21/08/2025
پراپرٹی ڈیلرز کی اصل جدوجہد
عام تاثر یہ ہے کہ پراپرٹی ڈیلرز بہت آسانی سے پیسہ کماتے ہیں لیکن حقیقت اس کے برعکس ہے آئیے اس حقیقت پر ایک نظر ڈالتے ہیں
صبح کا آغاز ڈیلرز کے لیے موبائل پر آنے والی کالز اور میسجز سے ہوتا ہے ناشتہ کرنے کے بعد دفتر پہنچتے ہیں جہاں کلائنٹ کی آمد پر بغیر کسی فیس یا ایڈوانس کے 8 سے 10 گھروں دکانوں یا پلاٹس کا وزٹ کروایا جاتا ہے اکثر اوقات پہلی بار میں خریدار مطمئن نہیں ہوتے اور بار بار مختلف پراپرٹیز دکھانی پڑتی ہیں
اگر بالآخر کوئی پراپرٹی پسند آ جائے تو پھر ملاقات (میٹنگ) طے ہوتی ہے اور ڈیل فائنل ہونے کے بعد اصل امتحان شروع ہوتا ہے ڈیلر کو پراپرٹی کی قانونی اور آفیشل ٹرانسفر کے لیے پٹواری تحصیل آفس رجسٹری برانچ اسٹامپ فروش اور بینک جیسے کئی اداروں کے چکر لگانے پڑتے ہیں یہ عمل کم از کم دس دن جاری رہتا ہے اس دوران نہ پٹرول کا خرچ ملتا ہے نہ فون کالز کا اور نہ ہی محنت کا کوئی معاوضہ
جب ڈیل مکمل ہوتی ہے تو کروڑوں روپے کی ٹرانزیکشن میں پراپرٹی ڈیلر کو بمشکل 1 فیصد کمیشن دیا جاتا ہے اور افسوسناک بات یہ ہے کہ اکثر اوقات 80 فیصد کلائنٹس یہ واجب معاوضہ بھی خوش دلی سے ادا نہیں کرتے
سوچنے کی بات ہے کہ کون سا ایسا شعبہ ہے جہاں محنت اور خدمت فراہم کرنے کے بعد مزدوری دی جاتی ہے؟ ڈاکٹر مریض کو دیکھنے سے پہلے فیس لیتا ہے وکیل کیس دائر کرنے سے پہلے فیس لیتا ہے انجینئر اور کنسلٹنٹ اپنی سروسز سے قبل معاوضہ وصول کرتے ہیں لیکن پراپرٹی ڈیلر وہ واحد پروفیشنل ہے جو تمام کام مکمل کرنے قانونی مراحل طے کرنے اور کروڑوں روپے کی ڈیل کلوز کرنے کے بعد اپنی محنت کی اجرت لیتا ہے وہ بھی اکثر عزت و احترام کے ساتھ نہیں
لہٰذا یہ تاثر بالکل غلط ہے کہ پراپرٹی ڈیلرز آسانی سے پیسہ کماتے ہیں درحقیقت وہ دن رات محنت وقت وسائل اور تعلقات استعمال کر کے دوسروں کو سہولت فراہم کرتے ہیں اور ان کی محنت کو بھی اتنی ہی عزت ملنی چاہیے جتنی دیگر پروفیشنلز کو دی جاتی ہے یہ ممکن تب ہوگا جب ہم پراپرٹی ڈیلرز میں دل سے اتحاد ہوگا بات ہے ذرا سوچنے کی وہ اپنی عزت نفس کے لیے.
(حاجی محسن علی (ون ون کلک پوپنگ
One One Click Real Estate Arifwala