Âkàßhà Bháťťî

Âkàßhà Bháťťî welcome

21/02/2024
جن اور انسانی لڑکی کی محبت 🎁❤قسط .3❤❤❤❤❤❤ازلان ہواٶں میں تیرتا ہوا کافی دور نکل آیا ۔پہاڑوں کے بیچ پہنچ کر وہ ایک جگہ ات...
21/02/2024

جن اور انسانی لڑکی کی محبت 🎁❤

قسط .3❤
❤❤❤❤❤
ازلان ہواٶں میں تیرتا ہوا کافی دور نکل آیا ۔پہاڑوں کے بیچ پہنچ کر وہ ایک جگہ اتر گیا اور آگے چلنے لگا۔ایک غار کے پاس پہنچ کر وہ رک گیا۔کچھ دیر انتظار کے بعد غار کے درواذے سے ایک شخص نمودار ہوا اور ازلان کو اندر لے گیا۔منظر کچھ یوں تھا کہ غار کے ایک کونے میں چشمہ تھا۔ساتھ میں ہی شہد کی مکھیوں کا چھتہ تھا اور دوسرے کونے میں ذمین پر بستر بچھا ہوا تھا۔باہر شدید سردی کے باوجود غار اندر سے گرم تھا۔ایک نورانی چہرے والے بزرگ مصلہ بچھا کر عبادت میں مصروف تھے۔ازلان بزرگ کے پاس بیٹھ گیا اور ان کے فارغ ہونے کا انتظار کرنے لگا۔
یہ بزرگ انسانوں میں سے تھے۔یہ پورا سال غار میں اللہ کی عبادت کرتے تھے اور صرف ایک ماں کے لیے باہر نکل کر ساری دنیا میں گھوم کر بیماروں کو دم کرتے جس سے وہ سب صحت یاب ہو جاتے تھے۔ازلان سے ان کی کافی پرانی پہچان تھی۔وہ یہاں بہت کم آتا تھا مگر آج کابوت کا پتا لگانے کے لیے اسے یہاں آنا پڑا تھا۔بزرگ نے فارغ ہو کر ازلان سے مدعا پوچھا ۔ازلان نے ساری تفصیل سے آگاہی کے بعد ان سے کابوت کا پتا لگانے کو کہا۔ازلان وہ سب ٹھیک ہے مگر تم جس لڑکی کے ساتھ رہتے ہو وہ لڑکی انسان ہے اور شیطان اس لڑکی کو نقصان پہنچا سکتے ہیں تم محتاط رہو گے تو بہتر ہو گا۔بزرگ نے ازلان سے کہا اور تسبیح لے کر آنکھیں موند لیں۔۔۔ازلان نے گہرا سانس چھوڑا ۔اسے ذینب کو محفوظ رکھنا تھا۔کچھ دیر بعد بزرگ نے ازلان کی آنکھوں میں دیکھا۔ایک سفید روشنی ازلان کی آنکھوں میں چلی گی اور سارے منظر ازلان کو دکھای دینے لگے۔۔
❤❤❤❤
ذینب نے کام ختم کیا اور کمرے میں آکر بیٹھ گی۔کل سے ازلان اسے ملنے نہیں آیا تھ۔ذینب کو عجیب بے چینے سی تھی اس نے خود کو آٸینے کے سامنے کھڑا کر کے دیکھا ۔اس کی حالت ملاذمہ سے بھی بدتر تھی۔۔کپڑوں میں پیوند لگے ہوے وہ خود کو صاف ستھرا رکھتی تھی مگر اس کے پاس نہ کپڑے تھے نہ ہی اچھی کوی چیز جو وہ استعمال کرتی ۔۔بے اختیار اس کی آنکھوں میں آنسوو آگے۔۔۔
❤❤❤❤
ذبیدہ جس کا اصلی نام سندری تھا شیطان جننیوں میں سے تھی۔۔کابوت اپنے قبیلے کا سب سے طاقتور جن تھا اس لیے اس نے کابو ت کو اپنے قابو میں کیا اور ڈرامے سے اسلام قبول کر کے اس سے شادی کر لی۔۔اب وہ روزانہ کابوت پر اپنی طاقتوں سے دم کرتی جس سے کابوت کمزور ہوتا جا رہا تھا اور اس کی ساڑی طاقتوں کو ایک شیشی میں رکھ کر وہ لیوسیفر سردار تک پہنچانے والی تھی۔۔اسے چالیس دن کا چلہ مکمل کرنا تھا اس کے بعد وہ کامیاب ہو جاتی اور شیطان سردار طاقتور بن کر مسلم جنوں پر حملہ کرتا۔۔ذنیرا کو رہا کر کے اسے ایک شیشہ پکڑا دیا گیا تھا۔جس کو وہ جیسے ہی لے کر قبیلے میں جاتی قبیلے کا حصار ختم ہو جاتا اس طرح بہت ساے شیطان آسانی سے قبیلے میں داخل ہو سکتے تھے۔۔اور بدقسمتی سے ذنیرا قبیلے میں داخل ہو چکی تھی ۔اس کے ساتھ ہی بہت سے شیطان قبیلے داخل ہو گے اور کچھ مختلف جگہوں پر روپوش ہو کر حملے کا انتظار کرنے لگے تھے۔۔
کابوت اس وقت سندری کے قبضے میں تھا ۔وہ مکمل بے ہوش تھا۔حصار ہونے کی وجہ سے معلوم نہیں ہوسکا تھا کہ سندری کابوت کو کہاں لے گی ہے مگر اتنا معلوم ہو گیا تھا۔کہ وہ دونوں کسی جنگل میں ہیں جہاں بہت ذیادہ سانپ اور اژدھے موجود ہیں۔۔اور یہ جگہ ازلان پہچانتا تھا مگر اسے یاد نہیں آرہا تھا کہ ایسی کونسی جہ ہے جہاں ایسے موزی جانور موجود ہیں۔۔۔
ازلان اب آگے کا راستہ تم خود طے کرو اس سے ذیادہ میں کچھ نہیں کر سکتا۔۔
یہ رکھ لو کام آۓ گی
بزرگ نے ایک انگوٹھی ازلان کو دی اور عبادت میں مصروف ہ گے۔۔
وہی شخص جو بزرگ کا غلام تھا وہ ازلان کو درواے تک چھوڑ آیا ۔ازلان اڑتا ہوا ۔ذینب کی طرف چلا گیا۔۔
ذینب شیشے میں خود کو دیکھ کر رو رہی تھی۔ازلان اس کی پریشانی سمجھ کر ایک دم غایب ہوا۔کچھ دیر بعد ایک بیگ کے ساتھ کمرے میں آیا۔۔
ذینب ازلان کو دیکھ کر چونکی ۔۔ت تم بھوت۔۔ذینب کے دل میں ڈر نے جگہ لے لی۔۔ہممم میں یہ لو اسے پہن کر آو۔۔
ازلان نے اسے بیگ پکڑایا اور کرسی پر بیٹھ گیا۔۔اسی لمحے ذینب کا ڈر بھاگ گیا وہ مسکراتی ہوی۔واشروم چلی گی۔۔
واپس آنے پر ازلان اسے دیکھ کر ششدر رہ گیا۔۔۔
ذینب بلیک کلر کی میکسی میں قیامت ڈھا رہی تھی۔
گیلے بالوں کو ایک طرف ڈالے وہ مسکراتے ہوے آگے بڑھی۔۔
واو بہت خوب ۔ازلان نے بڑھ کر اس کے ماتھے پر ہونٹ رکھ دیے۔
ذینب نے شرما کر گردن جھکا لی۔۔ازلان نے کچھ پڑھ کر ذینب کا حصار کھینچا اور اس کے ساتھ بیٹھ کر باتوں میں مگن ہو گیا۔۔
❤❤❤❤❤
اے اے یہ کپڑے کدھر سے آۓ اتنے مہنگے۔۔
سدرہ نے ذینب کو دیکھ کر کہا
میرے اپنے ہیں۔۔
ذینب نے آنکھیں مٹکا کر کہا۔
دیکھا اکبر بولا تھا نا میں نے کہ کسی یار سے ملتی ہی دیکھ لو کیسے عیاشی کر رہی ہے۔۔۔
سدرہ نے دانت پیس کر اکبر کو کہا۔۔
ثناہ اس کے کپڑے دیکھ کر حیران ہو گی لالچ سے اس کی انکھیں کھل گی
شرم نہیں اتی کمینی ۔۔۔
اکبر اگے بڑھ کر ذینب کو مارےن لگا تو اچانک اس کا ہاتھ کسی نے ذور سے پکڑ لیا۔۔
اکبر کو کچھ دکھای تو نہ دی مگر اس کا ہاتھ مسلسل کسی کی گرفت میں تھا ارے ذکے کیوں ماریں اس کمینی کو۔۔سدرہ نے اکبر کو کہا
ذینب کے چہرے پر فاتحانہ مسکراہٹ تھی۔۔
اکبرتھک ہار کر بستر پر بیٹھ گیا۔۔ذینب مسکراتی ہوی چھت کی جانب بڑھ گی۔۔
❤❤❤❤❤❤۔
ذنیرا اپنے والد کے پاس پہنچی اور ساری کہانی سنا ڈالی۔۔اس ک والد ملکہ ملکہکے پاس پہہنچے انہیں کچھ گڑ بڑ لگ رہی تھی۔۔ملکہ نے ایک اور بم پھوڑا کہ قبیلے کا حصار ختم ہو گیا ہے۔۔جس سے سب لوگ خوفزدہ ہو گے۔۔ملکہ نے فوراََ ازلان کو واپس بلایا ۔۔تاکہ کوی حل نکالا جا سکے۔۔۔
👑❤❤❤
ازلان ذینب کے ساتھ چھت پر بیٹھا باتوں میں مصروف تھا۔ذینب کو ازلان کےآنے کے بعد بہت سکون تھا۔وہ ازلان سے دور نہیں رہ سکتی تھی۔۔وہ دونوں ایک دوسرے کو اپنا سب چھ مان چکے تھے
ملکہ کا پیغام ملتے ہی ازلان نے ذینب کو اپنے جانے کی خبر دی کیوںکہ شاید اب جنگ کا وقت آ گیا تھا۔۔اس نے ذینب کو جلد لوٹنے کا کہا۔ذینب نے رو رو برا حال کیا تھا۔ازلان اسے سمجھا کر واپس لوٹ گیا۔ذینب نے اس کی کامیابی کی دعا کی۔اور کمرے میں چلی گی۔۔
❤❤❤❤❤❤
جاری ہے
تو ریڈرز بتاٸیں اژلان کامیاب ہوگا
اورکابوت کس جنگل میں ہے ؟؟
کیا سدرہ ذینب کو ان دنوں سکون سے رہنے دےگی یا کرے گی کچھ طوفانی؟؟؟
سب راے دیں 😊😊😊❤

جن اور انسانی لڑکی کی محبت 🎁❤👑👑قسط نمبر_2_ #❤✨✨✨✨✨✨✨✨✨✨✨ذینب کی آنکھ کھلی تو اس کے بدن کا جوڑ جوڑ دکھ رہا تھا ۔وہ مشکل س...
21/02/2024

جن اور انسانی لڑکی کی محبت 🎁❤
👑👑
قسط نمبر_2_ #

✨✨✨✨✨✨✨✨✨✨✨
ذینب کی آنکھ کھلی تو اس کے بدن کا جوڑ جوڑ دکھ رہا تھا ۔وہ مشکل سے اٹھ کر بیٹھی پین کل کے اثر سے وہ کافی دیر سوتی رہی۔اسے کافی کمزوری محسوس ہو رہی تھی۔بیٹھ کر اس نے بند درواذے پر نظر دوڑاٸ ۔اور ٹیک لگا کر بیڈ کراون کے ساتھ بیٹھ گٸ۔ایک لمبا سانس خارج کیا۔تبھی اسے کھانے کی مزے دار خوشبو آٸ اس کی بھوک بھی چمک اٹھی۔اس نے بے تابی سے سر اٹھا کر اپنے آس پاس دیکھا تو میز پر کھانا پڑا ہوا تھا۔وہ حیرانگی سے اٹھی اور کھانا اٹھا کر دیکھا تو وہ بلکل تازہ کھانا تھا۔اس نے بغیر کچھ سوچے کھانا اٹھایا ۔اسے اچانک کھانے کی ٹرے کے نیچے ایک پرچی پڑی ملی۔اس نے پرچی اٹھاٸ اور درد کرتے جسم کے ساتھ بیڈ پر بیٹھ کر کھانا کھانے لگی۔کھانا بہت مزے دار تھا ۔جب زینب کھانا کھا چکی تو برتن ایک طرف رکھ کر پرچی کھولی ۔
زینب اپنا خیال رکھنا ۔
پرچی پر لکھا فقرہ پڑھ کر وہ بہت حیران ہوی۔کون تھا جو یہ سب کر رہا تھا۔اسے یاد آیا کہ کچن میں کیک بھی اس نے نہیں بنایا تھا پھر وہ وہاں کیسے پہنچا۔اور حیرت انگیز طور پر کھانے کے بعد اس کے جسم میں کوی درد نہیں تھا جیسے کبھی کچھ ہوا ہی نا ہو۔ابھی وہ سوچوں میں محو تھی کہ کمرے میں میاوں کی آواذ پر چونکی۔
سامنے ہی کیرو بیٹھا اسے دیکھ رہا تھا۔ذینب نے لپک کر اسے اٹھایا اور پیار کرنے لگی۔۔۔آذان کی آواذ پر وہ اٹھی اور فجر کی نماذ پڑھنے لگی۔پھر وہ کچن میں گی کیرو اس کے پیچھے ہی تھا۔ابھی وہ کچن میں داخل ہوی تھی کہ سدرہ ٹپک پڑی ۔ناشتہ تیار ہے کیا؟
ججی میں بس ابھی کرتی ۔۔۔۔۔۔۔۔““
ذینب نے ڈرتے ہوے سدرہ کو کہا تو سدرہ اس کی بات پوری ہونے سے پہلے ہی میز کی جانب بڑھ گی جہاں ناشتہ تیار پڑا تھا۔
ذینب حیرت میں ڈوبتی چلی گی ناشتہ کس نے بنایا۔؟
ابھی وہ دیکھ دہی رہی تھی کہ ثناہ اور اکبر بھی کھانا کھانے اگے ۔
واہ مہارانی آج تو ناشتہ بڑا مزے دار ہے ۔۔
اکبرنے تعریف کی۔۔
جی آج میں نے ہی بنایا ہے ناشتہ۔سدرہ نے بڑی چالاکی سے کریڈٹ اپنے سر لے لیا۔۔
اگر بھابھی نے ناشتہ بنایا تو وہ ابھی اٹھ کر مجھ سے کیوں کہہ رہی تھی کہ ناشتہ بناو۔۔۔۔۔؟
ذینب حیران سی سوچوں میں محو تھی۔۔
اس نے سر جھٹک کر ادھر ادھر دیکھا تو کیرو غایب تھا۔
ذینب حیران پریشان سی کمرے میں چلی گی
۔۔وہ سوچوں میں گم بستر پر جا کر بیٹھی تو اپنے ساتھ کسی کی موجودگی کو محسوس کر کے چونکی۔
کککون ہے؟؟
جواب میں خاموشی۔۔
دیکھو جو بھی ہے سامنے آ جاو ۔
ذینب کے دوسری بار پکارنے پر ایک دھوان نمودار ہوا اور دیکھتے ہی دیکھتے وہ ایک انسان کی شکل اختیار کر گیا۔
❤❤❤❤❤❤❤❤❤
ذنیرا کمرے کے کونے میں ڈری سہمی سی بیٹھی تھی ۔۔وہ اس وقت شدت سے اللہ کو یاد گر رہ تھی۔۔
درواذہ کھلا اور جنبیلی کمرے ییں اک ادا سے چلتی ہوی داخل ہوی۔۔
اے !!چل کھانا کھا لے پھر تیار ہو جا سردار کے پاس جانا ہے۔
چنبیلی کے کہنے پر ذنیرا چنبیلی کے پیروں میں گر گی
دیکھو مجھے بچا لو۔۔میری عزت مت تباہ کرو خدارا میری مدد کرو
میں تیری مدد نہیں کر سکتی چل کام نپٹا۔۔
چنبیلی نے اسے ٹھوکر لگای اور کھانا رکھ کر واپس پلٹ گی۔
ذنیرا نے روتے ہوے کھانے کو دیکھا۔بھوک تو اسے لگی ہی تھی سو وہ کھانا اٹھا کر کھانے لگی۔۔کھاتے ہوے اسے ٹرے کے کونے میں ایک پرچی ملی ۔۔ذنیرا نے اسے اٹھا کر کھولا تو وہ چنبیلی کا خط تھا۔۔
"دیکھو یہ کمرہ جادوی ہے اس میں جو بھی بات کی جاے وہ سردار کو سنای دیتی ہے اس لیے میں تم سے کچھ کہہ نہیں سکتی
تم کھانا کھا کر خاموشی سے بیٹھ جاو میں جب تمہیں دوسری بار ملنے آٶں گی تو سارے طرقے کار سے سمجھا کر یہاں سے نکال لوں گی۔۔بس تم ہمت رکھنا۔۔
خط پڑھ کر ذنیرہ کو کچھ ڈھارس ہوی کھانا کھا کر وہ بستر پر لیٹ گی ۔لیٹے لیٹے اسے نیند آگٸ۔۔
اس کی آنکھ چنبیلی کے شور سے کھلی ۔
اے اٹھ جا اب جلدی کر تجھے تیار کرنا ہے۔
ذنیرا ایک جھٹکے سے اٹھی اور بیٹھ گی۔
چنبیلی اسے پکڑکر کمرے سے نکل گی اور ایک دوسرے کمرے میں چلی گی۔اس نے ذنیرا کو خاموش رہنے کا کہا اور ایک دوسری جننی کے ساتھ روانہ کر دیا۔
ذنیرا حیران سی اس کے ساتھ چلتی گی۔وہ ملاذمہ قبیلے کی حد پر آ کر رک گی ۔اور ایک شیشہ ذنیرا کو دے کر واپس لوٹ گی۔ ذنیرا نے اپن گرد حصار کھینچا اور وہاں سے غایب ہوگی۔
❤❤❤❤❤
ذینب اس ہیولے کو دیکھ کر خوف سے تھر تھر کانپنے لگی۔اس نے بستر کی چادر و مضبوطی سے پکڑ لیا۔
وہ ہیولہ انسانی شکل میں آنے کے بعد مسکرا کر اسے دیکھنے لگا
گہری کالی آنکھیں جسم پر سفید قمیض شلوار پہنے کندھوں تک لمبے بال وہ کسی شہزادے سے کم نہ تھا ۔۔
ککون ۔؟
ذینب نے ڈرتے ہوے پوچھا۔۔
ازلان
مسکرا ر جواب دیا گیا
بھو بھوت ۔
ذینب کے منہ سے بے اختیار چیخ نکلی تھی۔
ارےچلاو مت میں بھوت نہیں جن ہوں
ازلان نے شرارت سے کہا اور اسے پاس بستر پر بیٹھ گیا
ذینب کو اس کے بدن کی خوشبو سے عجیب لطف آرہا تھا
ازلان نے ذینب کی آنکھوں میں دیکھا اور اسی لمحے ذینب کا سارا ڈر غایب ہو گیا اور وہ پر سکون ہو گی۔۔
تم کون ہو؟؟
ذینب نے سوال دوہرایا
ازلان۔
شرارت سے جواب دیا گیا
ہاہا میرا مطلب تم جن ہو تو یہاں کیاکر رہے ہو
ذینب نے مسکرا کر کہا
تمہارے لیے آیا ہوں۔
ازلان نے مسکرا کر جواب دیا
اچھااا تو یہ سب تم کرتےہو؟؟ کھانا ظاہر کرنا اور کیک وغیرہ
ذینب نے حیرت سے سوال کیا
ہاں میں ہی کرتا ہوں
ازلان نے بھی سنجیدگی سے جواب دیا
مگر کیوں؟؟
حیرت کی انتہا سےپوچھا گیا
بس تمہیں تکلیف میں نہیں دیکھ سکتا۔۔۔
ازلان کے جواب پر ذینب حیران ہوی وہ کب کسی کے لیے اتنا اہم تھی۔۔
کچھ کہنے سے پہلے ہی ثناہ نے درواذہ کھٹکھٹایا
ارے رانی صاحبہ بھوک لگی ہے۔
ذینب نے چونک کر درواذے کو دیکھا
پھر اپنے پاس دیکھا تو ازلان وہاں موجود نہںیں تھا۔
❤❤❤❤❤❤
تو ریڈرز کیا ناول لکھنا چھوڑ دوں رسپانس اچھا نہیں آ رہا ہے خیر تو ہے نا میری حوصلہ افزای کیا کریں جی اور ہم آپ سے کیا مانگتے ہیں اگر رسپانس اچھا نہیں تو میں لکھنا چھوڑ دوں؟؟؟؟
کیا ذینب کی ذندگی اب سہی ہو جاے گی
ذنیرا رہا ہو گی ہے یا پھر یہ شیاطین کی کوی چال ہے
کابوت مل پاےگا
راے دیں اور لمبے لمبے اچھے اچھے کمنٹ کریں
جو لوگ کمنٹ کرتے ہیں ان کا بہت شکریہ اللہ اپ کو سلامت رکھے😊😊

جن اور انسانی لڑکی کی محبت 🎁❤قسط 1✨✨✨👑❤❤❤❤✨✨✨✨✨ازلان نے چند با اعتماد بزگوں کو اپنے انسانی دنیا میں جانے کا بتایا اور یا...
21/02/2024

جن اور انسانی لڑکی کی محبت 🎁❤

قسط 1✨✨✨👑
❤❤❤❤
✨✨✨✨✨
ازلان نے چند با اعتماد بزگوں کو اپنے انسانی دنیا میں جانے کا بتایا اور یاقوت کو چند دنوں کے لیے اپنی جگہ چھوڑ گیا۔۔۔پورے قبیلے میں یہی بتایا گیا کہ ازلان چند دنوں کے لیے چلہ کر رہا ہے تا کہ شیا طین کو قابو کر سکے۔۔۔ازلان جانے کی تیاری کرنے لگا ملکہ سے مل کر اور یاقوت کو چند اہم پہلو سمجھا کر اس نے انسانی دنیا کا رخ کیا ۔۔کافی دور جانے کے بعد وہ ایک جگہ بیٹھ گیا۔۔کسی گھر کی چھت تھی ابھی ازلان کو کچھ دیر ہے گزری تھی کہ چھت پر کوی آہستہ اہستہ قدم اٹھا کر آ گیا۔۔ازلان ایک سفید بلے کی شکل میں چھت کے کونے میں بیٹھ گیا۔۔آنے والی کوی حور تھی جس نے ازلان کو چند لمحوں کے لیے ساکت کر دیا تھا۔۔۔زینب ابھی ابھی ٹھنڈے پانی سے برتن دھو کر آٸ تھی۔۔ٹھنڈ سے اس کے ہاتھ سن ہو گے تھے۔۔۔وہ چھت کے ایک کونے میں بیٹھ گی اور رونے لگی۔۔اسے انے حال پر شدید رونا آ رہا تھا۔۔کہیں سے ایک سفید سا بلا اس کے پاس آ کر بیٹھ گیا ۔۔ذینب نے بلے کو اٹھا کر گود میں رکھا اور پیار کرنے لگی۔۔۔تم بھی میری طرح اکیلے ہو۔۔؟؟ کتنے پیارے ہو تم ۔۔اور تمہاری یہ آنکھیں بلکل سیاہ ہیں۔۔چلو آج سے تمہارا نام کیرو ہے ٹھیک ہے تم میرے ساتھ رہو گے
ذینب بلے سے باتیں کر رہی تھی اور بلا اس کے ہاتھوں پر ذبان سے بوسے دے رہا تھا۔۔او ذینب اوپر جا کر مر گٸ ہے کیا؟ آ بھی جا اب ثنا۶ کو کھانا دے۔۔۔
سدرہ کی آواذ پر ذینب سر پر پیر رکھ کر دوڑی۔۔بلا دیکھتے ہی دیکھتے نظروں سے اوجھل ہو گیا
ہاہا اس کو بھی اور کوی نام نہیں ملا تھا رکھنے کو ۔۔۔کیرو۔۔۔۔
ازلان مسکراتا ہوا ذینب کے پیچھے چلا گیا اس بار وہ نظروں سے اوجھل تھا ۔۔۔نیچے کا منظر دیکھ کر ازلان کو شدید غصہ آیا
ثنا۶ ابھی تم یہ بریانی کھا لو شام کو میں تمہیں کیک بنا دوں گی ابھی میں تھک گی ہوں بہت
ذینب نے ثنا۶ کو پیار سے سمجھایا
امی امی دیکھیں یہ ذینب مجھے مار رہی ہے
ثنا۶ نے ذور ذور سے چلانا شروع کر دیا
ذینب نےبوکھلا کر ثنا۶ کے منہ پر ہاتھ رکھ کر خاموش کرانا جاہا تو ثنا۶ نے اس کے ہاتھ پر کاٹ لیا
آہہہہ ثنا۶ تم رکو میں ابھی بنا دیتی ہوں
ذینب نےہاتھ سہلاتے ہوے کہا
نہیں اب تو امی سے مار پڑواوں گی میں
ثنا۶ نے منہ بسور کر کہا اور سدرہ کے کمرے کی طرف چل دی
ازلان نے جلدی سے ذینب کے علم میں لاے بغیر ایک کیک کچن کی شیلف پر رکھ دیا
ذینب نے مڑ کر دیکھا توشیلف پر کیک پڑا تھا وہ کافی حیران ہوی مگر تب تک سدرہ گالیاں بکتی نمودار ہو چکی تھی۔۔۔
اے لڑکی کیا مسلہ ہے کیا کہہ رہی ہے ثنا۶ کیک بنا کر دے اسے
سدرہ نے آتے ہی ذینب کے بال پکڑ کر اسے غصے سے کہا
بھابھی وہ کیک بن گیا ہے
ذینب نے بمشکل جملہ پورا کیا تو سدرہ اور ثنا۶ چونک گییں
اتنی جلدی۔۔؟
کہیں کویی یار وار تو نہیں ہے تیرا جو کیک دے گیا ہاں
سدرہ نے دوبارہ اس کے بال پکڑ لیے۔۔۔۔۔اور خوب مار مار کر چھوڑ دیا
ذینب زخموں سے چور بدن لے کر کمرے میں آ کر بستر پر ڈھے گی۔۔اس کا پورا بدن دکھ رہا تھا۔۔۔اس نے دراذ سے پین کلر نکال کر کھای اور روتے روتے نجانے کب سو گی۔۔۔۔۔ازلان اس کے سونے کے بعد کمرے میں نمودار ہوا اور ایک پرچی لکھ کر رکھ دی ساتھ میں ایک ٹرے میں کھانا رکھ کر غایب ہو گیا اسے ابھی بہت دور جانا تھا۔۔۔۔
❤❤❤❤
بابا کابوت نے اس شیطان جننی سے شادی کر لی اور اپ کہتے ہیں کہ میں صبر کروں ۔؟ کیسے صبر کروں بابا آپ ہی بتاییں میں کیسے اس کے بغیر رہوں گی؟؟ نہیں بس بہت ہوا میں جا رہی ہوں خود ہی اسے ڈھونڈ کر کمینی کے چنگل سے نکالوں گی۔۔۔۔
کابوت کی پہلی منگتر ذنیرہ نے اپنے باپ کو وہیں پریشان چھوڑا اور غصے میں قبیلے کی حد سے باہر آ گی ابھی وہ تھوڑی دور ہی پہنچی تھی جب اسے یاد آیا کہ وہ کافی دور آگی ہے اور اپنی چھڑی بھی گھر چھوڑ آٸ ہے۔۔وہ پریشان سے کھڑی تھی کہ اچانک وہاں شیاطین کے قبیلے کا ایک جن نمودار ہوا اور اسے لے کر اپنے سردار کے پاس پہنچ گیا۔۔
چھوڑو مجھے کہاں لے کر جا رہے ہو چھوڑو۔۔۔ذنیرہ مسلسل خود کو چھڑوانے کی کوشش کر رہی تھی مگر اس کی طاقت ان شیطانوں کے آگے بہت کم تھی۔۔۔ذنیرا کو سردار کے سامنے پیش کیا گیا۔۔سردار نے خباثت سے اسے دیکھا اور قہقہہ لگایا۔۔۔ہاہاہاہا واہ یہ دونوں منگیتر ہمارے قبضے میں ہیں اب تو مزہ ہی آ جاے گا چنبیلی اسے لے جاو اور تیار کرو اب یہ ہمارا بستر گرم کرے گی۔۔
سردار شیطان نے گندی سی نظر ذنیرا کے وجود پر ڈالی اور جنبیلی اسے گھسیٹ کر وہاں سے لے گی۔۔۔۔
مجھے چھوڑ دو خدا کے لیے مجھے چھوڑ دو۔۔۔ذنیرا چنبیلی کے آگے ہاتھ جوڑ کر بھیک مانگ رہی تھی۔۔۔ارے جا لڑکی چھوڑ کیسے دوں تیرے آنے کے بعد سردار تیرے ساتھ عیاشی کرے گا اور مجھے کچھ دن سکون رہے گا۔۔۔۔ہر وقت مجھے اپنے بستر پر رکھتا ہے تھک چکی ہو میں ۔۔۔چنبیلی نے غصے سے کہا اور ذنیرا کو بستر پر پٹخ کر درواذہ بند کر دیا
ذنیرا پھوٹ پھوٹ کر رو دی۔۔اس کی طاقتیں یہاں کام نہیں کر پا رہی تھیں۔وہ بے بسیکی مورت بنے وہیں بیٹھی رہی۔۔۔
❤❤❤❤❤❤
ذنیرا کی گمشدگی کی خبر پورے قبیلے میں پھیل گی تھی ذنیرا کا والد پریشانی میں ملکہ کے پاس حاضر ہوا ملکہ نے اپنی طاقتوں سے ساری سورت حال دیکھ لی مگر ذنیرا ابھی کہاں موجود ہے یہ بات ان کے لیے جاننا بھی کافی مشکل ہو گیا تھا۔۔ملکہ نے ازلان کے دماغ میں ذنرا کی گمشدگی کا پیغام بھیجا جس کے جواب میں ازلان نے انہیں تسلی دی اور کوشش کرنے کا کہہ کر رابطہ منقطع کر لیا۔۔۔۔
❤❤❤❤❤
ازلان ہوا میں پرواذ کرتا ہوا ساری طرف گھوما مگر کابوت کی موجودگی اسے کہیں محسوس نہیں ہوی تھی ۔۔ازلان کے لیے کافی مشکل ہو گیا تھا ۔۔ ذبیدہ عرف سندری شیطان نے بہت چالاکی سے کابوت کو اپنے چنگل میں پھنسا کر کہیں غایب کر دیا تھا ۔۔ازلان تھک ہار کر ایک جھیل کے کنارے بیٹھ گیا۔۔اس نے خود کو حفاظتی حصار میں رکھا تھا تاکہ کسی کو اس کی موجودگی محسوس نہ ہو۔۔وہ جھیل پر بیٹھا سچوں میں گم تھا جب ملکہ نے اس کے دماغ پر دستک دی ۔۔انہوں نے ذنیرا کی گمشدگی کی خبر ازلان کو دی تو وہ کافی پریشان ہوگیا ۔۔اس نے ملکہ کو تسلی دی اور رابطہ منقطع کر کے سوچ میں پڑ گیا ۔۔وہ اس معاملے میں بے بس تھا کیوںکہ اس کے پاس اتنی طاقتیں نہیں تھیں کہ وہ کچھ کچھ کر سکتا اپنے قبیلے کی ساری مضبوط طاقتیں کابوت کے پاس تھیں مگر کابوت کے غایب ہونے کے بعد ازلان خود کو کافی بے بس محسوس کر رہا تھا
۔۔۔۔۔ازلان کے پاس اب ایک ہی راستہ تھا کہ وہ اپنے مرشد سے مشورہ کرتا۔۔سو وہ سب کچھ خدا پر چھوڑ کر اٹھ کھڑا ہوا ۔۔اب اس کا رخ ذینب کی طرف تھا۔۔۔
❤❤❤❤❤❤
جاری ہے ۔۔۔
یہ کہانی تخلیقی ہے اس کا حقیقی ذندگی سے کوی تعلق نہیں ہے
جن کو پڑھنا ہے وہ پڑھیں جو لوگ کہتے ہیں کہ یہ سب حقیقت نہیں ہے تو ان کو گروپ جواین کرن کی کیا ضرورت ہے ؟؟ناول گروپ ناول پوسٹ کرنے کے لیے ہوت ہیں اور ناولز ہوتے ہی ذہن کی تخلیق ہیں
Got it!
اور جو لوگ مجھے سپورٹ کرتے ہیں ان کا دل سے شکریں اللہ اپ سب کو خوش رکھے
😊😊

18/07/2023

.



Address

Faisalabad

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Âkàßhà Bháťťî posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share

Category