12/10/2022
محمد حنیف کا کالم: جنرل مشرف کے روشن خیال دیوانے کہاں ہیں؟سابق فوجی صدر پرویز مشرف نے تاحال خود کو قانون کے حوالے نہیں کیا ہے
زندگی میں اسلام آباد جانے کا بہت کم اتفاق ہوا ہے لیکن ہمیشہ وہاں کی فضاؤں میں کچھ نشہ سا محسوس ہوتا تھا۔ پہلے سمجھا کہ امام بری کی برکت ہو گی یا مارگلہ کی پہاڑیوں کے آگے سبزے کی وجہ سے ایسا ماحول ہے لیکن اسلام آباد کے سینیئر صحافی ساتھیوں سے ملاقات ہوئی تو پتا چلا کہ یہ طاقت کے مرکز سے قربت کا نشہ ہے۔
وہی سُرور جو دیوان خاص کی دیواروں سے کان لگا کر اندر سے آتے قہقہے سن کر ہوتا ہے، غلام گردشوں کے وہ مناظر دیکھ کر ہوتا ہے جہاں خدمت گار قندیلیں اٹھا کر دوڑ رہے ہوتے ہیں کہ آج یہاں کچھ نیا ہونے والا ہے۔ اسلام آباد کی ہر دعوت میں پھیلائی جانے والی ہر افواہ اپنے آپ کو تاریخ کا نیا ورق بتاتی ہے۔
جنرل مشرف کے عروج کے زمانے میں اسلام آباد کے ایک سینیئر، روشن خیال، جمہوریت پسند اور ہر رخ سے لبرل لگنے والے ایک دانشور نے لطیفہ سنایا کہ بتاؤ خدا اور مشرف میں کیا فرق ہے بس یہی کہ خدا اپنے آپ کو مشرف نہیں سمجھتا۔
میرے سینیئر دوست شاید مشرف کا مذاق اڑانے کی کوشش کر رہے تھے لیکن مذاق بھی ایسا کہ جنرل مشرف کے سامنے کیا جائے تو وہ بھی تھوڑا سا سینہ پھلا کر ہنس دیتے۔