26/06/2025
بھیرہ میں ایک دل دہلا دینے والا واقع
بھیرہ کے الغفور ہسپتال میں ڈاکٹر نے مریض کا رسولی کا آپریشن کیا اور انتہائی غفلت برتی مریض کو بلڈ کی ضرورت تھی جو کہ ہسپتال انتظامیہ نے 10 ہزار روپے لیے بلڈ کے لیے اس کے باوجود بلڈ نہیں لگایا اور مریض کا بلڈ پریشر انتہائی حد تک کم ہو گیا اس کے باوجود ڈاکٹر نے دوسرا آپریشن آپریشن اپنی خود مختاری پے کر دیا جس میں لواحقین سے پوچھنے کی بجائے انہیں بتایا کہ دوسرا آپریشن میں نے کر دیا ہے ڈاکٹر تین معصوم بچوں کی ماں پر ظلم کرتی رہی چند پیسوں کے لیے مریض کا دوسرا آپریشن کرنے کے بعد جب پانی سر سے گزر گیا تو لواحقین کو کہا کہ اپنا مریض سرگودھا لے جاؤ اور لواحقین کی کچھ سنے بغیر ڈاکٹر طیبہ ہسپتال سے چلی گی اور ہسپتال انتظامیہ نے اپنی ایمبولینس تک فراہم نہ کی اور ایک نجی گاڑی میں بحوشی کی حالت میں مریض کو بغیر آکسیجن والی گاڑی میں منتقل کر دیا اور لواحقین مجبور ہو کر اپنے مریض کو قبل از جلد ہسپتال پہنچانے کے لیے روانہ ہوئے اور مریض سرگودھا ہسپتال پہنچانے سے پہلے جانبحق ہو گیا
آج یہ واقع انسانی ہمدردی کے بلکل خلاف اور دل دہلا دینے والا ہے یاد رہے مریضہ کی عمر 32 سال اور اس کے 3 معصوم بچے تھے ایک 9 سال کا ایک 8 سال کا ایک 2 سال کا ہے یہ بھیرہ کی سر زمین پر ان بچوں کہ ساتھ ہونے والا ظلم ہے
بھیرہ کہ اس نجی الغفور ہسپتال میں آئے روز ایسے بہت سے واقع ہو رہے اور ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں ہوئی
ہماری اعلیٰ احکام سے اپیل ہے کہ اس ہسپتال کے خلاف سخت سے سخت کارروائی کی جائے تاکہ اس کے بعد کوئی بچے اپنی ماں سے محروم نا ہو
اور ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ لواحقین شدید غموں غصے کا اظہار کر رہیں ہیں اور اعلیٰ احکام سے اپیل کی درخواست کر رہیں ہیں
ہماری بھرتھ صاحبان ۔ پراچہ صاحبان ۔ چن برادران ۔ پیر صاحبان سے اپیل ہے خدارا اس آواز کو سنا جائے اور ہسپتال کے خلاف کارروائی کی جائے تاکہ اس کے بعد کوئی بچے اپنی ماں سے محروم نا رہ جائے
محمد ایوب کی اہلیا جو تین بچوں کی ماں تھی اج ڈاکٹر حضرات کی لالچ اور حوس کی بلی چڑ گئی