان کے کام آتے ہیں۔
شاہی امام سید عبداللہ بخاری مرحوم دہلی کی شاہجہانی جامع مسجد کے بارہویں امام تھے۔دہلی کی جامع مسجد تعمیر کرنے کے بعد ان کے اجداد کو شاہجہاں نے بخارا سے خاص طورپر مسجد کی امامت کے لیے مدعو کیاتھا اور تب سے یہی خاندان اس منصب پر فائز ہے۔ خاندانی روایت کے مطابق انھیں 1946میں جامع مسجد کا نائب امام مقررکیا گیا اور 8 جولائی 1973کو انھوں نے اپنے والد سید حمیدبخاری کی جگہ شاہی امامت کا منصب جلیلہ حاصل کیا۔ان کا انتقال 8جولائی 2009 کو 87سال کی عمر میں ہوا۔
میری خوش قسمتی یہ ہے کہ مجھے انھیں قریب سے دیکھنے اور سمجھنے کا موقع ملا۔ درجنوں بار ان کے انٹریوز لئے اور سینکڑوں ملاقاتیں ہوئیں۔بارہا ان کے شاہی دسترخوان پرلذیذ مغلئی کھانوں سے لطف اندوز ہونے کا موقع بھی ملا۔لیکن ان کی جس ادا نے مجھے ان کا گرویدہ بنایا تھا،وہ ان کی بے پناہ جرات اور بے باکی تھی۔ وہ خدا کی بادشاہت پر یقین کامل رکھتے تھے اور ہر جمعہ کو نماز کے بعد لاکھوں فرزندان توحید کے درمیان اس یقین کو یوں دوہراتے تھے۔
”ہم صرف ایک ہی اللہ کی بادشاہی اور اس کی سربلندی پر ایمان اوریقین محکم رکھتے ہیں۔اسی کے آگے اپنا سرنیاز جھکاتے ہیں اور اسی در پہ سجدہ ریز ہوتے ہیں“
واقعہ یہ ہے کہ جب وہ ان الفاظ کو اپنی گرجدار آواز میں منبر سے دوہراتے تھے تو نمازیوں کے بدن میں ایک عجیب حرارت پیدا ہوتی تھی اور خدا پر یقین مضبوط ہوتا چلاجاتا تھا۔
آج ہندوستان میں مسلمانوں کو جن مسائل و مصائب کا سامنا ہے، ان میں مجھے دوردور تک شاہی امام جیسی جرات اور ہمت والا کوئی قائد نظر نہیں آتا۔ وہ کسی سے مرعوب نہیں ہوتے تھے مگر ان کا شخصی جاہ وجلال اور وجاہت ایسی تھی کہ ان سے ہرکوئی مرعوب تھا۔ مجھے یاد ہے کہ جب بھیونڈی کے فسادزدہ علاقوں کا دورہ کرنے کے لیے وہ بمبئی پہنچے تو سانتا کروزہوائی اڈے پر جہاز کے تمام ہی مسافر ان کی ایک جھلک پانے کے لیے قطارمیں کھڑے ہوئے تھے۔سرخی مائل گول چہرہ، چوڑی پیشانی، سرپرخاص قسم کی چوکور ٹوپی، آنکھوں پر کالا چشمہ ان کی خاص پہچان تھی۔وہ ہمیشہ عربی توپ پہنتے تھے کہ اس میں ان کا بھاری بھرکم وجود آسانی سے سماجاتا تھا۔ آپ ان کے جذباتی طرز عمل اور فکر پرتنقید کرسکتے ہیں، لیکن ان کے اخلاص اور نیک نیتی پر انگلی نہیں اٹھاسکتے۔ انھوں نے پوری زندگی ملت کے نام وقف کی تھی اور وہ حکمرانوں سے برابری کی سطح پر مسلم مسائل پر گفتگو کرتے تھے۔
انھوں نے پوری زندگی عام انسانوں کی طرح گزاری۔وہ وی آئی پی کلچر کے قائل نہیں تھے اور نہ ہی مخصوص لوگوں کی محفلوں میں اٹھنا بیٹھنا پسند کرتے تھے۔ عام لوگوں کے درمیان بالکل عام انسانوں کی طرح رہتے تھے۔ ان کی شخصیت کا اصل ظہور ایمرجنسی کا دوران ہوا۔ خاندانی منصوبہ بندی کے خلاف وہ اپوزیشن کی ایک مضبوط آواز بن کر ابھرے۔اس دوران ایک مرتبہ جب آنجہانی وزیراعظم اندراگاندھی یوم آزادی کے موقع پر لال قلعہ کی فصیل سے خطاب کررہی تھیں تو ان کے مدمقابل شاہی امام جامع مسجد کے منبر سے دوبدو ان کی باتوں کو جھٹلارہے تھے۔اس دوران انتظامیہ نے جب مسجد کی بجلی کاٹ دی تو وہ تب بھی لاؤڈاسپیکر سے یہ کام کرتے رہے۔اندرا گاندھی کو اقتدار سے بے دخل کرنے والوں میں وہ سرفہرست تھے، کیونکہ انھوں نے جنتا پارٹی کی تحریک کے دوران اپوزیشن لیڈروں کے شانہ بشانہ انتخابی مہم چلائی تھی۔ اس کے بعد1989میں وی پی سنگھ کی قیادت والی جنتادل سرکار بنوانے میں بھی انھوں نے کلیدی رول ادا کیا تھا۔یہی وجہ ہے کہ آنجہانی وی پی سنگھ وزیراعظم کا حلف اٹھانے کے بعد سب سے پہلے شاہی امام سے آشیرواد لینے جامع مسجد کے اسی حجرے میں آئے تھے، جو ہرخاص وعام کے لیے کھلا ہوا تھا۔
ایمرجنسی کے بعدشاہی امام نے جے پرکاش نرائن، بابو جگجیون رام، چندرشیکھر،راج نارائن اور چودھری چرن سنگھ جیسے لیڈروں کے ساتھ درجنوں انتخابی جلسوں کو خطاب کیا اور ملک کے میں سیاسی بیداری پیدا کی۔مجھے یاد ہے کہ جنتا پارٹی حکومت کا پہلا عوامی جلسہ رام لیلا گراؤنڈ میں منعقد ہوا تو شاہی امام پہلی صف میں بیٹھے تھے اور انھوں نے اس حکومت کو اپنا’عصا ئے شاہی‘دکھاتے ہوئے گرجدار آواز میں للکارتے ہوئے خبردارکیا تھا کہ ”اگر یہ حکومت بھی اپنی راہ سے بھٹکتی ہے اور جبر وتشدد کا راستہ اختیار کرتی ہے تو اسے بھی عوامی طاقت کے ذریعہ اقتدار سے ایسے ہی بے دخل کیا جائے گا، جیسا کہ اندرا سرکار کو کیا گیا تھا “ میں اس عوامی جلسے کا عینی گواہ ہوں۔
کہنے کو وہ شاہی امام تھے اور اسی خاندان کے چشم وچراغ بھی تھے جسے شاہجہاں نے جامع مسجد کی تعمیر کے بعد امامت کے لیے بخارہ سے طلب کیا تھا۔ وہ چاہتے تھے تو محل میں بھی رہ سکتے تھے۔لیکن وہ ہمیشہ اپنے چھوٹے سے حجرے میں بیٹھ کر ضرورت مندوں کی مددکیا کرتے تھے۔
آج کی مسلم قیادت مصلحت کے حصاروں میں قید ہے اور اسے ملک وملت سے زیادہ اپنے ذاتی مفادات کی فکر لاحق ہے۔ شاہی امام کی خوبی یہ تھی کہ ان کا کوئی ذاتی ایجنڈا نہیں تھا۔ نہ تو انھیں دولت کی چاہ تھی اور نہ ہی اقتدار سے انھیں کوئی سروکار تھا۔ان کا پسندیدہ اخبار روزنامہ ’پرتاپ‘ تھا جو اس دور میں اپنے تیکھے اداریوں کے لیے جانا جاتا تھا۔ یہ ادارئیے اکثر مسلمانوں پر تنقید سے لبریز ہوتے تھے۔ میں نے ’پرتاپ‘ کے علاوہ کوئی دوسرا اخبار ان کے ہاں نہیں دیکھا۔حالانکہ اس دور میں ’دعوت‘، الجمعیۃ‘اور ’قومی آواز‘ جیسے اخبار بھی شائع ہوتے تھے، لیکن وہ ’پرتاپ‘ ہی شوق سے پڑھتے تھے۔ اگر میں یہ کہوں تو بے جا نہیں ہوگا کہ مسلمانوں نے اپنے مخلص قائدین کی قدر نہیں کی اور انھیں موت کے بعد فراموش کردیا۔ میں ان مخلص قائدین میں ڈاکٹرعبدالجلیل فریدی، ابراہیم سلیمان سیٹھ، غلام محمود بنات والا، سلطان صلاح الدین اویسی اور سید شہاب الدین کو بھی شمارکرتا ہوں، جو آج ہماری یادداشت سے محو ہوچکے ہیں۔ خدا ان کی قبروں کو نور سے بھردے۔آمین

مسلم امہ کا انتشار اور ایران عمر فراہی کسی زمانے میں مسلمانوں کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کو یوروپ کے تاریخی ش...
19/06/2025

مسلم امہ کا انتشار اور ایران
عمر فراہی

کسی زمانے میں مسلمانوں کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کو یوروپ کے تاریخی شہر قسطنطنیہ کی طرف بڑھنے کی ترغیب دی تھی ۔اس کے پیچھے شاید یہ مصلحت رہی ہو کہ اہل ایمان کے غلبے سے یوروپ کے لوگ بھی اسلامی سیاست اور معاشرت سے متاثر ہو کر اللہ کی نعمت سے سرفراز ہو جائیں ۔پھر آپ نے یہ بھی کہا کہ ایک دور ایسا آئے گا جب قسطنطنیہ تمہارے ہاتھ سے نکل جاۓ گا اور آخری دور میں تم اسے دوبارہ فتح کر لو گے ۔مسلمان اس طرف بڑھے بھی اور اسے فتح بھی کر لیا لیکن اب مسلمان تاریخ کے جس دور سے گزر رہا ہے مخالف طاقتوں کا قافلہ دوبارہ قسطنطنیہ کی طرف بڑھ رہا ہے ۔
ہونا وہی ہے جو احادیث میں آ چکا ہے اور یہ بات ہم پچھلے بیس سالوں سے لکھ رہے ہیں۔ پچھلے مضمون میں بھی لکھ چکے ہیں کہ صہیونی مقتدرہ کا آخری پڑاؤ قسطنطنیہ ہے جو اس وقت ترکی کے قبضے میں ہے ۔بظاہر ترکی طاقتور نظر آ رہا ہے لیکن مسلم دنیا جس طرح انتشار کا شکار ہے اور صہیونی مقتدرہ جس طرح ایک ایک کر کے مسلم ریاستوں کو تباہ کرتے جارہا ہے ترکی اس کا آخری پڑاؤ ہو گا ۔اب یہ الگ بات ہے کہ اس کے بعد حدیث کی پیشن گوئیوں کے مطابق جسے کچھ لوگ ضعیف بھی قرار دیتے ہیں صہیونی طاقتیں عالم اسلام کی ایک روحانی پیشوا اور سپہ سالار کی قیادت میں پسپا ہونا شروع ہوں گی لیکن تب تک کے لئے عالم اسلام کو جس مزاحمت کے دورانیے ، قتل عام اور ذلت کے راستے سے گزرنا ہے اور گزر بھی رہے ہیں مسلم امہ کو اس کے لئے تیار رہنا چاہئے ۔پچھلے مضمون میں جب ہم نے ایران کی تباہی کی بات کی تو کسی نے تبصرہ کیا کہ آپ مایوسی کی بات کر رہے ہیں جبکہ اسی مضمون میں ہم نے علامہ اقبال کے اس مصرع کا حوالہ بھی دیا تھا کہ
نکل کے صحرا سے جس نے روما کی سلطنت کو الٹ دیا تھا
کہا ہے یہ قدسیوں نے مجھ سے وہ شیر پھر ہوشیار ہوگا
ہم بالکل مایوسی کے شکار نہیں ہیں بلکہ ہماری جو حالات پر نظر ہے اور عالم اسلام نے پچھلی صدیوں میں جو غلطیاں کی ہیں اس کی سزا تو اسے ملنی ہی چاہئے اور حدیث میں شاید انہیں حالات کے تحت شام مصر ایران اور سندھ کی خرابی اور ویلل عرب کا تذکرہ آیا ہے اور حالات جس رخ پر جارہے ہیں اب تو ضعیف حدیثوں پر بھی یقین ہونے لگا ہے ۔
جب وقت کے رسول صلی علیہ وسلم نے ویلل عرب کی بات کہی تو ایک روحانی قیادت کی پیشن گوئی کر کے غلبہ دین کی بشارت بھی دے دی جس کی قیادت میں عالم اسلام دوبارہ اپنا کھویا ہوا وقار بحال کرے گا اور بہت صاف لفظوں میں اللہ کے رسول نے کہا کہ تم یہودیوں سے جنگ کرو گے جبکہ اس وقت یہودی کوئی طاقت بھی نہیں تھے اور نہ ہی صدیوں سے وہ اپنی کوئی ریاست ہی قائم کر سکے تھے ۔آج یہودی سرمایہ داروں نے جس طرح عالمی سیاست اور معیشت پر غالب ہو کر امریکہ جیسی سپر پاور طاقت کو بھی اپنی کٹھ پتلی بنا رکھا ہے کیا انیسویں صدی سے پہلے تک جب یوروپ میں یہودیوں کا قتل عالم ہو رہا تھا کسی نے سوچا تھا کہ فلسطین میں نہ صرف اسرائیل نام کی ریاست قائم ہو جاۓ گی وہ پوری دنیا پر مسلط بھی ہو گا ؟
وقت کے رسول نے اہل ایمان کے سامنے دونوں تصویروں کو اس لیے رکھ دیا تاکہ ہم اس درمیان مایوسی کا شکار ہو کر مرتد نہ ہو جائیں بلکہ صبر اور مزاحمت کے ساتھ استقامت کا مظاہرہ کرتے رہیں ۔
اسرائیل کے قیام کے بعد سے دیکھا بھی جاسکتا ہے کہ منظم طریقے سے اسرائیل اپنے یوروپی اتحادیوں کے ساتھ مل کر کیسے ایک ایک کر کے عراق شام مصر لیبیا یمن اور سوڈان جیسی طاقتور مسلم ریاستوں کو اپنا نیوالہ بناتا جارہا ہے اور عالم اسلام کا ہر دوسرا ملک تماشائی بنا ہوا اپنی تباہی کا منتظر ہے ۔خلیج میں اب ایران واحد ریاست ہے جو کچھ وقتوں تک مزاحمت بھلے ہی کر لے وہ امریکہ یوروپ اور اسرائیل کے اتحاد کے سامنے زیادہ دیر ٹھہر نہیں سکتا ۔یہ طاقتیں کسی بھی حال میں ایران کو اتنا طاقتور نہیں ہونے دیں گی کہ جب اسرائیل ہیکل سلیمانی کی تعمیر کرے تو ایران اس پر حملے کی جسارت کر سکے ۔اس کے بعد اگلا محاذ ترکی اور شام کا ہو گا ۔شام تو خیر کوئی فضائی قوت نہیں رکھتا لیکن جس طرح غزہ میں اسرائیل کو زمینی لڑائی بھاری پڑ رہی ہے شام ایک بار اسرائیل کے لئے جنگ کا میدان ضرور بنے گا اور اسے اصل نقصان زمینی جنگ میں ہی ہونا ہے بلکہ یوں کہیں کہ فضائی جنگ کا ایک مرحلہ ختم ہونے کے بعد جب صہیونی طاقتیں ہر طرف سے مطمئن ہو جائیں گی کہ اب انہیں کسی مسلم ملک سے فضائی حملے کی امید نہیں رہ گئی ہے تو وہ اپنے یوروپی اتحادیوں کے ساتھ زمینی جنگ کی طرف پلٹیں گی اور یہی دراصل حق و باطل کی معرکہ آرائی کا فیصلہ کن معرکہ ہوگا۔
ہو سکتا ہے ہم میں سے کچھ لوگ ابھی بھی
The end of the time
یعنی تاریخ کے خاتمے کے اس عنوان کو مزاق سمجھتے ہوں لیکن سچائی یہ ہے کہ 9/11 کے بعد صاف نظر آرہا ہے کہ دنیا تیزی کے ساتھ اس طرف قدم بڑھا رہی ہے ۔آج سے بیس سال پہلے جب ہم نے ایک مضمون لکھا تھا کہ
"ایران صہیونیت کے نرغے میں"
تو لوگ ہم پر ایران نواز ہونے کا الزام لگا رہے تھے جبکہ ہماری چھٹی حس اس وقت بھی کہہ رہی تھی کہ عراق اور افغانستان کی تباہی کے بعد اب اگلا نمبر ایران کا ہی ہے ۔یقین نہ آئے تو 2013 کے عرب بہاریہ کے دوران ڈونالڈ ٹرمپ کا ٹوئیٹر پر تبصرہ بھی دیکھ لیں۔ اس نے بھی اس وقت کے امریکی صدر بارک اوبامہ پر الزام لگایا تھا کہ اوبامہ الیکشن جیتنے کے لئے ایران پر حملہ کر سکتے ہیں ۔سچائی یہ ہے کہ صہیونی مقتدرہ نے ایران کو اسی وقت اپنے لئے خطرہ تصور کر لیا تھا جب 1979 کے انقلاب کے بعد آیت اللہ خمینی نے لا شرکیہ لاغربیہ اسلامیہ اسلامیہ کا نعرہ دیا تھا ۔خود مسلمانوں میں بھی جو طبقہ یہ سمجھ رہا تھا کہ ایران اور اسرائیل ایک دوسرے پر کبھی حملہ نہیں کر سکتے ان کا تجزیہ مسلکی عصبیت پر مبنی تھا جو آپ غلط ثابت ہو گیا۔ بلکہ یوں کہیں کہ اگر پچھلے بیس سالوں سے اسرائیل اور امریکہ ایران پر حملہ کرنے سے احتیاط برت رہے تھے تو اس کی بھی کوئی وجہ تھی ۔اب دونوں کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو چکا ہے تو اس کا مطلب صاف ہے کہ اسرائیل اپنے اہداف کے بہت قریب پہنچ چکا ہے یا اپنے ہدف کو پورا کرنے کے لئے بے تاب ہے ۔جو لوگ ابھی بھی یہ امید لگائے بیٹھے ہیں کہ اسرائیل اور امریکہ فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کر لیں گے وہ یہ سمجھ لیں کہ فلسطینیوں کی ریاست تو دور کی بات اسرائیل دوبارہ غزہ کی تعمیر نو کی منظوری بھی کبھی نہیں دے گا ۔غزہ اب اسی وقت دوبارہ تعمیر ہو گا جب اہل قدس طاقت سے اسرائیل پر اپنی بالادستی قائم کر لیں ۔باقی کسی کو لگتا ہے کہ دنیا میں قوموں کو انصاف دلانے کے لئے جمہوریت کے نام پر کوئی اقوام متحدہ اور سلامتی کونسل جیسا ادارہ بھی ہے تو جناب حالات کو نہ سمجھنے کی جو غلطی ہمارے آباؤاجداد سے ہوئی ہے اور انہوں نے G-7 کو اپنا مسیحا تصور کرتے ہوۓ جو اپنے اسلاف کی میراث گنوا دی تھی اسی غلطی کو اہل حق دہراتے کیوں جائیں ۔کم سے کم اہل ایمان اپنی سوچ کی اصلاح تو کر ہی سکتے ہیں ۔G7 آج بھی متحد ہے اور عالم اسلام آج بھی منتشر ہے !!

*ایران کے اندر اسرائیل*عبدالعلیم الاعظمی اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد دنیا بھر کی  خفیہ ایجنسیوں میں ایک الگ مقام رکھتی ہے...
18/06/2025

*ایران کے اندر اسرائیل*

عبدالعلیم الاعظمی

اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد دنیا بھر کی خفیہ ایجنسیوں میں ایک الگ مقام رکھتی ہے۔ موساد کا نٹورک دنیا کے اکثر ممالک میں پھیلا ہوا ہے۔ موساد اپنی بہت سی کاروائیوں سے اس بات کو پختہ کرچکی ہے۔ موساد نے خاص طور سے اپنے مخالف ممالک میں اپنے نیٹورک کا پورا ایک جال بچھایا ہوا ہے۔ کسی بھی ملک میں ٹارگٹ کلنگ کرنا موساد کا بائیں ہاتھ کا کھیل ہے۔ اسرائیل اپنی اکنامی کا ایک بڑا حصہ موساد کے لیے خرچ کرتا ہے۔ ظاہر سی بات ہے جاسوسی اور ہائی پروفائل لوگوں کے ٹارگٹ کے لیے ایک خطیر رقم درکار ہوتی ہے۔ اسی سال لبنان میں ح ز ب اللہ کے ساتھ جو کچھ ہوا وہ موساد کی اعلی کارکردگی میں سے ایک مانا جاتا ہے۔ پیجر اور واکی ٹاکی میں دھماکے پر جب مختلف تحقیقات سامنے آئی تو یہ بات واضح ہوگئی کہ پیجر اور واکی ٹاکی ڈیوائس لگاکر بہت پہلے لبنان میں بھیجے گئے تھے تاکہ بوقت ضرورت ان میں دھماکہ کیا جاسکے۔ اس کے علاوہ موساد ہی کی معلومات تھی کہ اسرائیل نے لبنان میں یکے بعد دیگرے ح ز ب اللہ کی تمام مرکزی قیادت کو ٹارگٹ کرکے تنظیم کو اپنا وجود بچانے پر مجبور کردیا۔ ایران میں موساد کی حالیہ کاروائی جب عالمی میڈیا پر زیر بحث آئی تو الجزیرہ کے صحافی تامر المسحال نے الجزیرہ کا دو سال قبل خصوصی تحقیقی پروگرام "ما خفی اعظم" کی نشاندھی کی۔ اس میں ترکی کی دارالحکومت استنبول میں موساد کے نیٹورک پر تحقیق کی گئی ہے۔ اس میں موساد کے طریقہ کار، حیرت انگیز طریقوں اور طلبہ اور تاجروں کو جھانسے دینے وغیرہ پر روشنی ڈالی ہے۔ اس سے موساد کے کام کرنے اور کسی ملک میں اپنا نیٹورک پھیلانے پر کچھ کچھ باتیں سامنے آتی ہیں۔

ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
حالیہ ایران اسرائیل جنگ میں اسرائیلی فوج کی مسلسل کامیابی اور ایرانی سر زمین ہی سے ہائی پروفائل لوگوں کی ٹارگٹ کلنگ نے اس بات کو واضح کردیا ہے کہ موساد نے ایران میں نہ صرف اپنا پورا نیٹورک قائم کیا ہے؛ بلکہ ایران میں ایک پورا اسرائیل آباد کیا ہے۔ موساد نے ایرانی سرزمین میں صرف انٹلیجنس کا کام نہیں کیا ہے بلکہ ایران میں موساد کے ہتھیاروں کے کارخانے اور ڈرون کے ذخیرے بھی ہیں، جس کے ذریعہ وہ حالیہ جنگ میں کئی اہم کامیاب کاروائی انجام دے چکا ہے۔

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
ایران کو اس جنگ میں دو محاذ پر لڑنا پڑ رہا ہے۔ ایک تو بیرونی محاذ ہے، یعنی بیرون سے حملوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ دوسرے اندرونی محاذ ہے۔ اندرونی محاذ میں بھی دو طرح کے چیلجنس ہیں۔

1۔ حکومت مخالف عناصر، ایران میں بہت سے لوگ موجودہ حکومت کے مخالف ہیں، بہت سے لوگ مغربی تہذیب کے دلدادہ ہیں اور سیکولر ذہنیت کے حامل ہیں۔ وہ ایرانی حکومت کو اسلامی متشدد حکومت سمجھتے ہیں اور اس کے خلاف ہمیشہ سے بر سر پیکار رہے ہیں۔ حالیہ دنوں میں اسرائیل اور امریکہ کی مسلسل یہ کوشش ہے کہ ایرانی عوام موجودہ حکومت کے خلاف بغاوت کرے، اس سلسلے میں پہلوی خاندان کے امریکی غلاموں کی طرف سے مسلسل بیانات دے کر بغاوت کے شعلے بھڑکانے کی ناکام کوشش کی جارہی ہے۔ بلاشبہ ایران کے لیے یہ بھی ایک اہم مسئلہ ہے کہ وہ بغاوت کی فضا نہ بننے دے۔
2۔ اندرونی محاذ کا دوسرا اور بڑا چیلنج ایران میں موجود موساد کے ایجنٹوں اور ان کے لیے کام کرنے والوں سے نپٹنا ہے۔ بلاشبہ اسرائیل کے حملوں کی کامیابی میں ان ایجنٹوں کا کلیدی کردار رہا ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ جس ملک کی بھی معاشی صورتحال بہتر نہیں رہتی ہے، وہاں جاسوسی اور لوگوں کو خریدنا آسان رہتا ہے۔ ایران بھی گزشتہ 40 سال سے معاشی بد حالی کا شکار ہے۔ مُختلف بین الاقوامی پابندیوں کی وجہ سے اس کی ترقی کے راستے بند ہیں۔ ان حالات میں اتنے بڑے پیمانے پر جاسوسی اور ملک سے غداری کوئی تعجب کی بات نہیں ہے۔

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

ایران میں اسرائیل کی حالیہ کاروائی کے بعد ایرانی فوج اور حکومت نے موساد کے نیٹورک کو تباہ کرنے کی پوری ایک جنگ چھیڑ دی ہے۔ حالیہ کچھ دنوں میں ایران نے دسیوں موساد کے ایجنٹوں اور ان کے لیے کام کرنے والے لوگوں کو پکڑا ہے۔ کئی ایک رپورٹس میں ایرانی فوج کی طرف سے دعوی کیا گیا ہے ان میں موساد کے کئی ایک افسران بھی شامل ہیں۔ اس وقت ایران میں موساد کے نیٹورک کو تباہ کرنے کے لیے پولیس اور فوج کی طرف سے الرٹ ہے۔ بڑے پیمانے پر تلاشی لی جاری ہے۔ جگہ جگہ گاڑیوں کی تلاش لی جارہی ہے۔ اس آپریشن میں ایران کو کامیابی بھی ملی ہے۔ ایرانی فوج نے ایران میں موساد کے ایک پورے ٹھکانے کا پتہ لگایا جہاں ڈرون اور دیگر ہتھیار موجود تھے۔ دو گاڑیوں کو پکڑا جس میں ہتھیار لیکر موساد کے ایجنٹ کسی کاروائی کے لیے جارہے تھے۔ حالیہ دنوں میں ایران نے بروقت کاروائی کے ذریعہ موساد کے ایجنٹوں کی کئی کاروائی کو ناکام بنایا ہے۔ ایران نے تقریبا 50/ سے زائد لوگوں کو گرفتار کیا ہے جو یا تو موساد کے ایجنٹ تھے یا اس کا تعاون کررہے تھے۔

ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
ابھی تک کی کاروائی سے یہ بات بہت حد تک واضح ہوگئی ہے کہ اس جنگ میں کامیابی یا مضبوطی سے لڑنے کے لیے ایران کو اپنے اندرون کو محفوظ بنانا اور ایران میں موجود اسرائیل کو ختم کرنا ضروری ہے۔ اگر ایران اپنے یہاں موجود موساد کے نیٹورک کو ختم کرنے یا کمزور کرنے میں کامیاب رہا تو اس کے ہائی پروفائل لوگ محفوظ رہیں گے۔ ایران ایک دیر پا جنگ لڑ سکتا ہے۔ ورنہ وہ بھی ہوسکتا ہے جو ح ز ب اللہ کے ساتھ لبنان میں ہوا تھا۔ فلیڈ کمانڈ تو آخر تک متحرک و فعال رہا ہے لیکن یکے بعد دیگرے صف اول اور دوم کی تمام قیادتوں کو ٹارگٹ کرکے تنظیم کو اپنے وجود کی جنگ لڑنے پر مجبور کردیا گیا تھا۔

امارت شریعہ :امانت کا تحفظ یا اقتدار کی کشمکش                   ✍️امیر معاویہ قاسمی دربھنگویبائیس اور پچیس تاریخ کو پٹنہ...
30/05/2025

امارت شریعہ :امانت کا تحفظ یا اقتدار کی کشمکش

✍️امیر معاویہ قاسمی دربھنگوی

بائیس اور پچیس تاریخ کو پٹنہ کی سرزمین دو مختلف جلسوں کی گواہ بنی، مقامات جداگانہ تھے، شرکاء بھی مختلف مگر دعویٰ یکساں کہ امارتِ شرعیہ کے اصل ذمہ دار ہم ہیں اور اکابرِ امت کی اس عظیم امانت کے سچے امین و پاسبان بھی ہم ہی ہیں؛ جب کہ دوسرا گروہ بددیانت، بدنیت اور امارتِ شرعیہ کی ساکھ کو مجروح کرنے والا ہے، جو اس مقدس ادارہ کو محض اپنے ذاتی و خاندانی مفادات کی نذر کرنا چاہتا ہے؛ شرکاء کی اکثریت اسی دعوے کی مالا جپتی رہی إلا ماشاء اللہ ۔

امارتِ شرعیہ جو کبھی اتحادِ ملت کی علامت ہوا کرتی تھی، آج اسی عظمت شعار ادارے کے پرچم تلے مناصب کی خواہش میں جکڑے ہوئے علماء ایک دوسرے کو گمراہ، نااہل اور زر پرست قرار دینے میں نہ شرم محسوس کر رہے ہیں نہ ہی ان میں خدا کا کوئی خوف باقی رہ گیا ہے؛ زبان کی آلودگی اور طرزِ کلام کی پستی جس درجہ کو پہنچی، وہ کسی بھی شرعی ادارے کے ذمہ داران کے شایانِ شان نہیں کہی جا سکتی، اگر یقین نہ آئے تو دونوں اجلاسوں کی ویڈیوز ملاحظہ فرما لیجیے۔

حضرت امیر شریعت سابع رحمہ اللہ کے مسند نشیں ہوتے ہی امارت میں گروپ بندی شروع ہو گئی تھی مگر ان کے دور میں دوسرا گروپ کمزور تھا تو خاموشی میں عافیت جان کر خاموش رہا اور اندرون خانہ کھچڑی پکتی رہی؛اسی گروپ بندی کا اثر تھا کہ آپ کے انتقال کے بعد امیر شریعت کے انتخاب کے وقت کئی شرمناک واقعات رونما ہوئے البتہ کسی نہ کسی طرح ووٹ کی طاقت سے ایک گروپ غالب آ گیا اور امیر شریعت ثامن کی حیثیت سے امیر کی کرسی پر براجمان ہو گئے، یہ الگ بات ہے کہ یہاں تک پہنچنے کے لیے انہوں نے شریعت کا کوئی پاس و لحاظ نہیں رکھا۔

شکست خوردہ دوسرا گروپ امیر شریعت سادس کے اخیر دور میں جب کہ آپ علیل تھے، ان کی علالت کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے امارت کے سیاہ و سپید کے مالک بن بیٹھے تھے؛ امارت کے اصول و ضوابط ایک طرف اور موصوف کی من مرضی ایک طرف، ذاتی خواہشات کے مطابق فیصلے صادر کرنے کے لیے امارت کے اصول بالائے طاق رکھ دیا گیا تھا اور سرکاری مراعات حاصل کرنے کے لئے تحریف سے بھی باز نہیں آئے ؛ کہتے ہیں نا”چاہ کن را چاہ در پیش“، امیر شریعت سابع نے انہیں کے تحریف شدہ اصول کا سہارا لے کر موصوف کو امارت سے بے دخل کردیا تھا، اسی بات کی کسک دل میں تھی اور باپ کا انتقام بھی بیٹے سے لینا تھا۔

چنانچہ اس نے اپنے داؤ پیچ سے اس گروپ کے خواص کو ساتھ ملایا، زمین تیار کی اور حملہ آور ہو گئے؛ پھر شروع ہوا رکیک الزامات کا دور، ہر ایک اپنے آپ کو پاک و منزہ اور دوسرے کو پراگندہ ثابت کرنے میں مصروف ہے؛ وقف کے خلاف احتجاج کے بہانے اپنی برتری ثابت کرنے کے لیے عنوان بدل بدل کر جلسے کئے جا رہے ہیں، عقیدت مندوں کی بھیڑ لگا کر جے جے کار کے نعرے لگوائے جا رہے؛ ہر قدم کو تاریخی کہا جا رہا ہے اور زندگی کے ہر لمحے کی ویڈیو اور تصویری جھلکیاں سوشل میڈیا پر خوب نشر کی جا رہی ہیں اور بیچاری قوم ہے کہ حیرت کے عالم میں تماشائی بنی بیٹھی ہے۔

دونوں گروہوں کے حامیوں کا حال اس سے بھی زیادہ دگرگوں ہے؛ گالم گلوچ، بہتان تراشی، دشنام طرازی، یہ سب کچھ اب روزمرہ کا معمول بن چکا ہے؛ ہر واٹس ایپ گروپ میدانِ کارزار بن چکا ہے اور ایسی بازاری زبان استعمال کی جا رہی ہے کہ شیطان بھی شرما جائے؛ عالم و مفتی، قاضی و مصلح جیسے محترم القابات رکھنے والے حضرات بھی ماں بہن کی گالیاں دینے سے نہ صرف گریز نہیں کر رہے ہیں بلکہ اس طرزِ عمل کو دین کی خدمت اور حق کی حمایت کے لبادے میں لپیٹ کر فخر سے بیان کر رہے ہیں، أعاذنا اللہ منہ۔

یہ سب منظر دیکھ کر دکھ ہوتا ہے کہ دین کے وارث کہلانے والے وہ علماء جن کے علم، حلم ، تقویٰ اور اخلاص کی کبھی قسمیں کھائی جاتی تھیں، آج وہی جاہ و منصب کے اسیر ہو کر آپس میں دست و گریباں ہیں ؛ اقتدار و عہدہ اور شہرت و قبولیت کی طلب نے انہیں بے بصیرت، بےمغز اور بے عمل بنا دیا ہے، سچ فرمایا نبی کریم ﷺ نے کہ ” دو بھوکے بھیڑیے بکریوں کے ریوڑ میں اتنا فساد نہیں کرتے جتنا حرصِ مال و جاہ انسان کے دین کو برباد کرتی ہے“۔(ترمذی)

افسوس! جب امت کے تعلیمی، دینی اور روحانی ادارے ہر سمت سے نشانے پر ہیں؛ مدارس ہوں یا مساجد، مزارات ہوں یا مقابرہر طرف بلڈوزر کی گرج سنائی دے رہی ہے اور ہم ہیں کہ اپنی داخلی رنجشوں سے ہی نکلنے کو تیار نہیں؛ ہم اپنی تمام توانائیاں ایک دوسرے کو نیچا دکھانے میں صرف کر رہے ہیں اور قوم کو مزید معاشی و سماجی ابتری کی طرف ڈھکیل رہے ہیں۔

خدارا! اب بھی وقت ہے، ان فضول جھگڑوں سے نکل آئیے، خودفریبی کے پردے کو چاک کیجیے اور خلوصِ دل سے اصلاحِ امت اور خدمتِ دین کے لیے کمر بستہ ہو جائیے؛ ان شاء اللہ یہ سعی خالص انجامِ خیر کا ذریعہ بنے گی اور دنیا و آخرت میں کامیابی و سرخروئی نصیب ہوگی۔

یقین اور ایمان کی طاقت عمر فراہی کسی نے اپنی اسٹوری پر حج کے تعلق سے خانہ کعبہ کی تصویر پوسٹ کی تھی تو میں نے پوچھ لیا ک...
29/05/2025

یقین اور ایمان کی طاقت

عمر فراہی

کسی نے اپنی اسٹوری پر حج کے تعلق سے خانہ کعبہ کی تصویر پوسٹ کی تھی تو میں نے پوچھ لیا کہ آپ نے حج کر لیا ہے۔ انہوں نے کہا نہیں دعا کیجئے نصیب ہو جاۓ ۔میں نے تفریحا دعا دیا کہ ان شاءاللہ آپ کے لیے بھی جہاز واپس آ جاۓ گا ۔انہوں نے جواب دیا کہ ان شاءاللہ میرے پاسپورٹ میں کوئی ایسا مسئلہ نہیں پیدا ہوگا ۔میں نے اپنے دل میں سوچا کہ مسئلہ تو کوئی بھی پیدا ہو سکتا ہے لیکن عامر المہدی کے ساتھ پاسپورٹ میں جو نام کا مسئلہ سامنے آیا ۔اگر یہ مسئلہ نہ پیدا ہوتا تو لوگ قدرت کی قدرت کا مظاہرہ کیسے کر پاتے !
سچ تو یہ کہ جب تقدیر نے فیصلہ کر ہی دیا تھا کہ عامر المہدی کو حج پر جانا ہی ہے تو انہیں کون روک سکتا تھا !
مگر قدرت کو اپنی قدرت بھی تو دکھانا تھا کہ تمہاری دنیا میں ہزاروں لاکھوں VIP یعنی بہت ہی معروف شہرت یافتہ اثر و رسوخ کی مالک شخصیات ہیں اور اکثر کسی وجہ سے وہ ذرا سا ایرپورٹ دیر سے بھی پہنچے اور جہاز ابھی اڑا بھی نہیں ہوتا پھر بھی سیکیورٹی کے زاویے سے قانونا انہیں سفر کی اجازت نہیں ہوتی اور وہ پرواز کر گئے جہاز کو واپس کروانے پر بھی قادر نہیں ہوتا لیکن قدرت نے اپنے ایک عام بندے کو جو کہ صرف اپنے خدا کی نظر میں معروف تھا اسے وہ بلند مقام عطا کردیا جو دنیا میں لاکھوں شہرت یافتہ شخصیات کو بھی حاصل نہیں ہو پاتی ۔تو کہنا یہ تھا کہ کچھ مسئلے بھی انسان کے حق میں بہتر فیصلے کے لئے ہی پیدا ہوتے ہیں چاہے وہ جس شکل میں بھی ہوں ہمارا اپنے خدا پر سے یقین متزلزل نہیں ہونا چاہئے ۔

اسلامی تاریخی ادبی اور سیاسی مضامین کا نایاب پلیٹ فارم " حاجی محی الدین اوفیشیل" پیج ۔ آپ اپنے مضامین ہمیں ارسال کریں ، ...
19/04/2025

اسلامی تاریخی ادبی اور سیاسی مضامین کا نایاب پلیٹ فارم " حاجی محی الدین اوفیشیل" پیج ۔ آپ اپنے مضامین ہمیں ارسال کریں ، ہم آپ کے شکرگزار ہونگے ۔

کربلا کے غدّار آج نریندر مودی کے ساتھ ہیں !داؤدی بوہرہ دھرم سے وابستہ بہروپیے وقف قانون لانے کے لیے سالوں سے کام کررہے ت...
19/04/2025

کربلا کے غدّار آج نریندر مودی کے ساتھ ہیں !
داؤدی بوہرہ دھرم سے وابستہ بہروپیے وقف قانون لانے کے لیے سالوں سے کام کررہے تھے یہ بات آفیشلی ثابت ہوچکی ہے ۔
سوال یہ ہے کہ اسی داؤدی بوہرہ دھرم کے پیروکار آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ میں بھی ہیں تو آخر پرسنل لا بورڈ ایسی سازش سے کیسے بےخبر تھا، اور صرف بورڈ نہیں بلکہ دیگر قدآور مسلم جماعتیں اور شخصیات مودی اور بوہریوں کی اتنی طویل منصوبہ بندی سے یکسر بےخبر کیسے تھے؟ ہمارا دشمن ہمارے خلاف سالوں سال کیا تیاریاں کررہا ہے اس کی ہمیں بھنک بھی نہیں لگتی ایسی حجرہ نشین قیادت کس کام کی ہے؟ دوسری طرف ہماری " ایمانی فراست " اور " بصیرت" کا یہ عالَم ہےکہ ہم نے دشمن کے سب سے بڑے معاون و مددگار کو اپنی ہی جماعت میں جگہ بھی دے رکھی ہے،
مسئلہ یہ ہے کہ ہماری قیادت صرف سانپ گزر جانے کے بعد لکیر پیٹنا چاہتی ہے، مستقل، منظم، چوطرفہ اور اسٹریٹجک لیڈرشپ کے لیے وہ تیار ہی نہیں ہیں ، حالات آنے کا یہ لوگ باضابطہ انتظار کرتے ہیں پھر ان پر اگر کچھ ردعمل دیتے بھی ہیں تو اس میں غالب یہ ہوتا ہے کہ اپنے اپنے حلقوں میں اپنی زندگی کا ثبوت دے دیں اور اپنے اپنے جانشینوں کو ملت اسلامیہ پر مسلط کردیں، سچائی سننے کی تاب نہیں بس عقیدت و احترام کے نام پر اپنی بے ضابطگی اور بے ڈھنگی رفتار کو زخمِ ناسور بنا رکھا ہے کیونکہ جھیلنا تو عام مسلمانوں کو ہے۔ پرسنل لا بورڈ جیسی جماعت جس کا کام کاج ہی سیاسی و سرکاری پالیسیوں سے مسلمانوں کے حقوق کا تحفظ ہے جب اس جماعت کا سربراہ کسی محترم دینی شخصیت کو بناکر اسے جائز تنقیدوں اور سوالات کے دائرے سے خارج کردیا جاتا ہے اور اس سے اختلاف کے گناہ کو " یہودی گائے " کے ذبیحے سے بھی زیادہ سنگین تصور کیا جاتا ہے توپھر اس جماعت سے کیسی پالیسیاں مرتب ہوں گی ؟انجام کار بوہریوں کے ہاتھوں شکست ہی مقدر ہوگی نا؟
سوچیے ذرا کہ بوہرہ دھرم کے لوگ کئی سالوں سے وقف قانون لانے کے لیے مودی اور بھاجپا کے ساتھ مل کر کام کررہےتھے لیکن پرسنل لا بورڈ بےخبر تھا، ایسے میں ہم بوہریوں کی اس مسلم دشمنی کے خلاف احتجاج بھی کس بنیاد پر کریں ؟ حالانکہ کرنا چاہیے، بوہرہ دھرم کے افراد کی جانب سے مسلمانوں کو ملنے والے اس " وقف زخم " پر کربلا نہ سہی " حسینیت " کا مظاہرہ تو ہونا ہی چاہیے، یزید کے سہولت کار آج بھی یزیدی ہیں اور بھارت میں نریندر مودی کےساتھ ہیں اس " کربلائی حقیقت" کا ببانگ دہل اعلان تو ہونا ہی چاہیے۔ !
مودی کے ساتھ مل کر بوہریوں نے ہمیں جو یہ زخم دیا ہے اس پر ابھی گفتگو جاری رہےگی، ہم آج کی کربلا کے ان یزیدی مخبروں اور منافقوں کو کھلی چھوٹ نہیں دیں گے۔
✍️: سمیع اللہ خان

Address

Supaul
852125

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Haji Mahiuddin official posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Haji Mahiuddin official:

Share

Category