مھراڻ جون موجون Mehran jon mojon

مھراڻ جون موجون Mehran jon mojon Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from مھراڻ جون موجون Mehran jon mojon, Real Estate, wahi ghoto, Ghotki.

> "مھراڻ جون موجون – سنڌ جي زمين، ٻارن جي روشني، ۽ فطرت جي تصوير.
سنڌ جي روح، ثقافت، ٽيلنٽ ۽ حسن کي وائکو ڪرڻ لاءِ ھيءَ پيج آهي.
اچو! سنڌ کي نئين نظر سان ڏسون."

حضور ﷺ کی کوئی بہن نہیں تھی لیکن جب آپ سیدہ حلیمہ سعدؓیہ کے پاس گئے تو وہاں حضور کی ایک رضاعی بہن کا ذکر بھی آتا ہے جو آ...
23/07/2025

حضور ﷺ کی کوئی بہن نہیں تھی لیکن جب آپ سیدہ حلیمہ سعدؓیہ کے پاس گئے تو وہاں حضور کی ایک رضاعی بہن کا ذکر بھی آتا ہے جو آپ کو لوریاں دیتی تھیں ان کا نام سیدہ شیؓما تھا ۔
شام کے وقت جب خواتین کھانا پکانے میں مصروف ہو جاتیں ،تو بہنیں اپنے بھائی اٹھا کر باہر لے جاتیں اور ہر بہن کا خیال یہ ہوتا کہ میرے بھائی زمانے میں سب سے زیادہ خوب صورت ہے ۔ ۔
بنوسعد کے محلے میں بچیاں اپنے بھائی اٹھاتیں ایک کہتی میرے بھائی جیسا کوئی نہیں اور دوسری کہتی میرے بھائی جیسا کوئی نہیں
اتنے میں سیدہ شیمؓا اپنا بھائی سیدنا محمد ﷺ اٹھا کے لے آتیں اور دور سے کہتی میرا بھائی بھی آ گیا ہے تو سب کے سر جھک جاتے اور سب کہتیں ، نہیں نہیں تیرے بھائی کا مقابلہ کوئی نہیں کر سکتا ہم تو آپس کی بات کر رہے ہیں ۔۔۔

سیدہ شیمؓا حضور ﷺ کو اپنی گود میں لے کے سمیٹتیں اور پھر جھومتیں اور پھر وہ لوری دیتیں اور لوری کے الفاظ بھی لکھ دیئے ہیں جن کا ترجمہ ہے

اے ہمارے رب میرے بھائی محمد کو سلامت رکھنا آج یہ پالنے میں بچوں کا سردار ہے کل وہ جوانوں کا بھی سردار ہوگا اور پھر جھوم جاتیں ۔

پھر وہ زمانہ بھی آیا کہ حضور ﷺ مکے چلے گئے اور سیدہ شیمؓا بھی جوان ہوئیں ، اُن کی شادی بھی کسی قبیلے میں ہوگئی حضور ﷺ نے اعلان نبوت کیا تیرہ سال کا وقت بھی گزر گیا اور آپ ﷺ مدینہ تشریف لے گئے ۔
جب غزوات کا سلسلہ شروع ہوا تو جس قبیلے میں سیدہ شیمؓا کی شادی ہوئی تھی اس قبیلے کے ساتھ مسلمانوں کا ٹکراؤ ہو گیا ۔۔۔ اللہ رَبُّ العِزَّت نے مسلمانوں کو فتح عطا کر دی تو اس قبیلے کے چند لوگ صحابہ کرام ؓ کے ہاتھوں گرفتار ہوکر قید کر دیئے گئے ، تب وہ لوگ اپنے قیدیوں کو چھڑانے کے لئے فدیہ جمع کرنے لگے ، قبیلے کے سردار بھی گھر گھر جا کر رقم جمع کر رہے تھے ۔
چلتے چلتے وہ سیدہ شیمؓا کے گھر پہنچ گئے جو کہ اپنی عمر کا ایک خاصا حصہ گزار چکی تھیں، کہنے لگے کہ اتنا حصہ آپکا بھی آتا ہے ۔
سیدہ شیمؓا نے کہا حصہ کس لئے ؟
لوگوں نے کہا جو لڑائی ہوئی ہے اور اس میں ہمارے آدمی گرفتار ہوچکے ہیں ، باتیں کرتے کرتے کسی کے لبوں پر محمد ﷺ کا نام بھی آ گیا تو سیدہ شیؓما سن کر کہنے لگی اچھا تو کیا انہوں نے تمہارے لوگ پکڑے ہیں ؟
کہا ۔۔۔ ہاں
سیدہ شیمؓا نے کہا تم رقم اکٹھی کرنا چھوڑ دو مجھے ساتھ لے چلو ۔
سردار نے کہا آپ کو ساتھ لے چلیں ؟
سیدہ شیؓما کہنے لگیں ہاں تم نہیں جانتے وہ میرا بھائی لگتا ہے ۔
قبیلے کے سردار کے ساتھ جب سیدہ شیؓما حضور ﷺ کے نوری خیموں کی طرف جا رہی تھیں اور صحابہ کرامؓ ننگی تلواروں سے پہرہ دے رہے تھے ، وہ مدنی دور تھا ۔
سیدہ شیمؓا قوم کے سرداروں کے ساتھ جب آگے بڑھنے لگیں تو صحابہ ؓ نے تلواريں سونتیں اور پکارا
او دیہاتی عورت رک جا ، دیکھتی نہیں آگے کوچہء ِ رسول ﷺ ہے ۔۔۔آ گے بغیر اذن کے جبریلؑ بھی نہیں جا سکتے تم کون ہو؟
سیدہ شیمؓا نے جواب میں جو الفاظ کہے ان کا اردو ترجمہ یہ ہے ۔۔۔۔ میری راہیں چھوڑ دو تم جانتے نہیں میں تمہارے نبی ﷺ کی بہن لگتی ہوں ۔
تلواریں جھک گئیں ، آنکھوں پر پلکوں کی چلمنیں آ گئیں راستہ چھوڑ دیا گیا۔۔۔ سیدہ شیمؓا حضور ﷺ کے خیمہء ِ نوری میں داخل ہو گئیں تو حضور ﷺ نے دیکھا اور پہچان گئے ۔ فورا اٹھ کھڑے ہوئے فرمایا بہن کیسے آنا ہوا ؟
کہا آپ ﷺ کے لوگوں نے ہمارے کچھ بندے پکڑ لئے ہیں ان کو چھڑانے آئی ہوں ۔
حضور ﷺ نے فرمایا بہن تم نے زحمت گوارا کیوں کی ۔پیغام بھیج دیتیں میں چھوڑ دیتا لیکن تم آ گئیں اچھا ہوا ملاقات ہو گئی ۔
پھر حضور ﷺ نے قیدیوں کو چھوڑنے کا اعلان کیا کچھ گھوڑے اور چند جوڑے سیدہ شیؓما کو تحفے میں دیدیئے کیونکہ بھائیوں کے دروازے پر جب بہنیں آتی ہیں تو بھائی خالی ہاتھ تو بہنوں کو نہیں لوٹایا کرتے ۔
حضور ﷺ نے بہت کچھ عطا کیا اور رخصت کرنے خیمے سے باہر تشریف لے آئے تو صحابہ ؓ کی جماعت منتظر تھی

فرمایا اے صحابہ ! آپ جانتے ہیں کہ جب بھی میں قیدی چھوڑا کرتا ہوں تو میری یہ عادت ہے کہ آپ سے مشاورت کرتا ہوں لیکن آج ایسا موقع آیا کہ میں نے آپ سے مشاورت نہیں کی اور قیدی بھی چھوڑ دیئے
صحابہ ؓ نے عرض کیا کہ حضور ﷺ مشاورت کیوں نہیں کی؟ ارشاد تو فرمائیں ۔۔۔
فرمایا آج میرے دروازے پر میری بہن آئی تھیں

(ابن ہشام سیرت کی سب سے پہلی کتاب سے انتخاب)
کاپی safia safeer کے وال سے۔

پنهنجن ٻارڙن کي وڏيري جي خوف کان آزاد ڪريوڇوڪرن ۽ ڇوڪرين ٻنهي کي اسڪول موڪليوسندن ذھن ۾ ايمانداري، حق، همت، ۽ سچائي جا ٻ...
23/07/2025

پنهنجن ٻارڙن کي وڏيري جي خوف کان آزاد ڪريو
ڇوڪرن ۽ ڇوڪرين ٻنهي کي اسڪول موڪليو
سندن ذھن ۾ ايمانداري، حق، همت، ۽ سچائي جا ٻج پوکيو
انهن کي سيکاريو ته ظلم جي سامهون چُپ نه، ھڪ بيباڪ اواز ٿيڻ آھي
جيڪڏهن هر گهر هڪ پڙهيل ٻار پيدا ڪري،
جيڪڏهن هر ماءُ پنهنجي ڌيءَ کي پڙهائي،
جيڪڏهن هر پيءُ پنهنجي پٽ کي ظالم کان سوال ڪرڻ سيکاري –
ته پوءِ ڪو وڏيرو، ڪو فرعون اسان جي ڳوٺن کي غلام نٿو بڻائي سگهي.
وڏيرو، جيڪو ڳوٺ جو فرعون بڻيل آھي، ان کي ختم ڪرڻ لاءِ تلوار نه، بلڪه ڪتاب کپي!
علم ئي انقلاب آھي، تعليم ئي آزادي آھي.
اُهو ڏينهن پري ناهي، جڏهن هر ڳوٺ جو ٻار چوندو ڀوتار مائي فوٽ










موئن جو دڑو ایک قدیم تہذیب کا زندہ ثبوتموئن جو دڑو، جس کا مطلب ہے "مُردوں کا ٹیلہ"، وادیٔ سندھ کی تہذیب (Indus Valley Ci...
21/07/2025

موئن جو دڑو
ایک قدیم تہذیب کا زندہ ثبوت

موئن جو دڑو، جس کا مطلب ہے "مُردوں کا ٹیلہ"، وادیٔ سندھ کی تہذیب (Indus Valley Civilization) کا ایک عظیم شہر تھا۔ یہ شہر جدید پاکستان کے صوبہ سندھ میں دریائے سندھ کے کنارے واقع ہے۔ موئن جو دڑو کا شمار دنیا کے قدیم ترین اور منصوبہ بند شہروں میں ہوتا ہے۔ اس کے آثار 1922ء میں دریافت ہوئے تھے اور اس کے بعد اس نے پوری دنیا کو اپنی تہذیب، فنِ تعمیر، اور ترقی یافتہ شہری نظام سے حیران کر دیا۔
وادیٔ سندھ کی تہذیب کا زمانہ تقریباً 2600 قبل مسیح تا 1800 قبل مسیح مانا جاتا ہے۔ موئن جو دڑو اس تہذیب کا ایک مرکزی شہر تھا۔ یہ شہر سر جان مارشل (Sir John Marshall) کی زیر نگرانی 1922ء میں دریافت ہوا۔ آثارِ قدیمہ کی تحقیق سے معلوم ہوا کہ یہ تہذیب اپنے وقت کی سب سے ترقی یافتہ شہری تہذیبوں میں سے ایک تھی۔
موئن جو دڑو کو اس کے منصوبہ بند نقشے کی وجہ سے خاص شہرت حاصل ہے۔
یہاں کی گلیاں سیدھی اور باقاعدہ زاویے سے بنی ہوئی تھیں۔ مکانات پکی اینٹوں سے بنے ہوئے تھے، جن میں غسل خانے، کوٹھریاں، کچن، اور نالیاں موجود تھیں۔
گھروں میں بیت الخلاء اور نالیوں کا نظام

پکی اینٹوں کی سڑکیں

مرکزی بازار

عظیم حمام (Great Bath) — یہ دنیا کے قدیم ترین عوامی غسل خانوں میں سے ایک ہے
موئن جو دڑو کے باشندے تجارت، زراعت اور دستکاری میں ماہر تھے۔
یہ لوگ گندم، جو، کپاس، اور کھجوریں اگاتے تھے۔ انہوں نے تانبے، پتھر، اور سونے کے زیورات بھی بنائے۔
موئن جو دڑو کے لوگ علامتی تحریر استعمال کرتے تھے جسے آج تک مکمل طور پر پڑھا نہیں جا سکا۔ ان کی مذہبی زندگی میں فطرت، درخت، جانور، اور خواتین کے مجسمے نظر آتے ہیں، جنہیں دیوی ماتا کا درجہ حاصل تھا۔
اب تک محققین اس بات پر متفق نہیں ہو سکے کہ موئن جو دڑو کیوں تباہ ہوا، لیکن چند ممکنہ اسباب درج ذیل ہو سکتے ہیں:

1. دریائے سندھ کا رُخ بدل جانا

2. موسمیاتی تبدیلی (Climate Change)

3. مسلسل سیلاب

4. بیرونی حملہ آور یا اندرونی بد امنی-

آج کا موئن جو دڑو: آج موئن جو دڑو ایک یونیسکو عالمی ورثہ (UNESCO World Heritage Site) ہے، جسے 1980ء میں اس فہرست میں شامل کیا گیا۔
بدقسمتی سے یہ عظیم مقام موسمیاتی اثرات، سیلاب، اور انسانی لاپرواہی کی وجہ سے تیزی سے زوال پذیر ہے۔

:

07/06/2025

وادي مھراڻ جي سڀني مسلمان ڀائرن کي دل جي گهرائين عيد مبارڪ
❤️❤️❤️❤️
پنھنجي دعائون فلسطين جي ڀائرن لاء.

Address

Wahi Ghoto
Ghotki

Telephone

+923013860226

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when مھراڻ جون موجون Mehran jon mojon posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to مھراڻ جون موجون Mehran jon mojon:

Share

Category