Al Nafay Properties

Al Nafay Properties City Centre Burewala

‏جب سيدنا عمرؓ پر حملہ کیا گیا تو ان کے لیے دودھ لایا گیا، جیسے ہی آپ نے دودھ پیا تو وہ آپ کی پسلیوں کے زخم سے بہہ نکلا۔...
23/06/2024

‏جب سيدنا عمرؓ پر حملہ کیا گیا تو ان کے لیے دودھ لایا گیا، جیسے ہی آپ نے دودھ پیا تو وہ آپ کی پسلیوں کے زخم سے بہہ نکلا۔ طبیب نے ان سے کہا: اے امیر المومنین وصیت فرما دیں، آپ زیادہ دیر زندہ نہیں رہ سکیں گے۔

تو انہوں نے اپنے بیٹے عبداللہ کو بلایا اور کہا کہ حذیفہ بن الیمان کو میرے پاس بلاؤ۔ حذیفہ بن الیمان حاضر ہو گئے۔ یہ وہ صحابی ہیں جنہیں نبی کریم ﷺ نے منافقین کے ناموں کی فہرست عطا کی تھی اور ان ناموں کے بارے میں اللّٰہ پاک اس کے رسول ﷺ اور حذیفہ بن الیمان کے علاوہ کوئی نہیں جانتا تھا۔

حضرت عمرؓ نے پوچھا جبکہ خون ان کی پسلیوں سے بہہ رہا تھا، کہ اے حذیفہ بن الیمان میں آپ کو اللّٰہ کی قسم دے کر کہتا ہوں! کیا اللّٰہ کے رسول ﷺ نے میرا نام منافقین کے ناموں میں لیا ہے یا نہیں؟

یہ سن کر حذیفہ بن الیمان کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے اور فرمایا! یہ میرے پاس رسول اللّٰہ ﷺ کا راز ہے جو کسی کو نہیں بتا سکتا۔ آپ نے پھر پوچھا! خدا کے لیے مجھے اتنا بتادیں،

اللّٰہ کے رسول ﷺ نے میرا نام شامل کیا ہے یا نہیں؟
حذیفہ بن الیمان کی ہچکی بندھ گئی اور کہتے ہیں اے عمرؓ! میں صرف آپ کو بتا رہا ہوں اگر آپ کی جگہ کوئی اور ہوتا تو میں کبھی بھی اپنی زبان نہ کھولتا اور وہ بھی صرف اتنا بتاتا ہوں کہ رسول اللّٰہ ﷺ نے اس میں آپ کا نام شامل نہیں کیا۔

حضرت عمرؓ نے اپنے بیٹے عبداللہ سے کہا کہ دنیا میں میرے لیے ایک چیز باقی رہ گئی ہے۔ حضرت عبداللہ نے پوچھا وہ کیا ہے ابا جان؟

حضرت عمرؓ نے فرمایا! بیٹا میں جوار رسول ﷺ میں دفن ہونا چاہتا ہوں۔ لہزا ام المؤمنين حضرت عائشہؓ کے پاس جاؤ، ان سے یہ مت کہنا کہ امیر المؤمنین عمر بلکہ کہنا کہ کیا آپ عمر کو اپنے ساتھیوں کے قدموں میں دفن ہونے کی اجازت دیتی ہیں؟

کیونکہ آپ اس گھر کی مالکن ہیں۔ تو ام المؤمنین نے جواب دیا کہ یہ جگہ تو میں نے اپنے لیے تیار کر رکھی تھی لیکن آج میں اسے عمر کے لیے ترک کرتی ہوں۔

عبداللہ ابنِ عمرؓ شاداں و فرحان واپس آئے اور عرض کی، اجازت مل گئی ہے۔ عبداللہ ابنِ عمرؓ نے دیکھا کہ حضرت عمرؓ کا رخسار مٹی پر پڑا ہے تو انہوں نے آپ کا چہرہ اٹھا کر اپنی گود میں لے لیا۔

حضرت عمرؓ نے اپنے بیٹے کی طرف دیکھا اور فرمایا کہ کیوں تم میرا چہرہ مٹی سے بچانا چاہتے ہو۔ عبداللہ ابنِ عمرؓ نے کہا ابا جان لیکن حضرت عمرؓ نے بات کاٹنے ہوئے فرمایا کہ اپنے باپ کا چہرہ مٹی سے لگنے دو۔ بربادی ہے عمر کے لیے اگر کل اللّٰہ پاک نے اسے نہ بخشا۔

حضرت عمرؓ اپنے بیٹے کو یہ وصیت فرما کر موت کی آغوش میں چلے گئے،،،

اے میرے بیٹے میری میت مسجد نبوی میں لے جانا اور میرا جنازہ پڑھنا اور حذیفہ بن یمان پر نظر رکھنا اگر وہ میرے جنازے میں شرکت کرے، تو میری میت روضہ رسول ﷺ کی طرف لے جانا۔

اور میرا جنازه روضة الرسول ﷺ کے دروازے پر رکھ کر دوباره اجازت طلب کرنا اور کہنا،،،

اے ام المؤمنین آپ کا بیٹا عمر یہ مت کہنا کہ امیر المؤمنين، ہو سکتا ہے میری زندگی میں مجھ سے حیا کی وجہ سے اجازت دی گئی ہو، اگر اجازت مرحمت فرما دیں تو دفن کرنا ورنہ مجھے مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کر دینا۔

عبداللہ ابنِ عمرؓ کی نظریں حذیفہ بن الیمان پر تھیں. وہ
کہتے ہیں کہ میں حذیفہ بن یمان کو ابا جان کی نماز جنازہ پر دیکھ کر بہت خوش ہوا اور ہم جنازہ لے کر روضہ رسول ﷺ کی طرف چلے گئے۔ دروازے پر کھڑے ہو کر میں نے کہا۔ "اے ہماری ماں آپ کا بیٹا عمر دروازے پر
ہے، کیا آپ تدفین کی اجازت دیتی ہیں؟

ام المؤمنین نے جواب دیا! مرحبا یا عمر۔ عمر کو اپنے ساتھیوں کی ساتھ دفن ہونے پر مبارک ہو۔ ام المؤمنین نے اپنی چادر سمیٹی اور روضہ رسول ﷺ سے باہر نکل آئیں۔

اللّٰہ پاک راضی ہو حضرت عمرؓ سے زمین کا چپہ چپہ جن کے عدل کی گواہی دیتا ہے، جن کی موت سے اسلام یتیم ہو گیا، جن کو اللّٰہ کے رسول ﷺ نے زندگی میں جنت کی خوشخبری دی ہو پھر بھی اللّٰہ کے سامنے حساب دہی اتنا خوف ہمارا کیا بنے گا🙏🙏🙏

09/04/2024
‏قرآن مجید۔۔۔۔ کا مکھی کے بارے میں حیرت انگیز چینلج ۔" لوگو! ایک مثال بیان کی جا رہی ہے، ذرا کان لگا کر سن لو! اللہ تعال...
10/12/2023

‏قرآن مجید۔۔۔۔ کا مکھی کے بارے میں حیرت انگیز چینلج ۔

" لوگو!
ایک مثال بیان کی جا رہی ہے، ذرا کان لگا کر سن لو!
اللہ تعالیٰ کے سوا جن جن کو تم پکارتے رہے ہو وہ ایک مکھی بھی پیدا نہیں کر سکتے گو سارے کے سارے ہی جمع ہو جائیں، بلکہ اگر مکھی ان سے کوئی چیز لے بھاگے تو یہ تو اسے بھی اس سے چھین نہیں سکتے" (الحج)

مکھی بنانا تو خیر بہت دور کی بات ہے لیکن چیلنج کا دوسرا حصہ کافی دلچسپ ہے کہ اگر وہ کوئی چیز لے کر بھاگ جائے تو وہ بھی واپس نہیں لے سکتے ۔
کیا آپ جانتے ہیں کہ یہ واقعی ناممکن ہے ؟ بھلا کیسے ؟

شائد آپ کے علم میں نہ ہو کہ ۔۔۔۔
مکھی غالباً دنیا کا واحد جانور ہے جو خوارک اپنے منہ میں ڈالنے سے پہلے ہی ہٖضم کرنا شروع کر دیتا ہے ۔
مکھی خوراک اپنی ٹانگوں میں اٹھاتے ہی اس پر اپنے منہ سے ایک کیمائی محلول ڈالتی ہے یا یوں کہہ لیں کہ الٹی کرتی ہے جو فوراً اس چیز پر پھیل کر اس کے اجزاء کو توڑ مروڑ کر تحلیل کر لیتی ہے اور اسکو ایک قابل ہضم محلول میں تبدیل کر دیتی ہے ۔۔۔
۔ یاد رہے کہ مکھی صرف کھانے پینے کی چیزیں لے کر بھاگتی ہے ۔
اس انتہائی پیچیدہ کیمیائی عمل کے بعد مکھی کے لیے آسان ہو جاتا ہے کہ وہ اپنی خوراک کو چوس لے ۔۔۔۔

۔ تب وہ اپنے منہ سے ایک ٹیوب نکالتی ہے جسکا منہ ویکیوم کلینر کی طرح چوڑا ہوتا ہے ۔ اس ٹیوب سے وہ اس چیز کو چوس لیتی ہے ۔
مکھی اپنی لے کر بھاگی ہوئی چیز کو چند ہی لمحوں میں کسی اور چیز میں تبدیل کر دیتی ہے ۔ جسکو دنیا کی جدید ترین لیبارٹریز اور سارے سائنس دان مل کر بھی اپنی اصل حالت میں واپس نہیں لا سکتے ۔
" بلکہ اگر مکھی ان سے کوئی چیز لے بھاگے تو یہ تو اسے بھی اس سے چھین نہیں سکتے"۔۔۔۔۔
یہ قیامت تک لے لیے اللہ کا چیلنج ہے اللہ کا انکار کرنے والوں اور تمام جھوٹے خداؤوں کے لیے..!!

✅خوشی ولاز اور ووڈلینڈ گارڈن چیچہ وطنی روڈ بورےوالہ کے دو شاندار ہاؤسنگ پراجیکٹس ✅ بوریوالہ کے منظور شدہ ماسٹر پلان میں ...
02/12/2023

✅خوشی ولاز اور ووڈلینڈ گارڈن چیچہ وطنی روڈ بورےوالہ کے دو شاندار ہاؤسنگ پراجیکٹس
✅ بوریوالہ کے منظور شدہ ماسٹر پلان میں شامل دونوں انتہائی شاندار رہائشی منصوبے
✅ مستقبل میں بننے جارہے ہیں زبردست رہائشی منصوبے
✅جہاں ہوں گی تمام سیکٹرز کی الگ مساجد اور پارکس کے ساتھ 25 ایکڑ پہ محیط شاندار ریزورٹ
✅ 120 فٹ تک کشادہ روڈ انتہائی پرکشش لوکیشن
✅نئی شروع ہونے والی موٹر وے انٹر چینج کے قریب
✅مناسب ایڈوانس وہ بھی انتہائی آسان اقساط میں
✅ ریزورٹ کے قریب اور مین بلیوارڈ پر واقع
✅5,7,10 مرلہ تمام سیکٹرز میں پلاٹس برائے فروخت
✅مزید معلومات کے لیے رابطہ کریں
📱03146896669

✅خوشی ولاز چیچہ وطنی روڈ بورےوالہ✅ مستقبل میں بننے جارہا ہے ایک شاندار رہائشی منصوبہ✅جہاں ہوں گی تمام سیکٹرز کی الگ مساج...
13/11/2023

✅خوشی ولاز چیچہ وطنی روڈ بورےوالہ
✅ مستقبل میں بننے جارہا ہے ایک شاندار رہائشی منصوبہ
✅جہاں ہوں گی تمام سیکٹرز کی الگ مساجد اور پارکس کے ساتھ 25 ایکڑ پہ محیط شاندار ریزورٹ
✅ 120 فٹ تک کشادہ روڈ انتہائی پرکشش لوکیشن
✅نئی شروع ہونے والی موٹر وے انٹر چینج کے قریب
✅مناسب ایڈوانس وہ بھی انتہائی آسان اقساط میں
✅ ریزورٹ کے قریب اور مین بلیوارڈ پر واقع
✅5,7,10 مرلہ تمام سیکٹرز میں پلاٹس برائے فروخت
✅مزید معلومات کے لیے رابطہ کریں
📱03146896669

✅خوشی ولاز چیچہ وطنی روڈ بورےوالہ✅ مستقبل میں بننے جارہا ہے ایک شاندار رہائشی منصوبہ✅جہاں ہوں گی تمام سیکٹرز کی الگ مساج...
12/11/2023

✅خوشی ولاز چیچہ وطنی روڈ بورےوالہ
✅ مستقبل میں بننے جارہا ہے ایک شاندار رہائشی منصوبہ
✅جہاں ہوں گی تمام سیکٹرز کی الگ مساجد اور پارکس کے ساتھ 25 ایکڑ پہ محیط شاندار ریزورٹ
✅120 فٹ تک کشادہ روڈ انتہائی پرکشش لوکیشن
✅مناسب ایڈوانس وہ بھی انتہائی آسان اقساط میں
✅ ریزورٹ کے قریب اور مین بلیوارڈ پر واقع
✅5,7,10 مرلہ تمام سیکٹرز میں کارنر ،نان کارنر پلاٹس برائے فروخت
✅مزید معلومات کے لیے رابطہ کریں
📱03146896669

Cricket Areena's view in   at   ❤️chichawatni Road Burewala.
09/11/2023

Cricket Areena's view in at ❤️
chichawatni Road Burewala.





Happiest Birthday Dear Brother may you have countless blessings. 🥰💐🎂💝💚
09/09/2023

Happiest Birthday Dear Brother may you have countless blessings. 🥰💐🎂💝💚

29/07/2023

میں حسین ہوں
حسین ابن علی!
مدینہ کا نورانی آسمان،
مسجد نبوی کے صحن و صفیں، محراب و منبر اور میرے خون کی پیاسی ارض کربلا مجھے جانتی ہے۔

مجھ سے واقف ہیں ،
رسول کے بوسے اور نبی کے مقدس شانے
اور میرے لیے ریشم سے مہربان ہوگئے،
آقا کے ہونٹ بھی مجھے بخوبی جانتے ہیں۔
کہ انھی لبوں سے میرے لیے ان لفظوں کی آبشاریں بہیں، قیامت تک جو اہل ایمان کا دین و ایمان ہوگئے۔

وہ لب کہ
جن کے بوسے آج بھی میرے رخساروں پر مہکتے ہیں، اور رسول اطہر کے نتھنوں کو آج بھی میری مسحور کن خوشبو یاد ہے۔

جس چادر میں،
رسول اطہر نے میرے رشتوں سمیت مجھے سمیٹ لیا تھا، اس چادر سے آج بھی میرے سانسوں کی مہک آتی ہے۔
وہ چادر مجھے جانتی ہے۔
میں حسین ابن علی ہوں
اور حل و حرم مجھے جانتے ہیں۔

میرا پوچھنا ہو تو اس دستاویز سے پوچھو،
تین براعظموں کے خلیفۃ نے جس میں، اپنے نام سے بھی پہلے لکھا، میرا نام لکھا تھا۔۔
عین اصحاب بدر کے ساتھ
وہ صفحے، وہ لفظ، وہ سیاہی مجھے جانتی ہے۔۔

میں حسین ہوں،
حسین ابن علی
کائنات میں جس سے بہتر کسی کا نام و نسب نہیں
اور کسی کا جاہ و حسب نہیں۔

میں حسین ہوں،
جس کی نانی نے غار حرا سے آئے رسول کی ڈھارس بندھائی
اور جس کی دولت عسرت رسول کے کام آئی۔
وہی حسین
جن کے دادا سرداران عرب کے مقابل رسول کے سنگ ہوئے۔۔

میں حسین ابن علی ہوں۔
جن کے خانوادے کی محبت ایمان کا عنوان ہوئی۔
اور جن سے الفت نجات اہل ایماں ہوئی۔
خیبر کے سورماؤں اور وقت کے مرحبوں کو آج بھی میرے بابا کی تلوار کے تیور نہیں بھولے
اور وہ میری والدہ کہ جن کی
عفت و سیرت سے مومنات کیلئے جنت کشادہ ہوئی۔۔

میں حسین ابن علی ہوں۔۔
جن کے لیے ایک تاریک شب آسمان نے نور برسایا۔۔۔
جس نور میں بھیگتے ہم حسن و حسین گھر پہنچے۔
میں حسین ہوں۔۔
مدینہ کی ہر دہلیز اور مومنوں کا ہر دل مجھے جانتا ہے۔

وہ میں ہی ہوں۔۔
جس کیلئے جمعہ کا خطبہ روک کے،
معراج کیلئے سربلند ہوئے رسول
منبر سے نیچے اتر آئے تھے۔۔
یہ ہمارے ہی لیے ہوا تھا،میرے ہی لیے۔

میں وہی ہوں حسین ابن علی۔۔
مدینہ کی گلی میں بھاگتا وہ بچہ
جسے پکڑنے کیلئے
پوری گلی میں رسول میرے پیچھے لپکتے تھے۔
اور جب میرا عنبرین وجود، رسول کے ریشمی ہاتھوں میں آگیا تھا۔
تب چہرہ رسول کے انوار زمانے کو تابناک کرتے تھے۔ ۔۔
میں حسین ابن علی ہوں۔۔

ہر مومن کا میں ولی ہوں،
حب رسول کی گلی،
باغ نبوی کی کلی ،
جرات کا عنوان جلی۔۔
حسین ابن علی۔ ۔۔

زمانہ مجھے جانتا ہے۔
میرے خانوادے کی للکار کو
میرے نانا کی پکار کو
اور میرے بابا کی یلغار کو ،
اور اسلام کے لیے بہتے میرے لہو کی دھار کو
ہر دھڑکتا دل جانتا ہے۔
میں حسین ابن علی ہوں۔۔

کربلا کو وہ دن یاد ہے،
جب میرا لہو اسکے ریگ زار میں بہا۔
اس دن میں اپنے نانا کو بھی سوچا تھا۔
وہ نانا جس نے میرے رونے پہ
میری والدہ سے کہا تھا۔۔
حسین کا رونا مجھ سے سہا نہیں جاتا۔۔
تب میں نے شکر کیا تھا
کہ کربلا میں میرے نانا نہ تھے۔
اس دن وہ ہوتے تو ان کے کندھے
ضرور ذرا سا جھک جاتے ۔
وہ ریشمی کندھے جن پر
میں سوار ہو جایا کرتا تھا۔

ہاں میرے نانا کے
وہ سجدے بھی مجھے جانتے ہیں۔
جو اس لیے دراز ہو جاتے تھے کہ
میں نانا جان کی کمر پر سوار ہوتا تھا۔
تب سارے مومن میرے بابا کے ساتھ تادیر سجدے میں جھکے رہتے تھے،
صرف میری وجہ سے

میرا پوچھنا ہے تو خلیفہ عمر سے پوچھو۔
جس نے مسجد کے منبر پر یہ کہا تھا
ہمارے پاس یہ عزت اور یہ منبر
حسین کی وجہ سے ہے، حسین کے نانا کی وجہ سے۔
خلیفہ عمر ۔۔
جس نے اپنے بیٹے عبداللہ بن عمر سے یہ کہا تھا
خلیفہ کا بیٹا ہونے کے باوجود
تمھارا وظیفہ حسین ابن علی جیسا کیسے ہو سکتا ہے؟
کہ تمھارا کچھ بھی حسین ابن علی جیسا نہیں
نہ باپ نہ دادا
ماں نہ نانی

میں حسین ابن علی ہوں
جس کے نام پر شعر روزگار ہوا
جس کے نام پر تقریر کا کاروبار ہوا
جس کا نام دہر میں اچھالا گیا
اور جس کا کام کبھی نہ پالا گیا۔
میں حسین ہوں۔
حسین ابن علی
مومنوں کے دل
اور
میرے نانا کا دین
مجھے جانتے ہیں ۔

 #الحمدللہ 🙏‏ہمارے ملک کے ایک نامور سیاست دان کو آصف علی زرداری نے کھانے کی دعوت دی‘ یہ دعوت پر پہنچے تو ٹیبل پر درجنوں ...
10/07/2023

#الحمدللہ 🙏
‏ہمارے ملک کے ایک نامور سیاست دان کو آصف علی زرداری نے کھانے کی دعوت دی‘ یہ دعوت پر پہنچے تو ٹیبل پر درجنوں قسم قسم کے کھانے لگے تھے‘ان کے بقول میں نے اپنی پلیٹ اٹھائی اور مختلف قسم کے کھانے اپنی پلیٹ میں ڈالنے لگا۔ اتنی دیر میں زرداری صاحب کا سیکرٹری آیا اور ان کا کھانا ان کے سامنے رکھ دیا‘ چھوٹی چھوٹی کولیوں میں تھوڑی سی بھنڈی‘ دال‘ ابلے ہوئے چاول اور آدھی چپاتی تھی‘ زرداری صاحب نے چند لقمے لیے اورخانساماں ٹرے اٹھا کر لے گیا‘

میں نے ان سے ان کی سادہ خوراک کے بارے میں پوچھا تو وہ ہنس کر بولے ’’میری خوراک بس بھنڈی اور سادہ چاول تک محدود ہے‘ میں ان کے علاوہ کچھ نہیں کھا سکتا‘‘ میں نے پوچھا ’’کیاآپ گوشت نہیں کھاتے‘‘ وہ مسکرائے اور بولے ’’میں گوشت کھا ہی نہیں سکتا‘‘
میں کھانا کھا کر واپس آگیا لیکن آپ یقین کریں میں اس کے بعد جب بھی کھانا کھانے لگتا ہوں تو مجھے زرداری صاحب کی ٹرے یاد آ جاتی ہے اور میں کھانا بھول جاتا ہوں۔

ارشاد احمد حقانی پاکستان کےسینئر صحافی اور کالم نگارتھے‘ روزنامہ جنگ میں کالم لکھتے تھے‘میں نے ان سے لکھنا سیکھا‘ شاہ صاحب نے بتایا میں 1998ء میں ایران جا رہا تھا‘ ارشاد احمد حقانی سے ملاقات ہوئی‘ انہوں نے پوچھا‘ کیا آپ مشہد بھی جائیں گے؟

میں نے عرض کیا ’’جی جاؤں گا‘‘ انہوں نے فرمایا ’’آپ میرے لیے وہاں خصوصی دعا کیجیے گا‘‘میں نے وعدہ کر لیا لیکن اٹھتے ہوئے پوچھا ’’آپ خیریت سے تو ہیں؟‘‘ حقانی صاحب دکھی ہو کر بولے ’’میری بڑی آنت کی موومنٹ رک گئی ہے‘ پاخانہ خارج نہیں ہوتا‘ میں روز ہسپتال جاتا ہوں اور ڈاکٹر مجھے بیڈ پر لٹا کر مشین کے ذریعے میری بڑی آنت سے پاخانہ نکالتے ہیں اور یہ انتہائی تکلیف دہ عمل ہوتا ہے‘‘

شاہ صاحب نے اس کے بعد کانوں کو ہاتھ لگایا‘ توبہ کی اور کہا ’’ہمیں روز اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنا چاہیے‘ ہم اپنے منہ سے کھا بھی سکتے ہیں اور ہمارا کھایا ہوا ہمارے پیٹ سے نکل بھی جاتا ہےورنہ دنیا میں ہزاروں لاکھوں لوگ اپنی مرضی سے کھا سکتے ہیں اور نہ نکال سکتے ہیں‘‘

یہ بات سن کر مجھے بے اختیار چودھری شجاعت حسین یاد آگئے‘ چودھری صاحب خاندانی اور شان دار انسان ہیں‘ میرے ایک دوست چند دن قبل ان کی عیادت کے لیے گئے‘ چودھری صاحب خوش تھے اور بار بار اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کر رہے تھے‘

میرے دوست نے صحت کے بارے میں پوچھا تو چودھری صاحب نے جواب دیا ’’میں بہت امپروو کر رہا ہوں‘ میں اب اپنے منہ سے کھا بھی لیتا ہوں اور اپنےپائوں پر کھڑا بھی ہو جاتا ہوں‘‘ دوست نے پوچھا ’’ آپ کی حالت اس سے پہلے کیسی تھی؟‘‘ چودھری صاحب بولے ’’میری ٹانگیں میرا بوجھ نہیں اٹھاتی تھیں اور میرے پیٹ میں ٹیوب لگی ہوئی تھی‘ ڈاکٹر مجھے اس کے ذریعے کھلاتے تھے‘ میں منہ کے ذائقے کو ترس گیا تھا‘ الحمد للہ میں اب تھوڑا تھوڑا کر کے کھا بھی لیتا ہوں اور چل پھر بھی سکتا ہوں‘‘

میں بینک کے ایک مالک کو جانتا ہوں‘ یہ صبح جاگتا ہے تو چار بندے ایک گھنٹہ لگا کر اسے بیڈ سے اٹھنے کے قابل بناتے ہیں‘ یہ اس کے پٹھوں کا مساج کر کے انہیں اس قابل بناتے ہیں کہ یہ اس کے جسم کو حرکت دے سکیں‘ اس کی گاڑی کی سیٹ بھی مساج چیئر ہے‘ یہ سفر کے دوران اسےہلکا ہلکا دباتی رہتی ہے اوران کے دفتر اور گھر دونوں جگہوں پر ایمبولینس ہر وقت تیار کھڑی رہتی ہے‘ آپ دولت اور اثرورسوخ دیکھیں تو آپ رشک پر مجبور ہوجائیں گے اور آپ اگر اس کی حالت دیکھیں تو آپ دو دوگھنٹے توبہ کرتے رہیں‘

اسی طرح پاکستان میں ہوٹلز اور موٹلز کے ایک ٹائی کون ہیں‘ صدرالدین ہاشوانی‘ یہ پانچ چھ برسوں سے شدید علیل ہیں‘ ڈاکٹر اورفزیو تھراپسٹ دونوں ہر وقت ان کے ساتھ رہتے ہیں‘ ان کے پرائیویٹ جہاز میں ان کے ساتھ سفر کرتے ہیں‘ فزیو تھراپسٹ دنیا جہاں سے ان کے لیے فزیو تھراپی کی مشینیں تلاش کرتے رہتے ہیں‘ مجھے جرمنی کے شہر باڈن جانے کا اتفاق ہوا‘ یہ مساج اوردیسی غسل کا ٹاؤن ہے‘ شہر میں مساج کے دو دو سو سال پرانے سنٹرہیں اور دنیاجہاں سے امیر لوگ مالش کرانے کے لیے وہاں جاتے ہیں‘ چھ چھ ماہ بکنگ نہیں ملتی ‘ آپ وہاں لوگوں کی حالت دیکھیں تو آپ کی نیند اڑ جائے گی‘

مریض کے پروفائل میں دس دس بلین ڈالر کی کمپنی ہوتی ہے لیکن حالت دیکھیں گے تو وہ سیدھا کھڑا ہونے کے قابل بھی نہیں ہوتا‘ہم انسان ایک نس کھچ جانے کے بعد اپنے پائوں پر کھڑا ہونے کے قابل نہیں رہتے‘ ہم چمچ تک نہیں اٹھا پاتے اور نگلنے کے قابل نہیں رہتے‘ یہ ہماری اصل اوقات ہے۔

تو پھر کس بات کا غرور اور فخر
توبہ کرتے رہیں معافی مانگتے رہیں
اللہ سبحانہ و تعالیٰ کے حضور گڑگڑاتے رہیں
اور اس کے سامنے اپنا سر جھکاتے رہیں

*فبای آلا ربکما تکذبان*منقول ڈاکٹر محمد طارق مسعود کا انتخاب
Copied
#منقول

01/07/2023

میں بطور مسلمان سوئیڈن میں قرآن پاک کی بے حرمتی کی شدید الفاظ میں مذمت کرتا ہوں
🖐️

مناسب قیمت میں منفرد خصوصیات کے ساتھ ضلع وہاڑی کا سب سے بڑا ہاؤسنگ پراجیکٹ (چیچہ وطنی روڑ بوریوالہ)
09/06/2023

مناسب قیمت میں منفرد خصوصیات کے ساتھ ضلع وہاڑی کا سب سے بڑا ہاؤسنگ پراجیکٹ (چیچہ وطنی روڑ بوریوالہ)

Address

City Centre Burewala
Burewala
61010

Telephone

+923146896669

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Al Nafay Properties posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Al Nafay Properties:

Share

Category