21/02/2024
جن اور انسانی لڑکی کی محبت 🎁❤
قسط .3❤
❤❤❤❤❤
ازلان ہواٶں میں تیرتا ہوا کافی دور نکل آیا ۔پہاڑوں کے بیچ پہنچ کر وہ ایک جگہ اتر گیا اور آگے چلنے لگا۔ایک غار کے پاس پہنچ کر وہ رک گیا۔کچھ دیر انتظار کے بعد غار کے درواذے سے ایک شخص نمودار ہوا اور ازلان کو اندر لے گیا۔منظر کچھ یوں تھا کہ غار کے ایک کونے میں چشمہ تھا۔ساتھ میں ہی شہد کی مکھیوں کا چھتہ تھا اور دوسرے کونے میں ذمین پر بستر بچھا ہوا تھا۔باہر شدید سردی کے باوجود غار اندر سے گرم تھا۔ایک نورانی چہرے والے بزرگ مصلہ بچھا کر عبادت میں مصروف تھے۔ازلان بزرگ کے پاس بیٹھ گیا اور ان کے فارغ ہونے کا انتظار کرنے لگا۔
یہ بزرگ انسانوں میں سے تھے۔یہ پورا سال غار میں اللہ کی عبادت کرتے تھے اور صرف ایک ماں کے لیے باہر نکل کر ساری دنیا میں گھوم کر بیماروں کو دم کرتے جس سے وہ سب صحت یاب ہو جاتے تھے۔ازلان سے ان کی کافی پرانی پہچان تھی۔وہ یہاں بہت کم آتا تھا مگر آج کابوت کا پتا لگانے کے لیے اسے یہاں آنا پڑا تھا۔بزرگ نے فارغ ہو کر ازلان سے مدعا پوچھا ۔ازلان نے ساری تفصیل سے آگاہی کے بعد ان سے کابوت کا پتا لگانے کو کہا۔ازلان وہ سب ٹھیک ہے مگر تم جس لڑکی کے ساتھ رہتے ہو وہ لڑکی انسان ہے اور شیطان اس لڑکی کو نقصان پہنچا سکتے ہیں تم محتاط رہو گے تو بہتر ہو گا۔بزرگ نے ازلان سے کہا اور تسبیح لے کر آنکھیں موند لیں۔۔۔ازلان نے گہرا سانس چھوڑا ۔اسے ذینب کو محفوظ رکھنا تھا۔کچھ دیر بعد بزرگ نے ازلان کی آنکھوں میں دیکھا۔ایک سفید روشنی ازلان کی آنکھوں میں چلی گی اور سارے منظر ازلان کو دکھای دینے لگے۔۔
❤❤❤❤
ذینب نے کام ختم کیا اور کمرے میں آکر بیٹھ گی۔کل سے ازلان اسے ملنے نہیں آیا تھ۔ذینب کو عجیب بے چینے سی تھی اس نے خود کو آٸینے کے سامنے کھڑا کر کے دیکھا ۔اس کی حالت ملاذمہ سے بھی بدتر تھی۔۔کپڑوں میں پیوند لگے ہوے وہ خود کو صاف ستھرا رکھتی تھی مگر اس کے پاس نہ کپڑے تھے نہ ہی اچھی کوی چیز جو وہ استعمال کرتی ۔۔بے اختیار اس کی آنکھوں میں آنسوو آگے۔۔۔
❤❤❤❤
ذبیدہ جس کا اصلی نام سندری تھا شیطان جننیوں میں سے تھی۔۔کابوت اپنے قبیلے کا سب سے طاقتور جن تھا اس لیے اس نے کابو ت کو اپنے قابو میں کیا اور ڈرامے سے اسلام قبول کر کے اس سے شادی کر لی۔۔اب وہ روزانہ کابوت پر اپنی طاقتوں سے دم کرتی جس سے کابوت کمزور ہوتا جا رہا تھا اور اس کی ساڑی طاقتوں کو ایک شیشی میں رکھ کر وہ لیوسیفر سردار تک پہنچانے والی تھی۔۔اسے چالیس دن کا چلہ مکمل کرنا تھا اس کے بعد وہ کامیاب ہو جاتی اور شیطان سردار طاقتور بن کر مسلم جنوں پر حملہ کرتا۔۔ذنیرا کو رہا کر کے اسے ایک شیشہ پکڑا دیا گیا تھا۔جس کو وہ جیسے ہی لے کر قبیلے میں جاتی قبیلے کا حصار ختم ہو جاتا اس طرح بہت ساے شیطان آسانی سے قبیلے میں داخل ہو سکتے تھے۔۔اور بدقسمتی سے ذنیرا قبیلے میں داخل ہو چکی تھی ۔اس کے ساتھ ہی بہت سے شیطان قبیلے داخل ہو گے اور کچھ مختلف جگہوں پر روپوش ہو کر حملے کا انتظار کرنے لگے تھے۔۔
کابوت اس وقت سندری کے قبضے میں تھا ۔وہ مکمل بے ہوش تھا۔حصار ہونے کی وجہ سے معلوم نہیں ہوسکا تھا کہ سندری کابوت کو کہاں لے گی ہے مگر اتنا معلوم ہو گیا تھا۔کہ وہ دونوں کسی جنگل میں ہیں جہاں بہت ذیادہ سانپ اور اژدھے موجود ہیں۔۔اور یہ جگہ ازلان پہچانتا تھا مگر اسے یاد نہیں آرہا تھا کہ ایسی کونسی جہ ہے جہاں ایسے موزی جانور موجود ہیں۔۔۔
ازلان اب آگے کا راستہ تم خود طے کرو اس سے ذیادہ میں کچھ نہیں کر سکتا۔۔
یہ رکھ لو کام آۓ گی
بزرگ نے ایک انگوٹھی ازلان کو دی اور عبادت میں مصروف ہ گے۔۔
وہی شخص جو بزرگ کا غلام تھا وہ ازلان کو درواے تک چھوڑ آیا ۔ازلان اڑتا ہوا ۔ذینب کی طرف چلا گیا۔۔
ذینب شیشے میں خود کو دیکھ کر رو رہی تھی۔ازلان اس کی پریشانی سمجھ کر ایک دم غایب ہوا۔کچھ دیر بعد ایک بیگ کے ساتھ کمرے میں آیا۔۔
ذینب ازلان کو دیکھ کر چونکی ۔۔ت تم بھوت۔۔ذینب کے دل میں ڈر نے جگہ لے لی۔۔ہممم میں یہ لو اسے پہن کر آو۔۔
ازلان نے اسے بیگ پکڑایا اور کرسی پر بیٹھ گیا۔۔اسی لمحے ذینب کا ڈر بھاگ گیا وہ مسکراتی ہوی۔واشروم چلی گی۔۔
واپس آنے پر ازلان اسے دیکھ کر ششدر رہ گیا۔۔۔
ذینب بلیک کلر کی میکسی میں قیامت ڈھا رہی تھی۔
گیلے بالوں کو ایک طرف ڈالے وہ مسکراتے ہوے آگے بڑھی۔۔
واو بہت خوب ۔ازلان نے بڑھ کر اس کے ماتھے پر ہونٹ رکھ دیے۔
ذینب نے شرما کر گردن جھکا لی۔۔ازلان نے کچھ پڑھ کر ذینب کا حصار کھینچا اور اس کے ساتھ بیٹھ کر باتوں میں مگن ہو گیا۔۔
❤❤❤❤❤
اے اے یہ کپڑے کدھر سے آۓ اتنے مہنگے۔۔
سدرہ نے ذینب کو دیکھ کر کہا
میرے اپنے ہیں۔۔
ذینب نے آنکھیں مٹکا کر کہا۔
دیکھا اکبر بولا تھا نا میں نے کہ کسی یار سے ملتی ہی دیکھ لو کیسے عیاشی کر رہی ہے۔۔۔
سدرہ نے دانت پیس کر اکبر کو کہا۔۔
ثناہ اس کے کپڑے دیکھ کر حیران ہو گی لالچ سے اس کی انکھیں کھل گی
شرم نہیں اتی کمینی ۔۔۔
اکبر اگے بڑھ کر ذینب کو مارےن لگا تو اچانک اس کا ہاتھ کسی نے ذور سے پکڑ لیا۔۔
اکبر کو کچھ دکھای تو نہ دی مگر اس کا ہاتھ مسلسل کسی کی گرفت میں تھا ارے ذکے کیوں ماریں اس کمینی کو۔۔سدرہ نے اکبر کو کہا
ذینب کے چہرے پر فاتحانہ مسکراہٹ تھی۔۔
اکبرتھک ہار کر بستر پر بیٹھ گیا۔۔ذینب مسکراتی ہوی چھت کی جانب بڑھ گی۔۔
❤❤❤❤❤❤۔
ذنیرا اپنے والد کے پاس پہنچی اور ساری کہانی سنا ڈالی۔۔اس ک والد ملکہ ملکہکے پاس پہہنچے انہیں کچھ گڑ بڑ لگ رہی تھی۔۔ملکہ نے ایک اور بم پھوڑا کہ قبیلے کا حصار ختم ہو گیا ہے۔۔جس سے سب لوگ خوفزدہ ہو گے۔۔ملکہ نے فوراََ ازلان کو واپس بلایا ۔۔تاکہ کوی حل نکالا جا سکے۔۔۔
👑❤❤❤
ازلان ذینب کے ساتھ چھت پر بیٹھا باتوں میں مصروف تھا۔ذینب کو ازلان کےآنے کے بعد بہت سکون تھا۔وہ ازلان سے دور نہیں رہ سکتی تھی۔۔وہ دونوں ایک دوسرے کو اپنا سب چھ مان چکے تھے
ملکہ کا پیغام ملتے ہی ازلان نے ذینب کو اپنے جانے کی خبر دی کیوںکہ شاید اب جنگ کا وقت آ گیا تھا۔۔اس نے ذینب کو جلد لوٹنے کا کہا۔ذینب نے رو رو برا حال کیا تھا۔ازلان اسے سمجھا کر واپس لوٹ گیا۔ذینب نے اس کی کامیابی کی دعا کی۔اور کمرے میں چلی گی۔۔
❤❤❤❤❤❤
جاری ہے
تو ریڈرز بتاٸیں اژلان کامیاب ہوگا
اورکابوت کس جنگل میں ہے ؟؟
کیا سدرہ ذینب کو ان دنوں سکون سے رہنے دےگی یا کرے گی کچھ طوفانی؟؟؟
سب راے دیں 😊😊😊❤