28/02/2026
چھوٹا چراغ”
ایک ملک میں جنگ چھڑ گئی۔ گولیاں، بم اور چیخ و پکار ہر طرف تھی۔ لوگ اپنے گھر چھوڑ کر محفوظ جگہوں کی طرف جا رہے تھے۔ انہی لوگوں میں ایک 10 سال کا بچہ “علی” بھی تھا۔
علی کا گھر تباہ ہو گیا، اسکول بند ہو گیا، اور اس کے والد زخمی ہو گئے۔ ایک دن وہ ایک کیمپ میں بیٹھا تھا جہاں بے شمار لوگ پریشان اور مایوس تھے۔ علی نے دیکھا کہ سب کے چہروں پر خوف اور اداسی ہے۔
علی نے ایک چھوٹا سا کام شروع کیا۔ وہ روز کیمپ میں بچوں کو اکٹھا کرتا، انہیں کہانیاں سناتا، ہنسانے کی کوشش کرتا اور جو تھوڑا سا کھانا ملتا وہ دوسروں کے ساتھ بانٹ لیتا۔ آہستہ آہستہ بچے مسکرانے لگے۔ پھر بڑے لوگ بھی ایک دوسرے کی مدد کرنے لگے۔
ایک بزرگ نے علی سے پوچھا:
"بیٹا، تم یہ سب کیوں کرتے ہو؟"
علی نے جواب دیا:
"اگر اندھیرا بہت زیادہ ہو تو ایک چھوٹا سا چراغ بھی کام آتا ہے۔"
وقت گزرا، جنگ ختم ہو گئی، لیکن لوگوں کو یاد رہا کہ مشکل وقت میں ایک چھوٹے بچے نے انہیں امید دی تھی۔