PARK TOWN

PARK TOWN "Committed to Deliver " Also PARK TOWN has high potential for capital gains, making it the right place, and the right time to invest in.

Welcome to “PARK TOWN” – A residential Housing project in the city of Fateh jang, located at Khoure road, on the few mints of drive from new Benazir Bhutto International air port Islamabad.” PARK TOWN” a project of “Park Associate and Builder’s “, We are providing an exclusive area where you get maximum comforts, Accessible & sufficient leisure facilities, generous & unique living style, safe & s

ecure, along with Health care & sport, Religious & communal facilities. Park Town is accomplished state of the art society, which constitutes all facilities/amenities like community center, commercial Areas, Health Club, Mosques, Security Cameras/surveillance added by well built protective boundary wall, interrelated sewerage & drainage system and underground telephone lines & other future technologies
“PARK TOWN” - as never before is the ideal place for your investment. PARK TOWN is an excellent business opportunity and has the potential to generate high rental income or simply profit from its resale, making your investment worthwhile.

14/08/2016

ایک الگ وطن جس کے لیے ہمارے آباو اجداد نے لاکھوں قربانیا ں دی ، لاکھوں ماوٗں نے اپنے جگر گوشوں اور ہزاروں سہاگنوں نے اپنے سہاگ کی قربانی پیش کی تب جا کہ14 اگست 1947 کوبرصغیر پاک و ہند کے مسلمانوں کا دیرینہ خواب پاکستان کی صورت میں تعبیرہوا۔پاکستان ریاستِ مدینہ کے بعد دنیا میں ابھرنے والی دوسری نظریاتی ریاست ہے، جس کی بنیاد کلمہ توحید پر بلا کسی مذہبی تفریق کے رکھی گئی ۔ برصغیر پاک وہند کے مسلمان کلمہ توحید کی بنیاد پر قائد اعظم ؒ کی قیادت میں مسلم لیگ کے جھنڈے تلے اکھٹے ہوئے اور یہ مسلمانوں کا اتحاد اورقائد اعظم ؒ کی انتھک محنت و قائدانہ صلاحیتں ہی تھی جس کی بدولت مسلمانوں کا قومی تشخص اوروقار اجاگر ہوا اورہم اک آزاد ملک میں پیدا ہوئے ۔
ْقائد اعظم ؒ جن کے بارے میں وجیحہ لکشمی نہرو پنڈت کہتی ہیں کہ :
if Muslim league has 100 gandies and Abdual Kalam Azad and Congress has only one Jinah then india would have never divided
قائد اعظمؒ جیسے لیڈر صدیوں میں پیدا ہوتے ہیں ، آپ نے مارچ1948کوڈھاکہ یونیورسٹی میں خطاب کرتے ہوئے فرمایا:۔
''اس اہم اور نازک وقت میں جبکہ ہم بیرونی خطرات سے دوچار ہیں اور اندرونی طور پر ہمیں ایسے پیچیدہ مسائل سے نپٹنا ہے جن کے اثرات بہت دور تک پہنچے ہیں اور ہمارے مستقبل کو متاثر کرنے والے ہیں۔آپ اتحاد اور یکجہتی پیدا کرکے بہت بڑی خدمت انجام دے سکتے ہیں ،ان حالات میں یہ بھی ممکن ہے کہ بعض لوگ اپنے ذاتی اور خود غرضانہ مقاصد کے لئے ایسی کاروائیاں کریں جو پھوٹ اور تفرقہ کا باعث ہوں۔اپنے ہی لوگوں میں جو غدار اور دغا باز ہیں ان سے ہوشیار رہیئے اور ان سے بھی جو آپ کے زریعہ اپنا مطلب نکالنا چاہتے ہیں۔ان تمام باتوں کا تقاضا یہ ہے کہ آپس میں کامل اتحاد ،اتفاق اور تنظیم پیدا کی جائے میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ آپس میں لڑیں گے تو ناکام رہیں گے اور متحد رہیں گے تویقیناًکامیاب رہیں گے۔ ۔
قائد نے ہمیشہ ایمان ، آپس میں اتحاد اور تنظیم کا درس دیا لیکن افسوس ہمیں قائدکے بعد کوئی ایسا لیڈر نہیں ملا ، جو پوری قوم کو اک جھنڈے تلے اکھٹا کر سکے ۔ آج ہم خود کو پنجابی ، سندھی ، بلوچی ، مہاجر اور پٹھا ن کہلوانے میں فخر محسوس کرتے ہیں،کسی نے روٹی کپڑہ اور مکان کا نعرہ لگالوٹا، تو کسی نے،ملکی معشیت کو مسحکم کرنے کے نعرے سے قوم کو بے وقوف بنایا ، اور کبھی کوئی ڈکٹیٹر بن کے بیٹھ گیا تو کبھی جوڈیشنل مارشل لاء لگا دیا گیا ، یہا ں تک ہیں نہیں رہی سہی کثربم دھماکوں اور نام نہاد علماء نے نکال دی ۔آج ۴۱ اگست ہو یا کوئی بھی اور قومی دن ،ہمیں سبز ہلالی پرچم کم اور مختلف سیاسی پارٹیوں کے جھنڈے زیادہ نظر آتے ہیں ، آج ہم سکولز ،کالجز میں وسٹرن ملبوسات کی اور سٹائلز کی نمائش کرتے ہوئے اپنا قومی دن مناتے ہیں ، شاہد یہی تبدیلی ہے ۔
باوجود اس کے کہ کوئی کام منظم طریقے سے نہیں ہوا۔ پھر بھی پاکستان ترقی کی شاہراہ پر ہی گامزن رہا۔ کارخانوں میں اضافہ ہوا۔ یونیورسٹیوں، اداروں، کاروباری مراکز کے علاوہ بہت سے شعبہ ہائے زندگی میں کام برابر ہوتا رہا۔ مگر ان کاموں میں تنظیم کا عنصر بہت کم تھا۔ کہیں اتحاد غائب تھا اور کہیں ایمان کی کمی محسوس ہوئی۔ آج ہماری نئی نسل جو ملک کے اندر اور بیرون ملک سے تعلیم حاصل کر کے بہتری کی امید لگائے بیٹھی ہے۔ وہ پاکستان کو ترقی یافتہ اور معتبر ملکوں میں دیکھنا چاہتی ہے۔ ان کو واپس اتحاد، ایمان اور تنظیم کی طرف لوٹنا ہو گا۔
افسوس ہم نے قائد کے بتائے ہوئے بنیادی اصول ایمان ، اتحاد اور تنظیم کو بھولادیا ، ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم ان اقوال کو سمجھیں اور جانیں۔۔۔ اور عمل کی دنیا میں قدم آگے بڑھائیں۔ جب تشخیص ہو جاتی ہے تو مرض کا علاج آسان ہو جاتا ہے۔ ہمارے ملک میں تشخیص کرنے والے بہت کم ہیں اور تشویش پھیلانے والے بہت زیادہ ہیں۔
وطن سے محبت قدرتی امر ہے ،حدیث میں آتا ہے ''حب الوطن من الایمان'' وطن سے محبت ایمان کا حصہ ہے ،مگر آج کل ہم وطن سے محبت کا راگ تو الاپتے رہتے ہین مگر اس پاک سر زمیں کے حقوق ادا نہ نہیں کرتے ،ہم میں سے اکثر یہ کہتے ہیں کہ اس وطن نے ہمیں کیا دیا؟ہم اس کے لئے کیوں کوئی کام کریں یاکوئی قربانی دیں زرا ایک لمحہ کو رک کر سوچیں،اپنا ملک اپنا ہی ہوتا ہے ،جہاں آپ آزادی سے سانس لے سکتے ہیں کسی دوسرے ملک میں جائیں گے تو ہر لمحہ آپ کو اپنی شناختی ثبوت ساتھ رکھنا ہوتا ہے ،اگر نہ ہو تو آپ قانونا مجرم قرار دیئے جاتے ہیں۔ ہم میں سے سب سے بڑی خامی یہ ہے کہ ہم خود کچھ نہیں کرتے بلکہ ہر وقت حکمرانو ں اور دوسروں پر تنقید کرتے رہتے ہیں اور اپنے فرائض سے منہ چھپا لیتے ہیں ۔
اللہ کسی قوم کے حالت اس وقت تک نہیں بدلتا جب تک وہ خود اپنے اوصاف میں تبدیلی نہ لائے ۔
آئیں اس یوم آزادی پر عہد کریں کہ ہم نے اپنے حصے کی شمع جلانی ہے ، عہد کریں کے اس سال ہم اک پودا لگائیں گے ،عہد کریں کے ہم قانون کی پابند ی کریں گے ،عہد کریں کہ ہم سگنل پر رکیں گے ، عہد کریں کے ہم رشوت سے پاک پاکستان بناننے میں اپنا کردار نبھائیں گے ، عہد کریں کے اگلی یوم آزادی تک ہم کسی کو گالی نہیں دیں گے ،عہد کریں کے ہم کسی کا حق نہیں چھینے گے ۔ ایسے بے شمار چھوٹے چھوٹے کام ہیں جن کو اگر ہر پاکستانی اپنا فرض سمجھ کے ادا کرے تو ہم اپنی آنے والی نسلوں کو اک روشن و خوشحال پاکستان دیں سکتے ہیں۔اسلئے ضروری ہے کہ ہم امید کے چراغ روشن رکھیں۔ پاکستان ہم سب کا نصیب ہے جسے بہتر سے بہترین بنانے میں ہم انشااللہ کوئی کسر نہیں اٹھا رکھیں گے۔
خدا کرے کہ میری ارضِ پاک پہ اترے
وہ فصلِ گل جسے اندیشہِ زاوال نہ ہو
آمین ثم آمین!
تحریر (علی عمران )

31/07/2016
اللہ کے حوالے ایدھی صاحب۔ آپ کا کام قیامت تک زندہ رہے گا اور یہ خلاء ابد تک پُر نہ ہو سکے گا۔
09/07/2016

اللہ کے حوالے ایدھی صاحب۔ آپ کا کام قیامت تک زندہ رہے گا اور یہ خلاء ابد تک پُر نہ ہو سکے گا۔

02/07/2016

اپنی کمزوریوں کی وجہ سے وقت ضائع نہ کریں (3)
دنیا میں ثابت کرنا پڑتاہے کہ میں اس دنیا میں آیا تھا ۔جو چیز تبدیل نہیں ہو سکتی اس کو چھوڑ دیں جو تبدیل ہو سکتی ہے اس کو تبدیل کرنے کی کوشش کریں ۔خامیوں کا سب سے بڑا نقصان یہ ہوتا ہے کہ یہ آپ میں خود اعتمادی کی کمی پیدا دیتی ہیں یہ طبیعت میں مکاری پیدا کرتی ہیں بندہ زندگی کا سامنا کرنے کی بجائے دوسرے ذرائع تلا ش کرتا ہے حضر ت علی المرتضی رضی اللہ عنہ فرماتےہیں "پیچھے سے حملہ کرنا بزدل کی نشانی ہے " یہی وجہ ہے کہ کمزور بندہ جڑیں کاٹتا ہے ، تنقید کرتا ہے۔پہلے یہ دیکھیں کہ آپ کن کن چیزوں میں کمی محسوس کرتےہیں ان کی فہرست بنائیں اور اس طرح کے لوگ تلاش کریں جن لوگوں میں یہ خامیاں تھیں انہوں نے ان خامیوں پر کیسے قابو پا یا اور کر کامیابی حاصل کی ۔
اپنی زندگی میں شکر گزاری کو شامل کریں یہ زبان سے ادا نہیں ہوتا یہ حرکات سے ادا ہوتا ہے۔ شکر گزار بندے کی شعاعیں مثبت ہوتی ہیں جب وہ بکھرتی ہیں تو اس کے بدلے میں بھی اس کو مثبت شعاعیں ملتی ہیں جس کے نتیجے میں اس کی زندگی میں ذرائع پیدا ہوتے ہیں۔ ہم جہاں پر ہوتے ہیں اس کے شکر گزار نہیں ہوتے جب اس کے شکر گزار نہیں ہوتے تو پھر اس کو دھیمک کھانے لگ پڑتی ہے ۔ شکر گزاری کا مطلب ہے کہ ماننا کہ جس زمین پر میں کھڑا ہوں یہ اللہ تعالیٰ نے مجھے دی ہے ، اللہ تعالیٰ نے کسی کو ذریعہ بنایا ہے ۔حدیث کا مفہوم ہے "جو شخص انسانوں کا شکر گزار نہیں ہے وہ اللہ تعالیٰ کا بھی شکر گزار نہیں" جوبندہ لوگوں کا شکر ادا کرتا ہے درحقیقت وہ اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کر رہا ہوتا ہے ۔انسان دنیا کی واحد مخلوق ہے جو اپنی ناکامیوں کو کامیابیوں میں بدل لیتی ہے سو بار ناکام ہونا اس کو ناکام نہیں کرتا اگر وہ ناکام ہونا نہ چاہے ۔
دنیا کا ہر انسان مشکل حالات سے نکل رہا ہوتا ہے حضرت واصف علی واصف ؒ فرماتے ہیں " پہاڑ پر جانے کے سو راستے ہوتےہیں لیکن تمہارے لیے ایک راستہ ہوتا ہے جس پر تم چل رہے ہوتے ہو تم اپنا راستہ واضح کر و کہ تم نے کس راستے پر چل کر منزل پر پہنچنا ہے "ہر بڑے انسان کو اپنے حال سے نفرت ہوتی ہے وہ تبدیلی چاہتا ہے یہ مادہ جتنا زیادہ ہوتا ہے اتنی جلدی تبدیلی آ تی ہے۔ کسی نے انتھونی رابنز سے پوچھا تم اتنے بڑے ٹرینرر کیسے بن گئے اس نے کہا لوگوں نے جو کام سالوں میں کیا میں نے وہ دنوں میں کیا ۔جو بندہ مہینے کا کام دن میں نہیں کرتا وہ بڑا کام نہیں کر سکتا اگر آپ کے پاس کاموں کی فہرستیں نہیں ہیں ، مثبت سٹریس نہیں ہے تو پھر آپ بڑے انسان نہیں بن سکتے۔ اپنی خامیوں پر قابوں پانے کے لیے اپنی خامیوں کو واضح کریں جو بدلی نہیں جاسکتیں ان کو سینے سے لگائیں او ر جو بدلی جا سکتی ان کو بدلیں ۔جب آپ کامیاب ہو جاتےہیں آپ کی شخصیت جیسی بھی ہو قبول ہو جاتی ہے۔آج سے اپنی زندگی کو اس طرح دیکھیں جس طرح ایک ہیرو دیکھتا ہے، جیسے کو ئی کامیاب دیکھتا ہے ۔ اللہ تعالیٰ سے دعا کریں کہ ائے اللہ میرا ہاتھ دینے والا بنا دے جب یہ دعا کریں گے تو کامیابی ہی کامیابی ہو گی۔
(Don’t Waste Time on Your Weakness, Syed Qasim Ali Shah)

صبح بخیر ، خوش رہیں آباد رہیں ۔گھروں کی تعمیر ، عوام کا ہم پہ اعتماد کا منہ بولتا ثبوت ۔ آپ بھی  صرف 15٪ کی ادائیگی پر ا...
11/11/2015

صبح بخیر ، خوش رہیں آباد رہیں ۔
گھروں کی تعمیر ، عوام کا ہم پہ اعتماد کا منہ بولتا ثبوت ۔
آپ بھی
صرف 15٪ کی ادائیگی پر اپنا گھر تعمیر کریں ، اور بقیہ آسان اقساط میں ادا کریں ۔ مزید معلومات کیلئے ان باکس کریں یا رابطہ کریں ۔:
0344-5999987 ،0335-2220005

ھمارا پیج لائک کریں : https://www.facebook.com/Park.Town

صبح بخیر ، خوش رہیں آباد رہیں ۔
11/11/2015

صبح بخیر ، خوش رہیں آباد رہیں ۔

گھروں کی تعمیر ، عوام کا ہم پہ اعتماد کا منہ بولتا ثبوت ۔ آپ بھی  صرف 15٪ کی ادائیگی پر اپنا گھر تعمیر کریں ، اور بقیہ آ...
09/11/2015

گھروں کی تعمیر ، عوام کا ہم پہ اعتماد کا منہ بولتا ثبوت ۔
آپ بھی
صرف 15٪ کی ادائیگی پر اپنا گھر تعمیر کریں ، اور بقیہ آسان اقساط میں ادا کریں ۔ مزید معلومات کیلئے ان باکس کریں یا رابطہ کریں ۔:
0344-5999987 ،0335-2220005

Address

Park Town , Khor Road Fateh Jang City(Attock)
Fatehjang
43350

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when PARK TOWN posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to PARK TOWN:

Share

Category