15/09/2023
امیر المومنین حضرت عمر فاروقؓ نے ایک مرتبہ شدید سرد اور تاریک رات میں ایک جگہ آگ کی روشنی دیکھی،چنانچہ وہاں تشریف لے گئے
ساتھ جلیل القدر صحابی حضرت عبد الرحمن بن عوفؓ بھی تھے
حضرت عمرؓ نے آگ کے پاس ایک عورت کو دیکھا، جس کے تین بچے زار وقطار رو رہے تھے۔ایک بچہ کہہ رہا تھا امی جان! ان آنسوٶں پر رحم کھاو اور کچھ کھانے کو دو
دوسرا بچہ یہ کہہ رہا تھا
امی جان! لگتا ہے شدت بھوک سے جان چلی جائے گی
تیسرا بچہ کہہ رہا تھا
امی جان! کیا موت کی آغوش میں جانے سے پہلے مجھے کچھ کھانے کو نہیں مل سکتا؟
حضرت عمرؓ بن خطاب آگ کے پاس بیٹھ گئے اور عورت سے پوچھا اے اللہ کی بندی! تیری اس حالت کا ذمہ دار کون ہے؟
عورت نے جواب دیا
اللہ اللہ! میری اس حالت کا ذمہ دار امیرالمومنین عمرؓ ہے
حضرت عمرؓ نے اس سے فرمایا
کوٸی ہے جس نے عمرؓ کو تمہارے حال سے آگاہ کیا ہو؟
عورت نے جواب دیا
ہمارا حکمران ہوکر وہ ہم سے غافل رہےگا؟ یہ کیسا حکمران ہے جس کو اپنی رعایا کی کچھ خبر نہیں؟؟
یہ جواب سن کر حضرت عمر فاروقؓ(راتوں رات) مسلمانوں کے بیت المال گئے اور دروازہ کھولا
بیت المال کا محافظ(چوکیدار)بولا
خیر تو ہے امیرالمومنینؓ؟
حضرت عمرؓ نے اس کا کوئی جواب نہیں دیا اور آٹے کی ایک بوری،گھی اور شہد کا ایک ایک ڈبہ بیت المال سے نکالا اور چوکیدار سے فرمایا
انہیں میری پیٹھ پر لاد دو
چوکیدار نے کوشش کی کہ امیر المومنینؓ کا تیار کردہ سامان خود اپنی پیٹھ پر لاد لے لیکن امیر المومنین نے سختی سے انکار کیا اور اس سے یوں مخاطب ہوۓ
”یہ سامان میری پیٹھ پر لاد دو،کیا قیامت کے روز تم میرے گناہوں کا بوجھ اٹھاؤ گے؟؟
یہ کہہ کر حضرت عمرؓ نے آٹا،گھی اور شہد اپنی پیٹھ پر لاد دیا
جب اس عورت کے پاس پہنچے تو آگ کے پاس بیٹھ گۓ اور ان بچوں کے لئے کھانا پکایا۔جب کھانا تیار ہوگیا تو اس میں گھی اور شہد ملایا اور اپنے مبارک ہاتھوں سے بچوں کو کھانا کھلایا۔یہ منظر دیکھ کر ان یتيم بچوں کی ماں کہنے لگی”قسم اللہ کی!تم عمرؓ سے کہی زیادہ منصب خلافت کے اہل ہو۔“
”حضرت عمرؓ نے اس سے فرمایا
اے اللہ کی بندی!کل عمرؓ کے پاس جانا،وہاں میں ہوں گا اور تمہارے معاملات کے متعلق اس سے سفارش کروں گا
یہ کہہ کر حضرت عمرؓ واپس آگئے اور ایک چٹان کے پیچھے آکر بیٹھ رہے اور ان بچوں کو دیکھنے لگے حضرت عبد الرحٰمن بن عوفؓ نے حضرت عمرؓ سے کہا
واپس چلتے ہیں کیونکہ رات بہت ہی ٹھنڈی ہے
حضرت عمرؓ نے فرمایا
اللہ کی قسم! میں اپنی جگہ اس وقت تک نہیں چھوڑوں گاجب تک ان بچوں کو ہنستا ہوا نہ دیکھ لوں،جیسے میں نے آتے وقت انہیں روتے ہوۓ دیکھا تھا
جب اگلے روز کا سورج طلوع ہوا تو انیتيم بچوں کی ماں دربار خلافت میں گئی ۔وہاں اس نے دیکھا کہ حضرت علیؓ بن طالب اور حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ کے مابین ایک شخص تشریف فرما یے اور وہ دونوں حضرات اسے امیر المومنینؓ کہہ کر مخاطب کررہے ہیں۔اور یہ وہی شخص تھا جس نے گذشتہ رات اس عورت اور اس کے بچوں کی خدمت میں گزار دی تھی اور جس سے اس نے کہا تھا،اللہ اللہ! میری اس حالت کا ذمہ دار عمرؓ ہے، چنانچہ جب عورت کی نگاہ حضرت عمر فاروقؓ پر پڑی تو گویا اس کے پاٶں تلے سے زمیں کھسک گٸ۔
امیر المومنین نے عورت سے فرمایا
اللہ کی بندی! تیرا کوئی قصور نہیں،چل بتا،تو اپنی شکایت کتنی قیمت کے عوض فروخت کرےگی۔ عورت گویا ہوئی
معاف فرمائیں
اے امیر المومنین
حضرت عمرؓ نے فرمایا
قسم اللہ کی تو اس جگہ سے ہٹ نہیں سکتی جب تک کہ میرے ہاتھ اپنی شکایت بیچ نہ دو
بالآخر حضرت عمرؓ نے اس بیوہ خاتون کی شکایت اپنے مال خاص سے چھ سو درہم کے عوض خرید لی اور حضرت علیؓ بن طالب کو کاغذ قلم لانے کا حکم دیا اور یہ تحریر قلم بند کرائی
”ہم علیؓ اور ابن مسعودؓ اس بات پر گواہ ہیں کہ فلاں عورت نے اپنی شکایت امیر المومنینؓ عمرؓ بن خطاب کے ہاتھ فروخت کردی۔“
پھر امیر المومنین حضرت عمر بن خطابؓ نے فرمایا ”جب میری وفات ہوجائے تو اسے میرے کفن میں رکھ دینا تاکہ میں اسکو لےکر اللہ تعالٰی سے ملاقات کروں۔“
اللہ اکبر ۔۔
یا اللہ ہمارے حاکموں کے دلوں میں بھی اپنا ڈر پیدا کر۔