03/04/2024
سب سے پہلی بات فائلر اور نان فائلر کا فرق کیا ہے۔
فائلر وہ شخص یا رجسٹرڈ ادارہ ہے جو ہر معاشی سال کے اختتام پر اپنے گوشوارے جن میں آمدنی اور اخراجات کی تفصیلات اور اثاثوں کی فہرست شامل ہوتی ہے ایف بی آر کو جمع کرواتا ہے۔ جو شخص یا ادارہ ایسا نہ کرے وہ نان فائلر ہے۔
فائلر کیسے بنا جائے:
ہمارا شناختی کارڈ ہمارا ٹیکس نمبر ہے۔ البتہ اپنے متعلقہ RTO کے پاس خود کو رجسٹر کروا کے اپنا ٹیکس نمبر حاصل کیا جا سکتا ہے۔ ٹیکس نمبر کے حصول کے لیئے یا تو ایف بی آر کی سائیٹ سے تفصیلات چیک کی جا سکتی ہیں اور خود رجسٹریشن کروائی جا سکتی ورنہ کسی ٹیکس کنسلٹنٹ سے رابطہ کیا جا سکتا۔
رجسٹریشن انفرادی کروائی جائے یا کاروبار کی؟
اگر آپ ایسی کمپنی چلا رہے جس کے آپ واحد مالک ہیں تو آپ کے نام پر ٹیکس نمبر کا اجرا ہو گا اور آپ کی تمام ایسی کمپنیاں جو اکیلے آپ کے نام پر ہیں اس ٹیکس نمبر کے مقابل رجسٹر ہوتی جائیں گی۔ اگر آپ شراکت پر کاروبار کر رہے یا کسی کمپنی کے ڈائریکٹر ہیں تو آپ کی انفرادی رجسٹریشن بھی ہو گی اور کمپنی کی بھی ہو گی۔
رجسٹریشن کسے کروانی چاہیے؟
ہر اس بندے کو جس کا شناختی کارڈ ایشو ہو چکا ہے اسے رجسٹر کروا لینا چاہیے۔ اگر سال بھر کے دوران کوئی ایکٹیویٹیس نہ بھی ہوں تو بھی خالی ریٹرن (گوشوارے) فائل کیے جا سکتے ہیں۔ اس میں طالبعلم سے لیکر سینیئر سٹیزن اور سرکاری ملازم سے لیکر اپنا ذاتی کاروبار کرنے والے سب شامل ہو سکتے۔
کیا بیرون ملک والوں کو رجسٹریشن کروانی چاہیے؟
بیرون ملک رہنے والوں کو ترجیحاً پاکستان میں ٹیکس نمبر ایشو کروا لینا چاہیے۔ ان کی باہر کمائی گئی رقم پاکستان میں ٹیکس ایںل نہیں ہے۔ اس لحاظ سے وہ پر سال خالی ریٹرن فائلر کر سکتے ہیں۔ انہیں اس رجسٹریشن کا فائدہ یہ ہو گا کہ وہ جو بھی رقم پاکستان بھیجیں گے وہ وائیٹ منی ہو گی اور کہ کو جب وہ اسے خود استعمال کرنا چاہیں گے تو اس پر سوال نہیں ہو گا نہ ہی ٹیکس لگے گا۔ لیکن یہ رقم بینکنگ چینل سے ہوم ریمیٹنس کی مد میں آنی چاہئے اور وصول کنندہ اس رقم کا اپنے بینک میں آر-فارم ضرور بھرے یا ریمیٹنس ایڈوائس ضرور حاصل کریں-
جن کو باہر سے پیسے آتے کیا وہ رجسٹریشن کروائیں:
باہر سے آنے والی رقم ٹیکس ایںل نہیں ہے۔ اس لیئے رجسٹریشن کروا لینی چاہیے۔ اس سے ٹیکس پیئر والے فوائد حاصل کیے جا سکتے ہیں۔