16/02/2024
پیرحق خطیب حسین اور اقرارالحسن کامناظرہ۔۔۔؟
عمرفاروق
پندرہ سال پہلے پیر حق خطیب کاایک اخباری انٹرویو میں نے کیاتھاوہ انٹرویو بھی بڑا دلچسپ تھا میں ان کے آستانے پرپہنچا تو تھوڑی دیر بعد پیر صاحب سج دھج کر تشریف لائے اس وقت ان کی چہرے پر داڑھی نہیں ہوتی تھی( کلین شیو تھے)
تھوڑی دیر کی غیررسمی گپ شپ کے بعد جب انٹرویو شروع کرنے کاکہاتو حضرت پیر صاحب نے اپنے ایک پریس سیکرٹری جو کہ ھمارے دوست ہیں سے کہا کہ انہیں انٹرویو لکھوا دیں ۔۔۔
میں نے کہا کہ حضرت آپ بھی برکت کے لئے کچھ فرمادیں تو عنایت ہوگی تو حضرت نے فرمایا کہ یہ جب لکھوادیں گے تو میں نظرڈال دوں گا ۔۔میں نے محسوس کیا کہ کہ پیر صاحب روحانیت ،عملیات کے متعلق کوئی خاص علم نہیں رکھتے صرف اپنے والد کے دئے ہوئے عمل کے ذریعے کام چلارہے ہیں۔۔ وہ اس وقت شرمیلے بھی تھے اور نہایت سادہ مزاج بھی۔۔۔۔
خیر وہ انٹرویو رنگین ایڈیشن میں چھپ گیا بعد ازاں بھی ایک آدھ ان سے ملاقات ہوئی کچھ مریض علاج کے لئے ان کی طرف بھیجے بھی ۔۔
میرا خیال تھا اور ہے کہ پیر حق خطیب کے پاس جتنا عمل تھا اسی تک محدودرہتے تو اچھا تھا ۔۔۔۔۔لیکن ان سے غلطی یہ ہوئی کہ وہ کاریگروں کے ہتھے چڑھ گئے جنھوں نے دولت اور شہرت کی لالچ میں انہیں پھسلادیا اور وہ روحانی عمل کے ساتھ کرتب ،شعبدہ بازی کی طرف نکل گئے۔ان کی ٹیم نے انہیں سوشل میڈیا کے ذریعے دیو مالائی شخصیت کے طور پر پیش کرنا شروع کردیا ان کی کرامت(شعبدہ بازیوں )کی بازگشت بیرون ملک جاپہنچی ۔لاکھوں کی تعداد میں مریدبن گئے(اس سے اندازہ لگائیں کہ جب جنرل فیض حمیدڈی جی آئی ایس آئی تھے تو وہ بھی دم کروانے حضرت کے آستانے پر باقاعدگی سے حاضری دیتے تھے)....... ہیرصاحب کے بیرون ممالک کے سفر شروع ہوگئے مال ودولت کی فراوانی ہوگئی اور حضرت شہرت کی بلندیوں پر جاپہنچے۔۔۔جس کی وجہ سے بڑے بڑے آستانوں کی رونقیں ماند پڑگئیں.......۔
پیرصاحب کے مریدوں نے کلرسیداں جیسی زرخیز زمین پر بلاوڑہ شریف کی برانچ کھولی جہاں کے اکثر لوگ برطانیہ اور دیگر ممالک میں مقیم ہیں۔۔
پیر صاحب جب مشہور ہوئے تو علماء اور دیگر آستانوں کو قابو کرنے کے لئے ان کے ساتھ لپٹے ہوئے کاریگروں نے انہیں ازخود"تحریک تحفظ ختم نبوت کے سپہ سالار ،،کالقب دے دیا اب نہیں معلوم کہ یہ لقب انہیں ختم نبوت کے حوالے سے کون سی خدمات کے عوض دیا گیا ؟البتہ اس مقدس نام پر پر جان ومال قربان کرنے لئے لوگ ہمہ وقت تیار ہوتے ہیں۔
ٹی وی اینکر (جوخود بھی شعبدہ باز ہوتا ہے) اقرار الحسن اور حق خطیب کے درمیان معرکہ ارائی چل رہی تھی میں وہ ساری تو نہیں دیکھ سکا البتہ گزشتہ رات ہونے والی کاروائی کے کچھ کلپس ابھی سوشل میڈیا پر دیکھے ہیں جس میں حق خطیب کامیڈیا سیل اپنی فتح کے شادیانے بجارہاہے جبکہ اقرار الحسن اپنی فتح کاڈنکابجا رہا ہے ۔۔۔
دونوں اطراف کی سوشل میڈیا کو دیکھتے کے بعد یہ نتیجہ اخذ کیا کہ پیر صاحب نے روایتی شعبدہ بازی کا مظاہرہ کرتے ہوئے
اسی عورت کی آنکھ سے زنجیر نکالی جس سے ہر دفعہ نکالتے ہیں۔لگتاہے کہ اس عورت کی آنکھ میں زنجیروں کی پوری بوری پیرصاحب نے رکھی ہوئی یے۔
اقرار الحسن کے دوبارہ زنجیر نکالنے کے مطالبے پر آئیں بائیں ، شائیں کرنے لگے۔۔۔
اس کے ساتھ یہ بتانے سے بھی گریزاں رہے کہ آیا وہ دم قرآنی آیات سے کرتے ہیں یا کوئی مخصوص دم کرتے ہیں ۔
پیرحق خطیب قرآن کی کوئی آیت یاسورت نہیں سناسکے ۔
پیرصاحب کوئی دم کرکے یا اپنے جنات کے زریعے اقرارالحسن اور ان کی ٹیم کو مسخر نہیں کرسکے بلکہ
الٹاطے شدہ طریقہ کار کے مطابق صرف شور شرابے،دھکم پیل سے کام چلایا ان کی ٹیم سے کیمرے موبائل چھین لئے اور اپنی فتح کاجعلی اعلان کروادیا ۔۔۔۔۔۔۔۔
اس دوران پیرصاحب نے اپنے کارندوں کی ہدایت کے مطابق ایسی حرکتیں کیں کہ جس سے ان کے مریدین کویہ تاثر ملے کہ پیر صاحب نے یہ معرکہ سرکرلیاہے اور وہ فتح یاب ہوگئے ہیں ۔۔۔مثلا انہوں نے اقرارالحسن کے رخسار پراچانک بوسہ دیا ۔۔۔اسی طرح بات کرنے کی بجائے وہ بار بار اپنے دونوں ھاتھ فضاء میں لہراتے رہے جس سے یہ تاثر دیا کہ وہ یہ معرکہ جیت گئے ہیں۔۔۔اوران کی سوشل میڈیا ٹیم بار بار اس عمل کو دکھاتی رہی۔
اتنی سی گزارش کہ پیرحق خطیب کرتب اور شعبدہ بازی کو چھوڑ کر اپنے علم کے مطابق صرف علاج معالجے تک اپنے اپ کومحدودکرلیں تو اسی میں انکی بھلائی ہے ورنہ آئے روز ان کے ساتھ یہ کرتب ہوتے رہیں گے۔۔۔۔۔