31/12/2024
1۔ نان فائلرز اب موٹرسائیکل، رکشہ اور ٹریکٹر کے علاوہ کوئی گاڑی نہیں خرید سکیں گے۔
2۔ نان فائلرز کسی کار کمپنی یا ڈیلر سے نئی گاڑی نہیں بک کرا سکیں گے۔
3۔ نان فائلرز اگر اوپن مارکیٹ سے گاڑی لے لیں گے تو اپنے نام پر رجسٹر یا ٹرانسفر نہیں کرا سکیں گے۔
4۔ ٹرانسپورٹ کمپنیز اپنے لئے بس یا ٹرک خریدنا چاہیں تو اس کیلئے اجازت لینی پڑے گی۔
5۔ ٹیکس ریٹرن میں اپنی مالی حیثیت ظاہر کئے بغیر جائیداد لیں گے تو اس کی رجسٹری نہیں ہو سکے گی، مالی حیثیت ظاہر کی ہے لیکن جائیداد خریدنے کیلئے بینک ٹو بینک پیمنٹ نہیں کریں گے تو اس جائیداد کی کل مالیت پر جرمانہ عائد ہو جائے گا، جائیداد ضبط بھی ہو سکتی ہے۔
6۔ اب ٹیکس ڈیپارٹمنٹ آپ کے بینک اکاؤنٹس کو ڈائریکٹ دیکھ سکے گا کہ اس میں کتنی رقم آئی گئی ہے اور آپ نے ریٹرن میں کتنی انکم دکھائی ہے اور کتنی ٹرانزیکشن چھپائی ہے۔
7۔ نان فائلرز اب بیسک بینک اکاؤنٹ یا آسان اکاؤنٹ کے علاوہ کوئی بینک اکاؤنٹ نہیں کھلوا سکیں گے، بیسک یا آسان اکاؤنٹ میں آپ سال بھر کے اندر تقریباً پانچ لاکھ سے زیادہ رقم کریڈٹ نہیں کر سکتے۔
8۔ نان فائلرز کے موجودہ سیلریڈ اینڈ بزنس اکاؤنٹس جن میں ٹیکس ایبل سطح کا کریڈٹ آتا ہے یہ فائلر نہیں ہوں گے تو ان کے اکاؤنٹس فریز ہو سکتے ہیں۔
9۔ اب ہر قسم کے بینک اکاؤنٹ سے رقم جمع کرانے اور نکالنے پر ایک لمٹ نافذ ہوگی، اس کی وجہ یہ کہ لاکھوں لوگ انکم ٹیکس میں مائینر سی انکم دکھاتے ہیں جبکہ ان کے اکاؤنٹ میں کئی گنا زیادہ رقم آئی گئی ہوتی ہے لہذا کسی فارمولے سے اس کو لمیٹائز کیا جائے گا تاکہ لوگ صحیح انکم بتائیں اور اس سے سوا گنا یا ڈیڑھ گنا تک کریڈٹ کی لمٹ لے لیں۔
10۔ سیلزٹیکس ایبل دکاندار، ٹریڈرز اینڈ ریٹیلرز، جو سیلزٹیکس میں رجسٹرڈ نہیں ان کے بینک اکاؤنٹس اور پراپرٹیز فریز یا سِیل کی جا سکتی ہیں۔
مزید معلومات کے لیے رابطہ
ملک عادل اصغر ایڈووکیٹ ہائی کورٹ
(عادل لاء ایسوسی ایٹس)
03134646460