16/05/2026
اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے گورنر جمیل احمد نے تصدیق کی ہے کہ نئے کرنسی نوٹس کے ڈیزائن فائنل کر کے وفاقی کابینہ کو منظوری کے لیے بھجوا دیے گئے ہیں۔
انہوں نے یہ بات کراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ گورنر اسٹیٹ بینک کے مطابق نئے نوٹس متعارف کروانے کا عمل 2024 سے جاری ہے، جس کا مقصد جدید سیکیورٹی فیچرز شامل کرنا اور جعلی نوٹوں کی روک تھام کرنا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ہر 15 سے 20 سال بعد کرنسی نوٹس کو اپڈیٹ کرنا دنیا بھر میں ایک معمول کی پریکٹس ہے تاکہ قومی مالیاتی نظام کو زیادہ محفوظ اور قابلِ اعتماد بنایا جا سکے۔
پاکستان کے رئیل اسٹیٹ سیکٹر پر ممکنہ اثرات
• یہ خبر مجموعی طور پر معیشت میں اعتماد بڑھانے کی کوشش سمجھی جا رہی ہے، جس سے سرمایہ کاروں کا اعتماد بہتر ہو سکتا ہے۔
• اگر نئے نوٹس کے ساتھ حکومت undocumented cash پر سختی کرتی ہے تو رئیل اسٹیٹ میں cash-based transactions کم ہو سکتی ہیں۔
• پراپرٹی سیکٹر میں وہ لوگ جو بڑی مقدار میں کیش استعمال کرتے ہیں، وہ وقتی طور پر محتاط ہو سکتے ہیں۔
• بینکنگ چینلز اور documented investments کو فروغ ملنے کا امکان ہے، جس سے فائلرز اور قانونی سرمایہ کاروں کو فائدہ ہو سکتا ہے۔
• اگر اس اقدام کے ساتھ معاشی استحکام، کم inflation اور interest rate cuts آتے ہیں تو long term میں پاکستان کا رئیل اسٹیٹ سیکٹر مزید مضبوط ہو سکتا ہے۔
منجانب پراپرٹی گروآفیشل
03026682597
03116682597