متاثرین HDA ہنگو

متاثرین HDA ہنگو Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from متاثرین HDA ہنگو, Real Estate, Hangu.

De      HaD ta RawOraseDo
05/01/2025

De
HaD ta RawOraseDo

14/01/2024
19/12/2023
02/09/2023

بے حسی شرط ھے جینے کے لئے
۔۔۔
ھمیں احساس کی بیماری ھے ۔

الحمد للہ جناب حاجی عتیق الرحمان سابقہ ایم پی اے ھنگو اخونزادہ مفتی عبید اللہ صاحب  سابقہ ڈسٹرکٹ ناظم ھنگو جناب عامر غنی...
30/08/2023

الحمد للہ
جناب حاجی عتیق الرحمان سابقہ ایم پی اے ھنگو
اخونزادہ مفتی عبید اللہ صاحب سابقہ ڈسٹرکٹ ناظم ھنگو
جناب عامر غنی صاحب تحصیل ناظم ھنگو
کے کوششوں سے متلعقہ مسلہ پر اگریمنٹ ھو چکا ہے جسے کچھ ہی دنوں میں عملی جامہ پہنایا جاییگا
اور اس مسلے کے پر امن حل کےلئے ھنگو انتظامیہ بالخصوص ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر جناب فہید اللہ وزیر صاحب کی انتھک محنت قابل ستایش ہے جس پر ھم اے ڈی سی صاحب کے شکر گزار ہیں
اگر اسی طرح کی محنت سابقہ ایم پی اے صاحب نے کی ہوتی تو یقینا متاثرہ لوگوں کو انکے حق سے بھی زاید کچھ ہو چکا ہوتا مگر نہ ہوسکا جسے ھم اللہ اور قیامت پر چھوڑتےہیں ۔۔۔۔
قوم مطمئن رہے جتنا ھم سے ھو سکتا تھا ھم نے کیا ہے۔۔۔
عمر خالد مردوخیل بانڈہ

01/08/2023

کلہ پہ یو کلہ پہ بلہ نامہ
کلہ پرادی کلہ پہ خپلہ نامہ
چی بے چختنہ بے نوا خخیگو
داسے بہ سو مرو پہ بدلہ نامہ پختونہ ویخ شہ یو ھجرت پکار دہ
بس یو نعرہ دہ بغاوت پکار دہ

30/07/2023

*🌱مُختَصر پُر اَثَر🌱*

*جو اِنسان دُوسرُوں کو شَک کی نِگاہ سے دیکھتا ہے، دَرحَقِیقَت وہ اَورُوں میں، اپنے کِردار کی بُرائیاں، تَلاش کر رہا ہوتا ہے*

04/07/2023

there was no more cometment
without Agremant .

اندھیروںمیں کچھ قسمت آزماٸی ہوگیخرد و جنوں کی کچھ اور لڑاٸی ہوگیکہ شعور ابھی مقام لا شعور پہ پےظلم ابھی قاٸم اپنے پاۓمنش...
19/06/2023

اندھیروںمیں کچھ قسمت آزماٸی ہوگی
خرد و جنوں کی کچھ اور لڑاٸی ہوگی
کہ شعور ابھی مقام لا شعور پہ پے
ظلم ابھی قاٸم اپنے پاۓمنشور پہ ہے

عبداللہ طاہر جب خراسان کے گورنر تھے اور نیشاپور اس کا دارالحکومت تھا تو ایک لوہار شہر ہرات سے نیشاپور گیا اور چند دنوں ت...
19/06/2023

عبداللہ طاہر جب خراسان کے گورنر تھے اور نیشاپور اس کا دارالحکومت تھا تو ایک لوہار شہر ہرات سے نیشاپور گیا اور چند دنوں تک وہاں کاروبار کیا۔ پھر اپنے اہل و عیال سے ملاقات کے لئے وطن لوٹنے کا ارادہ کیا اور رات کے پچھلے پہر سفر کرنا شروع کردیا۔ ان ہی دنوں عبد اللہ طاہر نے سپاہیوں کو حکم دے رکھا تھا کہ وہ شہر کے راستوں کو محفوظ بنائیں تاکہ کسی مسافر کو کوئی خطرہ لاحق نہ ہو۔
اتفاق ایسا ہوا کہ سپاہیوں نے اسی رات چند چوروں کو گرفتار کیا اور امیر خراسان (عبد اللہ طاہر) کو اسکی خبر بھی پہنچا دی لیکن اچانک ان میں سے ایک چور بھاگ گیا۔ اب یہ گھبرائے اگر امیر کو معلوم ہوگیا کہ ایک چور بھاگ گیا ہے تو وہ ہمیں سزا دے گا۔ اتنے میں انہیں سفر کرتا ہوا یہ (لوہار) نظر آیا۔ انھوں نے اپنی جان بچانے کی خاطر اس بےگناہ شخص کوفوراً گرفتار کرلیا اور باقی چوروں کے ساتھ اسے بھی امیر کے سامنے پیش کردیا۔ امیرخراسان نے سمجھا کہ یہ سب چوری کرتے ہوئے پکڑے گئے ہیں اس لئے مزید کسی تفتیش و تحقیق کے بغیر سب کو قید کرنے کا حکم دے دیا۔
نیک سیرت لوہار سمجھ گیا کہ اب میرا معاملہ صرف اللہ جل شانہ کی بارگاہ سے ہی حل ہوسکتا ہے اور میرا مقصد اسی کے کرم سے حاصل ہوسکتا ہے لہٰذا اس نے وضو کیا اور قید خانہ کے ایک گوشہ میں نماز پڑھنا شروع کردی۔ ہر دو رکعت کی بعد سر سجدہ میں رکھ کر اللہ تعالٰی کی بارگاہ میں رقت انگیز دعائیں اور دل سوز مناجات شروع کردیتا اور کہتا۔ ’’ اے میرے مالک! تو اچھی طرح جانتا ہے میں بےقصور ہوں‘‘۔ جب رات ہوئی تو عبد اللہ طاہر نے خواب دیکھا کہ چار بہادر اور طاقتور لوگ آئے اور سختی سے اس کے تخت کے چاروں پایوں کو پکڑکر اٹھایا اور الٹنے لگے اتنے میں اس کی نیند ٹوٹ گئی۔ اس نے فوراً لَاحَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّا بِاللّٰہِ پڑھا۔ پھر وضو کیا اور اس احکم الحاکمین کی بارگاہ میں دو رکعت نماز ادا کی جس کی طرف ہر شاہ و گدا اپنی اپنی پریشانیوں کے وقت رجوع کرتے ہیں۔ اس کے بعد دوبارہ سویا تو پھر وہی خواب دیکھا اس طرح چار مرتبہ ہوا۔ ہر بار وہ یہی دیکھتا تھا کہ چاروں نوجوان اس کے تخت کے پایوں کو پکڑ کر اٹھاتے ہیں اور الٹنا چاہتے ہیں۔امیر خراسان عبد اللہ طاہر اس واقعہ سے گھبرا گئے اور انہیں یقین ہوگیا کہ ضرور اس میں کسی مظلوم کی آہ کا اثر ہے جیسا کہ کسی صاحب علم و دانش نے کہا ہے:
نکند صد ہزار تیر و تبر
آنچہ یک پیرہ زن کند بہ سحر
ای بسا نیزۂ عدد شکناں
ریزہ گشت از دعاے پیر زناں
یعنی لاکھوں تیر اور بھالے وہ کام نہیں کر سکتے جو کام ایک بڑھیا صبح کے وقت کردیتی ہے۔ بارہا ایسا ہوا ہے کہ دشمنوں سے مردانہ وار مقابلہ کرنے اور انہیں شکست دینے والے، بوڑھی عورتوں کی بد دعا سے تباہ وبرباد ہوگئے۔
امیر خراسان نے رات ہی میں جیلر کو بلوایا اور اس سے پوچھا کہ بتاؤ! تمہارے علم میں کوئی مظلوم شخص جیل میں بند تو نہیں کردیا گیا ہے؟ جیلر نے عرض کیا۔ عالیجاہ! میں یہ تو نہیں جانتا کہ مظلوم کون ہے لیکن اتنی بات ضرور ہے کہ میں ایک شخص کو دیکھ رہا ہوں جو جیل میں نماز پڑھتا ہے اور رقت انگیز و دل سوز دعائیں کرتا ہے۔
امیر نے حکم دیا: اسے فوراً حاضر کیا جائے۔ جب وہ شخص امیر کے سامنے حاضر ہوا تو امیر نے اس کے معاملہ کی تحقیق کی۔ معلوم ہوا کہ وہ بے قصور ہے۔امیر نے اس شخص سے معذرت کی اور کہا: آپ میرے ساتھ تین کام کیجئے۔
نمبر۱۔ آپ مجھے معاف کردیں۔
نمبر۲۔ میری طرف سے ایک ہزار درہم قبول فرمائیں۔
نمبر۳۔ جب بھی آپ کو کسی قسم کی پریشانی درپیش ہو تو میرے پاس تشریف لائیں تاکہ میں آپ کی مدد کر سکوں۔
نیک سیرت لوہار نے کہا: آپ نے جو یہ فرمایا ہے کہ میں آپ کو معاف کردوں تو میں نے آپ کو معاف کردیا اور آپ نے جو یہ فرمایا کہ ایک ہزار درہم قبول کرلوں تو وہ بھی میں نے قبول کیا لیکن آپ نے جو یہ کہا ہے کہ جب مجھے کوئی مشکل درپیش ہو تو میں آپ کے پاس آؤں، یہ مجھ سے نہیں ہوسکتا۔
امیر نے پوچھا: یہ کیوں نہیں ہوسکتا؟ تو اس شخص نے جواب دیا کہ وہ خالق و مالک جل جلالہ جو مجھ جیسے فقیر کے لئے آپ جیسے بادشاہ کا تخت ایک رات میں چار مرتبہ اوندھا کر سکتا ہے تو اسکو چھوڑ دینا اور اپنی ضرورت کسی دوسرے کے پاس لے جانا اصولِ بندگی کے خلاف ہے۔ میرا وہ کون سا کام ہے جو نماز پڑھنے سے پورا نہیں ہو جاتا کہ میں اسے غیر کے پاس لے جاؤں۔ یعنی جب میرا سارا کام نماز کی برکت سے پورا ہوجاتا ہے تو مجھے کسی اور کے پاس جانے کی کیا ضرورت ہے۔ (ریاض الناصحین ص:۱۰۵،۱۰۴)

Address

Hangu

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when متاثرین HDA ہنگو posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share

Category