Precious pearl

Precious pearl about Motivational picture's & motivational quotes

29/09/2024
16/08/2024

I uplod daily novel stories for frinds if you're interested like my post

16/08/2024

Right

16/08/2024

Sweet song

15/12/2023

دگی کا ہر دھوکہ ایک نیا سبق ہے، اور اس میں اصل طاقت تب آتی ہے جب ہم اسے سیکھتے ہیں۔
ہر ایک گراوٹ ایک نئی اُنچائی کی طرف ایک قدم ہے؛ حوصلہ بلند رکھو، کیونکہ اصل جیت اُس میں چھپی ہوتی ہے۔
دھوکہ نہ صرف ایک شخص سے ہوتا ہے، بلکہ خود سے بھی؛ اپنے آپ سے جھگڑا مت ہارو، خود کو سدھارو، اور آگے بڑھو۔
سبق صرف ایک راستہ ہے، اور وہ ہے آگے بڑھنا؛ دھوکہ صرف ایک آندھی ہے، جو وقت کے ساتھ ٹھم جائے گی۔
جب تک تم ہمت سے جڑے رہو اور اپنے آپ پر بھروسہ رکھو، تب تک کوئی دھوکہ تمہیں توڑ نہیں سکتا۔

15/12/2023

Always Think 🤔 Postive

اگر آپ کو سمجھ آ جائے کہ
آپ کی سوچ میں کتنی طاقت ہے
تو آپ کبھی بھی منفی نہ سوچِیں
مًنفی سوچ وہ ہے جَو آپ کو کمتر یا ناخوشگوار محسوس کروائے

08/09/2023

Online real work available if anyone interested come inbox for more details

17/06/2023
14/06/2023

ZAKHM_E_ MUHABAT

PART 1

KN KN PRNA CHAHTA HE,,,,,

میرا کزن عامر الیکٹرانک کا کام جانتا تھا۔ ایک دن وہ اپنے گھر کے دروازے پر کھڑا بال سنوار رہا تھا کہ سامنے والے گھر سے ایک لڑکی نے آواز دے کر بلایا۔ یہ انور صاحب کی بیٹی سونیا تھی۔ اس کے والد فوت ہو چکے تھے، کوئی بڑا بھائی نہ تھا۔ اس نے عامر کو بلا کر کہا کہ ہمارا ٹی وی خراب ہے ، آپ ٹھیک کر دیجئے۔ وہ اپنا سامان لے کر اس کے گھر چلا گیا۔ معمولی سا نقص تھا، درست کر دیا، کام کی اجرت بھی نہیں لی۔ سونیا اور اس کی ماں عامر کی مشکور ہو ئیں۔ کچھ دنوں بعد سو نیا دوبارہ آئی۔ آج پھر ٹی وی خراب ہو گیا تھا۔ عامر نے جا کر اسے دوبارہ ٹھیک کر دیا۔ اس طرح دونوں کی جان پہچان ہو گئی۔ ایک دن سونیا کی امی خالہ جمیلہ نے عامر کو اپنے گھر سے نکلتے دیکھ لیا۔ اس نے بیٹی سے باز پرس کی وہ مکر گئی لیکن ماں کو شک پڑ گیا لہذاوہ عامر کے گھر گئی اس کی ماں کو جا کر بتا دیا۔ ماں نے عامر کو سمجھایا لیکن اس نے ایک کان سے سنا اور دوسرے کان سے نکال دیا کہ جوانی دیوانی کہی جاتی ہے۔ لڑکی کو بھی ماں کی بیوگی کا پاس نہ رہا تھا۔ جب عامر کہتا آئو گھومنے چلیں ، وہ اس کے ساتھ چلی جاتی اور دونوں شہر سے دور پارکوں میں گھومتے پھرتے تھے۔ یہ ایک دن کا معاملہ نہ تھاروز کی بات تھی۔ عامر روز ہی دکان سے غائب ہو جاتا تھا۔ ایک دن چچا اصغر نے ان کو بازار میں گھومتے دیکھ لیا تو آکر چچا آصف کو بتادیا۔ چچا آصف نے بیٹے کو آڑے ہاتھوں لیا۔ اسے اتنا مارا کہ حد کر دی۔ یہ منظر سونیا اپنے گھر کی بالکونی سے دیکھ رہی تھی۔ چچا کا خوشیوں بھرا گھر تھا لیکن اب جیسے کسی کی نظر لگ گئی تھی ۔ ان کے گھر کا سکون سونیا کی وجہ سے برباد ہو گیا، پریشانی کا عالم رہنے لگا تھا۔ خاص طور پر بہنیں اپنے بھائی کی فکر میں گھلنے لگیں مگر یہ دونوں باز نہ آئے۔ جب موقعہ ملتا باہر ملنے چلے جاتے۔ اتفاق یہ کہ بھی چچا کے کوئی جاننے والے دیکھ لیتے اور کبھی سونیا کا کوئی رشتہ دار اس کی ماں کو خبر دار کرنے آجاتا۔ سونیا کی ماں بھی اس وجہ سے بے حد دکھی ہو گئی تھی کہ خاوند کا سایہ سر پر نہ تھا، لڑکی کو کون سنبھالتا ؟ ایک دن سونیا کے رشتے کے ماموں نے اسے عامر کے ساتھ دیکھا تو آکر اس کی ماں کو بتایا۔ ماں بچاری سوائے شر مندہ ہونے کے کیا کر سکتی تھی۔ وہ کوئی بہانہ بھی نہ بنا سکی ، اس نے کہا۔ بھائی صاحب آپ فکر نہ کریں۔ آج کے بعد میں اپنی لڑکی کا گھر سے باہر نکلنا ہی بند کر دوں گی۔ سونیا گھر آئی تو ماں مرنے مارنے کو تلی ہوئی تھی۔ پہلے تو اس نے لکڑی اٹھالی اور لڑکی کو دھنک کر رکھ دیا۔ جب وہ رونے سسکنے لگی تو ماں بھی رونے لگی اور جھولی پھیلا کر فریاد کناں ہوئی کہ اے بیٹی خدا کے لئے میری بیوگی کی لاج رکھ لے اور میری عزت کا خیال کر ، یوں عزت کو سر بازار نیلام نہ کر۔ میں تمہارے آگے ہاتھ جوڑتی ہوں اور تمہیں تمہارے مرے ہوئے باپ کا واسطہ دیتی ہوں مجھے جینے دو، ورنہ ہم بد نامی کے اندھے کنویں میں گر جائیں گے۔ لوگ ہمیں یہاں رہنے نہ دیں گے۔ جب ماں رو کر بیٹی کے آگے آہ وزاری کر رہی تھی۔ ناعاقبت اندیش بیٹی آنکھیں بند کر کے عامر کے ساتھ مستقبل کے سنہرے سپنے دیکھ رہی تھی۔ اس نے ماں کی باتوں کا دل پر بس اتنا اثر لیا کہ اگلے دن چھت پر عامر سے ملی اور کہا کہ اب ہمارا اس طرح ملنا محال ہو گیا ہے۔ کیوں نہ ہم کسی اور جگہ چلے جائیں اور وہاں جا کر شادی کر لیں۔ یہ ٹھیک نہ ہو گا۔ تمہاری بیوہ ماں کو بہت صدمہ ہو گا۔ سونیا ہم ایسا کوئی قدم نہ اٹھائیں گے ، تم صبر کرو۔ ان شاء اللہ میں ایک دن تم کو بیاہ کر لے جائوں گا۔ اس دن صبح چار بجے جب چچا آصف نماز کے لئے اٹھے ، انہوں نے دیکھا کہ عامر گھر میں نہیں ہے۔ تب وہ اس کے لئے دروازے پر کھڑے ہو گئے کہ دیکھوں کدھر سے آتا ہے۔ اس وقت سامنے والے گھر کا در کھلا اور عامر ان کی سیڑھی والے راستے سے باہر آیا تو چچا نے اسے اپنے گھر کی دہلیز پر پکڑ لیا۔ اسے گھر میں لے گئے اور پیار سے سمجھانے لگے کہ بیٹے رات کے وقت کسی بیوہ کے گھر میں جانا بہت غلط بات ہے۔ میرے بعد تم ہی تو میرے گھر کے سر براہ ہو۔ تم میرے سب سے بڑے بیٹے ہو۔ میری تم سے بڑی امیدیں وابستہ ہیں اس حرکت سے باز آ جاؤ۔ آخر میں تم کو کیسے سمجھائوں۔ ہمت کر کے پہلی بار عامر نے زبان کھولی اور کہا۔ اباجان ! میری سونیا کے ساتھ شادی کروا دیجئے۔ اس میں حرج ہی کیا ہے ؟ وہ ایک غریب بیوہ کی لڑکی ہے۔ یہ بات نہیں ہے بیٹے، بات یہ ہے کہ وہ ہماری برادری کی نہیں ہے۔ خاندان والے میرے ساتھ کیا کریں گے ، یہ تم سوچ بھی نہیں سکتے۔ تم پر تو اس لڑکی کی محبت کا بھوت سوار ہے۔ بیٹے میں تم کو ایک باپ کی حیثیت سے سمجھا رہا ہوں کہ اس شادی کا نتیجہ اچھا نہیں ہو گا۔ تیری چھوٹی بہنوں کی شادیاں بھی ہم کو غیروں میں کرنا پڑیں گی۔ میری عزت اب تمہارے ہاتھ میں ہے۔ آج ایک سخت گیر باپ اپنے بیٹے کے سامنے منت سماجت سے بات کر رہا تھا۔ باپ کو مجبور دیکھ کر عامر کا دل بیٹھ گیا۔ بجھی ہوئی آواز میں کہا۔ اچھا ابا جان اگر آپ کی اتنی ہی مجبوریاں ہیں تو ہیں آپ کو مجبور نہیں دیکھ سکتا۔ ایک بیٹے کا بھی اپنے باپ کے لئے کوئی فرض بنتا ہے۔ یہ بات دل پر پتھر رکھ کر اس نے اپنے باپ سے کہی تھی۔ بیٹے کی سعادت مندی پر باپ خوش ہو گیا۔

جاری ہے۔۔۔

13/06/2023

RaaaZ💖_E_ MEhRaM
#سینک پیک

”ایک بار صرف ایک بار میری بات سن لو....پلززز...!“
اس لفظ پر بے ساختہ اس کے قدم رکے تھے آج وہ اس مغرور شخص کو اپنے آگے جھکا محسوس کر رہی تھی

بولیں! وہ سپاٹ انداز میں مقابل کی آنکھوں میں آنکھیں گاڑھے بولی آج اس کی آنکھوں میں محبت..خوف.. احترام کچھ نا تھا اس کی آنکھیں خالی تھیں

”مجھے معاف کر دو...!“

”نہیں کر سکتی!“

”ایک موقع دو!“ وہ ترپ کر بولا

”نہیں دے سکتی!“

”تمہیں تمہاری مجھ سے کئی گئی محبت کی قسم! “

”کونسی محبت؟ وہ محبت مر چکی ہے...!“اب کے اس کی زبان لڑکھڑائی تھی مقابل نے غور سے اسکا چہرہ دیکھا تھا اس کی آنکھوں میں نمی تھی

”میں تمہیں تکلیف میں نہیں دیکھ سکتا!“ وہ بے بسی سے بولا

”یہ بات تو آپ کو زخم دینے سے پہلے سوچنا چاہیے تھا آپ نے کیوں کیا تھا وہ سب میرے ساتھ؟ آپ جانتے تھے آپ جانتے تھے میرا آپ کے وعلاوہ کوئی نہیں تھا آپ جانتے تھے میرا سب کچھ آپ تھے میری دنیا میرا سب کچھ میں دیوانوں کی طرح چاہ تھا آپ کو....اس کے باوجود آپ مجھے یہاں اکیلا چھوڑ گئے؟ “

”آپ کی ماں میرے لیے روز ایک رشتہ لاتی ہے میں انہوں کیسے بتاؤں ان کا بیٹا مجھے اپنے نکاح میں باندھ چکا
ہے!“ اس کے جمعلے پر مقابل نے مٹھی سختی سے بھینجی تھی

” آزاد کر دیں...دے دیں مجھے طلاق....“ باقی کے الفاظ وہ اسکے منہ پر ہاتھ رکھے اسے دیوار سے لگاتا بند کر گیا

”خبردار جو تم نے یہ لفظ پھر منہ سے نکالا“

” چیر کر رکھ دوں گا اگر کسی نے تمہیں مجھ سے چھینے کی کوشش بھی کی تو... سب کچھ تہس نہس کردوں گا سب کچھ یعنی سب کچھ“

”دیکھتا ہوں کون تمہیں مجھ سے الگ کرتا ہے شیر زخمی بھی ہو جاۓ تو شیر ہی رہتا ہے“

”میں بھی تو دیکھوں کس بھیڑے میں شیر کا سامنا کرنے کی ہمت آگئی ......“ وہ غرایا کے اس کی آنکھوں میں مقابل اپنے لیے وہ جنون دیکھ رہی تھی جس کی اسنے کچھ عرصے پہلے شدت سے خواہش کی تھی

کچھ خواہشیں اس وقت پوری ہوتی ہیں جب آپ ان سے آگے نکل چکے ہوں! اسنے کرب سے سوچا

Address

Gujranwala

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Precious pearl posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share

Category