Bazm e rashid arif khurrianwala

Bazm e rashid arif khurrianwala ||سُخن و ادب||

20 نومبر برسی، فیض احمد فیض،غزل گلوں میں رنگ بھرے بادِ نو بہار چلےچلے بھی آؤ کہ گلشن کا کاروبار چلےقفس اداس ہے یارو صبا ...
20/11/2023

20 نومبر برسی،
فیض احمد فیض،

غزل

گلوں میں رنگ بھرے بادِ نو بہار چلے
چلے بھی آؤ کہ گلشن کا کاروبار چلے

قفس اداس ہے یارو صبا سے کچھ تو کہو
کہیں تو بہرِ خدا آج ذکرِ یار چلے

کبھی تو صبح ترے کنجِ لب سے ہو آغاز
کبھی تو شب سرِ کاکل سے مشکبار چلے

بڑا ہے درد کا رشتہ یہ دل غریب سہی
تمہارے نام پہ آئیں گے غمگسار چلے

جو ہم پہ گزری سو گزری مگر شبِ ہجراں
ہمارے اشک تری عاقبت سنوار چلے

مقام فیضؔ کوئی راہ میں جچا ہی نہیں
جو کوئے یار سے نکلے تو سوئے دار چلے

فیض احمد فیض

Bazm e rashid arif khurrianwala

Asharb hashmi official

|| غزل ||بے  بسی کی  ایک  جیتی  جاگتی  تصویر  ہے؛وہ گھڑی جس کے برابر میں  تری  تصویر  ہے؛وہ   تو  پردہ  ہے  کسی  تصویر  ...
09/08/2023

|| غزل ||

بے بسی کی ایک جیتی جاگتی تصویر ہے؛
وہ گھڑی جس کے برابر میں تری تصویر ہے؛

وہ تو پردہ ہے کسی تصویر پر ڈالا ہوا؛
اور یہ دنیا سمجھتی ہے وہی تصویر ہے؛

ایک بھی منظر نہیں جس کا نمایاں ہو رہا؛
زندگی وہ دور سے کھینچی ہوئی تصویر ہے؛

میں تری دیوار سے لگ کر کھڑا ہوں اس طرح؛
دیکھنے والے کو لگتا ہے کوئی تصویر ہے؛

ایک ماچس ، سرد انگیٹھی، ٹھٹھرتی رات اور؛
آخری خط ہے کسی کا ، آخری تصویر ہے؛

وہ مری تصویر کا ہی دوسرا رخ تھا کوئی؛
میں رہا دھوکے میں شائد دوسری تصویر ہے؛

تیرا یکتائی کا دعویٰ خام ہے ارشد عزیز؛
تو کسی تصویر کی تصویر کی تصویر ہے؛

ارشد عزیز || Arshad Aziz

بزم راشد عارف کھرڑیانوالہ
Bazm e rashid arif khurrianwala

Asharb hashmi official

|| نظم ||سونے نالوں مینگیا تے ہیرے نالوں پیاریاچن دیا لاڈیا وے سرگی دے تاریاجد تیری یاد آن مینوں پچکاریاسینے اِچ تِیر فی...
06/08/2023

|| نظم ||

سونے نالوں مینگیا تے ہیرے نالوں پیاریا
چن دیا لاڈیا وے سرگی دے تاریا
جد تیری یاد آن مینوں پچکاریا
سینے اِچ تِیر فیر فکراں نے ماریا

کون ہے جو برہا دے روگ پال رکھدا
کون ہے جو تاریاں نوں نال نال رکھدا
کون ہے جو ہجراں دی دیکھ پال رکھدا
کون ہے جو دیدیاں دے دیوے بال رکھدا

تیریاں محبتاں نے پھَن ہے کھلاریا

اکّھ میری تیرے باہجوں پل وی نہ سُکدی
دل وچ کُوک میرے سدراں دی اُگ دی
تتلی دے پر جیہا جِند میری ٹُکدی
لکھ میں مکاواں پر گل نیئوں مُکدی

جس نوں وی دل دتّا اُس نے وساریا

جیب نال رَتّ میری ایسے وِچ پِجھ گئی
بندی نالے نتھّی میری ایسے وچ رِجھ گئی
ہجراں دی والی میرے کنّ وِچ بِجھ گئی
بختاں دی گُڈّی مِری مِیرےاُتّے کھِجّ گئی

ہَجے تیک تِری میں محبتوں نہ ہاریا

کامران جیون || Kamran Jeewan

بزم راشد عارف کھرڑیانوالہ
Bazm e rashid arif khurrianwala

Asharb hashmi official

|| غزل ||شکستِ  فاش کھا کر  بھی  تمناؤں  میں  پُورے  ہیں؛کہ ہم بیٹھے محبت کی گھنی چھاؤں میں پُورے ہیں؛وہ کتنی بھیڑ میں ہ...
06/08/2023

|| غزل ||

شکستِ فاش کھا کر بھی تمناؤں میں پُورے ہیں؛
کہ ہم بیٹھے محبت کی گھنی چھاؤں میں پُورے ہیں؛

وہ کتنی بھیڑ میں ہم سے مِلا کے آنکھ گزرے ہیں؛
کہو تم اجنبی ہم تو شناساؤں میں پُورے ہیں؛

اُنہیں اب کیمرے کی آنکھ ہی بیدار کرتی ہے؛
مسیحائی کے کرتب سب مسحاؤں میں پُورے ہیں؛

نئی کالونیاں سڑکیں نہ سیوریج کجھ نہیں آیا؛
ابھی تک پیڑ پیپل کے مرے ںگاؤں ںمیں پُورے ہیں؛

مُجھے اب گھر گرھستی کے چلن بھی سیکھنا ہوں گے؛
مرے بابا کے جوتے اب مرے پاؤں میں پُورے ہیں؛

ہمیں معلوم ہے اربابِ عِلّت کی ریاکاری؛
ہمیں پَستوں بھی رکھے تو بالاؤں میں پُورے ہیں؛

حقیقت ہے خیال اب تک نہیں پہچان بن پائی؛
مگر چہرہ لیۓ ہم خامہ فُرساؤں میں پُورے ہیں؛

جعفر خیال || Jaafar Khyal

بزم راشد عارف کھرڑیانوالہ
Bazm e rashid arif khurrianwala

Asharb hashmi official

|| غزل ||سانس   ہو   یا  سال   میرا   وقت   سارا    آپ  کا؛میری   پیشانی  میں  روشن   ہے  ستارہ    آپ   کا؛آگ   زندہ  رہ...
06/08/2023

|| غزل ||

سانس ہو یا سال میرا وقت سارا آپ کا؛
میری پیشانی میں روشن ہے ستارہ آپ کا؛

آگ زندہ رہ نہیں سکتی اگر ایندھن نہ ہو؛
یعنی ناممکن ہے میرے بن گزارا آپ کا؛

گوشت دریا برد کرنے کی روایت یاد کی؛
اور ہم نے ڈوب کر صدقہ اتارا آپ کا؛

بھاگ کر بھی اس تعلق سے کہاں بھاگیں گے ہم؛
اب اسی دلدل میں ہے رستہ ہمارا آپ کا؛

ترک_ دنیا پر بھی کچھ اس طرح دنیا دار ہوں؛
آپ دنیا کا سہارا میں سہارا آپ کا؛

آپ کہتے ہیں کہ یہ تشکیک ہے تو ٹھیک ہے؛
ہاں مجھے گرداب لگتا ہے کنارہ آپ کا؛

گیت ملاحوں کے نوحوں میں بدل جاتے ہیں کیوں؛
کن جزیروں سے گزرتا ہے شکارا آپ کا؛

کاٸنات اس روز بالکل آپ جیسی ہو گٸ؛
میں نے پس منظر سے کیا منظر ابھارا آپ کا؛

زندگی شاہد مگر اک بار بس اک بار تھی؛
ہاں میں ہونا چاہتا تو تھا دوبارہ آپ کا؛

شاہد ذکی،

بزم راشد عارف کھرڑیانوالہ
Bazm e rashid arif khurrianwala

Asharb hashmi official

|| غزل ||ایسا  سکتہ  ہے  کہ  مرنے  کا  گماں  ہوتا  ہے؛ درد   ہوتا   ہے   نہ  احساسِ   زیاں  ہوتا   ہے؛ یوں بھی ہوتا ہے ک...
06/08/2023

|| غزل ||

ایسا سکتہ ہے کہ مرنے کا گماں ہوتا ہے؛
درد ہوتا ہے نہ احساسِ زیاں ہوتا ہے؛

یوں بھی ہوتا ہے کسی شام میرے کمرے میں؛
میں نہیں ہوتا، چراغوں کا دھواں ہوتا ہے؛

ہونٹ رکھتا ہے کوئی خواب میں پیشانی پر؛
سو کے اُٹھتا ہوں تو خنجر کا نشاں ہوتا ہے؛

تیرے کوفے میں عزادار کہاں ہوتے ہیں؛
رونے والے ہیں کہاں، گریہ کہاں ہوتا ہے؛

میں گریباں میں چھپاتا ہوا رہ جاتا ہوں؛
زخم دیوار کے رخنوں سے عیاں ہوتا ہے؛

روتا رہتا ہے کوئی چھپ کے میرے سینے میں؛
دل دھڑکتا ہے کہ مصروفِ فغاں ہوتا ہے؛

یاد کی راہ پہ چلتا ہوا رک جاتا ہوں؛
اس سے آگے کبھی جاؤں تو دھواں ہوتا ہے؛

دیکھ تنہائی کا عالم کہ میرا سایہ تک؛
جس جگہ کوئی نہیں ہوتا وہاں ہوتا ہے؛

مقصود وفا

بزم راشد عارف کھرڑیانوالہ
Bazm e rashid arif khurrianwala

Asharb hashmi official

|| غزل ||بس  ایک  ترکِ   سفر   پر   سُوال   کتنے   ہیں؛کسی  نے  پُوچھا  نہیں ہم   نِڈھال  کتنے   ہیں؛کسی  کے   ساتھ   تِ...
04/08/2023

|| غزل ||

بس ایک ترکِ سفر پر سُوال کتنے ہیں؛
کسی نے پُوچھا نہیں ہم نِڈھال کتنے ہیں؛

کسی کے ساتھ تِرے لب پہ اِک تبسّم ہے؛
مگر اُداس تِرے خدّ و خال کتنے ہیں؛

عجب سخی ہیں سخاوت کے وقت دیکھتے ہیں؛
کہ معتّبر یہاں دستِ سُوال کتنے ہیں؛

تِرا خیال بجا ہے کہ مِیں نہیں شاعر؛
مگر یہ دیکھ تِرے ہم خیال کتنے ہیں؛

سیّد راشد عارف،

بزم راشد عارف کھرڑیانوالہ
Bazm e rashid arif khurrianwala

Asharb hashmi official

|| غزل||جیکر  چنگی  چّوُہندے او؛اندر  ،    چنگا    کر    لّوو؛کیہڑی گل  دا  شکوہ  اے؛پتھر    شیشہ    کر    لّوو؛عشق  جیک...
04/08/2023

|| غزل||

جیکر چنگی چّوُہندے او؛
اندر ، چنگا کر لّوو؛

کیہڑی گل دا شکوہ اے؛
پتھر شیشہ کر لّوو؛

عشق جیکر سچا اے؛
بھاویں دعویٰ کر لّوو؛

دیوے تھّلے نھیرا اے؛
دیوا ، پُٹھا کر لّوو؛

عشارب ہاشمی،

بزم راشد عارف کھرڑیانوالہ
Bazm e rashid arif khurrianwala

Asharb hashmi official

|| غزل ||ہوتی  نہیں  ہے  سہن  مُجھ  سے  شام  زیرِ شب؛یہ  نخل   و   گلستان  ہے   بے   دام   زیرِ   شب؛اِک   روز   اپنے   ...
04/08/2023

|| غزل ||

ہوتی نہیں ہے سہن مُجھ سے شام زیرِ شب؛
یہ نخل و گلستان ہے بے دام زیرِ شب؛

اِک روز اپنے آپ سے مِلنے کے واسطے؛
صدیوں سے کر رہا ہوں اہتمام زیرِ شب؛

جُگنو کی چمک مُجھ میں اب سورج کی مِثل ہے؛
ایسی ہے تیرگی کہ در و بام زیرِ شب؛

یہ کون شخص آئینے میں دیکھ کر مُجھے؛
ہنستے ہوئے لیتا ہے میرا نام زیرِ شب؛

سائل کی شکّل ہو لیۓ چوکھٹ پہ نیند کی؛
مُمکن نہیں مغروب ہو اِلہام زیرِ شب؛

عدیل مغروب،

بزم راشد عارف کھرڑیانوالہ
Bazm e rashid arif khurrianwala

Asharb hashmi official

|| غزل ||جاتی ہے دھوپ اُجلے  پروں  کو  سمیٹ  کے؛زخموں کو اب گنوں گا میں بستر پہ لیٹ کے؛میں ہاتھ  کی  لکیریں  مِٹانے  پہ ...
04/08/2023

|| غزل ||

جاتی ہے دھوپ اُجلے پروں کو سمیٹ کے؛
زخموں کو اب گنوں گا میں بستر پہ لیٹ کے؛

میں ہاتھ کی لکیریں مِٹانے پہ ہُوں بضد؛
گو جانتا ہُوں نقش نہیں یہ سلیٹ کے؛

دنیا کو کُچھ خبر نہیں کیا حادثہ ہُوا؛
پھینکا تھا اُس نے سنگ گلوں میں لپیٹ کے؛

فوارے کی طرح نہ اگل دے ہر ایک بات؛
کم کم وہ بولتے ہیں جو گہرے ہیں پیٹ کے؛

اِک نقرئی کھنک کے سِوا کیا مِلا شکیبؔ؛
ٹکڑے یہ مجھ سے کہتے ہیں ٹوٹی پلیٹ کے؛

شکیب جلالی،

بزم راشد عارف کھرڑیانوالہ
Bazm e rashid arif khurrianwala

Asharb hashmi official

|| غزل ||رتی سچ وی بھاری ہونداۓ ظلم ودھیرے اندر؛اِک تیلی دی لاٹ  بڑی  اے  گُھپ  ہنیرے  اندر؛سَتویں تہہ توں لّے کے اُپر س...
04/08/2023

|| غزل ||

رتی سچ وی بھاری ہونداۓ ظلم ودھیرے اندر؛
اِک تیلی دی لاٹ بڑی اے گُھپ ہنیرے اندر؛

سَتویں تہہ توں لّے کے اُپر ست اسماناں تائیں؛
ہوند مری اِک نکتے وانگوں گول گھتیرے اندر؛

سوچ سوچ کے پاٹن ہاریاں ہوئیاں نیں شریاناں؛
میتھوں وڈی خورے کیہڑی شۓ اے میرے اندر؛

ویلے دے اُس پارلنگھا کے پَرت آیا واں انجم؛
کئیاں جنماں دا ںپینڈا میں اِکو پھیرے اندر؛

انجم سلیمی

بزم راشد عارف کھرڑیانوالہ
Bazm e rashid arif khurrianwala

Asharb hashmi official

|| غزل ||جو کُچھ  بھی ہُوا  دیکھۓ  بہتر  نہیں  ہُوا؛سو  جھوٹ  ایک  سچ  کے برابر  نہیں  ہُوا؛تراشنے  کے  بعد   بھی   پُوج...
04/08/2023

|| غزل ||

جو کُچھ بھی ہُوا دیکھۓ بہتر نہیں ہُوا؛
سو جھوٹ ایک سچ کے برابر نہیں ہُوا؛

تراشنے کے بعد بھی پُوجا گیا مُجھے؛
میں ایسا سنگ دِل تھا کہ پتھر نہیں ہُوا؛

ہوتا میں گر شاعر کوئی غالب کے دَور کا؛
غالب کو کِس نے پُوچھنا تھا پر نہیں ہُوا

سادات کی نظریں ابھی مُجھ پر نہیں پڑیں؛
میں اپنی نظر میں ابھی اطہر نہیں ہُوا؛

اشلوک مہر آپ مسلمان شخص ہو؛
میں مُستفید آپ سے مِل کر نہیںں ہُوا؛

اشلوک مہر،

بزم راشد عارف کھرڑیانوالہ
Bazm e rashid arif khurrianwala

Asharb hashmi official

Address

Faisalabad

Telephone

+923001116698

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Bazm e rashid arif khurrianwala posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share

Category