05/10/2024
تیری خُوشبو کا پتہ کرتی ہے
مُجھ پہ احسان ہوا کرتی ہے
شب کی تنہائی میں اب تو اکثر
گفتگو تجھ سے رہا کرتی ہے
دِل کو اُس راہ پہ چلنا ہی نہیں
جو مُجھے تجھ سے جُدا کرتی ہے
زندگی میری تھی لیکن اب تو
تیرے کہنے میں رہا کرتی ہے
اس نے دیکھا ہی نہیں ورنہ یہ آنکھ
دِل کا احوال کہا کرتی ہے
پروین شاکر