Amir Bashir

18/05/2025

Making dinner 😋

ایسی پالیسی بنانے والے پر افسوس صد افسوس
22/06/2024

ایسی پالیسی بنانے والے پر افسوس صد افسوس

10/06/2024

’’ اغواء برائے تاوان کیسے ہوتے ہیں
کچھ عرصہ پہلے کی بات ہے مجھے ایک دوست نے مشورہ دیا کہ olx پر بھی اپنی پراڈکٹ لسٹ کیا کرو وہاں سے بھی اچھا بزنس ملتا ہے.
میں نے جھٹ سے olx ڈاؤنلوڈ کی اور بیری کے شہد کا ایڈ لگا دیا
اگلے دن سلاجیت کا اور پھر اسی طرح روزانہ کی بنیاد پر ایڈ لگانے شروع کر دیئے مگر کوئی رسپانس نہیں ملا، لیکن ہم نے تو سیکھا ہے کہ نتیجے پر نظر رکھے بغیر محنت کرنی ہے، سو لگے رہے.
چند دن بعد olx کی طرف سے آفر ہوئی کہ صرف 500 روپے میں 1 ہفتے کے لیئے پوسٹ کو بوسٹر لگائیں اور پتا نہیں کتنے ہزار لوگو تک آواز پہنچائیں
میں نے جھٹ سے بیری شہد کی پوسٹ کو بوسٹر لگا دیا
اگلے ہی دن 1 صاحب نے رابطہ کیا اور کہنے لگے olx پر آپ کا بیری شہد کا ایڈ دیکھا
دراصل ہماری کمپنی پاکستان سے مختلف اشیاء باہر ممالک میں ایکسپورٹ کرتی ہے اور ہمارے پاس ایک ٹن کے قریب بیری شہد کا ابتدائی آرڈر ہے
کیا آپ ہمیں اتنا شہد مہیا کر سکتے ہیں؟ کیا قیمت ہو گی، کوالٹی کیسی ہو گی وغیرہ وغیرہ
بار بار کہتا سر خیال رکھیں کوالٹی میں شکایت نا ہو اور ہمیں ہر مہینے اتنا ہی شہد چاہئیے ہو گا بس سپلائی نہیں رکنی چاہیے
کافی ساری باتیں اور معاملات ڈسکس کرنے کے بعد کہنے لگے کہ ہمارے باس فوجی جنرل ہیں اور یہ انکی کمپنی ہے
ابھی وہ انگلینڈ میں ہیں کل یا پرسوں واپس آ رہے ہیں تو میں آپ کی میٹنگ ارینج کرواتا ہوں
بس آپ نے خیال رکھنا ہے کہ اکیلے آنا ہے، میں نے پوچھا کہاں آنا ہے تو کہنے لگا فیصل آباد یا بہاولپور.
ان دو شہروں میں ہمارے آفس ہیں
میرے تو دل میں لڈو پھوٹ رہے تھے کہ لو بھئ میری تو چاندی لگ گئی
فون بند ہوا تو میں حساب کتاب لگانے لگا کہ کتنے پیسے بچیں گے، سپلائی کیسے مینج ہو گی وغیرہ وغیرہ
2 گھنٹے گذرے تو ان صاحب کا پھر سے فون آ گیا پوچھنے لگے کہ کمپنی میں آپ کے ساتھ کوئی شریک تو نہیں آپ اکیلے ہی ہیں فیصلہ خود ہی کرتے ہیں وغیرہ وغیرہ
پھر کہنے لگے میری اپنے باس سے بات ہو گئی ہے وہ پرسوں آ رہے ہیں آپ نے پرسوں 2 بجے فیصل آباد پہنچنا ہے
پھر پوچھنے لگا کیسے آئیں گے اپنی گاڑی پر یا لوکل؟ میں نے کہا لوکل ہی آؤں گا آپ یہ بتائیں فیصل آباد میں آنا کہاں ہے؟
کہتا جب آپ فیصل آباد پہنچے تو بتا دینا ہمارا بندہ خود آپ کو لے آئے گا مگر خیال رکھیں کہ اکیلے ہی آنا.
میں نے اثبات میں سر ہلا دیا
فون بند ہوا تو میں نے فوراً ڈائیو کی ایپ سے آن لائن فیصل آباد کی ٹکٹ بک کی اور اس بندے کو واٹس اپ کر کے اطلاع کر دی کہ ٹکٹ ہو گئی ہے کہتا بہت خوب بس خیال رہے کہ آپ نے اکیلے ہی آنا ہے
اب تو جیسے ہی اس نے ایسا کہا مجھے کھٹکا کہ یار یہ کیا بات ہوئی بار بار 1 ہی بات، کہیں دال میں کچھ کالا تو نہیں
میں نے بیگم صاحبہ کو ساری صورتحال بتائی وہ بھی کہنے لگی کہ کیوں ایسا کہہ رہا ہے
چھٹی حس نے خطرے کی گھنٹی بجا دی، میں سوچنے لگا کہ اب کیا کروں، ایک طرف لمبی دیہاڑی تھی اور دوسری طرف خطرے کی گھنٹی.
فیصلہ کرنا کافی مشکل ہو رہا تھا کہ کیا کرنا چاہیے اس صورتحال کو کیسے مینج کروں
خیال آیا کہ استاد جی سے مشورہ کرتا ہوں، فون کیا ساری صورتحال سے آگاہ کیا تو استاد جی کہنے لگے کوئی بات نہیں اب اگر فون آئے تو کہنا کہ ہم 2 سے 3 لوگ آئیں گے اپنی گاڑی پر اور اسکا ری ایکشن دیکھنا پھر فیصلہ کرتے ہیں کہ کیا کرنا ہے، میں نے کہا ٹھیک ہے دیکھتے ہیں.
کچھ ہی دیر گذری تھی کہ پھر فون آ گیا اور اس دفعہ تو مجھے اس بندے کا لہجہ بھی عجیب سا لگا، کچھ دیر بات کرنے کے بعد کہتا پھر ٹکٹ ہو گئی آپ کی، پھر اکیلے ہی آ رہے ہیں نا؟
میں نے کہا نہیں پروگرام بدل گیا ہے جی ہم 3 لوگ آئیں گے اور اپنی گاڑی سے آئیں گے
یہ سننا تھا کہ جناب کے تو اوسان ہی خطا ہو گئے ایسے جیسے بوکھلا گیا ہو.
ذیشان صاحب آپ کا دماغ خراب ہے، آپ کو عقل نہیں، فلاں فلاں
میں نے کہا بھائی خیر تو ہے آپ کا تو رویہ ہی عجیب ہو گیا ہے،
مزید کچھ بات بڑھی تو غصے سے فون بند کر دیا
ایسے لگ رہا تھا جیسے جناب کا کوئی بہت بڑا پلان کینسل ہو گیا ہو
لہجے سے بوکھلاہٹ واضح تھی
خیر میں نے استاد جی کو فون کر کے ساری صورتحال بتائی تو کہتے اب تم نے کوئی رابطہ نہیں کرنا اگر وہ کرے تو میرا نمبر دے دینا میں دیکھ لوں گا.
چند دن گذرے ہوں گے کہ استاد جی کا فون آیا تو اوسان خطا ہوئے پڑے تھے سانس پھولا ہوا، میں نے کہا کیا ہوا خیر تو ہے؟
کہنے لگے ذیشان صاحب شکر کرو اللہ تمہیں اغوا ہونے سے بچا لیا میں نے کہا کیا مطلب ؟
تو کہنے لگے تمہیں جو فون آیا تھا نا وہ اغواء برائے تاوان والوں کا تھا
میں نے کہا کیا مطلب؟ تو کہنے لگے کہ مجھے کل اسی طرح سے شیخوپورہ کے مضافاتی علاقہ سے 1 مشین کی انکوائری آئی اور میں نے سوچے سمجھے بغیر کہ شیخوپورہ میں جہاں یہ بلا رہے ہیں وہاں تو کوئی بڑی انڈسٹری بھی نہیں ملنے کی حامی بھر لی اور آج صبح گاڑی پر شرقپور پہنچ گیا وہاں پہنچ کر رابطہ کیا تو واٹس اپ پر لوکیشن بھیج دی کہ اس جگہ پہنچیں ہم منتظر ہیں
کہتے میں لوکیشن فالو کرتے ہوئے جانے لگا تو محسوس ہوا کہ یہ جگہ تو بلکل ویران ہے غور کیا تو پتا چلا کہ پیچھے سے 1 گاڑی مسلسل پیچھا کرتی ہوئی آ رہی ہے
اتنے میں پکی سڑک ختم ہو کر کچا ٹریک شروع ہو چکا تھا اور دائیں بائیں مڑنے کا بھی کوئی راستہ نہیں تھا
کہتے اچانک دل میں خیال آیا کہ کہیں ایسا تو نہیں کہ جس سے میں رابطے میں ہوں پیچھے آتی گاڑی میں تو نہیں
گاڑی کی رفتار کچھ کم کی تو پچھلی گاڑی ذرا قریب آئی میں نے نظریں اس پر جماتے ہوئے اس بندے کو فون ملایا
جیسے ہی رنگ ہوئی تو پچھلی گاڑی کی فرنٹ سیٹ پر بیٹھے بندے نے فوراً فون اٹھایا اور کہنے لگا بھائی ہم انتظار میں ہیں آپ جلدی پہنچیں
استاد جی کہنے لگے میں ڈر تو پہلے ہی رہا تھا اب اور گھبرایا اور راستہ دیکھنے لگا کہ کیسے بھاگنا ہے
کہتے مجھے اور تو کچھ سمجھ نہیں آئی تو میں نے فوراً گاڑی شیخوپورہ شہر کی طرف گھمائی اور ادھر ادھر دیکھے بغیر بس بھگاتا ہی رہا اور شیخوپورہ پہنچ کر سانس لیا
اس بندے کے بار بار فون آتے رہے میں نے تو نمبر ہی بلاک کر دیا.
میں نے پوچھا اب کہاں ہو کہتے شیخوپورہ سے نکل رہا ہوں ابھی،
وہاں سے سیدھا 1 دوست کے پاس چلا گیا تھا جب اسے سٹوری سنائی تو کہتا شکر کرو بچ گئے یہاں ایسے واقعات ہوتے ہیں اور اغواء کر کے کہیں لے جاتے ہیں ۔ پھر تاوان لیتے ہیں اور شدید ٹارچر کرتے ہیں.
یوں استاد شاگرد کو اللہ نے 1 بڑے حادثے سے بچا لیا
اب تو میں نے پکا اصول بنا لیا ہے کہ جو بھی ہو جتنا بھی بڑا گاہک ہو کبھی خود چل کر نہیں جانا بلکہ اسے اپنے پاس بلانا ہے
آج سیالکوٹ سے تعلق رکھنے والے ایک بھائی کی وڈیو دیکھی تو اپنا سین یاد آگیا
اس بیچارے کو بکرے دینے کے بہانے راجن پور بلایا گیا اور دل دہلا دینے والے تشدد کیئے اور بھارا تاوان لینے کے بعد چھوڑا
،copy

آج لوگوں کو بہت گرمی محسوس ہو رہی ہے ، کب تک اے سی ہم کو سہارا دیں گے، آج پاکستان میں 200کروڑ درختوں کی ضرورت ہے۔ درجہ ح...
24/05/2024

آج لوگوں کو بہت گرمی محسوس ہو رہی ہے ، کب تک اے سی ہم کو سہارا دیں گے، آج پاکستان میں 200کروڑ درختوں کی ضرورت ہے۔
درجہ حرارت تھوڑی دیر میں 45 ° C سے 49 ° C اور 55 ° C سے 60 ° C تک پہنچ جاتا ہے۔
انسانوں کے لیے 56 ڈگری سینٹی گریڈ میں زندہ رہنا مشکل ہو جائے گا۔ ہمیں پہلے ہی درخت لگانا ہوں گے۔ کیونکہ ایک درخت کو بڑھنے میں پانچ سے سات سال لگتے ہیں۔

دو درخت خود لگائیں، سب کچھ حکومت پر نہ چھوڑیں۔

درخت آپ کے ماحول کو آلودگی سے پاک رکھیں گے اور آپ کو مالی طور پر خوشحال بننے میں بھی مدد کریں گے۔

توجہ فرمائیں ۔۔موٹر سائیکل چلانے والی بیٹیوں کا احترام کریں ۔۔نا انھیں ڈرائیں نا پریشان کریں کیونکہ وہ شوق سے نہیں مجبور...
29/04/2024

توجہ فرمائیں ۔۔
موٹر سائیکل چلانے والی بیٹیوں کا احترام کریں ۔۔
نا انھیں ڈرائیں نا پریشان کریں کیونکہ وہ شوق سے نہیں مجبوری سے ڈرائیو کرتی ہیں اور ہو سکتا ہے کے کوئی بیٹی والدین کیلئے بیٹے کا کردار ادا کر رہی ہو ۔

اس بدمعاش نے پہلے ہی آئی ایم ایف کے 3 لاکھ دینے تھے اب مزید قسطوں میں اور قرض لے لیا ہے، جن سے بڑوں اور بیوروکریسی کے بچ...
23/04/2024

اس بدمعاش نے پہلے ہی آئی ایم ایف کے 3 لاکھ دینے تھے اب مزید قسطوں میں اور قرض لے لیا ہے، جن سے بڑوں اور بیوروکریسی کے بچوں نے بیکن ہاؤس میں پڑھنا ہے۔ اور یہ ہے کہ 76 سال سے مسکرائے جارہا ہے ۔۔۔۔۔۔

02/04/2024
بھارتی ریاست کرناٹک میں ایک تیندوا پیٹ بھرنے کیلئے کتے کا پیچھا کر رہا تھا,, کتا بھاگتے ہوئے کھڑکی سے سرکاری ریسٹ ہاوس ک...
31/03/2024

بھارتی ریاست کرناٹک میں ایک تیندوا پیٹ بھرنے کیلئے کتے کا پیچھا کر رہا تھا,, کتا بھاگتے ہوئے کھڑکی سے سرکاری ریسٹ ہاوس کے بیت الخلا میں کود گیا جس کا دروازہ باہر سے بند تھا, تیندوا کتے کے پیچھے داخل تو ہو گیا مگر دونوں پھنس گئے, کتا تیندوے کو دیکھ کر خاموشی سے ایک کونے میں بیٹھ گیا اور انتظار کرتا رہا کہ تیندوا کب اسے نوالہ بناتا ہے,

دونوں جانور تقریباً 12 گھنٹے تک مختلف کونوں میں اکٹھے رہے۔ پھر محکمہ جنگلات کی ٹیم نے ٹرانکوئلائزر ڈارٹ کا استعمال کرتے ہوئے تیندوا پکڑ کر آزاد کر دیا ,,

اب سوال یہ ہے کہ بھوکے تیندوے نے کتے کو کیوں نہیں کھایا حالانکہ وہ اسے کھانے کیلئے ہی پیچھا کر رہا تھا جبکہ بند واش روم میں وہ یہ کام آسانی سے کر سکتا تھا؟

اس حوالے سے جنگلی حیات کے ماہرین نے بتایا کہ جنگلی جانور اپنی آزادی کے لیے بہت حساس ہوتے ہیں۔ جیسے ہی انہیں احساس ہوتا ہے کہ ان کی آزادی چھین لی گئی ہے وہ گہرا دکھ محسوس کر سکتے ہیں، اتنا کہ وہ اپنی بھوک پیاس بھی بھول جاتے ہیں
بینظیر انکم سپورٹ کارڈ ، آٹے کی قطاریں ، لنگر خانے اور پھر مفت راشن کیلئے سالوں سے ذلیل ہونے والی قوم یہ کبھی نہی جان سکتی کہ آزادی ہی زندگی کی سب سے بڑی ترجیح ہوتی ہے ، بھوک پیاس ، روٹی کپڑا مکان سب ثانوی ضرورتیں ہیں

یہ ایک جان لیوا کھیل ہے، لازمی نہیں کہ آپکے گھر کا کوئی اسکا شکار ہو تب ہی چھوڑو۔۔۔
24/03/2024

یہ ایک جان لیوا کھیل ہے، لازمی نہیں کہ آپکے گھر کا کوئی اسکا شکار ہو تب ہی چھوڑو۔۔۔

23/03/2024

آمین
قبولیت کے لمحات ہیں نہ جانے کس کی دعا قبول ہو

Address

Ahmadpur East
Bahawalpur
63350

Telephone

+923006835664

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Amir Bashir posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Amir Bashir:

Share

Category