23/05/2026
باغ بہشت سے مجھے حکم سفر دیا تھا کیوں
کار جہاں دراز ہے اب مرا انتظار کر
مفہوم:
شاعر اللہ تعالیٰ سے شکوہ کرتے ہوئے کہتا ہے کہ اگر مجھے جنت سے دنیا میں بھیجنا ہی تھا تو پھر کیوں بھیجا؟ اب دنیا کے کام اور ذمہ داریاں بہت طویل اور مشکل ہیں، اس لیے اب میرے انجام اور واپسی کا انتظار کرو۔
اس شعر میں انسان کی دنیاوی جدوجہد، مشکلات اور زندگی کے طویل سفر کی طرف اشارہ ہے۔ اقبالؒ یہاں انسان کی بے بسی بھی دکھاتے ہیں اور اس کی عظمت بھی کہ اسے ایک بڑے مقصد کے لیے دنیا میں بھیجا گیا ہے۔