Muaz Abdullah vloggers

Muaz Abdullah vloggers personal vlogss

12/05/2026
*یہ دنیا ایک بازار ہے جو عنقریب بند ہو جائے گا عقلمند وہ ہے جو اس بازار سے اپنے اصل گھر آخرت کے لئے کچھ اکھٹا کر لے اللہ...
25/08/2024

*یہ دنیا ایک بازار ہے جو عنقریب بند ہو جائے گا عقلمند وہ ہے جو اس بازار سے اپنے اصل گھر آخرت کے لئے کچھ اکھٹا کر لے اللہ رب العزت ہم سب کو آخرت کی تیاری کی توفیق عطاء فرمائے🤲🏻💦* ✨

15/09/2023

‏امیر المومنین حضرت عمر فاروقؓ نے ایک مرتبہ شدید سرد اور تاریک رات میں ایک جگہ آگ کی روشنی دیکھی،چنانچہ وہاں تشریف لے گئے
ساتھ جلیل القدر صحابی حضرت عبد الرحمن بن عوفؓ بھی تھے
حضرت عمرؓ نے آگ کے پاس ایک عورت کو دیکھا، جس کے تین بچے زار وقطار رو رہے تھے۔ایک بچہ کہہ رہا تھا امی جان! ان آنسوٶں پر رحم کھاو اور کچھ کھانے کو دو
دوسرا بچہ یہ کہہ رہا تھا
امی جان! لگتا ہے شدت بھوک سے جان چلی جائے گی
تیسرا بچہ کہہ رہا تھا
امی جان! کیا موت کی آغوش میں جانے سے پہلے مجھے کچھ کھانے کو نہیں مل سکتا؟
حضرت عمرؓ بن خطاب آگ کے پاس بیٹھ گئے اور عورت سے پوچھا اے اللہ کی بندی! تیری اس حالت کا ذمہ دار کون ہے؟
عورت نے جواب دیا
اللہ اللہ! میری اس حالت کا ذمہ دار امیرالمومنین عمرؓ ہے
حضرت عمرؓ نے اس سے فرمایا
کوٸی ہے جس نے عمرؓ کو تمہارے حال سے آگاہ کیا ہو؟
عورت نے جواب دیا
ہمارا حکمران ہوکر وہ ہم سے غافل رہےگا؟ یہ کیسا حکمران ہے جس کو اپنی رعایا کی کچھ خبر نہیں؟؟
یہ جواب سن کر حضرت عمر فاروقؓ(راتوں رات) مسلمانوں کے بیت المال گئے اور دروازہ کھولا
بیت المال کا محافظ(چوکیدار)بولا
خیر تو ہے امیرالمومنینؓ؟
حضرت عمرؓ نے اس کا کوئی جواب نہیں دیا اور آٹے کی ایک بوری،گھی اور شہد کا ایک ایک ڈبہ بیت المال سے نکالا اور چوکیدار سے فرمایا
انہیں میری پیٹھ پر لاد دو

چوکیدار نے کوشش کی کہ امیر المومنینؓ کا تیار کردہ سامان خود اپنی پیٹھ پر لاد لے لیکن امیر المومنین نے سختی سے انکار کیا اور اس سے یوں مخاطب ہوۓ
”یہ سامان میری پیٹھ پر لاد دو،کیا قیامت کے روز تم میرے گناہوں کا بوجھ اٹھاؤ گے؟؟
یہ کہہ کر حضرت عمرؓ نے آٹا،گھی اور شہد اپنی پیٹھ پر لاد دیا
جب اس عورت کے پاس پہنچے تو آگ کے پاس بیٹھ گۓ اور ان بچوں کے لئے کھانا پکایا۔جب کھانا تیار ہوگیا تو اس میں گھی اور شہد ملایا اور اپنے مبارک ہاتھوں سے بچوں کو کھانا کھلایا۔یہ منظر دیکھ کر ان یتيم بچوں کی ماں کہنے لگی”قسم اللہ کی!تم عمرؓ سے کہی زیادہ منصب خلافت کے اہل ہو۔“
”حضرت عمرؓ نے اس سے فرمایا
اے اللہ کی بندی!کل عمرؓ کے پاس جانا،وہاں میں ہوں گا اور تمہارے معاملات کے متعلق اس سے سفارش کروں گا
یہ کہہ کر حضرت عمرؓ واپس آگئے اور ایک چٹان کے پیچھے آکر بیٹھ رہے اور ان بچوں کو دیکھنے لگے حضرت عبد الرحٰمن بن عوفؓ نے حضرت عمرؓ سے کہا
واپس چلتے ہیں کیونکہ رات بہت ہی ٹھنڈی ہے
حضرت عمرؓ نے فرمایا
اللہ کی قسم! میں اپنی جگہ اس وقت تک نہیں چھوڑوں گاجب تک ان بچوں کو ہنستا ہوا نہ دیکھ لوں،جیسے میں نے آتے وقت انہیں روتے ہوۓ دیکھا تھا
جب اگلے روز کا سورج طلوع ہوا تو انیتيم بچوں کی ماں دربار خلافت میں گئی ۔وہاں اس نے دیکھا کہ حضرت علیؓ بن طالب اور حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ کے مابین ایک شخص تشریف فرما یے اور وہ دونوں حضرات اسے امیر المومنینؓ کہہ کر مخاطب کررہے ہیں۔اور یہ وہی شخص تھا جس نے گذشتہ رات اس عورت اور اس کے بچوں کی خدمت میں گزار دی تھی اور جس سے اس نے کہا تھا،اللہ اللہ! میری اس حالت کا ذمہ دار عمرؓ ہے، چنانچہ جب عورت کی نگاہ حضرت عمر فاروقؓ پر پڑی تو گویا اس کے پاٶں تلے سے زمیں کھسک گٸ۔
امیر المومنین نے عورت سے فرمایا
اللہ کی بندی! تیرا کوئی قصور نہیں،چل بتا،تو اپنی شکایت کتنی قیمت کے عوض فروخت کرےگی۔ عورت گویا ہوئی
معاف فرمائیں
اے امیر المومنین
حضرت عمرؓ نے فرمایا
قسم اللہ کی تو اس جگہ سے ہٹ نہیں سکتی جب تک کہ میرے ہاتھ اپنی شکایت بیچ نہ دو
بالآخر حضرت عمرؓ نے اس بیوہ خاتون کی شکایت اپنے مال خاص سے چھ سو درہم کے عوض خرید لی اور حضرت علیؓ بن طالب کو کاغذ قلم لانے کا حکم دیا اور یہ تحریر قلم بند کرائی
”ہم علیؓ اور ابن مسعودؓ اس بات پر گواہ ہیں کہ فلاں عورت نے اپنی شکایت امیر المومنینؓ عمرؓ بن خطاب کے ہاتھ فروخت کردی۔“
پھر امیر المومنین حضرت عمر بن خطابؓ نے فرمایا ”جب میری وفات ہوجائے تو اسے میرے کفن میں رکھ دینا تاکہ میں اسکو لےکر اللہ تعالٰی سے ملاقات کروں۔“
اللہ اکبر ۔۔
یا اللہ ہمارے حاکموں کے دلوں میں بھی اپنا ڈر پیدا کر۔

12/06/2023

وہ پیدا ہوا ۔تو عجیب تھا ۔نہ بچہ نہ بچی ۔جنس تیسری ۔ماں حیران ۔باپ پریشان ۔باپ شکوہ کناں مالک سے ۔ ۔ربا یہ کیا دے دیا ۔ماں سجدہ ریز ۔الحمد اللہ مالک ۔تو نے جیسا دیا ۔جو بھی دیا ۔تیرا شکریہ ۔اٹھا کے سینے لگایا ۔ماں کا دودھ بچے یا بچیاں ہی نہیں پیتے تیسری جنس بھی پیتی ہے ۔جوں جوں بڑا ہوتا گیا ۔رولا بڑھتا گیا ۔باپ کہتا بھلی لوک ۔یہ مجھے دے میں اسے چھوڑ آتا ہوں اس کی برادری کے پاس ۔ماں گلے سے لگا لیتی ۔میں اس کی ماں تم باپ ۔تو اس کی برادری اور کون سی ؟زور ڈالتا ۔تو وہ منتوں پر اتر آتی ۔کیا میرے سرتاج ۔اتنا دیا ہوا خدا کا ۔کھانے دو اسے بھی ۔اونچ نیچ سمجھانے لگ جاتا ۔مگر صاحب کون جیتا آج تک مامتا سے ۔؟رولا معاشرہ بناتا ہے ۔باپ باہر جاتا ۔اشارے ہونے لگتے ۔وہ دیکھ ۔وہ ۔اس کے گھر کھسرا پیدا ہوا ہے ۔اوئے وہ دیکھ کھسرے کا باپ آرہا ہےسرگوشیاں ۔مگر ایسی کہ جس کے بارے میں کی جا رہی ہیں وہ سن لے ۔برادری والے شور کرتے ۔بھائی بے عزتی ہو رہی ہماری ۔ اسے کیوں نہیں چھوڑتے کسی گرو کے پاس ؟لوگ کہتے ہیں ہمیں وہ دیکھو ۔ان کے چچاذاد کے گھر کھسرا ہے ماموں ذادکے گھر کھسرا ہےوہ پکا ارادہ کر لیتا ۔مگر بیوی نہ مانتی ۔سو ناکام رہتا ۔پانچ سال گزر گئے ۔اللہ نے مزید اولاد دی ۔اک بچہ اک بچی ۔باپ کی آنکھوں کے وہ تارے کھسرے کو قریب بھٹکنے نہ دیتا ۔جا ماں کے پاس ۔بھائی بہن حیران ہوتے پر ان کو سمجھ کہاں تھی ابھی ۔وہ ماں کا لاڈلا ۔دو اور کو وقت کم ملتا ۔اسے ذیادہ ۔باپ شکوہ کرتا ۔تو کہتی باپ کا پیار بھی تو دینا ہے اسے تبھی تجھے ذیادہ لگتا ۔پانچ سال بعد شوہر نے پکا ارادہ کر لیا ۔اب کی بار کوئی بات نہیں مانوں گا چھوڑ کے آوں گا کہیں ۔بیوی کو کہا تو اک نظر ڈال کے سمجھ گیا ۔اب کی بار زمانہ جیتنے والا ۔پر صاحب بات وہی کون جیتا مامتا سے ۔ہاں میں سر ہلایا ۔اور اس کا سامان باندھنے لگی ۔شوہر کچھ دیر بعد آیا تو دو بیگ تیار ۔اتنا سامان اس کا ؟نہیں میرا بھی ہےکیوں ۔؟تو کہاں جا رہی ہے ؟جہاں یہ جائے گا ۔تم گھر سے نکالو ۔دروازہ بند کرو ۔پھر میں جانوں یہ جانے اور اس کا وہ خدا جس نے اس سانس دی زندگی دی وہ خدا جو فضول کوئی چیز پیدا نہیں کرتا ۔وہ خدا جو پتھر میں بھی غذا دیتا کیڑے کو ۔یہ انسان ہے ہاتھ پاوں سلامت ۔میں بھی تو ہوں کر لیں گئے گزارہ ۔بس تم گھر سے نکالو ۔بلکہ ہٹو میں خود چلی جاتی ہوں ۔شوہر تھا ۔زندگی بیتی تھی بیت رہی تھی جانتا تھا کب ہتھے سے ایسی اکھڑتی ہے کہ ہاتھ ہی نہیں آتی ۔آج اکھڑ گئ تھی وہی کرنا تھا اسے جو کہہ رہی تھی ۔اور ایسا وہ چاہتا نہیں تھا ۔مامتا سے کوئی نہیں جیت سکتا صاحب ۔پھر ذکر نہ ہوا ۔خاموشی ہو گئ تین سال تک ۔اک بیٹی اور آ گئ ۔پر ماں کا لاڈلا وہ کھسرا ہی رہا ۔وہ نویں سال میں تھا ۔جب ماں چلی گئ ۔کچھ بھی نہ تھا۔ رات سوئی ۔سویرے اٹھ نہ سکی ۔روشنیوں بھرا گھر ویران ہو گیا ۔مگر اس کی تو دنیا ہی ویران ہو گئ ۔ابھی قبر کی مٹی خشک ہی نہ ہوئی ۔کہ باپ نے گھر سے نکال دیا ۔جا کہیں چلا جا اب تیرا اس گھر میں کچھ نہیں ۔خاموشی سے نکلا ۔ماں کی قبر پر گیا ۔دل بھر کر رویا ۔بہت رویا ۔من ہلکا ہوا تو شہر کی جانب روانہ ہو گیا ۔قدم قدم پر ستم کرنے والی دنیا میں گم ہو گیا ۔باپ نے شکر ادا کیا ۔کہ جان چھوٹیمگر ابھی گہرا گھاو باقی
گھر سے نکالے جانے کے بعد وہ درخت سے گرے پتے جیسا تھا ۔
ہوا جدھر چاہے اڑا کے لے جائے ۔ ۔
ایسا ہی ہوا ۔ ۔اک جگہ سے دوسری جگہ ۔یہاں ۔وہاں ۔کبھی کسی ورکشاب میں ۔ ۔ چھوٹے ۔ ۔کی نوکری ملی ۔
تو ۔ ۔کہیں ہوٹل کا بیرا بنا ۔
بے پناہ حسن ۔اور خدوخال میں نسوانی پن ۔اس کے لیے عذاب ٹھہرا ۔
انسان نما بھیڑیے اس پر چھپٹتے ۔وہ بھاگ پڑتا ۔
اسی بھاگ دوڑ میں ۔شہر کی مشہور معروف شخصیت ۔حاجی ہوٹلاں والے کے ہوٹل پہ جا پہنچا ۔
حاجی ہوٹلوں کا مالک تھا ۔شہر میں کئ ہوٹل ۔ ۔مارکیٹیں ۔پلازے ۔ٹرانسپورٹر بھی تھا ۔
دلیر اور اصولی آدمی ۔ صاف شفاف ۔کھرا پن ۔
اصول تھا اس ۔
بابا ہوٹل بنا ہوا ہے ۔آپ کے لیے ۔کرسیاں لگی ہوئیں دریاں چارپایاں بچھی ہوئیں ۔
یہاں بیٹھو ۔کھاو پیو ۔ ۔جب تک جی چاہے ۔یہاں رہو ۔کوئی اٹھانے والا نہیں ۔مگر ۔ ۔دنگا ۔روڈ پر ۔نشہ ہوٹل سے باہر ۔ ۔یہاں ایسا کچھ کرو گئے تو پچھتاو گئے ۔
یہاں اس کے قدم جم گئے ۔شناخت ظاہر ہو گئ ۔ ۔درندوں نے پیش قدمی کی ۔مگر یہاں حاجی تھا ۔کہتا ۔ ۔لاڈے ۔ تو جیسا بھی ہے ۔جو بھی ہے ۔جب تک حاجی کے پاس ہے کوئی مائی کا لعل تجھے کچھ نہیں کہہ سکتا ۔
ہوا بھی ایسا ۔دو چار نے پیش قدمی کی ۔حاجی آڑے آیا خوب بے عزت کیا ۔دوسرے خود ڈر گئے ۔
حاجی کے پاس گزرے وقت کو وہ بہترین وقت قرار دیتا ہے ۔حاجی اس کا استاد تھا ۔زمانے کے سرد گرم سمجھانے والا ۔

کھسروں کے گرو ۔ایسے لوگوں کی تلاش میں رہتے ہیں جو ان جیسے ہوتے ہیں ان کی برادری کے ۔جہاں ملیں پھر ساتھ لے جانے کی بھر پور کوشش کرتے ہیں ۔
اسے بھی کئ گرو لینے آئے ۔پر حاجی نے بھگا دیے ۔
گرو جی ۔میرے جیتے جی تو ایسا سوچو بھی مت ۔بعد میں جو چاہے کر لینا ۔
وہ بچا رہا ۔
دو سال تک وہ برتن دھوتا رہا ۔چائے پلاتا رہا ۔کھانا کھلاتا رہا ۔
دو سال بعد ہوٹل کے ساتھ پان سگریٹ کا کوکھا پہلے مالک نے بیچا ۔تو حاجی نے خرید کے اسے وہاں بٹھا دیا ۔
لے لاڈے ۔یہ تیری دکان ۔کما اور کھا ۔
سترہ سال تک ۔وہ اسی کھوکھے میں رہا ۔گرو آتے رہے وہ نہ نہ کرتا رہا ۔کیسے چھوڑتا اپنے محسن کو ؟
مگر اک دن محسن خود چلا گیا ۔دشمن دار تھا ۔اسی کی نظر ہو گیا ۔
وہ دوسری بار جی بھر رویا ۔یتیم سا محسوس کیا خود کو ۔سائے سے یکدم گہری ۔چلچلاتی دھوپ میں آپڑا ۔
حاجی کیا مرا ۔اس پر تو نشتروں کی بوچھاڑ ہو گئ ۔ کون روکتا ۔۔
گرووں نے پھر حلہ بولا ۔کہا ۔لاڈے ادھر کیا رکھا ۔قسمیں تو ہیرا ہے ہیرا ۔ساتھ چل ۔تجھے تیری قیمت بتائیں ۔
وہ نہ جاتا ۔مگر نشتر ۔دن رات چپھتے نشتر ۔کوئی ٹھکانا تو کرنا تھا ۔
سو کھوکھا چھوڑا ۔گرو کے آستانے پہ آبیٹھا ۔
وہ واقعی ہیرا تھا ۔گرو نے تراشا تو اسے خبر ہوئی ۔اک سال میں ہی ڈانس میں طاق کر دیا ۔
سٹیج پر جاتا ۔تو سماں باندھ دیتا ۔ایسا ناچتا وجد میں کہ نظر نہ ٹکتی تماشبینوں کی ۔ہاتھ نہ رکتے ویل کراتے ہوئے ۔
یہ نئ زندگی تھی اس کی دو ۔تین سال یہاں بیتے ۔یہاں سب تیسری جنس تھے ۔سو۔بٹوارہ نہیں تھا ۔
اس کی وجہ سے گرو کا گروپ سارے شہر میں مشہور ہو گیا ۔نام تھا ۔ہے جی کوئی لاڈا نام کا کھسرا ۔
گرو۔اسے لاڈلی کہتا ۔

اس دن وہ فارغ تھا ۔کچھ دن پہلے گرو نے۔اسے اک پلاٹ لے کر دیا تھا ۔اس نے سوچا ادھر چکر لگا لے ویسے بھی ان دنوں دھندا ذرا ٹھنڈا ہے ۔تو کیوں نہ اس کی چاردیوای ہی بنوا لے ۔
یہی سوچ کر گرو سے اجازت چاہی تو اس نے کارڈ جھولی میں پھینک دیا ۔
لاڈلی یہ آج رات کے پرو گرام کا کارڈ ہے ۔نام پتا ٹھکانا لکھا ۔آج کدھر نہ جا ۔بڑا پروگرام ہے آرام کر ۔
اس نے کارڈ پر نظر ڈالی بلانے والے کا نام پڑا
ملک تاج خان ۔
نام پڑھتے ہی اک سنسی اس کے پورے بدن میں دوڑتی چلی گئ کارڈ گر گیا ۔ پروگرام اس نے بہت کیے تھے ۔ ۔معروف ڈانسر تھا ۔روز کا معمول تھا ۔پروگرام بڑا ہو یا چھوٹا ۔اسے غرض نہیں تھی ۔

مگر یہ ملک تاج کا پروگرام ؟ ۔۔۔؟
عجیب حالت ہو گئ اس کی ۔وہ ناچنا چاہتا تھا ۔اور نہیں ناچنا چاہتا تھا ۔ ۔
اس نے گرو سے پوچھا ۔ ۔گرو ۔یہ پروگرام کس نے دیا ہے ؟
ہے لو ۔لاڈلی ملک تاج پرانا شوقین ہے ۔ اس نے خود دیا پروگرام ۔اور کس نے دینا تھا ۔
پھر گرو یادیں تازی کرنے لگ گیا ۔
ہائے ہائے لاڈلی کیا وقت تھا مجھ پر ۔بلکل تیری طرح سماں باندھ دیتی تھی میں ۔ اور یہ ملک تاج ۔ہائے ہائے کیا شوقین تھا۔ ہائے ہائے ۔

وہ سنتا رہا ۔حیران ہوتا رہا
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
پروگرام اک بڑی حویلی میں تھا ۔دو حصے تھے پروگرام کے ۔اک میں عام عوام تھی ۔گرو کے مطابق دس بیس روپے والے شوقین ۔
دوسرا حصہ معززین کے لیے تھا ۔ ۔جہاں نوٹوں کی بارش ہوا کرتی تھی ۔
گرو کو حکم ملا تھا کہ خاض ۔ پیس ۔ بچا کے رکھنا ۔
گرو نے اسے اور اس کے ساتھ اک اور ڈانسر کو ۔روک لیا ۔مگر لاڈے نے انکار کردیا ۔
گرو ۔ ۔آج خاص پروگرام میں بس میں ناچوں گا ۔ ۔کوئی دوسرا نہیں ۔
ایسے ہوتا نہیں تھا ۔مگر نہ جانے اس کے لہجے میں کیا بات تھی ۔گرو انکار نہ کر سکا ۔
پروگرام شروع ہو گیا وہ پردے کے پیچھے بیٹھا دیکھتا رہا ۔خوب ہاو کار مچی ہوئی تھی ۔ مگر اس کی نظریں دولہے پر ٹکی تھیں ۔پلک چھپکائے دیکھ رہا تھا ۔گرو سے یہ انہماک ۔چھپ نہ سکا ۔پوچھ بیٹھا ۔
لاڈلی ۔سچ بول کیا مسلہ ہے آج تجھے ۔ ۔
میں دیکھ رہی ہوں ۔تو ہنسنا چاہتی ہے اور رو پڑتی ہے ۔رونا چاہتی ہے تو ہنس پڑتی ہے ۔تو خوش بھی بہت ہے ۔تو غمگین بھی بہت ہے ۔بول مسلہ کیا ہے ۔ ؟
دو آنسو آنکھوں سے نکلے ۔میک ذدہ رخساروں پر لکیر ڈالتے کہیں گر گئے اور وہ روتے ہوئے ہنسنے لگا ۔
گرو بس آج دیکھو پھر ۔نہ کوئی ایسا پروگرام دیکھا ہو گا نہ آئندہ دیکھو گئے ۔جیسا آج ہے ۔
گیارہ بچے کے بعد دوسرا راونڈ شروع ہو گیا ۔ ۔یہ اک بڑے ہال میں تھا ۔گاو تکیے لگے ہوئیے ۔اور محدود تعداد میں کرسیاں بھی ۔تعداد بھی محدود تھی ۔مگر جو تھے سب ٹن تھے ۔بوتلیں کھلی پڑیں تھیں ۔ گلاس کھنک رہے تھے ۔چرس بھرے سگریٹوں کا دھواں جالے بناتا ۔غائب ہو رہا تھا ۔
سب کے سب معززین شہر تھے ۔ بڑی عزتوں والے تھے ۔رات کا اندھیرا جن کے کرتوت چھپا لیتا ہے ۔
اس کی نظر ۔تمتمائے چہرے والے ملک تاج پر ٹک گئ ۔پیے ہوئے تھا وہ بھی مگر کچھ کم ۔
ساز جھڑ گئے ۔وہ گھنگھرو پہنے میدان میں اتر گیا ۔نغمے کے بول بلند ہوئے ۔
مائے نی میں کنوں آکھاں ۔درد وچھوڑے دا حال نی ۔ ۔
چھن چھن چھن چھنا ۔
اک بجلی سی کوندی اس کے رگ وپے میں ۔
پاوں تھے ٹکتے ہی نہیں تھے ۔
ساز کیا کہہ رہے ہیں ۔آواز کیا کہہ رہی ہے کچھ پتا نہیں وہ بے خود تھا ۔
گرو سمیت ۔سب کے سب پرانے شوقین ۔حیرت ذدہ ۔ ۔ایسا ڈانس کہیں نہیں دیکھا تھا ۔

گرو کو اس کی آنکھوں میں نمی نظر آئی ۔ ۔ساتھ والے سے بولا ۔ہائے ہائے رنگیلی ۔مجھے تو لاڈلی کی آنکھوں میں لہو کے اتھرو نظر آ رہے ہیں مولا خیر کرے ۔پر آج خیر نہیں ہے
وہ ناچتا رہا ۔نوٹ نچھاور ہوتے رہے ۔بہکے بہکے شرابی ۔آگے بڑھتے ۔لپٹنے کی کوشش کرتے ۔لپٹ نہ سکتے ۔دور جا گرتے ۔
مگر ملک تاج جب بھی قریب گیا ۔وہ خود سمٹ کے باہئوں میں آگیا ۔ ۔
اس کے تمتمائے چہرے پر فخر وغرور کی لالی ابھری
دیکھو ۔جو کسی کو ہاتھ نہیں لگانے دیتا ۔میرے پاس خود چلا آتا ہے
تین گھنٹے گزر گئے ۔وہ نہیں تھکا ۔پر دیکھنے والے لڑھک گئے ۔مدہوش ہو گئے ۔بے ترتیب ہو گئے ۔
پروگرام رک گیا ۔ملک تاج اور کچھ اور ہوش میں تھے ۔رواج ہے کے ایسے موقعے پر جو میزبان ہوتے ہیں ۔آگے بڑھتے ہیں نوٹوں کے ہار گلے میں ڈالتے ہیں ۔ ۔ ۔کچھ نقد دیتے ہیں اور ۔تب ڈانس پارٹی رخصت ہوتی ہے ۔ وہی ہوا ملک تاج نے سب کے گلوں میں ہار ڈالے ۔
وہ آخر میں تھا ۔نگائیں متلاشی کسی کی ۔خلاف معمول ۔نوٹوں کا تھیلا اس نے نوٹ لینے والے سے لے لیا تھا ۔اب اس کے ہاتھ میں تھا ۔
آخر ۔کار وہ ملک تاج کے روبرو پہنچا ۔نگائیں ملیں ۔اک شیطانیت سی لپکی ملک کی آنکھوں میں ۔ہاتھ بہکے رخساروں پر لگے اور ہار پہنا دیا ۔
ختم ۔

۔نہیں نہیں کہاں ختم ۔
لاڈے نے ہاتھ پکڑ لیا ۔
پہچانا ملک جی ۔؟
گرو تن کر کھڑا ہو گیا ۔جس داستان نے آج منکشف ہونا ہے اس کا وقت آن پہنچا ۔
نہیں لاڈلی ۔پہلی بار دیکھا تجھے ۔پر گرویدہ ہو گیا ہوں ۔
اس نے ہار اتار کر ۔ہاتھ میں پکڑ لیا ۔
پر ملک جی میں نے تو پہلی بار نہیں دیکھا ۔
آہستہ آہستہ قریب ہو گیا باہنوں میں سمٹ گیا ۔
مدت سے ترسا ان باہنوں میں آنے کے لیے ۔اتنا قریب ہونے کے لیے ۔
ہائے ہائے لاڈلی ۔آج تو نے دل جیت لیا ۔
ہاتھ جانب جیب بڑھے ۔کچھ نچھاور کرنے کو ۔
مگر لاڈے نے پکڑ لیے ۔
نہیں ملک جی اب بس ۔اب اور کچھ نہیں لینا ۔اب میں نچھاور کرنا ہے نچھاور ہونا ہے ۔
خاموشی ۔بس اک گرو جانتا تھا کچھ ہونے والا ہے ۔پر کیا ؟یہ اسے بھی معلوم نہیں تھا ۔
لاڈے نے ہار اتارا ۔
ملک کے گلے میں ڈال دیا ۔آنکھیں ڈالیں آنکھوں میں ۔
آج تک کھسرے لیتے ہیں ۔ویل ۔ ۔ودھائی ہار ۔ ۔
پر میں آج دے کر جا رہا ہوں ملک جی
نوٹوں کا تھیلا کھولا ۔نوٹ پکڑے ۔ملک پر پھینک دیے ۔
مجھے پہچانو ملک جی ۔میں وہ بدنصیب ہوں جس کا باپ اس پر عاشق ہے ۔
یہ لو ملک جی ۔یہ ۔ اک کھسرے کی ویل ۔اپنے باپ پر
دل دھک سے رہ گئے ۔نشہ گہرہ ہوتا ہوتا اتر گیا ۔بند ہوتی آنکھیں پوری کی پوری کھل گئ ۔گروکو جھٹکا لگا ۔ساتھی تھرا کر رہ گئے ۔جاگتے سوتے شوقین جاگ گئے
یہ کیا کہہ رہے ہو ۔؟
نوٹوں کو پرے دھکیلتا ملک چیخ پڑا ۔
پر کہاں ۔کہاں تک جائے ۔وہ نوٹ پھینکتا آتا تھا روتا جاتا تھا ۔کہتا جاتا تھا ۔
ویل ۔افلاق احمد کی ۔ملک تاج پر ۔اک آدھے بیٹے کی ویل ۔اک آدھی۔بیٹی کی ویل ؟
ویل ۔بھائی کی شادی پہ ۔باپ پر ویل کھسرے کی ۔
ملک ملک تاج میں افلاق احمد ۔آنسہ کا بیٹا ۔ یہ دیکھ ۔ ادھر آنکھ کھول ۔یہ میں یہ ۔ یہ تو اور یہ میری جنت ۔میری ماں ۔یہ ۔روشنا ۔ ۔تیری بیٹی ۔آنسہ کی بیٹی ۔میری ۔ میری ۔بہن ۔
پر کہاں ۔ رشتے چلتے ہیں پگ سے ۔وہ تو ۔تھا ۔دھتکار دیا ۔اب کون بھائی کون بہن ۔
وہ بلک بلک کے رو دیا ۔خود کیا رویا ۔نشئوں کو رلا دیا ۔گرو رو ۔ پڑا ۔ساتھی رو پڑے ۔
ملک تاج ۔
آنسو تھے اس کی آنکھوں میں ۔
ملک تاج رو پڑا ۔
بلک پڑا ۔دھرتی ۔زمین ۔ذرا جگہ تو دے مجھ پر الٹ تو پڑ ۔مجھےچھپا تو سہی ۔۔
مگر صاحب ۔ایسے موقعوں پر دھرتی جگہ نہیں دیا کرتی پیروں سے پکڑ کے یوں دھڑام سے گرا دیتی ہے ۔
جیسے وہ گر گیا تھا دھرتی پر اپنی نظروں سے
لاڈا ۔نوٹ پھینکتا جاتا ۔روتا جاتا ۔
لاکھوں ملے آج تیرے گھر ۔پر اک نوٹ نہیں لے کر جانا ۔یہ لے یہ بھی ویل ۔اتنا ہی کھاتا میں جتنے تو نے آج اک رات میں نچھاور کیے مجھ پر ۔ اک کمرے میں رہ لیتا ۔مگر مگر
گرو آگے بڑھا ۔ ۔ساتھے آگے بڑھے ۔
سنبھال لاڈے ۔سنبھل لاڈے
وہ بلکتا نوٹ پھینکتا ۔رہا ۔تڑپتا رہا ۔
گرو ۔میرا گرو ہے تو الٹ دے جو آج ملا ۔چل الٹ ۔مجھے لے چل ۔یہاں سے ۔
گرو اس کا گرو تھا ۔
میں آپ ۔وہ کوئی نہیں پہنچ سکتا اس درد تک جو افلاق احمد ۔عرف لاڈے عرف لاڈلی کو تھا ۔
گرو پہنچ سکتا تھا ۔سو پہنچا ۔الٹ دیا نوٹوں کا تھیلا ۔ملک تاج پر ۔جو اب نوٹوں میں چھپا ۔سسک رہا تھا ۔
اللہ جانے کس بات پر.......
ع~م

07/06/2023

جنت میں پہلا لمحہ، پہلی رات اور پہلی صبح کیسی (حسین و خوبصورت) ہو گی 😍😍😍
لوگ حساب و کتاب سے فارغ ہو جائیں گے ۔
ذرا سوچئے۔۔
جنت میں ابتدائی لمحات کتنے دلکش ہوں گے، جب ہم نہریں، محلات، جنتی پھل، خیمے، سونا، موتی اور ریشم دیکھیں گے۔❣️
جب ہم اپنے اُن عزیز و اقارب سے ملاقات کریں گے، جو عرصہ دراز پہلے فوت ہو گئے تھے اور ہماری نگاہوں سے اوجھل تھے۔

جب نیکوکار بیٹا اپنے ماں باپ سے ملے گا۔

اور والدین اپنے ان بچوں سے ملاقات کریں گے، جو بچپن میں ہی فوت ہو گئے تھے۔

اور بھائی اپنے بھائی سے ملے گا، جو اس سے ملاقات کی خواہش رکھتا ہو گا۔

جب ہم مریض کو شفایاب دیکھیں گے۔

غمگین کو مسرور

بوڑھے کو جوانی کی حالت میں دیکھیں گے۔

(اور کیسا حسین منظر ہو گا کہ) جب ہم انبیائے کرام علیہم السلام سے ملاقات کا شرف پائیں گے۔

صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم کو سلام پیش کریں گے۔

شہدائے اسلام کی زیارت کریں گے۔

اور جاگتی آنکھوں سے فرشتوں کو دیکھیں گے۔

پھر جب ہمیں نہرِ کوثر پر لے جایا جائے گا، تو وہاں ہمارے محبوب، حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ والہ وسلم بنفسِ نفیس موجود ہوں گے۔😍😍😍

اور ہمیں سونے کے برتنوں میں کوثر کے جام بھر بھر کر دیں گے ، جسے ایک بار پینے کے بعد کبھی پیاس نہیں لگے گی۔

اور ہمیں بتایا جا رہا ہو گا کہ یہ ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ ہیں۔

وہ (دیکھو) وہاں سے عمر رضی اللہ عنہ آ رہے ہیں۔

اور وہ باحیا (وباصفا) عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ ہیں۔

اور یہ علی المرتضی رضی اللہ عنہ ہیں۔

اور ان کے پہلو میں نوجوانانِ جنت کے سردار (حسنینِ کریمین) رضی اللہ عنہم ہیں۔

اور ہمیں بتایا جائے گا کہ وہ مفسرِ قرآن عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما ہیں۔

اور جو اُس درخت کے نیچے ہیں وہ خالد بن ولید رضی اللہ عنہ ہیں۔

اور یہ کثیر الروایت صحابی، ابوہریرہ رضی اللہ عنہ ہیں۔

پھر ہم ایک میٹھی اور سریلی آواز سُنیں گے، تو سب لوگ رب تعالیٰ کی وحدانیت و کبریائی بیان کرتے ہوئے صاحبِ آواز کے بارے میں پوچھیں گے، تو فوراً بتایا جائے گا کہ یہ اللّٰہ کے جلیل القدر نبی داؤد علیہ السلام ہیں۔

(پھر) جب ہمیں ہمارا خالق و مالک جل جلالہ ارشاد فرمائے گا: اے جنتیو!!

ہم عرض کریں گے: اے ہمارے رب! ہم تیری خدمت و بندگی میں حاضر ہیں۔

اللّٰہ تعالیٰ فرمائے گا: کیا تمہیں کسی اور چیز کی طلب ہے، جو میں تمہیں عطا کروں؟

ہم عرض کریں گے: اے ہمارے رب! ہم (اس سے بڑھ کر ) اور کیا مانگیں؟ کہ تو نے ہمارے چہروں کو روشن فرمایا، ہمیں جنت میں داخل کیا اور ہمیں جہنم سے نجات بخشی۔

پس اللّٰہ رب العزت حجاب اُٹھا دے گا (اور ہم دیدارِ الٰہی سے مشرف ہوں گے)۔❤️❤️

تب ہمیں پتہ چلے گا کہ جنت کی سب سے عظیم نعمت تو اللّٰہ تعالیٰ کا دیدار ہے۔

دیدارِ الٰہی کا منظر کیسا (حسین ) ہو گا جب رب تعالیٰ ہمیں فرمائے گا۔

آج میں نے تم پر اپنی رضا واجب کر دی، اس کے بعد میں تم پر کبھی غضب نہیں فرماؤں گا۔
یا اللّٰہ پاک اپنی خاص رحمت سے ہمیں پیارے بندوں میں شامل فرما ، ہم سے راضی ہو جا۔ہمیں دین ، دُنیا اور آخرت کی تمام بھلائیاں عطا فرما ہمارے لئے دین اسلام پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرما ، ہمیں دین اسلام پر استقامت عطا فرما مرنے سے پہلے ہماری توبہ قبول فرمانا اور ہمیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمانا۔
آمین ثم آمین یا رب العالمین۔

30/05/2023

لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ ﷺ

30/05/2023

گھر میں ماں باپ کی آواز کا ہونا بھی بہت بڑی نعمت ہے اللہ ہم سب کے والدین کو سلامت رکھے آمین 🤲

Address

Sialkot
Daska

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Muaz Abdullah vloggers posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share

Category