14/06/2023
ZAKHM_E_ MUHABAT
PART 1
KN KN PRNA CHAHTA HE,,,,,
میرا کزن عامر الیکٹرانک کا کام جانتا تھا۔ ایک دن وہ اپنے گھر کے دروازے پر کھڑا بال سنوار رہا تھا کہ سامنے والے گھر سے ایک لڑکی نے آواز دے کر بلایا۔ یہ انور صاحب کی بیٹی سونیا تھی۔ اس کے والد فوت ہو چکے تھے، کوئی بڑا بھائی نہ تھا۔ اس نے عامر کو بلا کر کہا کہ ہمارا ٹی وی خراب ہے ، آپ ٹھیک کر دیجئے۔ وہ اپنا سامان لے کر اس کے گھر چلا گیا۔ معمولی سا نقص تھا، درست کر دیا، کام کی اجرت بھی نہیں لی۔ سونیا اور اس کی ماں عامر کی مشکور ہو ئیں۔ کچھ دنوں بعد سو نیا دوبارہ آئی۔ آج پھر ٹی وی خراب ہو گیا تھا۔ عامر نے جا کر اسے دوبارہ ٹھیک کر دیا۔ اس طرح دونوں کی جان پہچان ہو گئی۔ ایک دن سونیا کی امی خالہ جمیلہ نے عامر کو اپنے گھر سے نکلتے دیکھ لیا۔ اس نے بیٹی سے باز پرس کی وہ مکر گئی لیکن ماں کو شک پڑ گیا لہذاوہ عامر کے گھر گئی اس کی ماں کو جا کر بتا دیا۔ ماں نے عامر کو سمجھایا لیکن اس نے ایک کان سے سنا اور دوسرے کان سے نکال دیا کہ جوانی دیوانی کہی جاتی ہے۔ لڑکی کو بھی ماں کی بیوگی کا پاس نہ رہا تھا۔ جب عامر کہتا آئو گھومنے چلیں ، وہ اس کے ساتھ چلی جاتی اور دونوں شہر سے دور پارکوں میں گھومتے پھرتے تھے۔ یہ ایک دن کا معاملہ نہ تھاروز کی بات تھی۔ عامر روز ہی دکان سے غائب ہو جاتا تھا۔ ایک دن چچا اصغر نے ان کو بازار میں گھومتے دیکھ لیا تو آکر چچا آصف کو بتادیا۔ چچا آصف نے بیٹے کو آڑے ہاتھوں لیا۔ اسے اتنا مارا کہ حد کر دی۔ یہ منظر سونیا اپنے گھر کی بالکونی سے دیکھ رہی تھی۔ چچا کا خوشیوں بھرا گھر تھا لیکن اب جیسے کسی کی نظر لگ گئی تھی ۔ ان کے گھر کا سکون سونیا کی وجہ سے برباد ہو گیا، پریشانی کا عالم رہنے لگا تھا۔ خاص طور پر بہنیں اپنے بھائی کی فکر میں گھلنے لگیں مگر یہ دونوں باز نہ آئے۔ جب موقعہ ملتا باہر ملنے چلے جاتے۔ اتفاق یہ کہ بھی چچا کے کوئی جاننے والے دیکھ لیتے اور کبھی سونیا کا کوئی رشتہ دار اس کی ماں کو خبر دار کرنے آجاتا۔ سونیا کی ماں بھی اس وجہ سے بے حد دکھی ہو گئی تھی کہ خاوند کا سایہ سر پر نہ تھا، لڑکی کو کون سنبھالتا ؟ ایک دن سونیا کے رشتے کے ماموں نے اسے عامر کے ساتھ دیکھا تو آکر اس کی ماں کو بتایا۔ ماں بچاری سوائے شر مندہ ہونے کے کیا کر سکتی تھی۔ وہ کوئی بہانہ بھی نہ بنا سکی ، اس نے کہا۔ بھائی صاحب آپ فکر نہ کریں۔ آج کے بعد میں اپنی لڑکی کا گھر سے باہر نکلنا ہی بند کر دوں گی۔ سونیا گھر آئی تو ماں مرنے مارنے کو تلی ہوئی تھی۔ پہلے تو اس نے لکڑی اٹھالی اور لڑکی کو دھنک کر رکھ دیا۔ جب وہ رونے سسکنے لگی تو ماں بھی رونے لگی اور جھولی پھیلا کر فریاد کناں ہوئی کہ اے بیٹی خدا کے لئے میری بیوگی کی لاج رکھ لے اور میری عزت کا خیال کر ، یوں عزت کو سر بازار نیلام نہ کر۔ میں تمہارے آگے ہاتھ جوڑتی ہوں اور تمہیں تمہارے مرے ہوئے باپ کا واسطہ دیتی ہوں مجھے جینے دو، ورنہ ہم بد نامی کے اندھے کنویں میں گر جائیں گے۔ لوگ ہمیں یہاں رہنے نہ دیں گے۔ جب ماں رو کر بیٹی کے آگے آہ وزاری کر رہی تھی۔ ناعاقبت اندیش بیٹی آنکھیں بند کر کے عامر کے ساتھ مستقبل کے سنہرے سپنے دیکھ رہی تھی۔ اس نے ماں کی باتوں کا دل پر بس اتنا اثر لیا کہ اگلے دن چھت پر عامر سے ملی اور کہا کہ اب ہمارا اس طرح ملنا محال ہو گیا ہے۔ کیوں نہ ہم کسی اور جگہ چلے جائیں اور وہاں جا کر شادی کر لیں۔ یہ ٹھیک نہ ہو گا۔ تمہاری بیوہ ماں کو بہت صدمہ ہو گا۔ سونیا ہم ایسا کوئی قدم نہ اٹھائیں گے ، تم صبر کرو۔ ان شاء اللہ میں ایک دن تم کو بیاہ کر لے جائوں گا۔ اس دن صبح چار بجے جب چچا آصف نماز کے لئے اٹھے ، انہوں نے دیکھا کہ عامر گھر میں نہیں ہے۔ تب وہ اس کے لئے دروازے پر کھڑے ہو گئے کہ دیکھوں کدھر سے آتا ہے۔ اس وقت سامنے والے گھر کا در کھلا اور عامر ان کی سیڑھی والے راستے سے باہر آیا تو چچا نے اسے اپنے گھر کی دہلیز پر پکڑ لیا۔ اسے گھر میں لے گئے اور پیار سے سمجھانے لگے کہ بیٹے رات کے وقت کسی بیوہ کے گھر میں جانا بہت غلط بات ہے۔ میرے بعد تم ہی تو میرے گھر کے سر براہ ہو۔ تم میرے سب سے بڑے بیٹے ہو۔ میری تم سے بڑی امیدیں وابستہ ہیں اس حرکت سے باز آ جاؤ۔ آخر میں تم کو کیسے سمجھائوں۔ ہمت کر کے پہلی بار عامر نے زبان کھولی اور کہا۔ اباجان ! میری سونیا کے ساتھ شادی کروا دیجئے۔ اس میں حرج ہی کیا ہے ؟ وہ ایک غریب بیوہ کی لڑکی ہے۔ یہ بات نہیں ہے بیٹے، بات یہ ہے کہ وہ ہماری برادری کی نہیں ہے۔ خاندان والے میرے ساتھ کیا کریں گے ، یہ تم سوچ بھی نہیں سکتے۔ تم پر تو اس لڑکی کی محبت کا بھوت سوار ہے۔ بیٹے میں تم کو ایک باپ کی حیثیت سے سمجھا رہا ہوں کہ اس شادی کا نتیجہ اچھا نہیں ہو گا۔ تیری چھوٹی بہنوں کی شادیاں بھی ہم کو غیروں میں کرنا پڑیں گی۔ میری عزت اب تمہارے ہاتھ میں ہے۔ آج ایک سخت گیر باپ اپنے بیٹے کے سامنے منت سماجت سے بات کر رہا تھا۔ باپ کو مجبور دیکھ کر عامر کا دل بیٹھ گیا۔ بجھی ہوئی آواز میں کہا۔ اچھا ابا جان اگر آپ کی اتنی ہی مجبوریاں ہیں تو ہیں آپ کو مجبور نہیں دیکھ سکتا۔ ایک بیٹے کا بھی اپنے باپ کے لئے کوئی فرض بنتا ہے۔ یہ بات دل پر پتھر رکھ کر اس نے اپنے باپ سے کہی تھی۔ بیٹے کی سعادت مندی پر باپ خوش ہو گیا۔
جاری ہے۔۔۔