Ali Consultant

Ali Consultant Plz support my page❤️
"Passionate Freelance Autocad Draftsman Turning Ideas Into Precise Design. Contact Me For Further Details ". . .

توجہ فرمائیں!​تکنیکی وجوہات اور ہیکنگ کے باعث ہمارا 7 سال پرانا آفیشل پیج (Syed Consultant (Architect اب ہمارے پاس نہیں ...
14/08/2026

توجہ فرمائیں!
​تکنیکی وجوہات اور ہیکنگ کے باعث ہمارا 7 سال پرانا آفیشل پیج (Syed Consultant (Architect اب ہمارے پاس نہیں رہا۔ اس لیے تمام اپ ڈیٹس کے لیے ہمارے اس نئے پیج کو فالو کریں۔
​آپ کی محبت اور مسلسل تعاون کا تہہ دل سے شکریہ۔
لنک کو اوپن کریں 👇 اور پیج کو فالو کریں
https://www.facebook.com/share/19M67dqhUK/ See less
Syed Consultant

Expert Architectural House Planning, Modern 2D/3D Floor Plans & Elevation Designs. Transforming your

"سڑکیں، بسیں اور عمارتیں کسی بھی ملک کی ظاہری خوبصورتی کا ذریعہ تو ہو سکتی ہیں، لیکن کیا ان کے ہوتے ہوئے کرپشن، سفارش، م...
13/08/2026

"سڑکیں، بسیں اور عمارتیں کسی بھی ملک کی ظاہری خوبصورتی کا ذریعہ تو ہو سکتی ہیں، لیکن کیا ان کے ہوتے ہوئے کرپشن، سفارش، مہنگائی، ناقص تعلیمی و طبی سہولیات اور ناانصافی سے آنکھیں چرانا ممکن ہے؟
​ترقی کی سچی تعریف سڑکوں یا دیواروں کی آرائش سے نہیں، بلکہ شہری کے تحفظ، معیاری تعلیم، صحت کی بنیادی سہولیات اور سستے انصاف کی فراہمی سے ہوتی ہے۔ جب تک عوام کے یہ بنیادی اور انسانی حقوق محفوظ نہ ہوں، تب تک محض انفراسٹرکچر کو 'حقیقی ترقی' تسلیم کرنا خود فریب کے سوا کچھ نہیں۔"

توجہ فرمائیں!​تکنیکی وجوہات اور ہیکنگ کے باعث ہمارا 7 سال پرانا آفیشل پیج (Syed Consultant (Architect اب ہمارے پاس نہیں ...
13/08/2026

توجہ فرمائیں!
​تکنیکی وجوہات اور ہیکنگ کے باعث ہمارا 7 سال پرانا آفیشل پیج (Syed Consultant (Architect اب ہمارے پاس نہیں رہا۔ اس لیے تمام اپ ڈیٹس کے لیے ہمارے اس نئے پیج کو فالو کریں۔
​آپ کی محبت اور مسلسل تعاون کا تہہ دل سے شکریہ۔
لنک کو اوپن کریں 👇 اور پیج کو فالو کریں
https://www.facebook.com/share/19M67dqhUK/ See less
Syed Consultant See less
Syed Consultant

توجہ فرمائیں!​تکنیکی وجوہات اور ہیکنگ کے باعث ہمارا 7 سال پرانا آفیشل پیج (Syed Consultant (Architect اب ہمارے پاس نہیں ...
12/08/2026

توجہ فرمائیں!
​تکنیکی وجوہات اور ہیکنگ کے باعث ہمارا 7 سال پرانا آفیشل پیج (Syed Consultant (Architect اب ہمارے پاس نہیں رہا۔ اس لیے تمام اپ ڈیٹس کے لیے ہمارے اس نئے پیج کو فالو کریں۔
​آپ کی محبت اور مسلسل تعاون کا تہہ دل سے شکریہ۔
لنک کو اوپن کریں 👇 اور پیج کو فالو کریں
https://www.facebook.com/share/19M67dqhUK/ See less
Syed Consultant See less
Syed Consultant

Expert Architectural House Planning, Modern 2D/3D Floor Plans & Elevation Designs. Transforming your

توجہ فرمائیں!​تکنیکی وجوہات اور ہیکنگ کے باعث ہمارا 7 سال پرانا آفیشل پیج (Syed Consultant (Architect اب ہمارے پاس نہیں ...
11/08/2026

توجہ فرمائیں!
​تکنیکی وجوہات اور ہیکنگ کے باعث ہمارا 7 سال پرانا آفیشل پیج (Syed Consultant (Architect اب ہمارے پاس نہیں رہا۔ اس لیے تمام اپ ڈیٹس کے لیے ہمارے اس نئے پیج کو فالو کریں۔
​آپ کی محبت اور مسلسل تعاون کا تہہ دل سے شکریہ۔
لنک کو اوپن کریں 👇 اور پیج کو فالو کریں

https://www.facebook.com/share/19M67dqhUK/ See less
Syed Consultant

Expert Architectural House Planning, Modern 2D/3D Floor Plans & Elevation Designs. Transforming your

توجہ فرمائیں!​تکنیکی وجوہات اور ہیکنگ کے باعث ہمارا 7 سال پرانا آفیشل پیج (Syed Consultant (Architect اب ہمارے پاس نہیں ...
10/08/2026

توجہ فرمائیں!
​تکنیکی وجوہات اور ہیکنگ کے باعث ہمارا 7 سال پرانا آفیشل پیج (Syed Consultant (Architect اب ہمارے پاس نہیں رہا۔ اس لیے تمام اپ ڈیٹس کے لیے ہمارے اس نئے پیج کو فالو کریں۔
​آپ کی محبت اور مسلسل تعاون کا تہہ دل سے شکریہ۔

لنک کو اوپن کریں 👇 اور پیج کو فالو کریں

https://www.facebook.com/share/19M67dqhUK/

Expert Architectural House Planning, Modern 2D/3D Floor Plans & Elevation Designs. Transforming your

معاشرتی و اخلاقی زوال: ایک لمحۂ فکریہآج ہمارا معاشرہ تیزی سے ان اخلاقی اور دینی اقدار سے دور ہوتا جا رہا ہے جو اسلام نے ...
09/08/2026

معاشرتی و اخلاقی زوال: ایک لمحۂ فکریہ
آج ہمارا معاشرہ تیزی سے ان اخلاقی اور دینی اقدار سے دور ہوتا جا رہا ہے جو اسلام نے ہمیں سکھائی تھیں۔ ہم اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ بیش قیمت نعمتوں کی قدر بھول چکے ہیں اور دینِ اسلام کے بنیادی اصولوں کو پسِ پشت ڈالا جا رہا ہے۔ اس گہرے زوال اور بگاڑ کا اگر منطقی جائزہ لیا جائے تو ہمارے اجتماعی رویوں میں درج ذیل سنگین بیماریاں نمایاں نظر آتی ہیں:
1. عقائد، توحید اور عبادات کا بگاڑ
مطلبی تعلق باللہ:
دینی فرائض، خصوصاً نماز سے غفلت اس حد تک بڑھ چکی ہے کہ بہت سے لوگ صرف مجبوری، بیماری یا سخت وقت میں نماز پڑھتے اور دعا مانگتے ہیں، لیکن مقصد پورا ہوتے ہی دوبارہ دین سے غفلت برتنے لگتے ہیں۔
توحید سے دوری اور شرکیہ رجحانات:
عقیدے کی کمزوری کا یہ عالم ہے کہ مشکلات میں اللہ تعالیٰ پر مکمل بھروسا کرنے کے بجائے بعض لوگ جعلی پیروں، فقیروں، عاملوں اور کالے جادو جیسے ناجائز ذرائع کا سہارا لیتے ہیں، حالانکہ مدد اور نجات صرف اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے۔
2. حیا، تربیت اور خاندانی اقدار کا زوال
خاندانی رشتوں کی بے توقیری:
میاں بیوی کے باہمی تعلقات میں برداشت، احترام اور اخلاقی اقدار کمزور ہوتی جا رہی ہیں۔ دوسری طرف، والدین اور بزرگ جو کبھی گھر کی رحمت اور برکت سمجھے جاتے تھے، آج بہت سے گھروں میں بوجھ تصور کیے جانے لگے ہیں۔
سوشل میڈیا، شہرت اور پیسے کی دوڑ:
آج سوشل میڈیا، خصوصاً ٹک ٹاک، فیس بک اور دیگر پلیٹ فارمز پر ویوز، لائکس، کمنٹس، شیئرز اور پیسے کمانے کی دوڑ نے معاشرے کی اخلاقی بنیادوں کو کمزور کر دیا ہے۔ بہت سے بچے، نوجوان، خواتین اور بعض اوقات بزرگ بھی وقتی شہرت یا چند پیسوں کی خاطر ناچ گانے، غیر اخلاقی حرکات اور بے ہودہ ویڈیوز بنانے میں مصروف ہیں۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ اس دوڑ میں شرم و حیا، عزتِ نفس اور غیرت جیسے عظیم اسلامی اوصاف مجروح ہو رہے ہیں، اور بہت سے لوگ چند لمحوں کی شہرت کے لیے اپنی عزت اور وقار کو بھی داؤ پر لگا دیتے ہیں۔
پردے اور حیا کا کمزور ہونا:
پردہ اور حیا، جو اسلامی معاشرے کی پہچان تھے، آہستہ آہستہ کمزور پڑتے جا رہے ہیں۔ لباس، گفتگو اور طرزِ زندگی میں اسلامی حدود کا خیال کم ہوتا جا رہا ہے، جس کے اثرات نئی نسل کی تربیت پر بھی نمایاں نظر آتے ہیں۔
3. اخلاقی اقدار، حسد اور سماجی رویے
انسانیت کا زوال اور مادہ پرستی:
آج انسان کی عزت کا معیار اس کا کردار نہیں بلکہ مال و دولت بن چکا ہے۔ امیر و غریب کے درمیان نفرت اور تکبر بڑھ رہا ہے، جبکہ اخلاص، محبت اور ہمدردی کم ہوتی جا رہی ہے۔
دلی سکون اور خیرخواہی کا فقدان:
دوسروں کی خوشیوں پر خوش ہونے اور مصیبت میں ان کا سہارا بننے کے بجائے حسد، بغض اور دوسروں کی ناکامی پر خوش ہونے کا رجحان بڑھتا جا رہا ہے، جس سے معاشرتی محبت اور بھائی چارہ ختم ہوتا جا رہا ہے۔
4. طرزِ زندگی، ترجیحات اور مالی معاملات کا تضاد
صحت سے غفلت:
قدرتی اور صحت بخش غذاؤں کی جگہ فاسٹ فوڈ اور مصنوعی خوراک نے لے لی ہے۔ پیدل چلنے اور ورزش کرنے کی عادت ختم ہوتی جا رہی ہے، جس کے نتیجے میں مختلف جسمانی بیماریاں عام ہو رہی ہیں۔
خوشیوں اور غموں کے دوہرے معیار:
شادی بیاہ کی تقریبات پر لاکھوں روپے خرچ کرنا باعثِ فخر سمجھا جاتا ہے، لیکن کسی کے جنازے میں شرکت یا بیمار کی عیادت کو اکثر بوجھ سمجھا جاتا ہے۔
حلال و حرام کی تمیز کا خاتمہ:
حلال روزی کمانے کے بجائے ناجائز ذرائع اختیار کرنے کا رجحان بڑھ رہا ہے۔ غریب اور مستحق کی مدد کرنا مشکل محسوس ہوتا ہے، لیکن فضول نمود و نمائش، مہنگے ریسٹورنٹس اور غیر ضروری اخراجات میں کوئی جھجک محسوس نہیں کی جاتی۔
نتیجہ اور اصلاح
یہ وہ تلخ حقائق ہیں جو ہمارے اجتماعی ضمیر کو جھنجھوڑنے کے لیے کافی ہیں۔ اگر ہم واقعی اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کے ماننے والے ہیں تو ہمیں اپنی زندگیوں کا جائزہ لینا ہوگا۔ اصلاح کا آغاز دوسروں پر تنقید سے نہیں بلکہ اپنی ذات سے ہونا چاہیے۔ نماز کی پابندی، قرآن و سنت پر عمل، حلال روزی، حیا، سچائی، والدین کی خدمت، رشتوں کا احترام اور سوشل میڈیا کا ذمہ دارانہ استعمال ہی وہ راستہ ہے جو ہمیں دوبارہ ایک بااخلاق، باحیا اور کامیاب معاشرہ بنا سکتا ہے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں اپنی اصلاح کرنے، دینِ اسلام پر ثابت قدم رہنے اور اپنی زندگی کو اس کی رضا کے مطابق گزارنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

09/08/2026

معاشرتی انحطاط اور اخلاقی زوال: ایک فکری جائزہ
​آج کے دور میں معاشرہ جس اخلاقی اور فکری زوال کی طرف گامزن ہے، وہ انتہائی تشویشناک اور قابلِ غور ہے۔ دینی شعائر سے دوری اور مادی دوڑ نے انسانی اقدار کو اس نہج پر لا کھڑا کیا ہے جہاں بنیادی انسانی اور اخلاقی حدود پامال ہو رہی ہیں۔ اس زوال کے نمایاں اور تلخ حقائق درج ذیل ہیں:
​دین سے دوری اور اخلاقی اقدار کا فقدان: اسلامی تعلیمات اور اخلاقی ضابطوں سے دوری کی وجہ سے معاشرے میں بے راہروی عام ہو رہی ہے، جو اجتماعی انحطاط کا سب سے بڑا سبب ہے۔
​مغربی اور غیر فطری فیشن کا رواج: ظاہری نمود و نمائش اور عجیب و غریب فیشنز نے روایتی اور باوقار اقدار کو پسِ پشت ڈال دیا ہے، جس سے انسانی شناخت مسخ ہو رہی ہے۔
​بے حیائی اور عریانی کا فروغ: حیا کا فقدان اب صرف انفرادی مسئلہ نہیں رہا بلکہ یہ سرعام معاشرتی رواج کی شکل اختیار کرتا جا رہا ہے۔
​ڈیجیٹل پلیٹ فارمز اور بے مقصد عیاشی: ٹک ٹاک، انسٹاگرام اور یوٹیوب جیسے پلیٹ فارمز کو اخلاقی اور مثبت سرگرمیوں کی بجائے سطحی مواد اور نام نہاد شہرت کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے، جہاں اکثر ذرائعِ آمدن بھی اخلاقی اور شرعی حدود سے بالاتر ہوتے ہیں۔
​نعمتوں کی ناقدری: اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ حلال اور طیب نعمتوں کی قدر کرنے کے بجائے فیشن ایبل اور مصنوعی طرزِ زندگی کو ترجیح دی جا رہی ہے۔
​تربیتی نظام کا بحران: بچوں کی روایتی اور اسلامی تربیت کا انداز یکسر بدل چکا ہے، جس سے نئی نسل اپنے اصل تہذیبی ورثے سے کٹ رہی ہے۔
​نصابِ تعلیم اور فکری انحراف: قرآنی تعلیمات اور مستند دینی لٹریچر کی ترویج کی بجائے مادی اور خودساختہ نظریات پر مبنی کتابوں کو نصاب اور مطالعے کا حصہ بنایا جا رہا ہے۔
​پبلک سپیسز اور اخلاقی ضابطے: خواتین کا غیر شرعی لباس اور خوشبو کا استعمال کرکے پبلک مقامات پر بے باک گھومنا معاشرے کے روایتی خاندانی نظام اور اخلاقی اقدار کے منافی ہے۔
​یہ صورتحال اس امر کی متقاضی ہے کہ ہم بحیثیتِ معاشرہ اپنی سمت کا درست تعین کریں، دینی اقدار کی طرف پلٹیں اور اپنیے اخلاقی معیار کو دوبارہ بلند کرنے کے لیے عملی اقدامات کریں۔

Address

Arifwala
57450

Telephone

+923025708504

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Ali Consultant posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Ali Consultant:

Shortcuts

Share

Category