14/08/2016
ایک الگ وطن جس کے لیے ہمارے آباو اجداد نے لاکھوں قربانیا ں دی ، لاکھوں ماوٗں نے اپنے جگر گوشوں اور ہزاروں سہاگنوں نے اپنے سہاگ کی قربانی پیش کی تب جا کہ14 اگست 1947 کوبرصغیر پاک و ہند کے مسلمانوں کا دیرینہ خواب پاکستان کی صورت میں تعبیرہوا۔پاکستان ریاستِ مدینہ کے بعد دنیا میں ابھرنے والی دوسری نظریاتی ریاست ہے، جس کی بنیاد کلمہ توحید پر بلا کسی مذہبی تفریق کے رکھی گئی ۔ برصغیر پاک وہند کے مسلمان کلمہ توحید کی بنیاد پر قائد اعظم ؒ کی قیادت میں مسلم لیگ کے جھنڈے تلے اکھٹے ہوئے اور یہ مسلمانوں کا اتحاد اورقائد اعظم ؒ کی انتھک محنت و قائدانہ صلاحیتں ہی تھی جس کی بدولت مسلمانوں کا قومی تشخص اوروقار اجاگر ہوا اورہم اک آزاد ملک میں پیدا ہوئے ۔
ْقائد اعظم ؒ جن کے بارے میں وجیحہ لکشمی نہرو پنڈت کہتی ہیں کہ :
if Muslim league has 100 gandies and Abdual Kalam Azad and Congress has only one Jinah then india would have never divided
قائد اعظمؒ جیسے لیڈر صدیوں میں پیدا ہوتے ہیں ، آپ نے مارچ1948کوڈھاکہ یونیورسٹی میں خطاب کرتے ہوئے فرمایا:۔
''اس اہم اور نازک وقت میں جبکہ ہم بیرونی خطرات سے دوچار ہیں اور اندرونی طور پر ہمیں ایسے پیچیدہ مسائل سے نپٹنا ہے جن کے اثرات بہت دور تک پہنچے ہیں اور ہمارے مستقبل کو متاثر کرنے والے ہیں۔آپ اتحاد اور یکجہتی پیدا کرکے بہت بڑی خدمت انجام دے سکتے ہیں ،ان حالات میں یہ بھی ممکن ہے کہ بعض لوگ اپنے ذاتی اور خود غرضانہ مقاصد کے لئے ایسی کاروائیاں کریں جو پھوٹ اور تفرقہ کا باعث ہوں۔اپنے ہی لوگوں میں جو غدار اور دغا باز ہیں ان سے ہوشیار رہیئے اور ان سے بھی جو آپ کے زریعہ اپنا مطلب نکالنا چاہتے ہیں۔ان تمام باتوں کا تقاضا یہ ہے کہ آپس میں کامل اتحاد ،اتفاق اور تنظیم پیدا کی جائے میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ آپس میں لڑیں گے تو ناکام رہیں گے اور متحد رہیں گے تویقیناًکامیاب رہیں گے۔ ۔
قائد نے ہمیشہ ایمان ، آپس میں اتحاد اور تنظیم کا درس دیا لیکن افسوس ہمیں قائدکے بعد کوئی ایسا لیڈر نہیں ملا ، جو پوری قوم کو اک جھنڈے تلے اکھٹا کر سکے ۔ آج ہم خود کو پنجابی ، سندھی ، بلوچی ، مہاجر اور پٹھا ن کہلوانے میں فخر محسوس کرتے ہیں،کسی نے روٹی کپڑہ اور مکان کا نعرہ لگالوٹا، تو کسی نے،ملکی معشیت کو مسحکم کرنے کے نعرے سے قوم کو بے وقوف بنایا ، اور کبھی کوئی ڈکٹیٹر بن کے بیٹھ گیا تو کبھی جوڈیشنل مارشل لاء لگا دیا گیا ، یہا ں تک ہیں نہیں رہی سہی کثربم دھماکوں اور نام نہاد علماء نے نکال دی ۔آج ۴۱ اگست ہو یا کوئی بھی اور قومی دن ،ہمیں سبز ہلالی پرچم کم اور مختلف سیاسی پارٹیوں کے جھنڈے زیادہ نظر آتے ہیں ، آج ہم سکولز ،کالجز میں وسٹرن ملبوسات کی اور سٹائلز کی نمائش کرتے ہوئے اپنا قومی دن مناتے ہیں ، شاہد یہی تبدیلی ہے ۔
باوجود اس کے کہ کوئی کام منظم طریقے سے نہیں ہوا۔ پھر بھی پاکستان ترقی کی شاہراہ پر ہی گامزن رہا۔ کارخانوں میں اضافہ ہوا۔ یونیورسٹیوں، اداروں، کاروباری مراکز کے علاوہ بہت سے شعبہ ہائے زندگی میں کام برابر ہوتا رہا۔ مگر ان کاموں میں تنظیم کا عنصر بہت کم تھا۔ کہیں اتحاد غائب تھا اور کہیں ایمان کی کمی محسوس ہوئی۔ آج ہماری نئی نسل جو ملک کے اندر اور بیرون ملک سے تعلیم حاصل کر کے بہتری کی امید لگائے بیٹھی ہے۔ وہ پاکستان کو ترقی یافتہ اور معتبر ملکوں میں دیکھنا چاہتی ہے۔ ان کو واپس اتحاد، ایمان اور تنظیم کی طرف لوٹنا ہو گا۔
افسوس ہم نے قائد کے بتائے ہوئے بنیادی اصول ایمان ، اتحاد اور تنظیم کو بھولادیا ، ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم ان اقوال کو سمجھیں اور جانیں۔۔۔ اور عمل کی دنیا میں قدم آگے بڑھائیں۔ جب تشخیص ہو جاتی ہے تو مرض کا علاج آسان ہو جاتا ہے۔ ہمارے ملک میں تشخیص کرنے والے بہت کم ہیں اور تشویش پھیلانے والے بہت زیادہ ہیں۔
وطن سے محبت قدرتی امر ہے ،حدیث میں آتا ہے ''حب الوطن من الایمان'' وطن سے محبت ایمان کا حصہ ہے ،مگر آج کل ہم وطن سے محبت کا راگ تو الاپتے رہتے ہین مگر اس پاک سر زمیں کے حقوق ادا نہ نہیں کرتے ،ہم میں سے اکثر یہ کہتے ہیں کہ اس وطن نے ہمیں کیا دیا؟ہم اس کے لئے کیوں کوئی کام کریں یاکوئی قربانی دیں زرا ایک لمحہ کو رک کر سوچیں،اپنا ملک اپنا ہی ہوتا ہے ،جہاں آپ آزادی سے سانس لے سکتے ہیں کسی دوسرے ملک میں جائیں گے تو ہر لمحہ آپ کو اپنی شناختی ثبوت ساتھ رکھنا ہوتا ہے ،اگر نہ ہو تو آپ قانونا مجرم قرار دیئے جاتے ہیں۔ ہم میں سے سب سے بڑی خامی یہ ہے کہ ہم خود کچھ نہیں کرتے بلکہ ہر وقت حکمرانو ں اور دوسروں پر تنقید کرتے رہتے ہیں اور اپنے فرائض سے منہ چھپا لیتے ہیں ۔
اللہ کسی قوم کے حالت اس وقت تک نہیں بدلتا جب تک وہ خود اپنے اوصاف میں تبدیلی نہ لائے ۔
آئیں اس یوم آزادی پر عہد کریں کہ ہم نے اپنے حصے کی شمع جلانی ہے ، عہد کریں کے اس سال ہم اک پودا لگائیں گے ،عہد کریں کے ہم قانون کی پابند ی کریں گے ،عہد کریں کہ ہم سگنل پر رکیں گے ، عہد کریں کے ہم رشوت سے پاک پاکستان بناننے میں اپنا کردار نبھائیں گے ، عہد کریں کے اگلی یوم آزادی تک ہم کسی کو گالی نہیں دیں گے ،عہد کریں کے ہم کسی کا حق نہیں چھینے گے ۔ ایسے بے شمار چھوٹے چھوٹے کام ہیں جن کو اگر ہر پاکستانی اپنا فرض سمجھ کے ادا کرے تو ہم اپنی آنے والی نسلوں کو اک روشن و خوشحال پاکستان دیں سکتے ہیں۔اسلئے ضروری ہے کہ ہم امید کے چراغ روشن رکھیں۔ پاکستان ہم سب کا نصیب ہے جسے بہتر سے بہترین بنانے میں ہم انشااللہ کوئی کسر نہیں اٹھا رکھیں گے۔
خدا کرے کہ میری ارضِ پاک پہ اترے
وہ فصلِ گل جسے اندیشہِ زاوال نہ ہو
آمین ثم آمین!
تحریر (علی عمران )