A birds jand

A birds jand تمام فینسی برڈز اور اصیل مرغوں کا شوق کرنے کے لیے ہمارے پیج کو لائیک اور فولو ضرور کریں
A Birds jand

🌷 السلام علیکم 🥀 🤟میں امید کرتا ہوں کہ تمام بھائی خیریت سے ہوں گے اور شوق بھی اچھا جارہا ہو گا💔
09/10/2024

🌷 السلام علیکم 🥀

🤟میں امید کرتا ہوں کہ تمام بھائی خیریت سے ہوں گے اور شوق بھی اچھا جارہا ہو گا💔

25/07/2024

2000,2500 کی قیمت میں پٹھا ضرورت ہے اگر کسی بھائی کے پاس ہے تو بتائیں

اصیل مرغبازی کا تاریخی پس منظر A birds jand  💔بہت سے کائرین کا خیال ھے کہ اس کی تلاش کہ گیم فاوئل کہاں سے آیا اور اس کو ...
15/07/2024

اصیل مرغبازی کا تاریخی پس منظر
A birds jand 💔

بہت سے کائرین کا خیال ھے کہ اس کی تلاش کہ گیم فاوئل کہاں سے آیا اور اس کو کب پالتو بنایا گیا ھے۔ اس کا علم کسی کے پاس بھی نہیں ھے۔ حتمی اور یقینی رائے ایک بے معنی بحث ھے۔ بلکل جیسے گھوڑے اور کتے کی اصالت کے بارے تاریخ خاموش ھے بلکل اسی طرح گیم فاوئل کے جنم پر بھی کچھ درست معلومات نہیں ھیں۔ لیکن پرانی کتابیں جن میں مرغ نامہ، Herbert Atkinson کی مشہور زمانہ "اولڈ انگلش گیم کاک" اور دوسرے یورپین مصنفین اور مائے ناز اصیل رکھنے والے حضرات کی آراء اور ان کی پرانی کتابوں اور ڈائریز سے یہ کہا جا سکتا ھے کہ اس کا تعلق درج ذیل جنگلی پرندوں (jungle fowl) سے ضرور ھے۔

1- Gallus ferruginous (سرخ جنگلی مرغ)
2- Gallus Sonneratii (انڈین گرے جنگلی فاوئل)
3- Gallus Varius (ملائشیا جزیروں کے گرین جنگلی فاوئل )
4- Gallus Lafayetti (سری لنکن /سیام جنگلی مرغ )
5- Gallus Giganteus (extinct specie in wild now but believed to be originated in present Serilanka & surrounding geographic regions)

یہ سب جنگلی پرندے تھے اور اب بھی مخصوص علاقوں میں پائے جاتے ھیں۔ یہ مرغ کب ایک دوسرے سے کراس ھوئے اور شوقینوں نے ان کو کیسے پالتو بنایا، لڑنے والے گیم کے لیے کب تیار کیے، کیا کیا نام رکھے اور اصیل تک سفر کیا اور پھر پٹ میں لڑائی کروا کے منوایا؟ اس پر بھی خاموشی نظر آتی ھے اور دلیل کے ساتھ کچھ بھی نہیں کہا جا سکتا ۔ بقول Atkinson کے وہ اس زمانے میں جن کو اتھارٹی سمجھتا تھا ان کی رائے تھی کہ وہ تمام گیم فاوئل جن کی ٹانگیں اور گوشت پیلا یا زردی مائل (yellow ) تھے وہ انڈین اقسام میں سے تھیں جو انھوں نے ان جنگلی پرندوں سے کراس کر کے بنائی تھیں۔ اسی طرح پرانی سفید نلی اور گوشت والے پرندے انگلینڈ میں بہت پہلے ھی آ گئے تھے۔ ایک اور گورے کی کتاب سے ان کا تعلق ایران اور گردونواح سے کیا گیا۔ جو اب ناپید ھو گئے ھیں۔ جبکہ انڈین ورائٹی اب بھی کسی نہ کسی فارم میں ان علاقوں میں پائی جاتی ھیں۔ مرغبازی پر دنیا بھر میں لیٹریچر 1800 عیسوی کے کافی بعد منظر عام پر آیا۔ اس سے پہلے بہت بڑی تاریخ ھے۔ سائنس 6000 سے 7000 قبل مسیح کا ذکر کرتی ھے لیکن یقین ھے کہ یہ شوق انسانوں نے بہت ھی اوائل قدیم دور میں اپنا لیا تھا۔ یقینا 10000 سال پہلے کے آثار نظر آتے ھیں۔

ایک اور صاحب Trevor Dickins نے درج ذیل اصلی جنگلی قسموں کا ذکر کیا ھے اور اب ان پر اچھی خاصی معلومات اور ویڈیو کلپز موجود ھیں۔ ان صاحب کی بے انتہا شوق کی بدولت انھوں نے مختلف جنگلی بریڈز بنائی تھی اور ان کو رنگ اور مختلف خصوصیات کی بنیاد پر کچھ نسلوں کے نام بھی دیے ۔ چنانچے ان کی ریسرچ کو قطعی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ اور ان کو تسلیم کرنا پڑتا ھے۔

1. Black breasted reds, with fawn partridge hens.
2. Brown breasted reds, with dark brown hens.
3. Red breasted ginger reds, with yellow legs and light partridge hens.

کوئی بھی شوق بغیر کسی پس منظر کے مکمل نہیں ھوتا۔ چونکہ ھم اس شغل سے جڑے ھوئے ھیں اس لیے اس کے بارے پرانی کتابوں اور قصے کہانیوں سے کافی کچھ جان سکتے ھیں۔ برصغیر میں رام پور سٹیٹ کے نواب یار محمد خان صاحب (1883) کی لکھی ھوئی کتاب "مرغ نامہ" ایک مستند حوالہ مانا جاتا ھے۔ اس کتاب کو بعد میں لیفٹینٹ کرنل ڈی-سی فیلوٹ نے انگریزی میں بھی ترجمہ کیا۔ انھوں نے بھی کم وپیش مرغ اور اصیل کی کہانی کچھ اسی طرح سے بیان کی ھے۔

1- ٹہنی ۔۔۔۔۔ ( کسی درخت کی چھوٹی سی شاخ مطلب جس کی کوئی خاص حیثیت نہیں) ایک عام سے گھریلو مرغوں کی نسل جو صرف گوشت اور انڈوں کے لیے۔

2- گھگاس (Ghagas) ... ( کراس بریڈ گیم فاوئل اور ٹہنی )

کچھ اور مقامی لیٹریچر اور قصے کہانیوں سے بھی علم ھوا کہ ۔۔۔۔

3- کرناٹکا یا کرکناتھ (KARNATAKA or KARAKNATH )...... یہ مرغوں کی وہ نسل ھے جس کی جلد، ہڈیاں، زبان، آنکھیں اور حتکہ خون بھی کالے رنگ کا ھو۔ یہ نسل لڑائی کے لیے اچھی نہیں تھی۔ ابھی جاوہ، سماٹرا کے جزیروں اور انڈونیشیا کے کچھ حصوں اور اردگرد مل جاتی ھے۔ یہ شاید ملائشیا کے جزیروں سے 800-1000 عیسوی میں تامل پندائن جنگی مہمات کے دوران لے کر آئے تھے۔ اسی طرح کی نسل ایران کے صوبہ خوارسان کے علاقہ سبز وار (Sabzevar ) میں بھی تھی۔ جو شاید قدیم ایران کی وسیع و عریض سلطنتوں کے دوران قبل مسیح یہاں لائے گئے تھے۔

4- کلکنٹیا (Kalkatiya) .... یہ بہت خاص چھوٹے سائز کے ڈارک کلر میں (کالے اور لال) ریزہ نسل تھی۔ کالے کیل والے سے کلکنٹیا نام پڑا۔ یہ خیال ھے کہ سنگاپور یا قریبی علاقوں کے جنگلوں میں ھی کراس سے بنی بریڈ تھی۔ ان کا آگے استعمال بہت نمایاں نظر آتا ھے۔

5- اصیل ۔۔۔۔۔ پاک و ہند گیم فاوئل جو رکھا گئے ، پالے گئے اور دنیا میں لے جائے گئے اور اصل لڑائی کے لیے وجہ شہرت بنے۔

ایک بہت ھی عام سی طعنے کے انداز میں پاکستان اور انڈیا میں ضرب المثل بھی ھے کہ " ماں ٹہنی ، باپ گلنگی جن کے بچے رنگ برنگے "۔

لفظ " اصیل" برصغیر (پاک و ہند) سے ھی نکلا ھے۔ عربی زبان کا لفظ ھے جس کا مطلب خالص، شریف، مانا ھوا نسلی، ایک لمبی ہسٹری لیے ھوئے۔ اصیل دنیا جہاں میں مختلف ذرائع سے پھیلے۔ ان میں پرانی ایشیائی آبادیوں کی جنگی مہمات، سیاحوں، تاجروں، انگریز حکومت کا یہاں پر قابضہ (1790 سے 1947) اور پہلے پاکستان اور بھارت کی تقسیم (1947) اور بعد میں پاکستان اور بنگلہ دیش کی تقسیم (1971) کا اہم کردار ھے۔

نسلوں کو ایک دوسرے سے جوڑنا ابھی مناسب نہیں ھے۔ اصیل کیسے آئے اور کہاں سے نکلے۔ کچھ یورپین لکھاریوں نے انگلینڈ کو اس کا مرکز کہا ھے لیکن اچھے اور مستند لکھاری انڈیا اور گردونواح کو ھی اصیل کا مرکز کہتے اور مانتے ھیں۔ " مانو ڈاکومنٹس کی قدیم سکرپٹ Dharmastra " جو 1000 سال قبل مسیح کے ھیں ۔ ان سے لڑائی والے جنگلی فاوئلز کا بخوبی علم ھوتا ھے۔ پھر مغلیہ دور سے بھی اصیل لڑائی کے شواہد ملتے ھیں۔ خسرو شہزادہ کی دلچسپی کی پینٹنگز اب بھی موجود ھیں۔ریاست اودھ کے نواب شجاع الدولہ (1730-1746 ) کا فیض آباد میں مرغ بازی کا شوق اور پھر ان کے بعد نواب آصف الدولہ کی لکھنو میں بے پناہ دلچسپی سے بھی اندازہ لگایا جا سکتا ھے۔انھوں نے تو مرغ بازی کے لیے گنج مشک میں ایک وسیع و عریض بلڈنگ تعمیر کروائی جس کا نام مرغ خانہ رکھا ۔ خواجہ محمد علی خیلجی جو الہ آباد کے قلعدار تھے ۔ انھوں نے بھی بہت پائے کے اصیل مرغ پال رکھے تھے اور باقاعدہ لڑاتے تھے۔ ان کے ہاں مشہور تھا کہ ایک اس زمانے میں کسی راجہ نے ان سے مرغ کا بچہ مانگا تو انھوں نے جواب دیا کہ میرا اپنا بیٹا حاضر ھے مرغا یا اس کا بچہ تو نہیں دے سکتا۔ نواب غازی الدین حیدر صاحب کے زمانے میں برصغیر میں مرغ بازی کو بہت عروج ملا۔ اس زمانے میں کیپٹن اسٹینلی، ڈاکٹر شیرا صاحب فیض آبادی ،نواب صمصام الدولہ بہادر، نواب برہان الدین حیدر، میاں داراب، نواب عباس مرزا شہزادہ دہلی، نواب باندہ، دریا باد کے چودھری صاحب، موتی میاں شاہ جہان پوری، نواب منگا صاحب، نواب حیدر علی خان، نواب احتشام الدولہ، سید نظیر علی خان اور ان جیسے کئی اور بہت مشہور و معروف شوقینوں کی فہرست میں تھے۔ نواب حیدر علی خان رام پور والے اور صمصام الدولہ نیشاپوری کے مرغوں کی لڑائی میں شوق بھی قابل دید اور دیکھنے والا ھوتا تھا۔ کیپٹن سٹینلی نے اس زمانے کے کئی مقامی مرغ باز اور شوقینوں کو صرف مرغوں کی دیکھ بھال اور اپنی ٹریننگ کے لیے ملازم رکھے ھوئے تھے۔ آئے روز لکھنو میں مقابلے میں شریک ھوتے۔ 1879 میں مرغ بازی کو بے رحم شغل تصور کرتے ھوئے اس کے امتناع میں قانون پاس ھونے لگا تو اپنے اثرورسوخ سے اس کو روکوایا۔ یہ صاحب بعد ازاں جب برصغیر سے اپنی فوجی خدمات سے سبکدوش ھوئے تو اپنے ساتھ کئی عمدہ اصیل مرغ انگلینڈ لے کر گئے۔

مرغ بازی اس دور کے بادشاہوں، نوابوں اور راجوں و مہراجوں کا کھیل تھا ۔ مرغ شجاعت اور ولولے کی علامت اور سپاہیوں کے لیے ایک سبق اور ٹریننگ کی علامت سمجھے جاتے تھے۔ کرہ ارض پر اصیل مرغ شجاعت اور ولولے کا وہ نام ھے جو کسی اور حیوان میں نہیں ملتا۔ زخم لگنے کے باوجود میدان میں ڈٹا رھنا اور لڑتے لڑتے مزید زخم لیتے رھنا، اندھا ھو جانا، لیکن آخری دم تک ہمت نہ چھوڑنا کی مثال اصیل مرغ کے علاوہ کسی اور جانور کی نہیں دی جا سکتی۔

جہاں برصغیر کے سپاہی جفاکشی اور بہادری کی مثال آپ تھے وہاں یہاں کے اصیل بھی دنیا بھر اپنی جنگی خصوصیات کی بدولت لاجواب تھے اور یہاں سے انگلستان اور یورپ اور پھر براعظم امریکہ اور افریقہ میں پھیلتے گئے۔ مشہور ھے کہ چارلس دوئم شاہ انگلستان کو دو اصیل مرغ تحفہ میں بھیجے گئے جن کا مقابلہ لندن کی نیو مارکیٹ میں کرائے گیا ۔ ان مرغوں نے بہادری اور شجاعت کے وہ جوہر دکھائے کہ اکابرین لندن اور شاہ انگلستان حیرت زدہ رھے گئے۔ اس سے برصغیر کے اصیل مرغوں کا چرچا انگلستان اور یورپ میں ھوا۔ اسی شوق کی پذیرائی کے لیے ریڈلے نامی مصور جو شاہ جارج سوئم اور چہارم کے درباری مصور تھے۔ ایک پینٹنگ جو اصیل مرغ اور انگلش گیم فاوئل کی بنائی گئی۔ بعد ازاں ایک مقامی مصور سے دو راجاؤں کے اصیل مرغوں کی لڑائی کی بھی تصویر بنوائی گئی جو دس ہزار پاؤنڈ کی بازی پر لڑائے گئے تھے۔

مئی 1786 میں کرنل مورڈنٹ جو انگلستان کے بہت بڑے شوقین اور لکھاری بھی تھے۔ اپنے بہترین انگلش گیم فاوئلز لکھنو لے کر آئے اور برصغیر کے اصیلوں کے ساتھ مقابلہ کروایا ۔ جو سب باری باری بری طرح ہار گئے۔ کرنل صاحب واپسی پر کچھ اصیل یہاں سے لے کر گئے۔ ان کے بعد لارڈ کلائیو اور جنرل گلبرٹ کی وساطت سے بھی گئی اصیل یہاں سے گئے۔ مورڈنٹ کی کتاب بھی ایک بہترین اور اچھی کاوش ھے۔

ہربرٹ اٹکینسن (Herbert Atkinson ) جنہیں بلاشبہ بہترین شوقین اور اصیلوں کا بادشاہ کہا جائے تو غلط نہ ھو گا ۔ انھوں نے 1895 میں انڈیا کے کچھ اصیل لے لیے۔ بعد میں جب ان کو برصغیر کی بہترین نسلوں کا علم ھوا جن میں عامر خان (گھان)، سنوٹل اور سیاہ رام پوری نسلیں قابل ذکر ھیں۔ تو یہ اپنے دوستوں کی بدولت 1905 میں یہاں خود آئے اور دو جوڑے جو ایک Dark red color اور دوسرا light red color لے کر گئے۔ جن کی نسلیں اب بھی یورپ، امریکہ، میکسیکو، برازیل اور ساوتھ افریقہ میں دیکھی جا سکتی ھیں۔ ان کی خدمات اس شوق میں لازوال ھیں اور ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔ انھوں نے نہ صرف ان 2 جوڑوں سے بریڈ بنائیں بلکہ ان کو اصل حالت میں محفوظ بھی بنایا اور ساتھ ساتھ اب تک کی بہترین دو عدد کتابیں بھی اصیلوں پر لکھ کر کافی حد تک ہسٹری کو بھی محفوظ کیا۔ ان ممالک میں "راجا مرغ" کے نام سے اصیل نسل اب تک چل رہی ھے۔

دوسری طرف برصغیر پاک و ہند جو بہت بڑے رقبے پر محیط تھا۔ وقت گزرنے کے ساتھ انڈیا، پاکستان، بنگلہ دیش، ایران، افغانستان، سری لنکا جیسے مملکتوں میں تبدیل ھو گیا۔ انڈیا کی اودھ سٹیٹ چھوٹے پکے اور ہلکے لال ریزہ اصیلوں اور سیاہ رامپوری اصیلوں کی وجہ سے بہت مشہور تھے۔ جبکہ پاکستان کے علاقے سندھ اور مغربی اور شمالی پنجاب کے علاقوں میں میڈیم سے بڑے سائز کے اصیل مشہور تھے۔

پاک و ہند کی تقسیم سے کہیں پہلے تامل پندائن سلطنت میں مرغ سری لنکا، سیام، ملائشیا اور ارد گرد ایشیائی ممالک سے تبدیل ھوتے رھے۔ برصغیر تقسیم سے پہلے یا دوران کچھ حضرات نے ایک دوسرے کے ساتھ مرغ تبدیل کیے، اور کچھ آج بھی سوفٹ بارڈر اور دبئی کے ذریعے اصیلوں کی ترسیل کر رھے ھیں۔ پاکستان میں پیر شاہ عالم شاہ، نواب آف ڈیرہ غازی خان، میانہ فیملی (چن شاہ صاحب ،حاجی میاں افضل میانہ، میاں ظہور الدین میانہ)، بھیرے کے حکیم فیملی، عالم شیر بندیال، عباس بندیل، سردار افضل شاہ صاحب، سردار ذوالفقار حیدر شاہ،اصغر خان روگڑی، نواب سعید موکل، ڈنگہ کے طفیل شاہ اور دور حاضر کے بہت سارے شوقینوں کے پاس اب انہی کی چھوڑی یا کراس سے بہترین بریڈز موجود ھیں۔ جن میں امروعا، میرٹھی، جاگیری، میانو والے پیلے، جاوے، دیوان والے مشکے، لاسانی، گندھاری، رام پوری، سنوٹل، ٹیکر، گالویے، کمالیہ، ساہیوال (خصوصا وسلی والے) اور سندھی اصیل بہت شہرت رکھتے ھیں۔
عثمان خان اصیل🌷

Copy

 #ماشاءاللــّٰـــــه 🥀 🌷سنائیں  کیا حال ہے تمام بھائیوں کا تو دوستو بھائیو آج میری برید چیک کریں اور اپنی رائے دیں شکریہ...
14/07/2024

#ماشاءاللــّٰـــــه 🥀

🌷سنائیں کیا حال ہے تمام بھائیوں کا تو دوستو بھائیو آج میری برید چیک کریں اور اپنی رائے دیں شکریہ 🥀

اچھا شوق دیکھنے کے لیے آپ میرے پیج کو لائیک اور شئیر کجیئے شکریہ 🥀

A birds jand

11/07/2024

#ماشاءاللــّٰـــــه 🥀۔

💯دوستو مرغا چیک کرو ویسے میرے خیال میں آج کل اس طرح کے مرغے پسند کئے جاتے ہیں کیوں کہ یہ مرغے لڑنے میں تیز ہوتے ہیں اور میدان میں اچھی کارکردگی دکھاتے ہیں 🌷

میرے پیج کو لائیک اور شئیر کجیئے شکریہ 🥀

A birds jand

 #ماشاءاللــّٰـــــه 🌷آپ سب دوستوں کی محبت کا بہت بہت شکریہ 🥀⁦ساتھ ساتھ مجھے فولو کرتے جائیں تاکہ مزید اچھا شوق🌷 دکھا سک...
10/07/2024

#ماشاءاللــّٰـــــه 🌷

آپ سب دوستوں کی محبت کا بہت بہت شکریہ 🥀

⁦ساتھ ساتھ مجھے فولو کرتے جائیں تاکہ مزید اچھا شوق🌷
دکھا سکیں🌹





A birds jand

 #ماشاءاللــّٰـــــه💯🌹میرا بریڈر مرغا کیسا لگا میرا شوق سب دوست کومنٹس میں اپنی رائے دیں شکریہ ان شاءاللہ اس کے بچوں کا ...
09/07/2024

#ماشاءاللــّٰـــــه💯

🌹میرا بریڈر مرغا کیسا لگا میرا شوق سب دوست کومنٹس میں اپنی رائے دیں شکریہ ان شاءاللہ اس کے بچوں کا بھی شوق کرواؤں گا جلد💯🥀
سب دوست بھائیوں سے گزارش ہے کہ میرے پیج A birds jand کو لائک اور شیئر فولو کریں شکریہ 🥀

🌹کہہ دو غم حسین منانے والوں سے🌹 مومن کبھی شہداء کا ماتم نہیں کرتے 💯ہے عشق اپنی جاں سے بھی زیادہ آل رسول سے 💯یوں سرعام ہم...
08/07/2024

🌹کہہ دو غم حسین منانے والوں سے🌹

مومن کبھی شہداء کا ماتم نہیں کرتے 💯

ہے عشق اپنی جاں سے بھی زیادہ آل رسول سے 💯

یوں سرعام ہم ان کا تماشا نہیں کرتے🌷

😭روئیں وہ جو منکر ہیں شہادت حسین کے💯

ہم زندا جاوید کا ماتم نہیں کرتے💯🥀

⁦❤️⁩علامہ محمد اقبال رحمۃ اللّٰہ علیہ کا شعر💯

Follow my page

A birds jand

MashAllah Shams warraich.ka shok check krein aur acha shok dekhney k ley hame follow zaror krein shukryaA birds jand
05/07/2024

MashAllah Shams warraich.ka shok check krein aur acha shok dekhney k ley hame follow zaror krein shukrya

A birds jand

MASH ALLAHMurghi ka shok krein kesy lgy mujhy sath sath like aur follow krty Jain shukryaA birds jand
04/07/2024

MASH ALLAH

Murghi ka shok krein kesy lgy mujhy sath sath like aur follow krty Jain shukrya

A birds jand

Address

Attock City

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when A birds jand posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share

Category