07/10/2023
اسامہ گورا سے فون پر رابطے کے بعد۔۔
اج ہم بات کریں گے والی بال کے ابھرتے ہوئے پلیئر اسامہ گورا کی۔
جن کو ہم 47 AK کے نام سے جانتے ہیں۔ اسامہ گورا کو والی بال کھیلتے ہوئے تقریبا چھ سال ہو گئے انہوں نے اپنے والی بال کیریئر کا اغاز فرینڈز کلب کے ٹرینگ کیمپ سے کیا اس سے پہلے وہ اپنے ہم عمر بچوں کے ساتھ شام کو اپنے محلے میں گیم کھیلتے تھے۔ اس کے بعد انہوں نے فرینڈز کلب پاچھوٹ کو جوائن کیا وہ ایک مزدور پیشہ آدمی کے بیٹے ہیں اور ان کے والد صاحب محنت مزدوری کر کے دھیڑی لگا کےدو وقت کا کھانا پورا کرتے ہیں اسامہ گورا نے اپنے جوانی کا خاص وقت فرینڈز کلب پاچھوٹ کو دیا اور اب چھ سال بعد ان کے ساتھ اپنی راہیں جدا کر دی ان کا کہنا ہے کہ اس بات کا مقصد یہ تھا کہ نہ تو ان کی گیم میں کوئی امپروومنٹ ارہی تھی اور نہ انہیں کسی بڑے میدان میں اپنے گیم دکھانے کا موقع مل رہا تھا اور اس کے علاوہ کلب کے اندر بھی گروپنگ ہو گئی تھی جس میں اکثر وبیشتر دیکھا جاتا تھا کہ اسامہ کو نیگلکٹ کیا جا رہا ہے۔ اسامہ کا کہنا ہے کہ میں نے اپنے فیملی اپنے والدین کے ساتھ مشورہ کر کے یہ فیصلہ کیا کہ میں فرینڈز کلب پاچھوٹ کو چھوڑوں گا اور اگر کسی ٹیم میں موقع ملا تو والی بال کھیلوں گا ورنہ میں بھی محنت مزدوری کروں گا اور کہیں روزگار کے سلسلے میں پردیس جاؤں گا۔انکا کہنا ہے کہ بیشتر بار مجھے نوکری کا لالی پاپ دیا گیا فرینڈز کلب پاچھوٹ کی طرف سے ایک بار میں کراچی سے اپنی نوکری چھوڑ کے ایا اور ایک بار راولپنڈی سے اور مجھے بولا گیا کے تم بس والی بال کھیلو تمہاری نوکری کےپیسے ہم تمہیں دیں گے۔اب جب میں فرینڈز کلب پاچھوٹ سے استعفیٰ دے رہا ہوں تو مجھ پر بہت سارا پریشر ڈالا جا رہا ہے۔ مینجمنٹ کا رویہ بلکل غلط ہے مجھے اور میرے باپ کو بار بار گالیاں دی جا رہی ہیں۔ہم غریب لوگ ہیں میری فیملی کو گھر آہ کے زد و کوب کیا جاتا ہے۔
اور اب مجھے کہا جاتا ہے کہ ہم نے جو جو تم پر انویسٹمنٹ کیا ہے وہ ہمیں ریٹرن کرو جس میں یہاں تک بھی کہا جاتا ہے کہ جو چھ سال پرانے ٹراوزر شرٹ ہیں وہ بھی مہایہ کرو جو ہم نے عید پر تمہیں کپڑے لے کے دیے تھے ان سوٹوں کے پیسے دو، تم نےہمارے ساتھ جو کھانا پینا کیا تھا اس کے پیسے کون دے گا۔
اور کل ملا کر مجھ سے چھ لاکھ روپے کی ڈیمانڈ کی گئ کہ یہ ہماری تم پر انویسٹمنٹ ہے۔۔
دیکھا جائے تو بات ہے نام بڑے اور درشن چھوٹے فیس بکی دانشور فرینڈز کلب جوبات بات پر ڈسیپلین اور بڑی بڑی نام نہاد پوسٹ کرتی ہے۔ ایک غریب کے بچے پر دباؤ ڈال رہی ہے۔اسامہ گورا کا کہنا ہے کہ میرے کلب والے مجھ سے ہر اس چیز کے پیسے مانگ رہے ہیں جو پچھلے چھ سال میں انہوں نے میرے ساتھ کیا کھانا ہو پینا ہو مجھے کسی قسم کی ٹرانسپورٹ دی ہو۔
مجھے ایک بار راولاکوٹ میں قمر طالب کی دوکان پر نوکری دی گئ میرے ساتھ پندرہ ہزار روپے ماہانہ طے کیے گئے جبکہ دو ماہ بعد مجھے چھ ہزار روپے دے کے فارغ کر دیا گیا اور اب وہ کہہ رہے ہیں کہ تمہارے جو بقایاجات ہیں دوکان پر وہ کلیر کرو۔ نہیں تو جن کے ساتھ اجکل چل رہے ہو انکو بولو وہ کلیر کریں تبھی تمہارا استعفیٰ قبول ہوگا۔ اور یہاں تک کہ مینجمنٹ کے چند لوگ داتوٹ تھانہ میں بھی مجھ پر ایف ائ ار کرنے گئے۔
میرا گھر جھولاناڑا بازار سے دو منٹ کی دوری پر ہے اور گراونڈ سمجھیں میرا اصل ہوم گراونڈ ہے۔ میں نے کشمیر کپ میں اپنے ہوم گراؤنڈ میں فرینڈز کی نہیں بلکہ خان کلب بارل کی نمائندگی کی۔ اس کہ بعد بھی اور پہلے بھی بیشتر ٹیمز میں کھیل چکا ہوں۔ جنڈالی ٹورنامنٹ میں پلیرز کی کمی کی وجہ سے میں فہیم شہید کلب میں ایک میچ کھیلنے کی غرض سے گیا۔۔
اور وہاں گراؤنڈ میں سے مجھے ڈاکٹر حامد نے سائڈ پر لے جا کے گالم گلوچ کا نشانہ بنایہ اور کھیلنے سے روک دیا بہت سے لوگوں نے شائد گراؤنڈ کی سائیڈ پر یہ منظر دیکھا ہو۔
میں تمام والی بال کے فینز کی اگے اپنی بات رکھتا ہوں کہ اپ لوگ میرا فیصلہ کریں کیا کسی کا یہ چاہنا کہ وہ ایک اچھے پلیٹ فارم پر جائے اور پرفارم کرے اور اپنا نام کمائے یہ کوئی غلط بات ہے۔